3 تغريدة 2 قراءة Feb 01, 2024
سائفر کا اردو ترجمہ:
میں نے آج دوپہر کے کھانے کے لیے اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ڈونولڈ لو کے ساتھ ملاقات کی۔ ان کے ساتھ ڈپٹی سیکرٹری لیس ویگوری بھی تھے۔ ڈی سی ایم، ڈی اے اور کونسلر قاسم میرے ساتھ شامل ہوئے۔
آغاز میں ڈونالڈ نے یوکرائن کے بحران پر پاکستان کے موقف کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’’یہاں اور یورپ کے لوگ اس بات پر کافی پریشان ہیں کہ پاکستان اس قدر جارحانہ غیر جانبدار موقف کیوں اختیار کر رہا ہے۔ ہمیں یہ موقف بالکل بھی غیر جانبدار نہیں لگ رہا. انہوں نے قومی سلامتی کونسل کے ساتھ اپنی گفتگو میں کہا ، "یہ بالکل واضح ہے کہ یہ وزیر اعظم کی اپنی پالیسی ہے" اور یہ "اسلام آباد کے موجودہ سیاسی ڈراموں سے منسلک ہے"۔ جس کی انہیں (وزیراعظم) کو ضرورت ہے اور وہ عوامی چہرہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میں نے جواب دیا کہ یہ صورتحال پر درست تجزیہ نہیں ہے کیونکہ یوکرین کے بارے میں پاکستان کا موقف گہری انٹر ایجنسی مشاورت کا نتیجہ تھا۔ پاکستان نے کبھی بھی عوامی سطح پر سفارت کاری کا سہارا نہیں لیا۔ سیاسی ریلی میں وزیر اعظم کا یہ تبصرہ اسلام آباد میں یورپی سفیروں کے عوامی خط کے ردعمل میں تھا جو سفارتی آداب اور پروٹوکول کے خلاف تھا۔ کوئی بھی سیاسی رہنما، چاہے وہ پاکستان میں ہو یا امریکہ میں، ایسی صورتحال میں عوامی جواب دینے پر مجبور ہو گا۔
میں نے ڈونلڈ سے پوچھا کہ کیا امریکہ کے سخت ردعمل کی وجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹنگ میں پاکستان کی غیر حاضری تھی۔ اس نے واضح طور پر نفی میں جواب دیا اور کہا کہ یہ وزیر اعظم کے ماسکو کے دورے کی وجہ سے ہے۔
اس نے کہا کہ اگر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ کامیاب ہوا تو واشنگٹن میں سب کو معاف کردیا جائے گا، کیونکہ روسی دورے کو وزیراعظم کے فیصلے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ بصورت دیگر، مجھے لگتا ہے کہ آگے جانا مشکل ہو گا۔وہ رکا اور پھر بولا۔"میں یہ نہیں بتا سکتا کہ یورپ اسے کیسے دیکھے گا لیکن مجھے شبہ ہے کہ ان کا ردعمل بھی ایسا ہی ہوگا۔" اس کے بعد اس نے کہا کہ ایمانداری سے مجھے لگتا ہے کہ یورپ اور امریکہ شدت سے چاہتے ہیں کے وزیر اعظم کو تنہا کر دیا جائے۔
ڈونلڈ نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم کے دورہ ماسکو کی منصوبہ بندی بیجنگ اولمپکس کے دوران کی گئی تھی اور وزیراعظم کی جانب سے پیوٹن سے ملاقات کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہوسکی اور پھر یہ منصوبہ بنایا گیا کہ وہ ماسکو جائیں گے۔
میں نے ڈونلڈ کو بتایا کہ یہ مکمل طور پر غلط معلومات پر مبنی تصور تھا۔ ماسکو کا دورہ کم از کم چند سالوں ادارہ جاتی عمل کے طور پہ پلان کیا جا رہا تھا۔
میں نے زور دے کر کہا کہ جب وزیر اعظم ماسکو کے لیے پرواز کر رہے تھے تو یوکرین پر روسی حملہ شروع نہیں ہوا تھا اور اب بھی پرامن حل کی امید باقی تھی۔
میں نے یہ بھی بتایا کہ یورپی ممالک کے رہنما بھی اسی وقت ماسکو جا رہے تھے۔
ڈونالڈ نے مداخلت کی کہ "وہ دورے خاص طور پر یوکرائن تنازعہ کا حل تلاش کرنے کے لیے تھے جبکہ وزیر اعظم کا دورہ دو طرفہ اقتصادی وجوہات کی بنا پر تھا۔
میں نے اس کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلوائی کہ وزیر اعظم نے ماسکو میں رہتے ہوئے صورتحال پر واضح طور پر افسوس کا اظہار کیا اور سفارت کاری سے مسلئہ کا حل نکالنے کی امید ظاہر کی۔ میں نے زور دیا کہ وزیراعظم کا دورہ خالصتاً دو طرفہ تناظر میں تھا اور اسے یوکرین کے خلاف روس کے اقدامات کے حق میں یا خلاف ہونےطور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
میں نے کہا کہ ہمارا مؤقف ہر طرف سے رابطے کے لیے چینلز کو کھلا رکھنا ہے۔ ہمارا موقف واضع ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ریاستوں کی حاکمیت اور سالمیت کو برقرار رکھتے ہوئے قوت اور تشدد کے عدم استعمال کے ساتھ مسائل کا پُر امن حل نکالنا۔ یہی بات اقوام متحدہ میں ہمارے ترجمان نے بھی کہی۔
میں نے ڈونلڈ کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان اس بات سے پریشان ہے کہ یوکرین کا بحران افغانستان کے تناظر میں کیسے نکلے گا۔ ہم نے اس تنازعہ کے طویل مدتی اثرات کے دوران بہت زیادہ قیمت ادا کی تھی۔ ہماری ترجیح افغانستان میں امن و استحکام تھی جس کے لیے روس سمیت تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی ناگزیر تھی۔
اس نقطہ نظر سے بھی، مواصلات کے ذرائع کو کھلا رکھنا ضروری تھا۔ یہ نقطہ بھی یوکرائن کے بحران پر ہمارے موقف کو بھی ڈکٹیٹ کر رہا تھا۔ بیجنگ میں آئندہ توسیعی ٹرائیکا میٹنگ کے حوالے سے، ڈونلڈ نے جواب دیا کہ واشنگٹن میں ابھی تک اس بات پر بات چیت جاری ہے کہ آیا امریکہ کو توسیعی ٹرائیکا میٹنگ یا افغانستان سے متعلق آئندہ انطالیہ میٹنگ میں روسی نمائندے کے ساتھ شرکت کرنی چاہیے، کیونکہ اس وقت امریکہ کی توجہ صرف روس کے ساتھ یوکرائن پر بات کرنا تھی۔
1/3
2/3
میں نے جواب دیا کہ یہ وہی ہے جس کا ہمیں ڈر تھا۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ یوکرائن کا بحران افغانستان سے توجہ ہٹائے۔ ڈونلڈ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
میں نے ڈونالڈ سے کہا کہ بالکل ان کی طرح، میں بھی اپنے نقطہ نظر کو واضح انداز میں بتاؤں گا۔ میں نے کہا کہ پچھلے ایک سال کے دوران ہم امریکی قیادت کی طرف سے اپنی قیادت کے ساتھ بات چیت کرنے میں مسلسل ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔ ہچکچاہٹ نے پاکستان میں یہ تصور پیدا کر دیا تھا کہ ہمیں نظر انداز کیا جا رہا ہے اور یہاں تک کہ ہمیں قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا رہا ہے۔ ایک احساس یہ بھی ہےکہ امریکہ کو ان تمام معاملات پر پاکستان کی حمایت کی توقع ہے جو امریکہ کے لیے اہم ہیں ، لیکن ہمیں پاکستان کے لیے تشویشناک معاملات پر زیادہ امریکی حمایت نظر نہیں آتی خاص طور پر کشمیر پر۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے قیاس کو دور کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر مواصلات کے فعال چینلز کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
میں نے یہ بھی کہا کہ ہم حیران ہیں کہ اگر یوکرائن پر ہمارا موقف امریکا کے لیے اتنا اہم تھا تو امریکا نے ماسکو کے دورے سے قبل اور اقوام متحدہ میں ووٹنگ کے وقت بھی اعلیٰ قیادت کی سطح پر ہمارے ساتھ بات چیت کیوں نہیں کی۔ ریاستی محکمہ نے اسے DCM سطح پر اٹھایا تھا۔ پاکستان مسلسل اعلیٰ سطح کے روابط کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسی وجہ سے وزیر خارجہ نے یوکرائن کے بحران پر پاکستان کے موقف کو ذاتی طور پر بیان کرنے کے لیے سیکرٹری بلنکن سے بات کرنے کی کوشش کی۔ کال ابھی تک ختم نہیں ہوئی تھی.
ڈونلڈ نے جواب دیا کہ واشنگٹن میں سوچ یہ تھی کہ پاکستان میں موجودہ سیاسی بحران کو دیکھتے ہوئے یہ اعلیٰ سطح کے روابط کا صحیح وقت نہیں ہے اور پاکستان میں سیاسی صورتحال کے ٹھیک ہونے تک انتظار کیا جا سکتا ہے۔
میں نے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا کہ یوکرائن بحران جیسے پیچیدہ حالات میں ملک کو فریقوں کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے اور سیاسی قیادت کی سطح پر فعال دو طرفہ رابطے رکھنے پر زور دیا۔ ڈونالڈ نے جواب دیا کہ "آپ نے اپنا موقف واضح طور پر پہنچا دیا ہے اور میں اسے اپنی قیادت تک پہنچا دؤں گا"۔
میں نے ڈونالڈ کو یہ بھی بتایا کہ ہم نے یوکرائن بحران پر ہندوستانی موقف کا دفاع امریکہ  -ہندوستان تعلقات پر حال ہی میں منعقدہ سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کی سماعت کے دوران دیکھا ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ امریکہ بھارت اور پاکستان کے لیے مختلف معیارات کا اطلاق کر رہا ہے۔
ڈونالڈ نے جواب دیا کہ سماعت کے دوران امریکی قانون سازوں کے یو این ایس سی اور یو این جی اے میں ہندوستان کی عدم شرکت کے بارے میں سخت جذبات واضح طور پر سامنے آئے۔ میں نے کہا کہ سماعت سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کو پاکستان سے زیادہ بھارت سے توقعات ہیں لیکن فکر مند وہ زیادہ پاکستان کے موقف کے بارے میں دکھائی دیتا ہے۔
ڈونالڈ نے ٹال مٹول کرتے ہوئے جواب دیا کہ واشنگٹن نے امریکہ کے ہندوستانی تعلقات کو اس نقطہ نظر سے بہت زیادہ دیکھا کہ چین میں کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب کہ بھارت کے ماسکو کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، "مجھے لگتا ہے کہ جب تمام ہندوستانی طلباء یوکرائن سے باہر نکل جائیں گے تو ہم حقیقت میں ہندوستان کی پالیسی میں تبدیلی دیکھیں گے۔"
میں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم کے دورہ روس کا مسئلہ ہمارے دو طرفہ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ ڈونلڈ نے جواب دیا۔' میں سمجھتا ہوں کہ اس نے پہلے ہی ہمارے تعلقات میں دڑار پیدا کردی ہے۔ ہمیں کچھ دن انتظار کرنا چاہئیے کہ آیا سیاسی صورتحال بدلتی ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اس مسئلے کے بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں رکھیں گے اور فیصلہ کریں گے کہ اسے کس طرح سنبھالنا ہے۔"
ہم نے افغانستان اور دوطرفہ تعلقات سے متعلق دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ہماری گفتگو کے اس حصے پر ایک الگ رپورٹ ارسال کر دی ہے۔
3/3
رائے
ڈونالڈ وائٹ ہاؤس کی واضح منظوری کے بغیر اتنی مضبوط ڈیمارچ نہیں دے سکتا تھا، جس کا اس نے بار بار حوالہ دیا تھا۔ واضح طور پر، ڈونلڈ نے پاکستان کے داخلی سیاسی عمل پر آؤٹ آف ٹرن بات کی۔ ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے اور امریکہ سے مناسب ڈیمارچ کرنے پر غور کرنا چاہیے۔

جاري تحميل الاقتراحات...