عدن شاہ
عدن شاہ

@Adan_shaa

28 تغريدة 1 قراءة Dec 02, 2023
سال 2024 نئ آفتیں نئے امتحان ۔۔۔
اس سال جنوری میں ورلڈ اکنامک فورم کے مینجنگ ڈائریکٹر جرمی جرگن نے کہا تھا کہ 2024 میں پوری دنیا پر سائبر اٹیک متوقع ہے بلکہ ایگزیکٹ الفاظ یوں تھے
" یہ اٹیک 2025 سے پہلے ہر صورت ہو گا"۔
اس معاملے میں پچھلے
@MoeedNj
ہفتے مائکل شیلن برگر Michael Shellenberger کی CTIL فائلز لیکس سے کچھ چیزیں واضح ہو کر سامنے آئ ہیں آپ سب سے شئیر کرتی ہوں۔ بہت سے لوگوں کو شاید علم ہو کہ مستقبل میں ہونے والے کسی سائبر اٹیک سے نمٹنے کے لیے ورلڈ اکنامک فورم سمولیشنز بھی
جاری کرتی رہتی ہے اس آپریشن کو سائبر پالیگان کا نام دیا گیا ہے۔ ان مشقوں میں ورلڈ اکنامک فورم کے پارٹنرز رشین گورنمنٹ بڑے رشین نیشنل و کمرشل بینکس بنک آف امریکا فیڈرل ریزرو بنک امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسیز ملٹی نیشنل کمپنیز مائیکروسافٹ ایمازون اور ہیکرز گروپس
ہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا خاص طور پر مالیات سے منسلک افراد اس وقت امریکی بنکوں بالخصوص وال اسٹریٹ کے حالات سے آگاہ ہوں گے عام قارئین بھی جانتے ہیں کہ پچھلے ماہ سلیکان ویلی کے تین چار بڑے بنکس دیوالیہ ہوئے تھے۔ بینکوں پر سائبر اٹیک ہونے کا مطلب ہے پوری دنیا کا
مالیاتی نظام ایک دم تہہ و بالا ہونا جس سے پوری دنیا میں انتشار پھیلے گا۔ پوری دنیا میں
سٹاک مارکیٹ کریش/بند ہونے کی صورت میں نقصان کی مالیت کا اندازہ لگانا فی الوقت ناممکن ہے۔ بنکوں کی بندش اور سسٹم ری سٹور ہونے کے دوران کا وقت (تین دن سے تین ہفتے) ہو سکتا ہے
کے درمیان ضرویات زندگی کی خریداری کا بحران سسٹم اور معاشروں کو بری طرح ہٹ کرے گا۔
ایسا کوئ سائبر اٹیک ہونا اس لیے ضروری ہے تاکہ
پوری دنیا میں ورلڈ اکنامک فورم کی سائبر سیکیورٹی کے نام پر دی گئ پالیسیز نافذ کی جا سکیں جس میں انٹرنیٹ پر کنٹرول بھی شامل ہے۔
یہ کنٹرول حاصل کرنے کیلئے ڈیجیٹل آئ ڈی سسٹم نافذ کیا جانا ہے۔
اس ڈیجیٹل آئ ڈی کے ذریعے سیکیورٹی ادارے آپ کی انٹرنیٹ پر ہر حرکت مانیٹر کرنے کے قابل ہوں گے ناصرف وہ یہ چیک کر سکیں گے کہ اپ انٹرنیٹ پر کیا پڑھ رہے ہیں کیا دیکھ رہے ہیں بلکہ یہ بھی جان پائیں گے کہ آپ کیا ٹوئٹ یا پوسٹ
لکھ رہے ہیں۔
ڈیجیٹل آئ ڈی حکومت کو آپکا مالیاتی کنٹرول بھی دے گی یعنی ڈیجیٹل آئ ڈی کے حامل شخص کے بنک اکاونٹس اس میں موجود رقومات اور کی جانے والی ٹرانزیکشنز تک ہمہ وقت حکومت کی رسائ ہو گی۔ حکومت جب چاہے کسی کو کنگال کرنے کے قابل ہو گی۔
سائیڈ نوٹ:_ تجرباتی طور پر یہ سسٹم چین اور روس کے کچھ شہروں میں نافذ ہو چکا ہے۔ جس میں قانون توڑنے مثال کے طور پر ٹریفک سگنل توڑنے پر اسی وقت قانون کے مطابق جرمانہ اس شخص کے بینک اکاؤنٹ سے کاٹ لیا جاتا ہے۔
دوسری مثال :_ جیسا کہ آجکل کمپنی کرش پی
ٹی مشن پر ہے تو پی ٹی آئ کو سپورٹ کرنے والے کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے بڑے سے بڑے شخص کے بنک اکاونٹس سیکنڈز میں خالی ہو جائیں گے لاکرز حکومت کی کسٹڈی میں ہوں گے۔
ورلڈ اکنامک فورم دنیا کی تمام بڑی ایجنسیز کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ رکھتی ہے۔ اور ان ایجنسیز کے پاس دنیا کے تمام
ممالک بشمول ایران روس چین جنوبی کوریا کے افراد کے فنگر پرنٹس موجود ہیں جو بلاشبہ ہیکنگ کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں کہیں کہیں سے کرپٹ غداروں سے خریدے بھی گئے ہیں۔
سائیڈ نوٹ :_
پاکستان سے نادرا کا ڈیٹا چوری ہونے (فروخت ہونے) کا بھی سب کو یاد ہی ہو گا۔
بیک ٹو ٹاپک کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی قسم کا سائبر اٹیک پوری دنیا کے ڈیجیٹل سسٹم پر ہوتا ہے تو اٹیک کرنے والے اسکا الزام دنیا میں جس ملک جس شخص پر چاہیں لگا سکتے ہیں۔
سائیڈ نوٹ :_
اسکو بین الاقوامی سچویشن میں دیکھیں یعنی
پوری دنیا میں انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ یا کیبل کے سامنے کھڑے ہونے والے کسی بھی مل (ایران روس چین جنوبی کوریا ) پر لگایا جا سکتا ہے۔
لیکن 90 فیصد چانسز ہیں کہ ایران پر لگایا جائے گا۔ وجوہات لکھتی ہوں۔
ایران پر حملے کے لیے ماحول تیار ہو چکا ہے۔ فلسطین اسرائیل حالیہ جنگ کے کچھ واقعات
یاد کیجئے۔۔
ایرانی ہیکرز نے اسرائیلی سیکیورٹی سسٹم ہیک کر لیا۔ روسی ہیکرز نے فلسطین سے حمایت کے اظہار میں اسرائیلی جاسوسوں کی معلومات افشاں کر دی پانی کی سپلائ کا نظام کاٹ دیا ٹی وی چینل ہیک کر لیا وغیرہ وغیرہ وغیرہ
سائیڈ نوٹ پر ایک مثال:_ مارگریٹ تھیچر نے کہا
تھا روس ختم ہو چکا اسلام ابھی باقی ہے۔ پھر 9/11 ہوا اور اسلام کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئ جسے بش اور اسکے کئ عہدیداروں نے کروسیڈ یا صلیبی جنگ کا نام دیا تھا تمام اسلامی ممالک اندرونی یا بیرونی طور پر تباہ ہو گئے آج تقریبا تمام اسلامی ممالک یہودیوں کے سامنے سجدہ
theguardian.com
ریز ہیں لیکن پھر سے نا صرف روس کھڑا ہو چکا ہے بلکہ اسکے ساتھ چین اور ایران بھی۔
ان CTIL فائلز سے کچھ پرانے اور حالیہ واقعات/بیانات کی وضاحت ہوئ ہے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے کسی سائبر اٹیک کا الزام ایران پر لگایا جائے گا۔ حالیہ اسرائیل فلسطین جنگ میں اپ
اسرائیلی وزراء کے بیانات جس میں وہ امریکہ سے ایران پر حملہ کرنے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں امریکی حکومت کی وارننگز سے بخوبی آگاہ ہوں گے۔ ماضی کا ایک واقعہ یاد کراتی جاؤں پھر موجودہ ٹاپک کو جاری رکھتے ہیں۔ 22 ستمبر 2003 کو الجزیرہ نے ایک نیوز شائع کی تھی جس
aljazeera.com
میں نیٹو کے جنرل Wesley Clark کے حوالے سے ایک خبر بریک کی گئ تھی کہ وہ 2001 میں پینٹاگون کے ایک سینئر عہدیدار سے ملے جس نے بتایا تھا کہ بش انتظامیہ 9/11 حملوں کا ماسٹر مائنڈ عراق کو قرار دے کر پہلے اس پر حملہ کرنا چاہتی تھی۔ بش کل سات ممالک کو تباہ کرنا چاہتا
تھا جس میں عراق شام سوڈان صومالیہ مصر لبنان اور ایران شامل تھے۔ بعد میں ایک ٹی وی پروگرام میں انہوں نے اس کی تصدیق بھی کی تھی۔ چھ ممالک تباہ ہو چکے ہیں ایران باقی ہے۔ ان CTIL فائلز کے مطابق مارچ 2020 میں کرونا کے دنوں میں سائبر تھریٹ انٹیلیجنس لیگ کی
بنیاد رکھی گئ جسکا مقصد کرونا کے دنوں میں امریکہ کے بڑے ہسپتالوں فارماسیوٹیکل کمپنیز ہیلتھ انشورنس کمپنیز کو فری سائبر سیکیورٹی اور اسسٹنس فراہم کرنا تھا۔ انکے متعلق ہونے والے پراپیگنڈہ کو غیر موثر کرنا تھا۔ اس CTIL کا سربراہ یعنی پبلک کے سامنے کرتا دھرتا اسرائیلی
انٹیلیجنس آفیسر اوہاد زیڈنبرگ Ohad Zeidenberg ہے۔
سائیڈ نوٹ :_ زیڈنبرگ کی امریکہ میں وجہ شہرت اسرائیل کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی Clear Sky کیلئے بھی کام کرنا ہے جو ایران پر سائبر حملوں کی ذمہ داری امریکی میڈیا میں قبول کرتا ہے۔ کمال بات یہ ہے کہ سائبر تھریٹ انٹیلیجنس لیگ
یعنی CTIL بعد میں امریکی سائبر سیکیورٹی ایجنسی CISA کو معاونت فراہم کرتی ہے اور اسے امریکہ کے تمام کریٹیکل انفراسٹرکچر یعنی ہسپتال ڈیمز واٹر سپلائی نیوکلئیر ری ایکٹرز ایوی ایشن سمیت نجانے کہاں تک رسائ دی گئ ہے اس سے زیادہ کمال فیکٹس یہ ہیں کہ CTIL میں
شامل ہونے یا اسکے سسٹمز تک رسائ حاصل کرنے کا اختیار امریکی فیڈرل گورنمنٹ سمیت کسی کو حاصل نہیں ہے بلکہ اسکا اختیار Ohad Zeidenberg یا اسکے ایفیلیٹ مائیکروسافٹ اور OCTA کے پاس ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ امریکی دفاعی و ملٹری انسٹالیشنز تک ایک اور پرائیوٹ
کمپنی Cybereason کو رسائ حاصل ہے۔
سو ہم کہہ سکتے ہیں کہ Ohad Zeidenberg جیسے ورلڈ اکنامک فورم کی حمایت یافتہ افراد کے پاس امریکہ یا پوری دنیا پر سائبر اٹیک کی صلاحیت موجود ہے ایسے کسی حملے کو جواز بنا کر ایران پر الزام لگایا جائے گا اور ایران کی تباہی
کے دس بیس سال بعد کوئ امریکی عہدیدار یہ اعتراف کرے گا کہ سائبر اٹیک ایران نے نہیں کیا تھا بالکل اسی طرح جس طرح کولن پاول نے اعتراف کیا تھا کہ عراق کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں تھے۔
شکاریوں اور شکار کی جنگ مالیاتی نظام کی 👇
تباہی کے علاوہ 2024 میں بقایا دنیا کے لیے شدید ترین مہنگائ کا طوفان بھی منتظر ہے۔ چند خبروں کو ملا کر دیکھیے۔
روس نے یوکرین بندرگاہوں سے خوراک باہر جانے پر پابندی لگائ ہوئ ہے۔
دنیا کی بڑی جہازراں کمنیاں نہر سویز میں اپنے
تجارتی جہاز نہیں بھیج رہی کیونکہ حوثی باغی جہاز اغواء کر لیتے ہیں متبادل راستہ اختیار کیا جا رہا ہے نتیجتاً شپنگ جارجز دگنے ہونے لگے ہیں۔
امریکہ اور پاکستان دونوں میں الیکشن کا ہونا موجودہ عالمی سیٹ اپ کے حق میں نہیں ہے۔ اپنے آپ کو ہمہ قسمی حالات کیلئے تیار رکھیے۔ عشق کے کٹھن امتحاں ابھی باقی ہیں۔
@threadreaderapp unroll

جاري تحميل الاقتراحات...