عدن شاہ
عدن شاہ

@Adan_shaa

26 تغريدة 1 قراءة Jan 18, 2024
دنیا Black Swan اور پاکستان۔۔۔۔۔
پچھلے دنوں میں نے آپریشن بلیک سوان کا ابتدائیہ ٹوئٹ کیا تھا۔ یہ پلان ہے کیا اور اس سے دنیا یا ہم کیسے متاثر ہوں گے دستیاب معلومات کے مطابق ایک ممکنہ سناریو لکھ رہی ہوں۔ اس تھریڈ میں Black Swan کی تفصیلات بذریعہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے
ہرکاروں کے بیانات، انکی سرپرستی میں بنی ڈاکیومینٹریز، سالوں سے زیر گردش predictive/planned پروگرامنگ اور مستقبل قریب میں ہونے والے متوقع واقعات کو شامل کروں گی اسکے بعد ہم عالمی منظر نامے میں اس آپریشن کے ذریعے دنیا کے ممکنہ نئے نقشے/منظرنامے پر
بات کریں گے۔ سب سے پہلے آپ سب کی کلئیرٹی کیلئے یہ واضح کر دوں کہ Black Swan کے پیچھے وہی قوتیں ہیں جنہوں نے اربوں لوگوں کو ویکسین کے نام پر death shots لگائیں۔ میں ویکسین کو death shot کسی مولوی کے کہنے پر نہیں کہہ رہی
بلکہ آج کے دن برطانوی پارلیمنٹ میں ہوئ testimony پچھلے ہفتے امریکی کانگریس میں ہوئ بحث اور ٹکر کارنلسن کے پچھلے ہفتے ہونے والے شو کے حوالے سے بات کر رہی ہوں کہ پوری دنیا میں اب تک ایک کروڑ ستر لاکھ افراد کرونا ویکسین سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ مختلف معذوریوں میں مبتلا
افراد کا کوئ ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔ آپریشن Black Swan ہے کیا۔۔؟
بیسکلی پوری دنیا سے انٹرنیٹ ، بجلی اور ریڈیوکمیونیکشن کا خاتمہ، بڑے مقاصد جبکہ چھوٹے اہداف میں اسی ماہ میں آنے والی Disease X کے خاتمے کیلئے انجکشنز لگانے کی مہم، اپریل تک سائبر اٹیک کے ذریعے پوری دنیا کے بینکنگ
سسٹم کی بندش اور مئ تک سمندری حیات اور زمین پر موجود جانوروں اور پرندوں میں نئے Avian Flu کو پوری دنیا میں پھیلانے جیسے چھوٹے چھوٹے آپریشنز کو Black Swan کا نام دیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش کے متعلق میں پچھلے ایک تھریڈ میں ضمنأ ذکر
کر چکی ہوں لنک ملاحظہ کیجئے
تفصیلی ایڈیشن کرتی ہوں۔ یمن کے خلاف امریکی بحری بیڑوں اور عالمی طاقتوں کا اکٹھا ہونا اس وجہ سے بھی ہے کہ مغرب سے مشرق کی انٹرنیٹ سپلائ کیبلز ریڈ سی سے گزرتی ہیں جن سے دنیا کی 17 سے 30% آبادی کو انٹرنیٹ فراہم کیا جاتا
ہے جسے حوثیوں نے کاٹنے کی دھمکی دی ہے۔ اور یہ تیس فیصد آبادی مشرقی ممالک ہیں۔ لنک دیکھیے
آپکو روس کی Nord Stream پائپ لائن تباہی تو یاد ہی ہو گی جس کے ذریعے روس پورے یورپ کو گیس سپلائ کرتا تھا۔ اسے تباہ کرنے والے کون تھے۔۔؟ سیمور ہرش کا یہ کالم
economist.com
پڑھیے اور ٹکر کارنلسن کی وڈیو دیکھیے۔۔
سو۔۔ اگر ریڈ سی سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز امریکی کاٹ کر الزام حوثیوں پر ہی لگا دیں اور گھمسان کی جنگ کی وجہ سے سال دو سال کیلئے انٹرنیٹ بحال ہی نا ہو سکے تو دنیا کی عمومی اور مشرق کی اقتصادی سچویشن کیا ہو گی۔۔۔۔؟ ایک ہلکا سا اندازہ ریفر
کر رہی ہوں پوری دنیا کی 95 فیصد کمیونیکیشن اور روزانہ دس سے بائیس کھرب ڈالرز کی ٹرانزیکشنز سمندر سے گزرنے والی کیبلز کے تھرو ہوتی ہیں۔ یہ ایک لنک دیکھیے۔
ایسی ہی کاروائیاں دنیا کے چیدہ چیدہ مقامات پر ایک ساتھ ہونا بالکل خارج الامکان نہیں کیونکہ
google.com
کیونکہ ایشیاء سے افریقہ یورپ و امریکا ہر جگہ شورشیں برپا ہیں۔ سوئز کینال میں موجود انٹرنیٹ کیبل کو تین غوطہ خوروں کا کاٹنا، روسی آبدوز Loshiarik کا حادثہ زیادہ پرانی باتیں نہیں ہیں۔ روسی Loshiarik دس ہزار فٹ سے زائد گہرائ میں آپریٹ کر سکتی تھی جبکہ
google.com
پرائیویٹ کمپنی Ocean Gate کی Titanic آبدوز جس میں اینگرو کا مالک شہزادہ داؤد ہلاک ہوا وہ بھی 12500 فٹ گہرائ میں ٹائٹینک دیکھنے گئے تھے۔ گویا پرائیویٹ کمپنیز بھی سمندر میں تخریب کاری کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہاں ضمنأ معلومات میں اضافہ کر دوں کہ ocean gate کمپنی یہودی ملکیت ہے۔
دوسری ممکنہ وجہ EMP اٹیک ہے۔ ای ایم پی یعنی الیکٹرو میگنیٹک پلس دو طرح سے دنیا کو متاثر کر سکتی ہے۔ 1:_ سورج سے آنے والی الیکٹرومیگنیٹک ویوز
2:_ زمین سے چالیس کلومیٹر یا اس سے زائد بلندی پر ہونے والا تھرمو نیوکلئیر بلاسٹ۔
جدید تاریخ کا سب سے بڑا قدرتی ای ایم پی اٹیک 1 سے دو
ستمبر 1859 کو ہوا تھا جسے Carrington effect کہتے ہیں یہ امریکا چین جاپان سمیت پوری دنیا میں دیکھا گیا اس کی الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ (مقناطیسی طاقت) اسقدر زیادہ تھی کہ یورپ و شمالی امریکہ کے تمام تار گھر کام کرنا چھوڑ گئے۔ بعض جگہ تار گھروں میں آگ لگی اور کہیں
google.com
آپریٹرز کو کرنٹ لگا۔ اسی طاقت کا ای ایم پی اٹیک 2012 میں دنیا سے ٹکراتا ٹکراتا رہ گیا۔ سائنسدانوں کے بقول اٹھارہویں صدی سے سو گنا زیادہ طاقتور ای ایم پی بلاسٹ 2024/25 میں متوقع ہے۔ اگر یہ دنیا سے ٹکراتا ہے تو پوری دنیا میں موجود ہر الیکٹرانک ڈیوائسز، مشینری، ہتھیار، گاڑی، بحری
و بری جہاز سمیت ہر چھوٹی سے چھوٹی بڑی سے بڑی شے کو ناکارہ کر دے گا۔ دنیا مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوب جائے گی۔ یہ ایونٹ قدرتی طور پر رونما ہو یا مصنوعی اسکے اثرات اسکے رونما ہونے کے بعد دنیا کے حالات کو predictive پلاننگ کے تھرو سمپسن سے لیکر ناسا کی وڈیوز
کئ کئ جلد پر مشتمل فکشنل ناولز اور فلموں کے ذریعے پچھلے ایک سال سے شدت کے ساتھ میڈیا، سوشل میڈیا، اخبارات اور ٹاک شوز میں ڈسکس کیا جا رہا ہے۔ میں پچھلے دنوں انہی واقعات پر مبنی مشعل اوبامہ کی نئ آنے والی فلم پر ایک مختصر تھریڈ بھی لکھ چکی ہوں لنک۔
دو دن پہلے آج کی دنیا کا سب سے مشہور صحافی ٹکر کارنلسن اس پر پورا پروگرام کر چکا ہے۔ کسی ایسے ایونٹ کے مستقبل قریب میں رونما ہونے کی پاسیبلیٹی کو صرف یہی چیزیں تقویت نہیں دیتی بلکہ حقیقی خبریں جیسا کہ برائ کی علامتیں مارک زگر برگ جو بائیڈن بل گیٹس وغیرہ اپنے گھروں/پراپرٹیز کے
نیچے انڈت گراؤنڈ فیسیلیٹز تعمیر کرنے کی خبریں میڈیا پر آ رہی ہیں۔
یہ ای ایم پی بلاسٹ بے شک دنیا سے نہ ٹکرائے لیکن آپریشن black swan کے ذریعے انسانی تیار کردہ HEMP (ہائ آلٹی ٹیوڈ الیکٹرومیگنیٹک پلس) ہتھیاروں کو استعمال کر کے پوری دنیا کو www3.newcastlede.gov
نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ HEMP کس قدر طاقتور ہے ایک سٹڈی کے مطابق امریکی ایسٹ کوسٹ پر اگر HEMP استعمال کیا جائے تو ایک سال میں ایسٹ کوسٹ کی نوے فیصد آبادی بھوک اور خانہ جنگی سے ہلاک ہو جائے گی اور بجلی کی بحالی و قانون کی عملداری قائم ہونے میں ڈیڑھ سال
eurasiantimes.com
لگ جائے گا۔ اسکو کتنا سیریس لیا گیا خود پڑھیے کہ چھبیس مارچ 2019 کو ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر نمبر 13865 سائن کیا تھا جس میں کسی انسانی یا قدرتی ای ایم پی سے بچاؤ کیلئے ایک الگ ادارے کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ اسی تسلسل میں دسمبر 2019 میں نئ سپیس فورس کے
federalregister.gov
قیام کا اعلان کرتا ہے اور یکم مئی20 کو ایک اور ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے امریکہ کی برقی تنصیبات کو محفوظ بنانے کیلئے ٹاسک فورس قائم کرتا ہے۔ جو ایگزیکٹو آرڈر 13865 کے مطابق قائم کردہ ادارے Coordinating National Resilience to Electromagnetic Pulses”
trumpwhitehouse.archives.gov
کی پراگریس کے متعلق تین ستمبر 2020 کو ہوم لینڈ سکیورٹی پہلی رپورٹ شائع کرتی ہے اور ٹرمپ کی قائم کردہ سپیس فورس اگست 2022 میں امریکی میزائل وارننگ بیسز اور سیٹلائٹس کنٹرول حاصل کر لیتی ہے۔
کیا یہ سب لوگ پاگل ہیں۔ غالبا ان سب کے پاس ہم سے
dhs.gov
بہتر ٹیکنالوجی، وسائل اور پیشگی اطلاعات فراہم کرنے والے سسٹمز موجود ہیں۔
کسی ممکنہ فالس فلیگ یا قدرتی ایونٹ سے بچنے کیلئے ہر ایک تیاری بھی کر رہا ہے اور موقعے کا انتظار بھی کر رہے ہیں۔
جبکہ پاکستان میں ایسے کسی موقعے کیلئے مجھے نا ہی کوئ تیاری نظر آتی ہے نا ہی
اس جانب کوئ بولتا نظر آتا ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ ایسے کسی موقعے پر ہمارے ملک کے حاکمین میرے گزشتہ روز کے تھریڈ کو حقیقت بنانے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ ہمارے حاکمین کا سب سے بڑا مسئلہ زندہ رہنا ترقی کرنا یا عوام کو بچانا نہیں عورت اور حکومت ہے۔
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
@threadreaderapp unroll

جاري تحميل الاقتراحات...