عدن شاہ
عدن شاہ

@Adan_shaa

25 تغريدة Mar 30, 2024
چھ لاکھ ننانوے ہزار نو سو پچھتر کے نام۔۔۔
تھریڈ🧵
ٹوٹل بیس پچیس عقل کل حضرات کا فوکس جن ماسٹرز کے اشارے پر پاکستان پر قبضہ برقرار رکھنے تک محدود ہے اسکا انجام آپکو کوئ نہیں بتا رہا۔
کچھ پوائنٹس لکھ رہی ہوں کسی سیانے بندے سے تصدیق ضرور کرائیں کیونکہ ایسا نا کرنے کی صورت میں بمشکل
دو سال میں لوگ آپکی بوٹیاں نوچیں گے آپکو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
پچیس تیس لوگوں کے سب سے بڑے سپورٹرز امریکہ و یورپ ہیں اسکے بعد خلیجی ریاستوں کا نمبر آتا ہے۔
پہلے یورپ کا ذکر کرتے ہیں۔
برطانوی دارالحکومت کسانوں سے بھرا ہوا ہے۔ پولینڈ میں تاریخ کا سب سے بڑا کسان احتجاج جاری
ہے 70ہزار زائد کسانوں نے یوکرین بارڈر بند کیا ہوا تھا۔ فرانس میں کسان احتجاج تیسرے ماہ میں داخل ہو چکا ہے۔ یورپی یونین کے دفاتر کو گوبر سے نہلایا جا رہا ہے۔ اسوقت مجموعی طور پر یورپ کے 13 ممالک فرانس جرمنی آئرلینڈ سپین پولینڈ بیلجئم ہالینڈ رومانیہ ویلز اٹلی لیتھوانیا آسٹریا
برطانیہ میں کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ موسمی تبدیلیوں اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نوشتہ دیوار ہے کہ امریکہ و یورپ میں بھی خوراک کا بحران پیدا ہو گا جو بالواسطہ طور پر پوری دنیا کو متاثر کرے گا جس کے آثار ابھی سے سپر مارکیٹس میں نظر آنا شروع ہو چکے ہیں
harbingersdaily.com
افریقہ میں قحط سالی کی خبریں
voanews.com
پہلے ٹیکساس میں لگنے والی آگ جس نے امریکہ کی 35 بیف کی پیداواری ریاست کو چارے کی شدید قلت سے شکار کیا اس پر گائے میں پھیلنے والے برڈ فلو کا خدشہ جس سے پولٹری اور بیف کی صنعت شدید متاثر ہونے کا اندیشہ
insiderpaper.com
ہے دوسری جانب پوٹن نے ماسکو حملے کا ذمہ دار امریکہ یورپ و یوکرین کو ٹھہرایا ہے اور یورپ روس سے جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ اسوقت یورپ کی سچویشن یہ ہے کہ یورپینز دوسرے ممالک میں رہائشیں خرید رہے ہیں۔ اس سال کے آخر تک یورپ میں مہنگائ بیروزگاری اور جنگی حالات بننے کے بعد Mass Migration
شروع ہو گی کیونکہ روس اور ایران کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں چالیس فیصد اضافے کا فیصلہ تیل کی قیمت میں بلندی کا رجحان یورپی ممالک میں مہنگائ کا طوفان کھڑا کریں گے۔ اسکی دوسری وجہ یورپی حکومتوں کا دفاعی اخراجات اور یوکرین کو فنڈز کی فراہمی کے لیے ٹیکسز کی
economist.com
بھرمار کر رہے ہیں نوبت بارش کے پانی پر ٹیکس لگانے پر آ چکی ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستانی کمیونٹی کی ایک بہت بڑی تعداد جو چھوٹے موٹے کام کر کے یورپ سے ڈالرز کی صورت میں ریمٹنس بھیجتے ہیں حالات سے مجبور ہو کر واپس آئیں گے اور اس صورت میں بیرون ملک سے انے والی ریمیڈنس میں ڈنٹ
پڑے گا۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے مائ باپ امریکہ کی اندرونی تباہی کا آغاز ہو چکا ہے۔ میں ایک بار پھر اپنی اسٹیبلشمنٹ کو تاریخ کے سب سے بڑے فالس فلیگ کی پرڈکشن کرنے والی فلم Leave the world behind کو دیکھنے کا مشورہ دوں گی۔ دکھائے گئے سکرپٹ کے مطابق امریکا میں Baltimore bridge
کو اڑایا گیا ہے پل اڑانے والے جہاز کی تفصیلات اس حادثے کے رونما ہونے کی وجوہات خطرناک حد فلم میں دکھائ جزئیات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ سالانہ 80 ارب ڈالر سے زائد ریونیو کمانے کی صلاحیت کا حامل یہ پل امریکی معیشت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرے گا جسکا اظہار امریکی میڈیا میں ہو رہا ہے
پرڈکٹو پروگرامنگ کے دوسرے فیز میں ہوائ جہازوں کو بڑی تعداد میں کریش ہوتا دکھایا گیا تھا اور حیرت انگیز طور پر کل یورپ کی فضاء میں موجود 1600 جہازوں کا جی پی ایس بیک وقت کام کرنا چھوڑ گیا۔ کیا گارنٹی ہے کہ آئندہ چند روز یا چند ماہ میں ایسا کوئ سائبر اٹیک
insiderpaper.com
ناکام ہو جائے گا۔ تیسرے مرحلے پر ٹڈوں کا حملہ دکھایا گیا اور ایک اور حیرت انگیز اتفاق یہاں بھی موجود ہے کہ 1803 کے بعد پہلی بار امریکہ کی مختلف ساحلی ریاستوں میں ٹڈے کھربوں کی تعداد میں ظاہر ہونے والے ہیں۔ چوتھے فیز میں ساؤنڈ ویوز کے ساتھ
amp.cnn.com
لوگوں کو متاثر ہوتا دکھایا گیا۔ یہاں پھر کمال اتفاق ہے کہ 2023 میں ہی ایک فلم Black Noise کی ریلیز کے ساتھ ساتھ ساؤنڈ بم ٹیکنالوجی ڈسکس ہونے لگتی ہے جو کسی پورے شہر کی آبادی اور انفراسٹرکچر کو لمحوں میں تباہ کر سکتی ہے۔ ساتھ ہی اسکا پیٹنٹ بھی منظر عام پر
patents.google.com
آ جاتا ہے۔ ساؤنڈ بم کی مزید وضاحت کیلئے ایک پرانے آرٹیکل اور مزید ایک رپورٹ جس کے مطابق یہ ہتھیار 2016 میں کیوبا میں استعمال کیا گیا پڑھنے کے لیے پیسٹ کر رہی ہوں۔
ڈیپ سٹیٹ ایکٹرز کی جانب سے مزید انٹرنیٹ و مواصلاتی نظام کو
article36.org
faroutmagazine.co.uk
ختم کرتے دکھایا گیا ہے جسکا چھوٹے پیمانے پر عملی مظاہر ہم دیکھ رہے ہیں۔
پرڈکٹو پلاننگ کو حقیقت بنانے والے واقعات کے علاوہ گراؤنڈ رئیلیٹیز میں امریکی تجزیہ نگاروں کی مختلف آراء جن میں بے پناہ قرضوں کے باعث امریکی معیشت اور ڈالر کے کریش watcher.guru
ڈالر کی قدر میں پچیس فیصد کمی غیر قانونی تارکین وطن کا بڑھتا ہوا سیلاب امریکی معاشرے کو سول وار میں دھکیل دے گا۔
امریکہ اپنے بقاء کی جنگ ان ڈیپ سٹیٹ/اسٹیبلشمنٹ میں موجود گھس پیٹھیوں کی وجہ سے لڑ رہا ہے جس سے ہماری اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت ڈکٹیشن
watcher.guru
لے رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سمیت تمام حقیقی امریکنز یہ جانتے ہیں کہ امریکی تباہی کا ذمہ دار کوئ اور نہیں بلکہ وہ دیوہیکل کاروباری ادارے ہیں جو یہودیوں کی ملکیت ہیں۔ درحقیقت پوری دنیا بشمول امریکہ اسی یہودی لابی کے خلاف برسر پیکار ہے۔
یہاں سے آپکے عربی ماسٹرز کا کردار
شروع ہوتا ہے۔
رجیم چینج کے بعد باجوے اور اب عاصم منیر کو جن اربوں ڈالرز کی امداد کی یقین دہانی کرائ گئ تھی ان کا ایک فیصد بھی حاصل نہیں ہوا۔ بلکہ صرف اتنا نوالہ دیا جا رہا ہے جس سے روزمرہ کا کاروبار مملکت چلایا جا سکے اسکے عوض بھی پاکستان کے ہر اثاثے کو اونے پونے خریدا
جا رہا ہے۔
آپ اردگان سے محمد بن سلمان کو ہر جگہ یہود کے ساتھ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔
اردگان کی اسرائیل کو ہتھیار سپلائ اور عربوں کی یہود کو پیار کی سپلائ یقیناً نظر آ رہی ہو گی۔ پردہ حجاب طواف شراب کیسینو مندر ساحل عربوں کی سمت بتا رہے ہیں یہی وہ آقا ہیں جن کی ناراضگی کے ڈر سے
فلسطین کا جھنڈا پاکستان میں بین ہے۔ یہی آقا یہود کے بڑے کاروباری اداروں کے حصہ دار ہیں یہ پاکستان میں حقیقی لیڈر شپ پاکستان کا اقوام عالم میں کوئ کردار برداشت نہیں کر سکتے آپکی زمینوں سے لیکر اداروں اور ایٹمی ہتھیاروں کی خرید کوئ یہودی امریکی چینی یا روسی نہیں کرے گا آپکے کپڑوں
تک کو خرید کر آپکو ننگا کرنے والے یہی عربی ماسٹرز ہوں گے جو یہودی ماؤں کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں اور یہودیوں سے چودہ سو سال پہلے کا رشتہ نکال رہے ہیں۔ سرخ بچھڑوں کی قربانی محض ابتداء ہے کیونکہ انکی قربانی سے وہ اوزار پاک کیے جائیں گے جن سے ہیکل سلیمانی کی
تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھر لکڑی کو تراشا جائے گا۔ اصلی قدم تب اٹھایا جائے گا جب پاکستان کے ایٹمی اثاثے عرب ماسٹرز کو بیچے جا چکے ہوں گے جب ہم ایک گولی بھی چلانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
اس سٹیج تک پہنچانے کیلئے عمران خان کو راستے سے ہٹانا ضروری ہے تحریک انصاف کو بے نام و نشان
کرنا ضروری ہے۔ اسی لیے عاصم منیر پاکستان کے تمام علماء سے یہ یقین دہانی لیتا ہے کہ فلسطین پر اسکی بنائ پالیسی کو فالو کریں گے۔ حالانکہ فلسطین کے متعلق پالیسی چودہ سو سال پہلے آقا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم دے چکے ہیں اور اسے پرکھنا نہایت آسان ہے فلسطین کیلئے جو یمن کہے گا وہ عالم
اسلام کہے گا اگر اس سیارے پر عالم اسلام نامی کوئ قومیت وجود رکھتی ہے۔
احادیث کو دیکھ لیجئے اور پھر خود کو آئینے کے سامنے کھڑا کر کے سوال پوچھیے ہم دجال کے ہمنواؤں میں ہیں یا آقا کے غلاموں میں شامل ہیں۔
آپ کے پاس اس سرزمین کے چوبیس کروڑ ترانوے لاکھ لوگوں کے ساتھ جڑنے کا موقع بھی
موجود ہے اور جوڑنے والی کڑی بھی موجود ہے وہ کڑی ٹوٹ گئ تو یقین رکھیے امریکا برطانیہ یورپ ترک و عرب میں سے کوئ ایک آپکو بچانے نہیں آئے گا کیونکہ وہ خود اپنے گناہوں کی آگ میں جلنے والے ہیں انکا عبرت ناک انجام بھی چودہ سو سال پہلے بتا دیا گیا ہے۔
وما علینا الاالبلاغ

جاري تحميل الاقتراحات...