سانحہ ڈی چوک بمقابلہ سانحہ ساہیوال
بی بی سی اردو کی تحریک انصاف کی کوریج پر مختصر تھریڈ
چند سال پہلے تک بی بی سی اردو کی رپورٹنگ میں غیر جانبداری نمایاں نظر آتی تھی۔ پھر تحریک انصاف کے قومی منظر نامے پر ابھرنے کے بعد اس کی خبروں میں پی ٹی آئی مخالف فریمنگ اور اینگلنگ نظر آنا شروع ہو گئی۔ بات شروع کرتے ہیں بی بی سی کی سانحہ ساہیوال کی کوریج سے۔ اس افسوسناک سانحے کی کوریج کی اہم سٹوریز میں اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی تصویر نمایاں طور پر لگائی گئی۔ 1/9
بی بی سی اردو کی تحریک انصاف کی کوریج پر مختصر تھریڈ
چند سال پہلے تک بی بی سی اردو کی رپورٹنگ میں غیر جانبداری نمایاں نظر آتی تھی۔ پھر تحریک انصاف کے قومی منظر نامے پر ابھرنے کے بعد اس کی خبروں میں پی ٹی آئی مخالف فریمنگ اور اینگلنگ نظر آنا شروع ہو گئی۔ بات شروع کرتے ہیں بی بی سی کی سانحہ ساہیوال کی کوریج سے۔ اس افسوسناک سانحے کی کوریج کی اہم سٹوریز میں اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی تصویر نمایاں طور پر لگائی گئی۔ 1/9
سانحہ ساہیوال سے جڑی دیگر خبروں میں بھی اس وقت کی حکومت کے عہدیداروں کی تصویریں شائع کی گئیں جو صحافتی لحاظ سے درست معلوم ہوتا ہے کہ یہی لوگ یتیم ہو جانے والے بچوں کے والدین کو تحفظ دینے کے ذمہ دار تھے۔ لیکن۔۔۔ 2/9 x.com
دوسری طرف سانحہ ڈی چوک سے جڑی اب تک کی خبروں میں نہ وزیر اعظم شبہاز شریف کی تصویر نظر آئی نہ فرنٹ فٹ پر کھیلتے وزیر داخلہ یا وزیر اطلاعات کی۔ سائیڈ سٹوریز کا زیادہ زور بھی ’گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟‘ یا ’آپریشن سے پہلے علاقے کی بجلی کیوں بند کر دی گئی؟‘ جیسے اہم سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی بجائے ’پی ٹی آئی کے متنازع فیصلے اور لاپتہ قیادت‘ اور ’پہلے آنے نہیں دیتے اب جانے نہیں دیتے‘ جیسے طنزیہ زاویوں کی طرف رہا۔ تحقیقاتی رپورٹنگ کی ذمہ داری جائے وقوعہ اور ہسپتال کا دورہ کر کے پوری کر لی گئی۔ البتہ کنٹینر پر نماز کے بعد دعا مانگتے کارکن کو نیچے پھینکنے کے واقعے کی ’بے مثال‘ انویسٹی گیشن ضرور کی۔۔۔ 3/9
صحافت کا مروجہ اصول ہے کہ ’حقیقت میں ہوا کیا تھا؟‘ جیسے اہم ترین سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے عینی شاہدین کے انٹرویو کئے جاتے ہیں۔ جن واقعات کی واضح ویڈیو فوٹیج دستیاب ہو اس میں عینی شاہد سے پوچھنا کہ ’حقیقت میں ہوا کیا تھا؟‘ معاملے کو کوئی اور رنگ دینے کی کوشش نظر آتی ہے۔ جو عینی شاہد ڈھونڈا اس نے سب کو نظر آنے والی حقیقت سے ہٹ کر منظر پیش کر دیا،
’’اس وقت تین، چار رینجرز والے وہاں پہنچے اور انھوں نے اس شخص کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ جب وہ ان کے ہاتھ نہیں آیا تو رینجرز نے اس (شخص) کو تھوڑا سے دھکا دیا اور پھر یہ نیچے جا کر گِرا ہے۔‘‘
جس کسی نے بھی یہ فوٹیج دیکھی ہے، کیا وہ کارکن ’ان کے ہاتھ نہیں آیا‘ کی گمراہ کن تشریح مان سکتا ہے؟ 4/9
’’اس وقت تین، چار رینجرز والے وہاں پہنچے اور انھوں نے اس شخص کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ جب وہ ان کے ہاتھ نہیں آیا تو رینجرز نے اس (شخص) کو تھوڑا سے دھکا دیا اور پھر یہ نیچے جا کر گِرا ہے۔‘‘
جس کسی نے بھی یہ فوٹیج دیکھی ہے، کیا وہ کارکن ’ان کے ہاتھ نہیں آیا‘ کی گمراہ کن تشریح مان سکتا ہے؟ 4/9
بے باک لیکن غیر جانبدار تجزیے بھی بی بی سی کی پہچان رہے ہیں۔ جب بات آئے عمران خان کی تو بی بی سی کے چند مخصوص تجزیہ کاروں کے مضامین میں بے قابو بے باکی تو نظر آتی ہے لیکن اس پر برہنہ جانبداری رقص کرتی بھی دکھائی دیتی ہے۔ کئی سال تک بی بی بی سی اردو پر ’تجزیہ‘ لکھنے والی معروف صحافی عاصمہ شیرازی تواتر کے ساتھ تحریک انصاف اور عمران خان کو نشانہ بناتی رہیں۔ عمران خان کو پنجابی فلموں کے سب سے بھیانک ولن نوری نت قرار دینے سے بھی نہ روک سکیں اور بی بی سی کے ایڈیٹرز نے بھی ان کے بیشتر مضامین سے عمران خان پر تنقید نکال دی جائے تو پیچھے خالی صحفہ بچے۔ 5/9
پی ڈی ایم کی کارروائی پر اظہار رائے تو نہیں کیا لیکن ن لیگ اور خاص طور پرمریم نواز کی سیاست میں باقاعدہ انٹری کے بعد ان کی ’امیج بلڈنگ‘ کے لیے مضامین ضرور بی بی سی کی زینت بناتی رہیں۔ 7/9 x.com
بی بی سی کی ن لیگ بارے کوریج اس حد تک پہنچ گئی کہ جب حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب بنے تو ان کی شان میں قصیدوں کا ایسا مضمون چھاپ دیا جو شاید کوئی پی آر فرم بھی چھاپتے ہوئے شرم محسوس کرتی۔ 8/9 x.com
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے ایک عادل گیلانی ہوا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ن لیگ کے ہر پروجیکٹ کو آنکھیں بند کر کے شفافیت کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیتے ہیں۔ سن 2015 میں انہیں پرائم منسٹر انسپکشن کمیشن کا کنسلٹنٹ تعینات کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں سربیا میں بطور پاکستانی سفیر تقرری کا تحفہ دیا گیا۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ نہ ہمیں کرپشن پر نظر رکھنے والے مناسب افراد دستیاب ہوتے ہیں نہ ہی عالمی صحافتی ادارے یہاں اپنی غیر جانبداری برقرار رکھ پاتے ہیں۔ 9/9
جاري تحميل الاقتراحات...