Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

32 تغريدة 8 قراءة Jan 20, 2024
اس تصویر میں آپ جرمنی کے جس گھر کو دیکھ رہے ہیں ... اس گھر کا نام ہے wannsee haus ۔
آج سے 81 سال پہلے اس گھر میں ٹھیک آج کے دن ... یعنی بیس جنوری کو ہٹلر کے پندرہ v.v.i.p آفیسرز کی ایک میٹنگ ہوئی تھی جو صرف نوّے منٹس تک چلی تھی اور اس میٹنگ میں ایک پرپوزل ... یا ایک تجویز ...
پیش کی گئی تھی جسے کا نام تھا آخری حل ...
یعنی ... the final solution ۔
اس پرپوزل کو باقاعدہ لکھا گیا تھا ... اور اس کا مطلب یہ تھا کہ جس بھی شخص کا نام یہودی مذہب سے جڑا ہوگا ، اس کا ... اور اس کی پوری نسل کا ہی خاتمہ کر دیا جائے گا ۔
اس پرپوزل کے پیچھے درأصل ہٹلر کی ایک ...
تقریر تھی جو اس نے دو سال پہلے جرمنی کے reichtag یعنی پارلیمنٹ میں دی تھی اور اپنی اس تقریر کے دوران اس نے ایک بڑی اہم بات کہی تھی ۔
اس بات ہی کی وجہ سے ہی ہٹلر کی اس تقریر کو the prophecy speech یعنی پیشن گوئی کر دینے والی ایک تقریر کہا جاتا ہے ۔
ہٹلر کی اس بات کو نازی ...
آفیسرز نے اتنا سنجیدہ لیا ... کہ نازی اخبار wochenspruce نے اسے ہٹلر ہی کے الفاظ میں بڑے بڑے پیپرز پر لکھ کر جرمنی کی دیواروں تک پر لگایا تھا ۔
اور ہٹلر کے وہ الفاظ تھے ... کہ اگر یورپ کے اندر اور باہر کی طاقتیں ایک مرتبہ پھر سے ... جنگ شروع کرنے میں کامیاب ہو گئیں ... تو ...
اس جنگ سے دنیا کی سیاست بدلے یا نہ بدلے لیکن یہودی صفحہ ہستی سے ضرورمٹ جائیں گے ۔
میں نے آپ کو بتایا کہ یہ میٹنگ صرف نوّے منٹس تک چلی تھی لیکن اس میں ہونے والا فیصلہ ... بہت بڑا تھا ۔
اس میٹنگ کو لیڈ کرنے والا شخص جرمنی کی پیرا ملٹری ایجنسی schutzstaffel کا reichfuhrer ...
جنرل reinhard hydrich تھا ۔ SS کا سب سے بڑا کمانڈر اور یہ ایک اتنا اہم عہدہ ہوا کرتا کہ اس عہدے کے لیے لوگوں کا انتخاب ہٹلر بذات خود کرتا تھا ۔
جب hydrich نے اپنے اسسٹنٹ eichmann کو اس میٹنگ کے منٹس ریکارڈ کرنے کا کہا تو اس نے eichmann کو ایک بڑی ہی دلچسپ ہدایت کی کہ ...
میٹنگ کے دوران جو بھی ہم لوگ کہیں ... تم نے اسے حرف بہ حرف کبھی نہیں لکھنا ۔
بعد میں جب eichmann کا ٹرائل ہوا اور اس سے پوچھا گیا کہ اس میٹنگ کے دوران آفیسرز نے کیا کیا باتیں کی تھیں تو آپ کو پتہ ہے کہ اس نے کیا کہا تھا ؟
اس نے ہنس کر جواب دیا تھا کہ ’’اب میں کیا کہوں ...
بس اتنا سمجھ لیں کہ مجھے بے تحاشہ نفرت کو سرکاری زبان میں لکھنا پڑا تھا ۔‘‘
بہرحال نازی دور میں یہودیوں کے ساتھ جو ہوا ... وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ... لیکن کیوں ؟
کیوں یہودیوں کی تاریخ ، نفرت سے بھری پڑی ہے ؟
حالانکہ یہ تو اللہ کی ایک بڑی خاص قوم تھی اور قرآن پاک میں ...
تین مرتبہ ان کی باقی اقوام پر فضیلت بتائی گئی ہے ۔ دو مرتبہ تو سورۃ بقرۃ میں ہے کہ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی (البقرۃ 2:47 ، البقرۃ 2:122)
اور ایک مرتبہ الجاثیہ میں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام دنیا والوں پر فضیلت دے دی تھی (الجاثیہ 45:16)
تو پھر ...
کیوں تاریخ میں ان کے ساتھ اتنی نفرت ہوتی رہی ہے ؟
ان کی فضیلت کے متعلق تو بخاری کی حدیث میں یہاں تک آتا ہے کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے کہ وہ نبی تو نہیں ہوتے تھے ... مگر فرشتے ان کے ساتھ باتیں کیا کرتے تھے ۔ (بخاری 3689)
بلکہ اسرائیل کا لفظ بھی درأصل دو الفاظ سے ...
مل کر بنا ہے ... یِسریٰ اور ایل ... یسریٰ یعنی کہ وہ جو کوشش کرے اور ایل یعنی ایلوہیم یعنی خدا ... یعنی کہ وہ جو خدا کے لیے کوشش کرےتو پھر ایسا کیا ہوا کہ بنی اسرائیل کے لیے دنیا میں اتنی نفرت پھیل گئی ؟
یہودیوں کے خلاف یہ نفرت صرف نازیز کے ہاں ہی نہیں تھی ۔
نازی جرمنی سے ...
سو سال پہلے دمشق میں ایک عیسائی پادری فادر تھامس اور اس کا ایک مسلمان ملازم ابراہیم عمّارۃ غائب ہو گئے اور تب بھی الزام یہودیوں پر ہی لگا تھا کہ انہوں نے پادری اور اس کے ملازم کی قربانی دی ہے اور ان کے خون کو اپنی ایک مذہبی رسم میں استعمال کیا ہے ۔
سنہ 1660ء میں جب استنبول ...
میں ایک عظیم آگ لگی تھی تب بھی ذمہ دار یہودی ہی ٹھہرائے گئے اور انہیں استنبول چھوڑنا پڑا بلکہ اس وقت medieval یورپ میں یہودیوں کو ایک خاص طرح کا yellow badge پہننا ہوتا تھا تاکہ پتہ چل سکے کہ فلاں شخص یہودی ہے ۔
بعد میں نازی جرمنی میں اس بیج کے باقاعدہ پوسٹرز چھپا کرتے تھے ...
کہ اس بیج کا پہننے والا ... ہمارے لوگوں کا دشمن ہے ۔
یہاں پہنچ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے یہودیوں کے ساتھ تاریخ میں بڑی زیادتیاں ہوئی ہیں اور یہ تھا داستان کا ایک رخ ۔
سنن إبن ماجہ میں ہےکہ بنی اسرائیل کے معاملات تو ہوتے ہی انبیاء کے ہاتھوں میں تھے ۔ جب ان کا کوئی ایک نبی ...
فوت ہو جاتا تو دوسرا نبی فوراً اس کا جانشین ہو جایا کرتا تھا ۔ (سنن إبن ماجہ 2871)
لیکن اپنے انبیاء کو سب سے زیادہ قتل کرنے والی قوم بھی ... بنی اسرائیل ہی تھے ۔
آل عمران کی اکیسویں آیت ہے کہ اے نبی ! انہیں دردناک عذاب کی خبر دے دیں جنہوں نے اپنے انبیاء کو ناحق قتل کیا ہے ...
بنی اسرائیل پر یہ عذاب اس لیے آئے تھے کہ اپنے انبیاء کو قتل کر دینا ان لوگوں کی ایک عادت بن چکا تھا ۔ تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ ایک مرتبہ تو ایسا بھی ہوا کہ ایک صبح بنی اسرائیل نے اپنے تینتالیس انبیاء ایک ہی ساتھ شہید کر دیئے ۔
یہ لوگ اتنے شرارتی تھے کہ جب انہیں حکم ملا ...
جب بیت المقدس میں داخل ہو تو جھک کر اور عاجزی کے ساتھ ’’حِطَّۃ‘‘ کہتے ہوئے داخل ہونا تو یہ لوگ مذاق اڑانے کے طور پر گھسٹتے ہوئے ... اور ’’حَبَّۃ‘‘ کہتے ہوئے داخل ہونے لگے ۔ (بخاری 4479)
یہودیوں کے درمیان ایک نبی گزرے ہیں جنہیں ہم حضرت أرمیاءؑ کے نام سے جانتے ہیں اور یہودی ...
انہیں jeramiah یا پھر the weeping prophet یعنی روتے ہوئے نبی کہتے ہیں ۔
اس نام کی ایک وجہ تھی اور وہ یہ کہ أرمیاء پر ایک ایسی وحی اتری کہ جس کے بعد کسی نے انہیں ہنستے ہوئے کبھی نہیں دیکھا اور اس وحی کی ڈیٹیلز ہم تک إبن عساکرؒ کے ذریعے پہنچتی ہیں ۔
اس وحی میں یہ تھا کہ ...
اے پیغمبر ! چٹان پر کھڑے ہو کر انہیں بتا دیں کہ تمہارے دل تو ہیں ... مگر وہ سمجھتے نہیں ۔
تم پر ایسی فوجیں مسلّط ہوں گی جو تمہاری زبان تک نہیں جانتیں ۔ نہ وہ تمہارے چہروں کو پہچانیں گے ... اور نہ ہی وہ تمہارے آنسوؤں میں رحم کھائیں گے ۔
تم پر ایسے بادشاہ مسلّط ہوں گے جن کے ...
لشکر بادلوں کی طرح تم پر چھا جائیں گے تم پر گھوڑوں کے ہنہنانے اور بھیڑیوں کے بھونکنے کی آواز یں گونجیں گی ۔ تمہاری دلہنوں کی چیخ و پکار بلند ہو گی ، تمہارے محل درندوں کا مسکن بنیں گے ۔ تمہاری خوشبوئیں مٹی میں تبدیل ہو جائیں گی اور تمہاری ہڈیاں سورج کی تپش کے حوالے ہو جائیں گی ۔
نہ تم پر آسمان کچھ برسائے گا اور نہ ہی تم پر زمین کچھ اگائے گی اور اگر اس میں سے کچھ اگا بھی ... تو وہ اللہ کی رحمت سے صرف اس کے جانوروں کے لیے ہو گا ۔
آپ کو پتہ ہے کہ دل دہلا دینے والی اس وحی پر بھی بنی اسرائیل نے کیا کیا تھا ؟
انہوں نے ارمیاءؑ پر ہنسنا شروع کر دیا اور ...
کہنے لگے کہ اگر اللہ نے ہمیں مٹا دیا تو پھر اس کی عبادت کون کرے گا ؟
اور یہ کہہ کر انہوں نےا رمیاءؑ کو بھی بھوک سے قتل کر دینے کے لیے زمین کے اندر موجود ایک تہہ خانے میں ڈال دیا ۔
اور تبھی ... اللہ کے وعدے کے مطابق بخت نصر ان پر قہر بن کر ٹوٹا اور پچھتر ہزار یہودیوں کو ...
غلام بنا کر اپنے ساتھ بابل لے گیا ۔
پھر نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے دور میں بھی مدینہ کے اندر یہود کے کچھ قبائل آباد تھے اور یہ لوگ آپس میں بھی لڑتے رہتے تھے لیکن آپؐ نے مدینہ میں ایک ایسا معاہدہ ڈیولپ کیا ... جس سے پورے علاقے میں امن قائم ہو گیا اور جسے میں اور آپ ...
میثاق مدینہ کے نام سے جانتے ہیں ۔
لیکن حسب عادت ... یہودیوں کا ایک قبیلہ بنو قینقاع خلاف ورزی کیے بغیر رہ نہ سکا ۔
یہ ایک امیر اور لینڈ لارڈ قسم کا قبیلہ تھا ، ان کی مدینہ میں زیادہ تر جیولری کی دکانیں تھیں اور ایسی ہی جیولری کی ایک دکان پر ایک مسلمان عورت کا واقعہ پیش آیا ۔
جب وہ عورت دکان پر پہنچی تو یہودی دکان دار نے اسے اس بات پر مجبور کرنا شروع کر دیا کہ وہ اپنے چہرے پر سے پردہ ہٹائے ۔
جب عورت نے انکار کر دیا تو دکاندار نے عورت کا پلو ایک کیل میں اس طرح پھنسا دیا کہ جب وہ اپنی جگہ سے اٹھے تو اس کی ٹانگ پر سے کپڑااتر جائے گا اور ایسا ہی ہوا ۔
جب اس عورت کے کپڑے پھنس گئے تو یہودی زور زور سے ہنسنے لگے ۔ اس بات پر لڑائی ہوئی ، یہودیوں کی طرف سے معاہدہ ٹوٹ گیا اور اس قبیلے کو ہی مدینے سے نکالنا پڑ گیا ۔
اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے ... کہ اس قدر قدیم تاریخ والی قوم ... کہ جن کے پاس پہ در پہ انبیاء آئے ... جو اس قدر ...
اونچ اور نیچ سے گزرے کہ کبھی انہیں تمام جہانوں میں افضل قرار دے دیا جاتا ... اور کبھی انہیں پوری دنیا میں ذلالت نصیب ہوتی ... جن میں سے بعض لوگوں کے ساتھ فرشتے تک باتیں کیا کرتے تھے حالانکہ وہ لوگ نبی نہیں ہوتے تھے ۔
جن کے متعلق الانعام میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ ...
نبی کو اس طرح پہچانتے ہیں کہ جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ۔ (الانعام 6:20)
آج آپ کو یہودیوں کی تاریخ کے متعلق یہ سب باتیں بتانے کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ ایک ایسی قوم ... جن کے پاس ہزاروں انبیاء آئے ، اور ایک ایسی قوم جس کے ساتھ ہزاروں واقعات پیش آئے ، جب ان کے سامنے ...
نبی کریم ﷺ کی نبوت کو ٹیسٹ کرنے کی باری آئی تو انہوں نے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھا ؟
آخر کیا جاننا چاہ رہے تھے وہ لوگ ذوالقرنین کے بارے میں ؟کیا سوچ رہی ہو گی ان کے ذہن میں ؟
ذوالقرنین ... ایک ایسے شخص جنہوں نے تین بڑے ہی غیر معمولی سفر کیے ۔ کیا دلچسپی تھی یہودیوں کو ...
ذوالقرنین کی داستان میں ؟
انہوں نے اپنے ساتھ پیش آئے ہزاروں واقعات کو چھوڑ کر ذوالقرنین کے متعلق کیوں پوچھا ؟
آج سے ... میں آپ کے ساتھ ایک نئی سیریز کا آغاز کرنے جا رہا ہوں ۔
اور اس سیریز کے اندر میں آپ کو لے کر جانے والا ہوں آج سے چودہ سو سال پہلے کی دنیا میں ۔
ایسا کیا ہے ذوالقرنین کی داستان میں کہ یہودیوں نے سب کچھ چھوڑ کر ... آپ ﷺ سے ان کے متعلق سوال کر لیا ۔
ذوالقرنین کے متعلق ... یاجوج اور ماجوج کے متعلق ۔
اور یہاں سے ہوتا ہے آغاز ہماری اس سیریز کی پہلی قسط کا ۔
اس سیریز کو بغیر کسی تاخیر کے run کرنے کے لیے میرے ریسرچ ورک ...
آپ کی سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے ۔
جس کا طریقہ کار میرے فیسبک پیج پر بھی موجود ہے اور چینل پر بھی ۔
تاکہ إن شاء اللہ ہمارا یہ علمی سفر بغیر کسی رکاوٹ کے ، ہمیشہ چلتا رہے ۔
جس کے اندر میں آپ کو لے کر چلنے والا ہوں ... ایک بہت ہی حیرت انگیز دنیا میں ۔
ذوالقرنین کی دنیا میں ۔
فرقان

جاري تحميل الاقتراحات...