Arshad Mehmood ( Defender Of Pakistan ) ™®
Arshad Mehmood ( Defender Of Pakistan ) ™®

@Arshe530

30 تغريدة 128 قراءة Oct 29, 2021
قادیانی کیسے کافر قرار دیئے گئے
1974میں جب قومی اسمبلی میں فیصلہ ہوا کہ قادیانیت کو موقع دیا جائےکہ وہ اپنا موقف اوردلائل دینے قومی اسمبلی میں آئیں تو مرزا ناصر قادیانی سفید شلوار کرتےمیں ملبوس طرےدار پگڑی باندھ کر آیا۔ متشرع سفید داڑهی۔قرآن کی آیتیں بهی پڑھ رہے تهے اور آپﷺ
⬇️
کا اسم مبارک زبان پر لاتے تو پورے ادب کیساتھ درودشریف بهی پڑھتے۔ مفتی محمود صاحب فرماتےہیں ایسےمیں ارکان اسمبلی کہ ذہنوں کو تبدیل کرنا آسان کام نہ تها۔ یہ مسئلہ بہت بڑا اور مشکل تها۔ اللہ کی شان کہ پورے ایوان کیطرف سےمفتی محمود صاحب کو ایوان کی ترجمانی کا شرف ملا اور مفتی صاحب
⬇️
نے راتوں کوجاگ جاگ کر مرزا غلام قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔حوالےنوٹ کیئے۔سوالات ترتیب دیئے اسی کا نتیجہ تها کہ مرزاطاہرقادیانی کےطویل بیان کےبعد جرح کا جب آغاز ہوا تو مفتی صاحب فرماتے ہیں:”ہمارا کام پہلے ہی دن بن گیا“
اب سوالات مفتی صاحب کیطرف سے اورجواب مرزاقادیانی کیطرف
⬇️
سےآپ کی خدمت میں۔
سوال: مرزا غلام احمد کےبارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟
جواب: وہ امتی نبی تهے امتی نبی کا معنی ہے کہ امت محمدیہ کا فرد جو آپ کے کامل اتباع کی وجہ سے نبوت کا مقام حاصل کرلے
سوال: اس پر وحی آتی تهی؟
جواب: آتی تهی۔
سوال: اس میں خطا کا کوئی احتمال؟
جواب: بلکل نہیں
⬇️
سوال: مرزا قادیانی نےلکها ہے جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا خواہ اس کو میرا نام نہ پہنچا ہو(وہ)کافر ہے پکا کافر دائرہ اسلام سےخارج ہے۔اس عبارت سے تو 70کروڑ مسلمان سب کافر ہیں؟
جواب:کافر تو ہیں لیکن چهوٹےکافر جیسا کہ امام بخاری نے اپنے صحیح میں"کفردون کفر" کی روایت درج کی ہے۔
⬇️
سوال: آگےمرزا نےلکها ہے پکا کافر؟
جواب: اسکا مطلب ہےاپنے کفر میں پکےہیں۔
سوال: آگےلکها ہےدائرہ اسلام سے خارج ہے۔حالانکہ چهوٹا کفر ملت سے خارج ہونےکا سبب نہیں بنتا؟
جواب۔ دراصل دائرہ اسلام کے کئی کٹیگیریاں ہیں اگر بعض سے نکلا تو بعض سے نہیں نکلا۔
سوال:ایک جگہ اس نےلکھا جہنی ہیں
⬇️
(یہاں مفتی صاحب فرماتےہیں جب قوی اسمبلی کےممبران نے یہ سنا تو سب کےکان کهڑے ہوگئے کہ اچها ہم جہنمی ہیں اس سے ممبروں کو دهچکا لگا)
اسی موقع پر دوسرا سوال کیا کہ مرزاقادیانی سےپہلے کوئی نبی آیا ہے جو امتی نبی ہو؟
کیا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ یا
عمر فاروق رضی اللہ عنہ امتی نبی تھے؟
⬇️
جواب: نہیں تھے
اس جواب پر مفتی صاحب نےکہا پهرتو مرزاقادیانی کےمرنے کے بعد آپکا ہمارا عقیدہ ایک ہوگیا بس فرق یہ ہے کہ ہم نبی کریمﷺ کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہیں تم مرزاغلام قادیانی کےبعد نبوت ختم سمجهتے ہو۔تو گویا تمہارا خاتم النبیین مرزاغلام قادیانی ہے۔ اور ہمارے خاتم النبیین ﷺ
⬇️
ہیں۔
جواب:وہ فنا فی الرسول تهے یہ انکا اپناکمال تها وہ عین محمد ہوگئےتهے (معاذ اللہ نبی کریمﷺ کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی تهی)
سوال: مرزاغلام قادیانی نےاپنے کتابوں کےبارے میں لکهاہے اسےہر مسلم محبت ومودت کی آنکھ سے دیکھ لیتاہے اور انکےمعارف سےنفع اٹھاتاہے مجھےقبول کرتا ہے
⬇️
اور(میرے) دعوے کی تصدیق کرتاہے۔مگر(ذزیتہ البغایا) بدکار عورتوں کی اولاد وہ لوگ جن کے دلوں پر اللہ نے مہرلگا رکهی ہے۔وہ مجهے قبول نہیں کرتے؟
جواب: بغایا کہ معنی سرکشوں کے ہیں۔
سوال: بغایا کا لفظ قرآن پاک میں آیا ہے۔ سورہ مریم: ترجمہ مفہوم
"تیری ماں بدکارہ نہ تھی"
جواب: قرآن میں
⬇️
بغیا ہے بغایا نہیں۔
اس جواب پر مفتی صاحب نےفرمایا کہ صرف مفرد اور جمع کا فرق ہے نیز جامع ترمذی شریف میں اس مفہوم میں لفظ بغایا بهی مذکور ہے یعنی "البغایا للاتی ینکحن انفسهن بغیر بینه"پھر جوش سےکہا) میں تمہیں چیلنث کرتاہوں تم اس لفظ بغیہ کا استعمال اس معنی(بدکارہ) کے علاوہ کسی
⬇️
دوسرے معنی میں ہر گز نہیں کرکے دکها سکتے۔
(اور مرزاطاہر لاجواب ہوا یہاں)
13دن کےسوال جواب کے بعد جب فیصلے کی گهڑی آئی تو 22اگست 1974کو اپوزیشن کی طرف سے6 افراد پرمشتمل کمیٹی بنائی گئی جن میں مفتی محمود،مولانا شاہ احمد نورانی،پروفیسرغفوراحمد، چوہدری ظہور الٰہی، مسٹر غلام فاروق
⬇️
سردارمولا بخش سومرو اور حکومت کیطرف سے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب تهے۔ ان کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ یہ آئینی و قانونی طور پر اسکا حل نکالیں تاکہ آئین پاکستان میں ہمیشہ کیلئے انکےکفر کو درج کر دیا جائے۔لیکن اس موقع پر ایک اور مناظرہ منتظر تھا۔کفرِقادیانیت و لاہوری گروپ
⬇️
پر قومی اسمبلی میں جرح 13روز تک جاری رہی۔11 دن ربوہ گروپ اور 2دن لاہوری گروپ پر۔ ہر روز 8 گھنٹے جرح ہوئی۔ اس طویل جرح و تنقید نے قادیانیت کے بھیانک چہرے کو بینقاب کرکے رکھدیا۔ اسکے بعد ایک اور مناظرہ ذولفقار بھٹو کی حکومت سے شروع ہوا کہ آئین پاکستان میں اس مقدمہ کا "حاصل مغز"
⬇️
کیسے لکھا جائے؟مسلسل بحث مباحثہ کے بعد22 اگست سے5ستمبر1974کی شام تک اس کمیٹی کے بہت اجلاس ہوئےمگر متفقہ حل کی صورت گری ممکن نہ ہوسکی۔سب سے زیادہ جھگڑا دفعہ106میں ترمیم کےمسئلے پر ہوا،حکومت چاہتی تھی کہ اسمیں ترمیم نہ ہو۔ اس دفعہ106کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو
⬇️
نمائندگی دی گئی تهی۔ایک بلوچستان میں،ایک سرحد میں،ایک دو سندھ اور پنجاب میں 3سیٹیں اور کچھ 6اقلیتوں کےنام بھی لکھے ہیں۔ عیسائی،ہندو،پارسی،بدھ اور شیڈول کاسٹ یعنی اچھوت۔
نورانی صاحب و دیگر کمیٹی ارکان چاہتےتھے کہ ان 6 کی قطار میں قادیانیوں کو بھی شامل کیاجائے تاکہ کوئی شبہ باقی
⬇️
نہ رہے۔ اس کیلئے بهٹو حکومت تیار نہ تھی وزیرقانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا: اس بات کو رہنے دو
نورانی صاحب نے کہا جب اور اقلیتوں اور فرقوں کے نام فہرست میں شامل ہیں تو ان کا نام بھی لکھ دیں۔ پیرزادہ نے جواب جواب دیا کہ ان اقلیتوں کا خود کا مطالبہ تھا کہ ہمارا نام لکھا جائے جبکہ
⬇️
مرزائیوں کی یہ ڈیمانڈ نہیں ہے
نورانی صاحب نے کہا یہ تو تمہاری تنگ نظری اور ہماری فراخدلی کا ثبوت ہے کہ ہم مرزائیوں کو بغیر انکی ڈیمانڈ مے دے رہے ہیں
(کمال کا جواب) 5ستمبر کی شام تک کمیٹی کوئی فیصلہ نہ کرسکی جنانچہ6 ستمبر کو بھٹو نے نورانی صاحب سمیت تمام کمیٹی ارکان کو بلایا۔
⬇️
لیکن نتیجہ صفر، حکومت کی کوشش تھی کہ دفعہ106 میں ترمیم کا مسئلہ رہنےدیا جائےجبکہ نورانی صاحب و دیگر ارکان سمجھتے تھے کہ اسکے بغیر حل ادھورا رہیگا
بڑے بحث و مباحثہ کےبعد بھٹو نے کہا کہ میں سوچوں گا
عصر کےبعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے نورانی
⬇️
صاحب ودیگر ارکان کو سپیکر کے کمرےمیں بلایا وہاں بھی کمیٹی ارکان نےاپنے اسی مؤقف کو دہرایا کہ دفعہ 106میں دیگر اقلیتوں کیساتھ مرزائیوں کا نام لکھا اور اسکی تصریح کیجائےاور بریکٹ میں قادیانی،لاہوری گروپ لکھاجائے۔پیرزادہ صاحب نے کہا وہ اپنے آپ کو مرزائی نہیں کہتے احمدی کہتے ہیں۔
⬇️
نورانی صاحب نےکہا احمدی تو ہم ہیں ہم انکو احمدی تسلیم نہیں کرتے پھر کہاچلو مرزا غلام کےپیروکار لکھدو وزیرقانون نےنقطہ اٹھایا کہ آئین میں کسی شخص کا نام نہیں ہوتا(حالانکہ محمد علی جناح کا نام آئین میں موجود ہے) پھر سوچ کربولے نورانی صاحب مرزا کا نام ڈال کر آئین کیوں پلید کرتےہو
⬇️
وزیرقانون کا خیال تھا کہ شاید نورانی صاحب اس حیلے سے ٹل جائیں گے۔ نورانی صاحب نے جواب دیا کہ شیطان ابلیس، خنزیر اور فرعون کے نام تو قرآن پاک میں موجود ہیں کیا ان ناموں سے نعوذ باللہ قرآن پاک کی صداقت و تقدس پر کوئی اثر پڑا ہے؟
وزیرقانون لاجواب ہوکر کہنے لگے: چلو ایسا لکھدو جو
⬇️
اپنے اپ کو احمدی کہتےہیں۔
نورانی صاحب نے کہا بریکٹ بند ثانوی حیثیت رکھتا ہے صرف وضاحت کیلئے ہوتا ہے لہذا یوں لکھدو قادیانی گروپ،لاہوری گروپ جو خود کو احمدی کہتے ہیں۔
الحمد اللہ اس پر فیصلہ ہوگیا
تاریخی فیصلہ:7ستمبر1974 پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا وہ یادگار دن تھا جب1953 اور
⬇️
74کےشہیدانِ ختم نبوت کا خون رنگ لایا اور قومی اسمبلی نے ملی امنگوں کی ترجمانی کی اور عقیدہ ختم نبوت کو آئینی تحفظ دیکر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیدیا۔
دستور کی دفعہ260میں اس تاریخی شق کا اضافہ یوں ہوا۔
”جو شخص خاتم النبیین محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیرمشروط
⬇️
ایمان نہیں رکهتا ہو اور محمد ﷺ کے بعد کسی بهی معنی و مطلب یا کسی بهی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں۔
اور دفعہ106کی نئی شکل کچھ یوں بنی۔ بلوچستان پنجاب سرحد اور سندھ کے صوبوں کی
⬇️
صوبائی اسمبلیوں میں ایسے افراد کیلئے مخصوص نشستیں ہوں گی جو عیسائی،ہندو سکھ،بدھ اور پارسی فرقوں اور قادیانیوں گروہ یا لاہوری افراد(جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) یا شیڈول کاسٹس سے تعلق رکهتے ہیں (ان کی) بلوچستان میں ایک،سرحد میں ایک، پنجاب میں 3 اور سندھ میں 2 سیٹیں ہوں گی
⬇️
صوبائی اسمبلیوں میں ایسے افراد کیلئے مخصوص نشستیں ہوں گی جو عیسائی،ہندو سکھ،بدھ اور پارسی فرقوں اور قادیانیوں گروہ یا لاہوری افراد(جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) یا شیڈول کاسٹس سے تعلق رکهتے ہیں (ان کی) بلوچستان میں ایک،سرحد میں ایک، پنجاب میں 3 اور سندھ میں 2 سیٹیں ہوں گی
⬇️
یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر ہے کہ اس ترمیم کے حق میں130ووٹ آئے اور مخالفت میں ایک بهی ووٹ نہیں آیا اس موقع پر اس مقدمہ کے قائد مولانا شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس فیصلے پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں اطمینان کا اظہار کیا
⬇️
جائے گا۔ میرے خیال میں مرزائیوں کو بهی اس فیصلہ کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہیئے کیونکہ اب انہیں غیرمسلم کے جائز حقوق ملیں گے اور فرمایا کہ سیاسی طور پر تو میں یہی کہہ سکتا ہوں (ملک کے) الجھے ہوئے مسائل کا حل بندوق کی گولی میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ملتے ہیں۔
⬇️
نوٹ: احباب سے لائک کمنٹس کی حاجت نہیں بس مودبانہ درخواست ہے کہ ختم نبوت کی اس آگاہی مہم میں ساتھ دیں اور زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
مجھے فالو کریں فالو بیک حاصل کریں

جاري تحميل الاقتراحات...