6 تغريدة 1 قراءة Nov 09, 2023
اقبال! ترے دیس کا کیا حال سناؤں
مر مر کی سلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کو ہر اک شخص مسلمان ہے
لیکن دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
اقبال! ترے دیس کا کیا حال سناؤں
بیبانی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن
👇
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
اقبال! ترے دیس کا کیا حال سناؤں
پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی ازاں سے
اس بندہ مومن میں اب لائوں کہاں سے
وہ سجدہ، زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو!
اک بار تھا، ہم چھٹ گئے اس بار گراں سے
👇
اقبال! ترے دیس کا کیا حال سنائؤں
جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے، زاتوں کے، نسب کے
اگتے ہیں تہہ سایئہ گل، خار غضب کے
یہ دیس ہے سب کا، مگر اس کا نہیں کوئی
اس کے تن خستہ پہ تو اب دانت ہیں سب کے
اقبال! ترے دیس کا کیا حال سناؤں
👇
ًمحمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے
جمہور سے سلطانی جمہور ڈرے ہے
تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پر جو خودی کا
مر مر کے جئے جاتے ہے، جی، جی کے مرے ہے
اقبال! ترے دیس کا کیا حال سنائوں
دیکھو تو زرا محلوں کے پردوں کا اٹھا کر
شمشیروں سناں رکھی ہیں طاقوں پہ سجا کر
👇
آتے ہیں نظر مسند شاہی پہ رنگیلے
تقدیر امم سو گئی طائوس پہ آکر
اقبال! ترے دیس کا کیا حال سنائوں
مکاری و عیاری، غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو!
اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن
اقبال! ترے دیس کا کیا حال سناؤں
👇
کردار کا گفتار کا اعمال کا مومن
قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن
سرحد کا ہے مومن کوئی بنگال کا مومن
ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
اقبال! ترے دیس کا کیا حال سنائوں

جاري تحميل الاقتراحات...