پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ
پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پاس اب آپشنز کیا بچے ہیں یا آپشنز ہی ختم ہو چکے ہیں۔
قریباً بیس ماہ قبل پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ ، جو خود کو مکمل اسٹیبلشمنٹ کہلانے پہ مصُر ہے، کے چند بوڑھے جرنیلوں نے جنرل باجوہ کی معیت میں کچھ سٹریٹجک فیصلے کئے👇
پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پاس اب آپشنز کیا بچے ہیں یا آپشنز ہی ختم ہو چکے ہیں۔
قریباً بیس ماہ قبل پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ ، جو خود کو مکمل اسٹیبلشمنٹ کہلانے پہ مصُر ہے، کے چند بوڑھے جرنیلوں نے جنرل باجوہ کی معیت میں کچھ سٹریٹجک فیصلے کئے👇
تھے جنکا بوجھ اٹھانے کا اب وقت آگیا ہے۔ انکا فیصلہ یہ تھا کہ روس یوکرائن وار میں روس ہمیشہ کی طرح امریکی ٹریپ کا شکار ہوکر مار کھا جائے گا اور کئی دہائیوں کے لیے عالمی منظرنامہ سے غائب ہوجائے گا سو چین بھی بیک فٹ پہ جائے گا۔ لہٰذا ذاتی مفادات اور سٹریٹجی کی غلط فہمی کی بنیاد
👇
👇
پہ ایک فیصلہ ہوا کہ عمران کی چھٹی کرائی جائے جو پاکستان کا مستقبل چین اور روس کے ساتھ دیکھتا ہے اور سیاست کے روایتی کھلاڑیوں کو داخل کیا جائے جو امریکی کیمپ سے وابستہ ہیں۔ اس میں جنرل باجوہ کی اپنی ایکس ٹینشن کی خواہش بھی شامل تھی تو رجیم چینج ہوا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ
👇
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ
👇
پاکستان روس اور چین کے کیمپ سے تو نکل گیا البتہ امریکہ کے کیمپ میں بھی شامل تو نہ ہوا بس متمنی تھا۔ ان جرنیلوں کے نزدیک امریکی کیمپ میں شمولیت کی دو شرائط تھیں جو انکو پورا کرنا تھیں۔ اوّل اسرائیل کو تسلیم کرنا اور دوم بھارت کے سامنے ہتھیار ڈال کے کاش میر پہ سمجھوتہ کر لینا تا
👇
👇
کہ وہ بدستور امریکی کیمپ میں رہیں۔ اور مغالطہ یہ تھا کہ امریکہ کے پاس لامحدود پیسہ ہے جب بھی ایسا کرینگے امریکہ پیسے کی بوچھاڑ کردے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف بڈھے جرنیل اپنا توازن کھو بیٹھے بلکہ نجم سیٹھی جیسے بڈھے بزعم خود عالمی سیاست کے ماہر بھی توازن کھو بیٹھے اور نجم سیٹھی
👇
👇
یہ کہتا نظر آیا جرنیلوں کو کہ ایک بار ہاں کہہ دیں تو اٹھارہ بیس ارب ڈالر تو راہ جاتا ہی مل جائے گا سب مل کر کھائیں گے۔
کاش ان جاہلوں نے معاشیات ہی کچھ پڑھی ہوتی عالمی معاشی ماہرین تبھی روس پہ پابندیوں کے ممکنہ خطرات اور نقصانات کی نشاندہی کر رہے تھے۔ روس یوکرائن وار میں انکی
👇
کاش ان جاہلوں نے معاشیات ہی کچھ پڑھی ہوتی عالمی معاشی ماہرین تبھی روس پہ پابندیوں کے ممکنہ خطرات اور نقصانات کی نشاندہی کر رہے تھے۔ روس یوکرائن وار میں انکی
👇
توقع تو نہ پوری ہوئی الٹا امریکہ اور مغرب ہی معاشی مسائل کا شکار ہونے لگ گیا۔ اس ساری کیلولیشن میں ایک بہت بڑی غلطی اور بھی تھی۔ امریکہ کو ہرگز اس کی پرواہ نہیں کہ آپ اسرائیل کو تسلیم کریں یا نہ کریں وہ اس کے عوض ایک دھیلہ بھی نہ دے گا۔ یہ صرف چند عرب ممالک کی خواہش تھی کہ آپ
👇
👇
اسرائیل کو تسلیم کر لیں تاکہ انکا کام آسان ہو۔ اور وجہ آپ کا نیوکلیر اور میزائل پاور ہونا تھا۔
اسی طرح اگر آپ انڈیا کے سامنے جھکتے ہیں تو امریکہ اپنے پلہ سے ایک دھیلا بھی نہ دے گا بلکہ انڈیا کو کہے گا کہ تمہارا کام ہوگیا اب چار آنے پاکستان کو بھی دے دو باقی انڈیا کی مرضی۔
👇
اسی طرح اگر آپ انڈیا کے سامنے جھکتے ہیں تو امریکہ اپنے پلہ سے ایک دھیلا بھی نہ دے گا بلکہ انڈیا کو کہے گا کہ تمہارا کام ہوگیا اب چار آنے پاکستان کو بھی دے دو باقی انڈیا کی مرضی۔
👇
لیکن بڈھے جرنیلوں نے زمینی حقائق کو سمجھے بغیر حماقتوں پہ مبنی سفر جاری رکھا اور نتیجتاً ساری پاکستانی قوم کو بھی اپنا دشمن بنا بیٹھے۔
اب یہ ساری غلط پالیسی بیک فائر کر رہی ہے اور اس کا فال آؤٹ پاکستانی جرنیل مافیا پہ گرنے والا ہے۔ کیا وہ اس فال آؤٹ سے خود کو بچا سکتی ہے یا
👇
اب یہ ساری غلط پالیسی بیک فائر کر رہی ہے اور اس کا فال آؤٹ پاکستانی جرنیل مافیا پہ گرنے والا ہے۔ کیا وہ اس فال آؤٹ سے خود کو بچا سکتی ہے یا
👇
نہیں ؟ جرنیل مافیا کا مسئلہ یہ ہے کہ اس ساری مشق میں وہ اپنی اخلاقی حمایت کھو چکی ہے اور عوامی نفرت کا نشانہ ہے اس وجہ سے الیکشن کرانے سے گریزاں ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ کوئی ایسا دھاندلی زدہ الیکشن ہو جس میں اس کی کوئی کٹھ پتلی جیتے اس ضمن میں نواز کے نام پہ امریکہ برطانیہ اور فوجی
👇
👇
جرنیل متفق ہیں۔ لیکن امریکہ کی یہ بھی ضرورت ہے کہ سب کچھ مروجہ آئین اور قانون کے اندر ہو تاکہ اس کو عالمی سطح پہ شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور نہ اس کی عالمی سیاست تباہ ہو۔
دوسرا کھلاڑی چین ہے جسے ہماری اسٹیبلشمنٹ نے یہ سوچ کے نظرانداز کردیا تھا کہ وہ دوست ممالک کے اندرونی
👇
دوسرا کھلاڑی چین ہے جسے ہماری اسٹیبلشمنٹ نے یہ سوچ کے نظرانداز کردیا تھا کہ وہ دوست ممالک کے اندرونی
👇
معاملات میں دخل نہیں دیتا۔
اب یہ سوچنا بھی انکی بھول تھی جبکہ چین پچھلے کئی سالوں میں جنوب مشرقی ایشیا میں کئی انڈیا نواز حکومتوں کا تختہ الٹ چکا ہے۔ جبکہ پاکستان کا نیوکلیر ہی نہیں بلکہ میزائل پروگرام بھی چین پہ انحصار کرتا ہے اور پاکستان نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضہ بھی
👇
اب یہ سوچنا بھی انکی بھول تھی جبکہ چین پچھلے کئی سالوں میں جنوب مشرقی ایشیا میں کئی انڈیا نواز حکومتوں کا تختہ الٹ چکا ہے۔ جبکہ پاکستان کا نیوکلیر ہی نہیں بلکہ میزائل پروگرام بھی چین پہ انحصار کرتا ہے اور پاکستان نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضہ بھی
👇
چین کا ہی دینا ہے۔ چین رجیم چینج آپریشن پہ البتہ خاموش رہا لیکن فوری بعد جنرل باجوہ کو دیگر سروسز چیفس کے ساتھ بلا کر سخت بے عزتی کی جسکو ہمارا میڈیا جانتا ہے لیکن شرم سے بتا نہیڻ سکتا۔
یہ معاشی طور پہ پھنس کر تنگ آکر جب چین کی طرف دوبارہ گئے تو چین نے پھر اشارہ دیا کہ 👇
یہ معاشی طور پہ پھنس کر تنگ آکر جب چین کی طرف دوبارہ گئے تو چین نے پھر اشارہ دیا کہ 👇
پی ٹی آئی سمیت سب سیاسی سٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پہ ہونا چاہیے۔ جسے انہوں نے نظرانداز کردیا۔ اب موجودہ صورت حال یہ ہے کہ امریکہ کے پاس تو اسٹیبلشمنٹ کو دینے کے لئے ایک ٹکہ بھی نہیں اور چین قرض خواہ ہے۔ جبکہ تازہ صورت حال کچھ عجیب لگتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج کے سٹریٹجک
👇
👇
پلان ڈویژن کو کوئی تکنیکی مسئلہ درپیش ہوا انہوں نے چین سے مدد مانگی لیکن یہ جان کر انکے ہوش اڑ گئے کہ چین نے صاف انکار کردیا۔ جبکہ پاک فوج کے میزائل اور نیوکلیئر ہی اس کی اصل طاقت اور بارگیننگ پاور ہیں۔
تب جنرل حافظ خفیہ طور پہ چین بھاگا اور انکے پاؤں پکڑے۔ اس کے بعد چین کا یہ👇
تب جنرل حافظ خفیہ طور پہ چین بھاگا اور انکے پاؤں پکڑے۔ اس کے بعد چین کا یہ👇
بیان آیا کہ ہم پاکستان میں آزادنہ اور منصفانہ انتخابات کے حامی ہیں جس میں سب پارٹیاں حصہ لیں۔ اور یہ کہ ہم پاکستان میں سی پیک کے چھپے ہوئے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو خوب پہچانتے ہیں۔ یہ سیدھا اشارہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہے۔ کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ یہ بوجھ سنبھال سکتی ہے ؟👇
بظاہر لگتا ہے کہ اس کے پاس آپشنز ختم ہو گئے ہیں۔ لیکن اس کی پٹاری میں کوئی نیا سانپ ہے تو ان دنوں نکلتا نظر آ جائے گا ورنہ تو کہانی ختم ہوچکی !!
منقول
منقول
جاري تحميل الاقتراحات...