Arshad Mehmood ( Defender Of Pakistan ) ™®
Arshad Mehmood ( Defender Of Pakistan ) ™®

@Arshe530

12 تغريدة 15 قراءة Apr 03, 2021
قومیت پر فخر
کوئی قوم بھی یہ دعوی نہیں کرسکتی کہ اس میں صرف خوبیاں ہیں؛ حتیٰ کہ کسی ایک خوبی کا بھی دعوی نہیں کیا جاسکتا
فی الحال کسی پاکستانی قوم کی مثال نہیں لیتے کہ بات پوری ہونے سے پہلے کمنٹس کی بھرمار ہوجائے گی؛ اس لیئے ترک قوم کی مثال لیتے ہیں۔
ترک قوم کے بارے میں مشہور
⬇️
ہے کہ انتہائی بہادر، نڈر اور جری قوم ہے حال ہی میں پاکستانی قوم نے ترک تاریخی ڈرامہ دیریلش دیکھا ہے تو اسی کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ اس ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ ترک منگولوں سے لڑے صلیبیوں سے لڑے اور جو مرکزی کردار ارطغرل بہت نڈر اور دلیر تھے بہادری کی ایک مثال چاچا دمیر بھی
⬇️
بھی تھا جس کی وفاداری کو کسی عہدے کے لالچ کے تناظر میں بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔ ایک بےلوث انسان، یہ شخص ایک ترک تھا؛ لیکن اسی ڈرامے میں ہم نے کردوغلو کو بھی دیکھا جو غدار تھا۔ کردوغلو کی غداری پر ساتھ دینے والے بھی ترک تھے اور کردوغلو سے ڈر جانے والے بھی ترک، اور نیوٹرل رہنے
⬇️
والے بھی ترک۔ اسی طرح چاودار قبیلے کے سردار اچار بے کے دونوں بیٹے ترک ہی تھے لیکن دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ عمرولار قبیلے کی دونوں بہنوں کے مزاج میں بھی تقریبا وہی فرق تھا جو اورال بے اور آلیار بے میں تھا۔
ذاتی اغراض کی خاطر غلط کام کرنے والا سعدالدین کوپیک بھی
⬇️
ایک ترک تھا۔ منگولوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے والے بھی ترک اور ان سے دبنے والے بھی ترک، منگولوں کی خاطر اپنے ہی بھائیوں کو مارنے والا الباسطی بھی ترک ہی تھا۔
اب اگر قومیت کے نام پر ایک ترک شخص ارطغرل کے وجہ سے ترک ہونے پر فخر کرے تو وہ دیگر ترک افراد کے غلط کاموں کو
⬇️
کیسے جسٹیفائی کرے گا؟
اس کے برعکس جب کوئی شخص عقیدے اور نظریئے کی بنیاد پر اپنے معیار قائم کرتا ہے تو اس کے پاس بڑے واضح ڈیمارکیشن لائنز ہوتے ہیں چاہے کوئی ترک ہو یا عرب جب مقصد ایک تو دل مل گئے کوئی سابقہ صلیبی ہو یا سابقہ منگول سپاہی جب اسلام قبول کرلیا تو انتہائی
⬇️
قیمتی رازوں میں بھی شریک کیئے جاتے رہے۔ لیکن اسی قبیلے کے ترک افراد سے راز چھپائے گئے کہ ان کی حیثیت مشکوک تھی۔
~~~
جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو افغانوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اسے شکست دی لیکن ہم میں سے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ روس کے حملے کی راہ ہموار کرنے والے بھی
⬇️
افغانی ہی تھے۔ روسی حملے کے بعد افغانی قوم کے مختلف طبقات و افراد نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا۔
نمبر1۔ وہ لوگ جو ڈٹ گئے اور ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا؛
نمبر2۔ وہ بھی افغانی تھے جنہوں نے روسیوں کو آنے کا موقع دیا؛
نمبر3۔ وہ لوگ بھی افغانی تھے جنہوں نے فیملی کو پاکستان چھوڑا اور
⬇️
واپس جاکے مجاہدین میں شامل ہوگئے؛
نمبر4۔ اور وہ بھی افغان تھے جنہوں نے پاکستان، ایران، جرمنی اور کینیڈا میں پناہ لی اور واپس مڑ کر اپنی قوم کو پوچھا بھی نہیں؛
نمبر5۔ وہ لوگ بھی افغانی تھے جنہوں نے نہ تو ملک چھوڑا، نہ روسیوں کو بلایا، اور نہ ہی مجاہدین کا ساتھ دیا، بس اپنا
⬇️
کاروبار اور نوکری کرتے رہے؛
نمبر6۔ دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں چند گھروں پر مشتمل دیہاتوں میں رہنے والے افراد جن کو اکا دکا خبروں کے علاوہ اس بات کا پتا ہی نہ چلا ملک میں کیا ہورہا ہے۔
~~~
اب اگر کوئی شخص اس بات پر فخر کرتا ہے کہ وہ ترک ہے، بربر ہے، کرد ہے، عرب ہے یا پشتون ..
⬇️
تو اسے سوچنا چاہیئے کہ اسے کس بات پر فخر ہے؟ اگر اسے چند افراد کی وجہ سے اپنی قوم پر فخر ہے تو ایسے "چند" افراد تو ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ اگر قوم بزات خود باعث فخر ہے تو کس بنیاد پر؟ اور اس قوم میں موجود بزدل، غدار، بدکردار، کرپٹ افراد کے اعمال و افعال کی کیا جسٹیفیکیشن ہوگی؟
جسٹیفیکیشن ہوگی؟
~~~
قوم اور قبیلہ محض پہنچان ہے؛ عزت کا معیار صرف اور صرف "تقوٰی" ھے؛ اور قابل فخر شے صرف اور صرف وہ نعمت ھے جسے "ایمان" کہتے ہیں۔
تحریر اچھی لگی ہو تو ریٹویٹ کریں
مجھے فالو کریں اور یقینی فالو بیک
حاصل کریں
@Arshe530

جاري تحميل الاقتراحات...