Naheed Hussain
Naheed Hussain

@NahidHussainSk

11 تغريدة 2 قراءة Aug 02, 2024
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ
سورۃ الحج-26
اور یاد کرو جب ہم نے ابراہیم علیہ السلام کے لیئےاس گھر کی جگہ
👇👇
تجویز کی۔ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔اور میرے گھر کو پاک رکھنا۔ طواف کرنے والوں،قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے "
----------
عرب کے لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دین چھوڑ چکے تھے۔ان کا پیغام بھول چکے تھے۔مورتیوں کی پوجا کرنے لگے تھے۔لیکن قریش
👇
کے کچھ لوگوں کو اس گمراہی کا احساس ہوا۔ انہوں نے شرکت و بت پرستی کے خلاف آواز اٹھائی۔لوگوں کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دیا ہوا سبق یاد دلایا۔ مکے والوں سے انہوں نے کہا
" قریش کے لوگو! ابراہیم علیہ السلام کے بیٹو۔ اللہ کے گھر کو پاک کرو۔کعبے میں تم نے جو مورتیاں رکھ چھوڑی
👇
ہیں انہیں باہر نکالو۔ یہ تو بلکل بےجان ہیں۔نہ سن سکیں نہ دیکھ سکیں۔انہیں پوجنے سے کیا فائدہ؟ تم ان کا فواد کرتے ہو۔ان پر چڑھاوے چڑھاتے ہو۔ ان کے نام کی قربانی کرتے ہو۔۔۔
بھائیو! اس دین کے بجائے کوئی اور دین تلاش کرو جسے عقل تسلیم کرے۔
بھائیو! تورات اور انجیل میں ایک نبی کا ذکر
👇
آیا ہے۔وہ نبی تمہارے ہی اندر آئے گا۔ وہ بس آنے ہی والا ہے۔ یہودی عالم، عیسائی پادری، کاہن سب یہی کہتے ہیں۔لہذا تم شرک بٹ پرستی سے توبہ کرلو اور ابھی اس نبی کا انتظار کرو۔ دنیا میں بھی کامیاب ہو گے اور آخرت میں بھی نہال رہو گے"
اس وقت یہ ایک نئی آواز تھی بلکل ہی نئی آواز۔
👇
قریش کے کان کھڑے ہو گئے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ دیکھتے ہیں تو عمر بن نفیل کے بیٹے زید ہیں۔نوفل کے بیٹے ورقہ ہیں۔حارث کے بیٹے عثمان ور جحش کے بیٹے عبیدہ ہیں۔
یہ سب اپنی قوم کے بزرگ اور قابل قدر ہستیاں تھیں۔یہ سب لوگ ان کی عزت کرتے۔ ہر شخص جانتا تھا یہ چاروں آدمی دیں ابراہیمی کے
👇
پیرو ہیں۔ یہ شراب اور جوے سے کوسوں دور ہیں۔ بٹ پرستی سے بیزار ہیں۔بےچاری لڑکیوں کے لئے سراپا رحمت پیں۔اگر سن لیتے ہیں کوئی شخص اپنی معصوم بچی کو زندہ گاڑنے جا رہا ہے، چاہے مفلسی اور تنگ دستی کے ڈر سے یا باعث ننگ و عارسمجھ کر تو یہ فورا جاکر فورا اسے حاصل کر لیتے ہیں اور خود
👇
اس کی پرورش کرتے ہیں۔ جوان ہو جانے پر باپ کی طبیعت راغب ہو تو اسے واپس بھی کر دیتے ہیں۔
یہ سب کچھ سہی، لیکن قریش کو بھلا یہ کب گوارا ہو سکتا تھا کہ یہ لوگ ایسی نامانوس صدا بلند کریں ۔ وہ یہ کیونکر برداشت کر سکتے تھے کہ ان کے مذہب پر کھلم کھلا تنقید کی جائے۔اسے غلط ٹھہرایا جائے
👇
ان کی مورتیوں کو کھنڈن کیا جائے۔ ان کی بےبسی کا چرچا کرکے دلوں کو ان سے بیزار کیا جائے
اسی طرح کی پوجاپاٹ اور نذرونیاز میں تو ان کی عمریں گزر گئی تھیں۔ یہی ان کے معبود تھے جن کو وہ باپ دادا سے پوجتے آئے تھے۔ کیا وہ انہیں چھوڑ دیں ؟ یہ تو کبھی سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ انہوں نے نفرت
👇
سے منہ پھیر لیئے۔ حقارت سے کان بند کر لیئے۔ پھر اسی پر بس نہ تھا۔ بہتوں نے گالیاں دیں۔ طعنوں کے تیر چلائے۔تمسخر کے خنجر گھونپے اور جتنا ہو سکا جسم اور روح پر زخم لگائے۔
اسی طرح ایک زمانہ گزرگیا۔کوئی تو ہجرت کر گیا۔کوئی عیسائی ہو گیا۔دین ابراہیمی پر صرف زید رہ گئے۔ وہ کعبے کی
👇
دیوار سے لپٹ لپٹ کر روتے اور کہتے
" خدایا، اگر میں جانتا، تجھے کون سا طریقہ پسند ہے تو میں اسی کو اپناتا۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔جسے نہیں معلوم " پھر بےختیار سجدے میں گر پڑتے۔۔۔
( جاری ہے۔ 97 )

جاري تحميل الاقتراحات...