آئی ایم ایف کی ٹیم سٹاف لیول معاہدہ کئے بغیر روانہ ہو گئی ہے ، ٹیم نے واضح کیا کہ اگلے بجٹ کے اہداف اگر imf کی ہدایات کے مطابق ہوئے تو بجٹ کے بعد معاہدہ ہو سکتا ہے ، شرائط کے مطابق بجلی ، گیس ، پٹرول کی قیمتوں ۔یں اضافہ ، تمام اشیا پر یکساں 18 فیصد سیلز ٹیکس، 1n
تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس ، کل ٹیکس ٹارگٹ 13 ٹریلین، سبسڈیز کا خاتمہ، وغیرہ شامل ہیں ، سرکولر ڈیٹ میں کمی کیلئے بجلی کے ریٹ میں بہت زیادہ اضافہ متوقع ہے ، اسی طرح پٹرول پر 18 فیصد سیلز ٹیکس تباہ کن اضافہ لائے گا، ایک ناجائز حکومت جس کے الیکشن کیسز عدالتوں میں ہیں 2n
اور کسی وقت بھی درجنوں ممبران ڈی سیٹ ہو سکتے ہیں، ساتھ ہی ایجینسیوں کے غیر قانونی اقدامات بھی عدالتوں میں زیر التوا ہیں، سعودیہ اور چین سے کیش میں مالی مدد کی کوئی توقع نہیں، بلکہ چین سے تو پاور پراجیکٹس کی 2 ارب ڈالر ادائیگی کی قسطوں پہ بات ہونا باقی ہے 3n
صرف سود کی مد میں 10 ٹریلین خرچ ہو گا ، اندرونی قرضے تین سال میں دگنے ہو گئے ہیں، بد ترین مہنگائی ، بیروزگاری ، صنعتوں کی بندش ، سیاسی عدم۔استحکام ، حالات خراب تر ہونگے n/n
جاري تحميل الاقتراحات...