Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

11 تغريدة 4 قراءة Sep 23, 2024
آج سے کئی ہزار سال پہلے کی بات ہے ... کہ قدیم بابل میں ایک بادشاہ رہا کرتا تھا ۔
اس کا نام تو تھوڑا سا مشکل ہے ’’میلیشپک‘‘ لیکن میلیشپک نے اپنے زمانے میں ایک عجیب پتھر کھدوایا ... بلکہ وہ کہتے ہیں ناں ... carve کروایا ۔
میرے پاس اس پتھر کی ایک تصویر بھی ہے ...
جسے میں نے آپ کے ساتھ شیئر کر دیا ہے اور اس وقت یہ پتھر فرانس کے ایک میوزیم میں رکھا ہوا ہے ۔
اب اس پتھر پر ایک کہانی کھدوائی گئی ہے کہ بادشاہ میلیشپک ... اپنی بیٹی کو ایک کاہنہ کے روبرو پیش کر رہا ہے ۔
لیکن أصل بات یہ نہیں ہے ... بلکہ أصل بات ، کہ جس کی طرف میں آپ کی توجّہ ...
دلانا چاہتا ہوں ... وہ اس پتھر کے اوپری حصّے میں بنی ہوئی ہے ۔
غور سے دیکھیئے !
ایک سورج ، ایک چاند اور ایک ستارہ ۔
یہ تینوں نشان درأصل قدیم بابل کے تین دیوتاؤں کے نشانات ہیں ۔
سورج یعنی دیوتا ’’شمش‘‘ کا نشان ... چاند یعنی دیوتا ’’سین‘‘ کا نشان ... اور پھر ستارہ ...
جو دیوی ’’ایشتر‘‘ کی علامت ہوا کرتا تھا اور یہاں سے شروع ہوتا ہے اس کہانی کا دلچسپ حصّہ ۔
بابل کے لوگ اپنی دیوی ایشتر کو ایک ستارے کی شکل بنا کر ریپریزنٹ کیا کرتے تھے ... اور اسے وینس کہتے تھے ۔
آٹھ کونوں والے ستارے کی ایک شکل جسے آج بھی انگلش میں ... ’’دی سٹار آف ایشتر‘‘ ...
ہی کہتے ہیں لیکن ...
بابل اور سمرۃ ہی میں ایک شخص اور بھی رہا کرتے تھے جن کا ایک بڑا ہی زبردست واقعہ ... سورۃ الأنعام میں موجود ہے ۔
اور میں آپ کو وہ واقعہ ایک بار سادہ سے الفاظ میں سنا دینا چاہتا ہوں کہ ایک دن وہ شخص سورج کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ یہ میرا ربّ ہے ۔
لیکن پھر سورج غروب ہو جاتا ہے ۔
پھر وہ چاند کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ یہ میرا ربّ ہے ۔
لیکن پھر وہ چاند بھی غروب ہو جاتا ہے ۔
اور پھر وہ رات کو چمکنے والے ایک کوکب کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ شاید یہ میرا ربّ ہے لیکن وہ کوکب بھی غروب ہو جاتا ہے ۔
اور پھر وہ کہتے ہیں کہ میں اپنا رخ ..
اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمان و زمین کو بنایا اور میں اس کے ساتھ شرک نہیں کروں گا ۔
ایسا کیوں ؟
کیوں کہ اسی واقعے کے درمیان میں ایک جگہ آتا ہے کہ ہم نے ابراہیم کو آسمان و زمین کی مخلوقات دکھا دیں تاکہ انہیں مکمل یقین آ جائے (الأنعام 06:75)
حضرت ابراہیمؑ کو دکھا دیا گیا کہ ..
یہ وینس ... یہ زہرہ ... یہ سٹار آف ایشتر ... یہ ستارہ نہیں ۔
یہ نجم نہیں کہ جسے بابل کے لوگ ایک ستارہ بنا کر دکھاتے ہیں ۔
بلکہ یہ کواکب میں سے ایک ہے ... یہ ایک کوکب ہے ، یہ ایک سیارہ ہے اور یہ سیارہ ... غروب ہوتا ہے ۔
۔
دیکھ لو اے ابراہیم ! آسمان و زمین کی یہ مخلوقات ...
کیوں کہ تمہارا ربّ وہ ہے ... جو انہی آسمان و زمین کا خالق ہے ۔
قدیم بابل کے لوگ ... انہیں یہ تک نہیں پتہ تھا کہ جس کی وہ عبادت کرتے ہیں اور جسے وہ ایک ستارہ بنا کر دکھاتے ہیں ... وہ تو کوئی ستارہ ہے ہی نہیں ۔
بلکہ کئی ہزار سال بعد القرآن میں اس کے لیے صحیح ... اور ایگزیکٹ ...
لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔
’’رَءَا کَوْکَباً‘‘ ... یعنی اس نے ایک کوکب دیکھا ، اس نے ایک سیارہ دیکھا ۔
نجم نہیں بلکہ کوکب اور یوں ... حضرت ابراہیمؑ کو آسمان کی یہ مخلوقات دکھا کر اسے ان کی لیے ہدایت بنا دی گئی ۔
قرآن پاک ... یہ کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ یہ ایک ...
معجزہ ہے ۔
آج سے چودہ سو سال پہلے قرآن پاک نے babylonians کی اس غلطی کی بھی کوریکشن کر دی اور فرما دیا ...
کہ نہ تو میرا ربّ غلطی کرتا ہے ... اور نہ ہی وہ بھولتا ہے ۔
(طہٰ 20:52)
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...