سلطنت عثمانیہ :
*کبھی یاد تو آتی ہو گی؟*
Part 1
فلسطینیوں پر ہونے والے اسرائیلی مظالم نے بہت سے دِلوں کو لہو کر دیا ہے۔ دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ فلسطین کا پرچم لہرایا جا رہا ہے۔ مَیں اِس پرچم کو دیکھتا ہوں اور دل کو رہ رہ کر کچھ کہانیاں یاد آ جاتی ہیں۔ اُداسی اور کرب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
*سلطنت عثمانیہ* قائم تھی تو *القدس* مسلمانوں کے پاس تھا۔ ہنستا بستا شہر تھا، جس میں مسلمان عزت اور آبرو سے جی رہے تھے۔ اُن کے بچے بھی محفوظ تھے اور اُن کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں بھی سکون سے زندگی گزار رہی تھیں۔ وہاں صدیوں سے آباد اہل کتاب اپنی اپنی عبادت گاہوں میں اور اُن سے مُلحقہ علاقوں میں پورے تحفظ و اَمن سے آباد تھے۔ اُنھیں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے اور بِلا تخثیث کاروبار کرنے اور آمد و رفت کی کامل آزادی حاصل تھی۔ پِھر عرب مسلمانوں نے برطانیہ کے ساتھ مِل کر *سلطنتِ عثمانیہ* کے خلاف بغاوت کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ *القدس* صہیونیوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ باقی صرف ایک شرمناک کہانی، درد اور دُکھوں میں لپٹی غداری کی کہانی ہے۔
یہ کچھ زیادہ پرانے وقتوں کی بات نہیں، یہ 10 جون 1916 کی بات ہے۔ اُس روز شریفِ مکہ *حسین بن علی* اور برطانیہ کے *لیفٹیننٹ کرنل ہنری میک مان Henry McMahon* کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں عربوں نے *سلطنت ِعثمانیہ* کے خلاف بغاوت کر دی۔ْ اس بغاوت کو *’الثورۃ العربیہ الکبریٰ‘* *Great Arab Revolt* کا نام دیا گیا۔
جب بغاوت کا فیصلہ ہو چکا اور اُس کی جزئیات طے ہو چکیں تو اگلا مرحلہ اُس عرب بغاوت اور مزاحمت کا پرچم تیار کرنے کا تھا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ بغاوت مسلمان کر رہے تھے لیکن اُس بغاوت کا پرچم برطانوی سفارت کار تیار کر رہے تھے۔
یہ پرچم ایک برطانوی سفارت کار *کرنل مارک سائیکس Mark Sykes* نے تیار کیا۔ *مارک سائیکس* صیہونیوں کے بہت قریب تھا اور جس *اعلانِ بالفور Balfour Declaration* کے نتیجے میں اسرائیل قائم کیا گیا اُس اعلان کو حقیقت بنانے میں اِس کرنل کا بڑا اہم کردار تھا۔
*مارک سکائیس* نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف عرب بغاوت کا جو پرچم تیار کیا اس میں چار رنگ شامل تھے۔ اس میں سیاہ، سفید اور سبز یعنی تین رنگوں کی تین افقی پٹیاں تھیں اور ایک تکون تھی جس کا رنگ سرخ تھا۔
سیاہ رنگ *عباسی* سلطنت کی یادگار کے طور پر لیا گیا، سفید رنگ کو *اموی* سلطنت سے نسبت دی گئی اور سبز رَنگ *فاطمی* خلافت کی یادگار کے طور پر رکھا گیا۔ تکون کا سرخ رنگ *ہاشمی* خاندان یعنی اشراف مکہ کی نسبت سے لیا گیا، یوں سمجھ لیجیے کہ یہ رنگ شریف مکہ *حسین بن علی* کی ممکنہ سلطنت کے لیے اُس کی خدمات کے اعتراف کے طور پر چُنا گیا جو *شریف مکہ* اور *میک مان* معاہدے کی روشنی میں سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد وجود میں آنا تھی۔
پرچم بھی تیار ہو گیا اور بغاوت بھی شروع ہو گئی۔ یہاں تک کہ ایک وقت وہ آیا کہ *یروشلم* کا محاصرہ کر لیا گیا۔ عثمانی افواج لڑیں اور *یروشلم* کے اطراف میں شہید ہونے والے عثمانی فوجیوں کی تعداد ایک تخمینہ کے مطابق 25 ہزار کے قریب تھی۔ لیکن یہ افواج بے بس ہو گئیں۔ اس کی بہت ساری وجوہات تھیں مگر ان میں سے دو وجوہ بہت نمایاں تھیں۔
*پہلی وجہ* عرب بغاوت تھی۔ ایک طرف برطانوی اور اس کی اتحادی افواج *یروشلم* پر حملہ آور تھیں۔ دوسری جانب عرب بغاوت نے ترکوں کی سپلائی لائن کو اُدھیڑ کر رکھ دیا۔*سلطنتِ عثمانیہ* باہر کے دشمنوں سے تو شاید نمٹ لیتی لیکن جب اپنے ہی اپنوں کے خلاف ہو گئے تو سلطنتِ عثمانیہ بے بس ہو گئی۔
منقول
*کبھی یاد تو آتی ہو گی؟*
Part 1
فلسطینیوں پر ہونے والے اسرائیلی مظالم نے بہت سے دِلوں کو لہو کر دیا ہے۔ دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ فلسطین کا پرچم لہرایا جا رہا ہے۔ مَیں اِس پرچم کو دیکھتا ہوں اور دل کو رہ رہ کر کچھ کہانیاں یاد آ جاتی ہیں۔ اُداسی اور کرب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
*سلطنت عثمانیہ* قائم تھی تو *القدس* مسلمانوں کے پاس تھا۔ ہنستا بستا شہر تھا، جس میں مسلمان عزت اور آبرو سے جی رہے تھے۔ اُن کے بچے بھی محفوظ تھے اور اُن کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں بھی سکون سے زندگی گزار رہی تھیں۔ وہاں صدیوں سے آباد اہل کتاب اپنی اپنی عبادت گاہوں میں اور اُن سے مُلحقہ علاقوں میں پورے تحفظ و اَمن سے آباد تھے۔ اُنھیں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے اور بِلا تخثیث کاروبار کرنے اور آمد و رفت کی کامل آزادی حاصل تھی۔ پِھر عرب مسلمانوں نے برطانیہ کے ساتھ مِل کر *سلطنتِ عثمانیہ* کے خلاف بغاوت کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ *القدس* صہیونیوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ باقی صرف ایک شرمناک کہانی، درد اور دُکھوں میں لپٹی غداری کی کہانی ہے۔
یہ کچھ زیادہ پرانے وقتوں کی بات نہیں، یہ 10 جون 1916 کی بات ہے۔ اُس روز شریفِ مکہ *حسین بن علی* اور برطانیہ کے *لیفٹیننٹ کرنل ہنری میک مان Henry McMahon* کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں عربوں نے *سلطنت ِعثمانیہ* کے خلاف بغاوت کر دی۔ْ اس بغاوت کو *’الثورۃ العربیہ الکبریٰ‘* *Great Arab Revolt* کا نام دیا گیا۔
جب بغاوت کا فیصلہ ہو چکا اور اُس کی جزئیات طے ہو چکیں تو اگلا مرحلہ اُس عرب بغاوت اور مزاحمت کا پرچم تیار کرنے کا تھا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ بغاوت مسلمان کر رہے تھے لیکن اُس بغاوت کا پرچم برطانوی سفارت کار تیار کر رہے تھے۔
یہ پرچم ایک برطانوی سفارت کار *کرنل مارک سائیکس Mark Sykes* نے تیار کیا۔ *مارک سائیکس* صیہونیوں کے بہت قریب تھا اور جس *اعلانِ بالفور Balfour Declaration* کے نتیجے میں اسرائیل قائم کیا گیا اُس اعلان کو حقیقت بنانے میں اِس کرنل کا بڑا اہم کردار تھا۔
*مارک سکائیس* نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف عرب بغاوت کا جو پرچم تیار کیا اس میں چار رنگ شامل تھے۔ اس میں سیاہ، سفید اور سبز یعنی تین رنگوں کی تین افقی پٹیاں تھیں اور ایک تکون تھی جس کا رنگ سرخ تھا۔
سیاہ رنگ *عباسی* سلطنت کی یادگار کے طور پر لیا گیا، سفید رنگ کو *اموی* سلطنت سے نسبت دی گئی اور سبز رَنگ *فاطمی* خلافت کی یادگار کے طور پر رکھا گیا۔ تکون کا سرخ رنگ *ہاشمی* خاندان یعنی اشراف مکہ کی نسبت سے لیا گیا، یوں سمجھ لیجیے کہ یہ رنگ شریف مکہ *حسین بن علی* کی ممکنہ سلطنت کے لیے اُس کی خدمات کے اعتراف کے طور پر چُنا گیا جو *شریف مکہ* اور *میک مان* معاہدے کی روشنی میں سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد وجود میں آنا تھی۔
پرچم بھی تیار ہو گیا اور بغاوت بھی شروع ہو گئی۔ یہاں تک کہ ایک وقت وہ آیا کہ *یروشلم* کا محاصرہ کر لیا گیا۔ عثمانی افواج لڑیں اور *یروشلم* کے اطراف میں شہید ہونے والے عثمانی فوجیوں کی تعداد ایک تخمینہ کے مطابق 25 ہزار کے قریب تھی۔ لیکن یہ افواج بے بس ہو گئیں۔ اس کی بہت ساری وجوہات تھیں مگر ان میں سے دو وجوہ بہت نمایاں تھیں۔
*پہلی وجہ* عرب بغاوت تھی۔ ایک طرف برطانوی اور اس کی اتحادی افواج *یروشلم* پر حملہ آور تھیں۔ دوسری جانب عرب بغاوت نے ترکوں کی سپلائی لائن کو اُدھیڑ کر رکھ دیا۔*سلطنتِ عثمانیہ* باہر کے دشمنوں سے تو شاید نمٹ لیتی لیکن جب اپنے ہی اپنوں کے خلاف ہو گئے تو سلطنتِ عثمانیہ بے بس ہو گئی۔
منقول
یہ بھی ایک حقیقت ھے کہ مسلمان آج جن عذابوں سے دوچار ھے ۔ ان میں سب سے زیادہ قصور ہم مسلمانوں کا اپنا ھے۔ ہم مسلمانوں میں ہی سے غدار پیدا ہوئے جنہوں نے برصغیر میں انگریزوں کے لئے راستہ بنایا ، مسلمانوں نے ہی انگریزوں کی مدد کی اور عثمانی سلطنت کے خلاف بغاوت کی نتیجہ فلسطین کی لہولہانی آپ کے سامنے ھے۔
جاري تحميل الاقتراحات...