Naheed Hussain
Naheed Hussain

@NahidHussainSk

16 تغريدة 1 قراءة Oct 28, 2023
سیرت نبوی ﷺ ( گزشتہ سے پیوستہ )
غیر حاضری کی معذرت، لیکن تفسیر لکھنے کے دوران وقت نہ ملا۔ وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں رکے تھے
قافلہ کچھ دنوں بعد مکے واپس ہوا۔مکے سے چند میلوں کے فاصلے پر ایک مقام تھا۔ جو اس وقت مرالظہران کے نام سے معروف تھا۔ آج وہ وادی فاطمہ کے نام سے معروف ھے
👇
مرالظہران آگیا تو میسرہ نے کہا " محمد،اونٹنی کی رفتارتیز کردو۔لپک کر خدیجہ کے پاس جاو۔ انہیں کامیابی کی خوشخبری سناو "
آپﷺ نے اونٹنی کی رفتار تیز کر دی۔ دوپہر ہوتے ہوتےمکے پہنچ گئے۔خدیجہ اس وقت بالاخانے میں تھیں۔ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کے مزے لے رہی تھیں۔اچانک کیا دیکھتی ہیں کہ ایک
👇
اونٹنی پرکوئی سوار ھے اور اونٹنی ریگزار کی تپتی ہوئی ریت پر محو_رفتار ہے۔بلکل ہوا کا مقابلہ کررہی ھے۔
خدیجہ نے سوار پر نظریں گاڑ دیں کہ پہچانیں ، کون ھے؟ وہ سوار کچھ اور قریب ہوا۔ کچھ اور قریب ہو۔ دیکھا تو محمد ﷺ ہیں۔ان کے گھر کی طرف بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
دروازے پر پہنچے
👇
تو خدیجہ آپ کے استقبال کے لیئے وہاں پہلے سے موجود تھیں۔وہ آپ سے بہت اخلاق اور محبت سے ملیں۔خیریت سے واپس آنے پر مبارکباد دی۔ پھر آپ نے بڑے اچھے اور دلکش انداز میں سفر کا پورا حال سنایا۔ کاروبار کی پوری رواداد بیان کی۔ کیا بیچا،کیا خریدا،کتنا نفع اٹھایا۔
خدیجہ پورے شوق اور
👇👇
دلچسپی سے ساری داستان سنتی رہیں۔ اور دل ہی دل میں عش عش کرتی رہیں۔آپ کی باتوں سے انہیں بڑی خوشی ہو رہی تھی۔ آپ کی خوش کلامی ان کے دل کو لبھا رہی تھی اور آپ کی ایمان داری اور سچائی ان کے من کو موہ رہی تھی۔ پھر اس بار تجارت میں بے انتہا برکت ہوئی۔اتنی کہ اور کبھی نہ ہوئی تھی
👇👇
اس سے وہ بہت متاثر تھیں۔
پھر میسرہ آیا۔اس کی زبانی آپ کے حالات سنے تو دل خوشی سے لبریز ہو گیا۔ اور پھر اتنی حیرت اور مسرت ہوئی ، اتنی ہوئی جس کا ٹھکانہ نہ تھا۔
میسرہ نے بتایا، آپ نے کس طرح تجارت کی۔ معاملات میں کتنی سچائی اور ایمانداری دکھائی۔کس قدر ان کے مال_تجارت کی فکر رکھی
👇
اور دل و جان سے اس کی حفاظت کی۔
پھر راہب نسطور کا واقعہ سنایا۔ آپ کے بارے میں اس نے جو خوشخبری دی تھی، وہ بھی سنائی۔میسرہ نے کہا
"ای واقعہ اور ہوا، جس پر میں حیران رہ گیا۔سفر سے ہم لوگ واپس ہو رہے تھے، میرے ساتھ دو اونٹ تھے۔ دونوں تھک کر جواب دے چکے تھے۔میں بہت پیچھے تھا
👇👇
اندیشہ ہوا، کہیں قافلہ آگے نہ بڑھ جائے اور میں تنہا رہ جاوں۔میں بڑھ کر محمد کے پاس گیا۔ان کو صورت حال بتائی۔ پہلے تو انہوں نے دونوں اونٹوں کے پیر سہلائے۔ پھر نکبل ہاتھ میں لی اور ہنکایا۔ اب وہ اس طرح دوڑنے لگے جیسے انہیں کچھ ہوا ہی نہ تھا۔"
خدیجہ بڑی حیران ہوئیں، بولیں "ان میں
👇
تو بڑی عجیب باتیں ہیں "
اب ناممکن تھا خدیجہ کسی وقت آپ کو بھول جائیں یا ان کے ذہن سے اتر جائیں۔
خدیجہ کو فکر ہوئی اور تمنا ہوئی کہ کسی طرح ان کو شریک_زندگی بنالیں۔۔۔
یہی خدیجہ تھیں۔۔ ہاں یہی خدیجہ،جن کو قریش کے بڑے بڑے رئیسوں نے نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ انہوں نے ہر ایک کو
👇👇
ٹھکرا دیا تھا۔ اور لاپرواہی سے رخ پھیر لیا تھا۔
آپ کی رفاقت کی یہ خواہش اتنی بڑھی کہ خدیجہ اسے راز نہ رکھ سکیں۔قریبی عورتوں نے ان کی اس خواہش کو بھانپ لیا۔ان میں ایک خاتون تھیں نفیسہ بنت امیہ۔ کچھ سیرت نگاروں نے ان کا نام نفیسہ بنت منیہ بھی لکھا ھے۔یہ دونوں نام ایک ہی ہیں۔
👇👇
مینہ نفیسہ کی والدہ کا نام تھا اور امیہ ان کے والد کا۔ ہاں تو نفیسہ نے خدیجہ سے کہا
"خدیجہ، کیا حرج ھے، امین سے نکاح کیوں نہیں کر لیتیں؟"
خدیجہ : " آخر کیسے، اس کی شکل کیا ہو گی ؟"
نفیسہ: تم تو بس ہاں کرو۔یہ کام کرانا تو میرا کام ھے
پھر نفیسہ آپﷺ کے پاس آئیں، بولیں "محمد،یہ 👇
تنہائی کی زندگی کب تک رہے گی؟ اب تو تمہیں اپنا گھر بسا لینا چاہیئے"
فرمایا" میرے پاس ھے کیا جو گھر بساؤں"
نفیسہ : "اچھا بتاؤ،اگر اس کا انتظام ہو جائے اور ایک نہایت حسین اور مالدار خاتون سے گھر بسانے کو کہا جائے تو تیار ہو جاؤگے؟ انکار تو نہیں کرو گے؟ "
فرمایا " وہ کون ھے"
👇👇
کس کی طرف اشارہ ھے؟ "
نفیسہ : "خدیجہ سے بہتر جوڑا تمہیں نہیں ملے گا۔نیک کام میں دیر کیا۔ یہ کام جتنی جلدی ہو جائے ، اچھا ھے"۔
خدیجہ کے اخلاق اور دانائی سے آپ متاثر تھے۔آپ نے جیسا سنا تھا، ان کو ویسا ہی پایا تھا۔لوگ ان کو "طاہرہ" کہتے تھے۔آپ نے ان کو طاہرہ ہی پایا تھا۔لیکن ان
👇👇
سے نکاح؟ یہ تو خواب و خیال میں بھی نہ تھا۔کیونکہ آپﷺ کو معلوم تھا، اس کے لیئے بڑے بڑوں نے زور لگایا لیکن ترس کر رہ گئے۔
فرمایا " لیکن کیا یہ ممکن بھی ھے؟"
نفیسہ نے آپﷺ کو اطمینان دلایا کہ یہ بھی میرا کام ھے۔
آپﷺ ابوطالب کے پاس پہنچے اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ابوطالب نے سنا
👇👇
تو سخت حیران ہوئے۔آپﷺ کی زبان سے کبھی جھوٹ یا غلط بات تو سنی نہیں تھی۔ اس لیئے انکار بھی نہں کر سکتے تھے۔البتہ بولے
"تعجب ھے بیٹے۔ خدیجہ قریش کی معزز خاتون ، مال و دولت اور جاہ و منصب والوں کو تو ٹھکرا اور تم کو اپنا دولہا بنانا پسند کرلے " پھر بولے
"لیکن بیٹے ، ایسا ہو بھی 👇👇
سکتا ھے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔تمھارے پاس سونے چاندی کی دولت نہ سہی۔ لیکن تم خود ایک ایسا انمول ہیرا ہو، جس کے سامنے یہ ساری دولت ہیچ ھے"
( جاری ھے ۔ 81)

جاري تحميل الاقتراحات...