عدن شاہ
عدن شاہ

@Adan_shaa

6 تغريدة 1 قراءة Nov 02, 2023
ایٹمی جنگ چھڑنے سے کتنی تباہی ممکن ہے۔۔۔
سال 2021 سے مختلف اوقات میں ایک سمولیشن بار بار شئیر کی جاتی ہے کہ اگر ایٹمی جنگ چھڑی تو کتنی اور کہاں کہاں تباہی ہو گی۔
ایک روز قبل پھر سے مختلف میڈیمز پر وڈیو دوبارہ اپلوڈ ہوئ ہے۔
اس کے مطابق ایٹمی جنگ میں پہل روس کرے
گا اور اسکے مقابل نیٹو ممالک ہوں گے۔ جنگ کے تین مراحل ہوں گے۔
1_ ایٹمی حملہ
چوبیس گھنٹوں کے اندر دونوں فریق اپنے اپنے ٹارگٹس کو تباہ کر لیں گے۔
ٹارگٹس سٹریٹیجک اہمیت کے حامل شہر ہوں گے۔
ان ایٹمی حملوں سے براہ راست مرنے والے افراد کی تعداد تقریباً اٹھارہ کروڑ ہو گی جس میں
نیٹو ممالک کی کل آبادی کا 9 فیصد یعنی آٹھ سے نو کروڑ مارا جائے گا جبکہ روس کی تقریباً باسٹھ فیصد آبادی یعنی آٹھ سے نو کروڑ کے درمیان مارے جائیں گے۔
اسکے بعد دوسرا مرحلہ نیوکلئیر فال آوٹ یعنی ایٹمی تابکاری کے پھیلنے کا عمل سٹارٹ ہو گا۔۔
ایٹمی تابکاری تیس دن کے اندر پوری دنیا میں پھیل جائے گی جس سے پوری دنیا میں کم و بیش انیس کروڑ لوگ مارے جائیں گے۔
تیسرا مرحلہ نیوکلئیر ونٹر ہو گا۔
ایٹم بم گرنے کے باعث آسمان میں انتہائی بلندیوں تک گرد و غبار کی وجہ سے پوری دنیا میں شدید ترین سردی پڑے گی جس سے پودے
جانور اور انسانوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوں گی۔ ابتدائی دس ماہ کے دوران ان ہلاکتوں کی کم و بیش تعداد کا اندازہ اٹھاون کروڑ افراد سے زیادہ لگایا گیا ہے۔
گویا صرف روس نیٹو ایٹمی جنگ کے پہلے سال میں ایک ارب سے زیادہ لوگ مارے جائیں گے۔ اگر امریکہ چین بھی ان جنگوں میں شامل
ہوئے تو تباہی کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔

جاري تحميل الاقتراحات...