🧵 آخر تک ضرور پڑھیں:
اسکی حکومت ختم کی گئی تو اس نے کہا کہ اگرچہ میری حکومت گرانے میں امریکہ کا ہاتھ ہے لیکن میرے ساتھ اصل بے وفائی اور دغا "اندرونی قوتوں" نے کیا ہے اسلئے میں کسی بیرونی طاقت کو الزام نہیں دیتا۔
حکومت گرنے کے بعد اسکی عوامی مقبولیت دگنا ہوگئی۔
وہ لاہور آیا تو عوام کا جمِ غفیر۔ وہ کراچی گیا تو عوام کا جمِ غفیر۔
اسکی حکومت ختم کی گئی تو اس نے کہا کہ اگرچہ میری حکومت گرانے میں امریکہ کا ہاتھ ہے لیکن میرے ساتھ اصل بے وفائی اور دغا "اندرونی قوتوں" نے کیا ہے اسلئے میں کسی بیرونی طاقت کو الزام نہیں دیتا۔
حکومت گرنے کے بعد اسکی عوامی مقبولیت دگنا ہوگئی۔
وہ لاہور آیا تو عوام کا جمِ غفیر۔ وہ کراچی گیا تو عوام کا جمِ غفیر۔
سبھی نے کہنا شروع کردیا کہ جس دن الیکشن ہوا یہ شخص مزید بڑی اکثریت لے کر واپس آئے گا۔
حکومت گرانے والے گھبرا گئے اور اس پر مقدمات قائم کرنا شروع کر دئیے۔
اس کو الیکشن سے پہلے گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔
سینکٹروں پولیس والوں، 50 فوجی کمانڈوز اور FIA کے درجنوں اہلکاروں نے اسکے گھر کا محاصرہ کیا۔
حکومت گرانے والے گھبرا گئے اور اس پر مقدمات قائم کرنا شروع کر دئیے۔
اس کو الیکشن سے پہلے گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔
سینکٹروں پولیس والوں، 50 فوجی کمانڈوز اور FIA کے درجنوں اہلکاروں نے اسکے گھر کا محاصرہ کیا۔
اسکو سٹین گنوں کی نوک پر گرفتار کیا گیا،کمروں کی تلاشیاں لی گئیں، اسکے گھریلو ملازمین پر تشدد کیا گیا اور اسکے پورے گھر کو لوٹا گیا۔
اس نے فقط اتنا کہا کہ یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ گھر کے دروازے پہ لگی گھنٹی بجا دیتے تو میں باہر آکر گرفتاری دے دیتا۔
حراست کے دوران اسکو کسی سے ملنے کی اجازت نہ تھی۔ اپنے وکلا سے بھی نہیں۔
اس نے فقط اتنا کہا کہ یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ گھر کے دروازے پہ لگی گھنٹی بجا دیتے تو میں باہر آکر گرفتاری دے دیتا۔
حراست کے دوران اسکو کسی سے ملنے کی اجازت نہ تھی۔ اپنے وکلا سے بھی نہیں۔
FIA کے اہلکاروں نے جیل میں اس سے ملاقات کی اور کہا کہ اگر آپ نے "تعاون" نہ کیا تو آپکو سخت نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
وہ ڈٹا رہا تو اس پر مقدمات کی بھرمار کر دی گئی۔ اس پر الزام لگایا گیا کہ اس نے پاکستانی عوام کے پیسوں سے مہنگی ترین لگثری آئیٹمز بھی خریدی ہیں
اسکے مخالفین نے کہا کہ یہ شکر کرے کہ اسکا مقدمہ ملٹری کورٹ میں نہیں بلکہ سویلین کورٹ میں چل رہا ہے۔
وہ ڈٹا رہا تو اس پر مقدمات کی بھرمار کر دی گئی۔ اس پر الزام لگایا گیا کہ اس نے پاکستانی عوام کے پیسوں سے مہنگی ترین لگثری آئیٹمز بھی خریدی ہیں
اسکے مخالفین نے کہا کہ یہ شکر کرے کہ اسکا مقدمہ ملٹری کورٹ میں نہیں بلکہ سویلین کورٹ میں چل رہا ہے۔
ہایئکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز اسکے خلاف بغض سے بھرے ہوئے تھے۔
وہ جس جیل میں تھا وہاں کا سارا انتظام ایک کرنل دیکھ رہا تھا جو دھیان رکھتا تھا کہ کہیں جیل کی سول انتظامیہ اسکو کوئی سہولت نہ دے
جیل سپرانٹینڈینٹ اسے اسکے وکلا اور فیملی سے ملنے میں ہرطرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتا تھا
وہ جس جیل میں تھا وہاں کا سارا انتظام ایک کرنل دیکھ رہا تھا جو دھیان رکھتا تھا کہ کہیں جیل کی سول انتظامیہ اسکو کوئی سہولت نہ دے
جیل سپرانٹینڈینٹ اسے اسکے وکلا اور فیملی سے ملنے میں ہرطرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتا تھا
اسکی بیوی نے بارہا کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ میرے میاں کو جیل میں زہر دیا جارہا ہے۔
اس کی فیملی نے بار بار کہا کہ اسکو جیل میں اپنے ذاتی معالج سے چیک اپ کروا لینے دیں۔
لیکن حکومت کا اصرار تھا کہ اُسے جیل میں VIP سہولیات میسر ہیں، وہ گھر کا کھانا کھاتا ہے، اسے چار چار کمرے دئیے گئے ہیں
اس کی فیملی نے بار بار کہا کہ اسکو جیل میں اپنے ذاتی معالج سے چیک اپ کروا لینے دیں۔
لیکن حکومت کا اصرار تھا کہ اُسے جیل میں VIP سہولیات میسر ہیں، وہ گھر کا کھانا کھاتا ہے، اسے چار چار کمرے دئیے گئے ہیں
اسکو جلد از جلد سزا سنانے کیلئے ججوں نے عدالت کے اوقاتِ کار بڑھا دئیے۔
اسکو عدالت میں لایا جاتا تو اسکے لئے سب سے دور علیحدہ ایک پنجرہ نما کٹہرہ بنایا گیا تاکہ اسکی تذلیل کی جاسکے۔
اس نے اِن متعصب ججوں پہ بارہا عدم اعتماد کیا لیکن بینچ تبدیل نہ کیا گیا۔
پراسیکیوشن نے ساری دنیا کے آگے اپنے الزامات لگائے لیکن جب وقت آیا کہ وہ اپنا دفاع کرے تو ججوں نے ٹرائل ہی اِن کیمرہ کردیا۔
اسکو عدالت میں لایا جاتا تو اسکے لئے سب سے دور علیحدہ ایک پنجرہ نما کٹہرہ بنایا گیا تاکہ اسکی تذلیل کی جاسکے۔
اس نے اِن متعصب ججوں پہ بارہا عدم اعتماد کیا لیکن بینچ تبدیل نہ کیا گیا۔
پراسیکیوشن نے ساری دنیا کے آگے اپنے الزامات لگائے لیکن جب وقت آیا کہ وہ اپنا دفاع کرے تو ججوں نے ٹرائل ہی اِن کیمرہ کردیا۔
اس نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور اپنے وکیل سے وکالت نامہ واپس لے لیا تو عدالت نے اسکے دفاع کیلئے سرکاری وکیل لگا دیا۔
اس کے قریبی ساتھیوں کو اغوا کرکے سلطانی گواہ بنانے پہ مجبور کیا گیا۔
اسکے خلاف حکومت کی طرف سے پوری میڈیا مہم چلائی گئی
اس کے قریبی ساتھیوں کو اغوا کرکے سلطانی گواہ بنانے پہ مجبور کیا گیا۔
اسکے خلاف حکومت کی طرف سے پوری میڈیا مہم چلائی گئی
جب کبھی اسکی فیملی اور اسکے وکلا نے کہا کہ اسکو جیل میں سہولیات نہیں دی جارہیں، اسکا فئیر ٹرائل نہیں کیا جارہا، اسکی political victimisation کی جارہی ہے تو جواب دیا جاتا کہ یہ unprecedented تو نہیں، اس نے اپنے دور میں یہی سب اپنے سیاسی مخالفین کیساتھ بھی کیا تھا
اس پر قائم مقدمے کی بھونڈی کارروائی میں قانونی ضابطوں کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے، عدالتی نظیروں کو بُوٹوں تلے روندتے ہوئے اور due process کا مذاق بناتے ہوئے جب اسکو سزا سنائی گئی تک اسکے مخالفین بھی زیرِ لب اعتراف کرنے لگے کہ ایسی hyper-victimisation کی کوئی مثال نہیں۔
جب تک اسکو سزا سنائی گئی تب تک فوج نے اسکی جماعت پر کریک ڈاؤن کر کر کے اسکے اتنے کارکنان کو جیلوں میں ڈال دیا ہوا تھا کہ اسکی سزا کیخلاف پورے ملک میں صرف اکا دکا جگہ پر چند مظاہرے ہوسکے۔
پوری جماعت منتشر ہوچکی تھی اور منظم احتجاج نہ ہوسکا تو حکومت نے کہا کہ دیکھا! اسکی مقبولیت ختم ہوچکی ہے۔
پوری جماعت منتشر ہوچکی تھی اور منظم احتجاج نہ ہوسکا تو حکومت نے کہا کہ دیکھا! اسکی مقبولیت ختم ہوچکی ہے۔
آپ جانتے ہیں میں کس شخص کی بات کررہا ہوں؟ عمران خان؟ ہے ناں؟
نہیں۔
یہ ذوالفقار علی بھٹو کی داستان تھی۔ پانچ جولائی 1977 کے مارشل لاء سے لیکر اٹھارہ مارچ 1978 کے روز اسکے خلاف لاہور ہایئکورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سزائے موت کے فیصلے کی روُداد۔
یہ ساری کہانی👇اس کتاب میں درج ہے جو مجھے چند سال پہلے انارکلی کے فٹ پاتھ سے ردی میں ملی تھی۔
نہیں۔
یہ ذوالفقار علی بھٹو کی داستان تھی۔ پانچ جولائی 1977 کے مارشل لاء سے لیکر اٹھارہ مارچ 1978 کے روز اسکے خلاف لاہور ہایئکورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سزائے موت کے فیصلے کی روُداد۔
یہ ساری کہانی👇اس کتاب میں درج ہے جو مجھے چند سال پہلے انارکلی کے فٹ پاتھ سے ردی میں ملی تھی۔
جاري تحميل الاقتراحات...