عدن شاہ
عدن شاہ

@Adan_shaa

23 تغريدة 2 قراءة Oct 24, 2023
نواز شریف کانٹا یا قربانی۔۔۔۔۔
دنیا کی موجودہ صورت حال اور خاص طور پر خطے کی صورتحال کسی بڑی تبدیلی کی نوید سنا رہی ہے۔ تبدیلی ہولناک بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ہم نے اپنی ہمالیہ جیسی غلطیوں کی بدولت خوشگوار تبدیلیوں کے راستے روک
#شاہ_عدن
دیے ہیں۔۔۔
ہم نے پتھر باندھ دیے ہیں اور کتے آزاد چھوڑ دیے ہیں چنانچہ سگ زدگی عام ہے اور معاشرہ آہستہ آہستہ زومبی کا روپ دھار رہا ہے۔
پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات وہ دانت ہیں جنکی وجہ سے ہماری غراہٹ سے غیر معمولی محسوس ہوتی ہے اور خاص طور پر ہمارے مشرقی ہمسائے میں۔۔۔
کیونکہ ہمارا یہ ہمسایہ ہمیشہ ہماری دیوار پھلانگ کر چوری کرنے کے چکر میں رہتا ہے۔ ہمارے خطے کے دوسرے ہمسائے بھی ہمارے نوکیلے دانتوں کو ناپسند کرتے ہیں۔
اسلیے مشرقی ہمسائے نے خطے کے زیادہ تر ممالک کی دلی خواہش کو اپنی زبان دے کر یہ بات عام کردی ہے
کہ ہمارے دانت اور ہماری غراہٹ خطے کا سکون غارت کر رہی ہے چنانچہ دانتوں کے نوکیلے پن کو گھسا کر کند کردیا جائے۔
اس تمہید کا مقصد صرف یہ ہے کہ
پاکستان انڈیا اپنے جغرافیائی، موسمی، معاشی اور سیاسی حالات کی وجہ سے ہر موسم میں فل
سکیل جنگ نہیں کر سکتے۔ جنگ گندم کٹنے کے بعد ممکن ہوتی ہے یا گندم بوئے جانے سے پہلے۔ دونوں ملکوں کا جنگ کا زیادہ تر میدان ان زرخیز میدانوں پر مشتمل ہے جہاں فصلیں کاشت ہوتی ہیں۔ دنیا کی تقریباً 26 فیصد گندم روس اور یوکرین مہیا کرتے تھے۔ یوکرین اب تباہ حال ہے اور
روس ہمارا دوست نہیں چنانچہ کسی بھی جنگ کی صورت انڈیا کو تو روس سے اناج میسر آ جائے گا ہم بھوکے مر جائیں گے۔ انڈیا ہارڈ بارگینر ہے اسے اب دنیا میں اپنی پشت موجود طاقتور لوگوں کی موجودگی کا اور اس وجہ سے اپنی اہمیت کا احساس ہے اور وہ اس صورتحال سے پورا فائدہ
اُٹھائے گا۔ امریکہ اور نیٹو اگر اسے چین کے خلاف جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں تو اس کے پاس اس بڑی جنگ میں جانے سے پہلے ضروری کیے جانے والے کاموں (قیمت) کی فہرست تیار ہوگی۔
وہ اپنی ڈپلومیسی کی سٹرانگ مہارت سے قائل کرے گا کہ کشمیر کے محاذ سے پاکستان کو
شکست دے کر پاکستان کا چین سے زمینی رابطہ ختم کردینا گویا چین کو ایک طرف سے محدود کردینا ہے۔
امریکہ نیٹو بھلا کب انڈیا کی اس بات سے عدم اتفاق کریں گے ؟
کشمیر کے علاقے پر انڈیا کے مکمل قبضے کا مطلب ہے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے تمام دریا انڈیا کے قبضے میں۔۔۔
لیجیے ہم نے کشمیر کے مسئلے سے بالآخر جان چھڑا لی گلگت بلتستان جانے کے بعد ہماری سرحد مانسہرہ یا بشام پر ختم ہو جائے گی۔
اللّٰہ اللّٰہ خیر صلا
لیکن ذرا ٹھہریے
انڈیا اپنے شکنجے میں پھنسے پاکستان کا سر کیا اتنی آسانی سے چھوڑ دے گا۔۔؟
اور پاکستان ایسے کسی شکنجے میں آئے گا ہی کیوں ہم کیسے شکست کھا سکتے ہیں اپنے علاقے اور کشمیر سے دستبرداری کیسے ممکن ہے؟
یہاں سے نواز شریف کا کردار یا اسکی ذات اہم ہو جاتی ہے۔
نواز شریف کے بارے میں سنجیدہ تجزیہ کاروں سمیت "اندرونی باخبر ذرائع" بھی یہی بات کر رہے ہیں کہ اسے اسرائیل
امریکہ کی حفاظتی گارنٹی کے بعد پاکستان بھیجا گیا ہے اور اسکے بھیجے جانے میں مودی نے یہ جتا کر خصوصی کردار ادا کیا ہے کہ ہمیں پاکستان میں اپنے اعتماد کا آدمی
درکار ہے۔
نواز شریف کو بھیجنے میں عربوں نے تو صرف سہولت کاری کی ہے۔
دوسری بات طاقتور حلقے نواز شریف کی واپسی پر تقسیم
ہیں اس لیے زیادہ امکان ہے کہ اس کا انجام بے نظیر بھٹو جیسا ہو وغیرہ وغیرہ
لیکن ذرا ٹھہریے
امریکی خواہش پر انڈیا چین پراکسی جنگ یا اسکی قیمت چکانے کو انڈیا پاکستان جنگ کے دوران میں نواز شریف بحیثیت ایک سیاسی لیڈر یا وزیر اعظم انڈیا یا امریکہ کی کیا مدد کر سکتا ہے؟
پاکستان کے اس سفارتی تنہائی کے دور میں وہ کونسا اہم سفارتی کردار ہے جو نوازشریف ادا کر سکتا ہے؟
جنہوں نے جنگ کے دوران کوئی بھی اہم کردار ادا کرنا ہے وہ سب تو پہلے ہی انڈیا سے رومانس اور مغرب کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہیں۔
نوازشریف پر نہ چین کو اعتماد ہے نہ
روس کو۔
بااثر عرب سہولتکار ممالک کو چھوڑ کر عرب یا اسلامی ممالک بھی نوازشریف کو پسند نہیں کرتے۔
یہ بھی امکان نہیں کہ مودی یا مغرب نوازشریف کے سرمائے کی طاقت سے مرعوب ہو گیا ہے۔
کشمیر اور گلگت بلتستان کے سقوط پر پاکستانی عوام نوازشریف کے کشمیری چہرے کی وجہ سے ترس کھا کر
اسے معاف کر دینے پر ہرگز تیار نہیں ہوں گے۔
تو گویا نوازشریف نہ اب کسی اہمیت کا حامل ہے اور نہ آئندہ تو پھر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو کہہ رہے ہیں اسے بےنظیر بھٹو بنا دیا جائے گا تو وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں؟
یہاں ہمارا انداز فکر دوسروں سے کچھ مختلف ہے غور کیجئے گا۔۔
نواز شریف کا انجام نوے فیصد تک وہی متوقع ہے جسکے بارے میں تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ اسے بےنظیر بھٹو بنا دیا جائے گا لیکن ہم یہ ماننے کو تیار نہیں کہ یہ کام ہماری "اندرونی اوقات" کا ہوگا۔
یہ کام یا مودی خود کرے گا اور یآ امریکہ، بہت ممکن ہے کہ دونوں کی ملی بھگت سے ہو۔
نواز شریر کو ٹھکانے لگانے کے بعد
نوازشریف کے گارنٹر کے طور پر امریکہ اسرائیل انڈیا جب ملک کے ان ناخداؤں سے اپنا ہولناک چہرہ دکھا کر بات کریں گے جن کی شہرت ایک فون کال پر ڈھیر ہوجانے کی ہے تو ایٹمی اثاثہ جات سمیت ہر قسم کی شرائط منوا لی جائیں گی۔
ایک بہت بڑا فالس فلیگ جس میں جان
بوجھ کر ہزاروں لوگوں کی جان قربان کی جائے گی اور اپنے علاقوں سے دستبرداری ہو گی۔
میں کارگل یا گلگت کے دو گاؤں کا ذکر کر کے آپ کے زخموں پر نمک پاشی نہیں کرنا چاہتی جنہیں پاکستانی فوج بنا لڑے چھوڑ کر چلی گئ تھی لیکن اب بھی کچھ رپورٹس کے مطابق گلگت بلتستان سائیڈ پر سیکیورٹی لیپس
چھوڑے جا رہے ہیں۔ اس فالس فلیگ میں یہ جنگ روایتی ہی رہے گی کیونکہ تین میزائلوں کے جواب میں 9 ایٹمی میزائل داغنے کا حکم دینے والی قیادت کا دور دور تک کوئ نشان نہیں ہے۔
لیکن اقوام متحدہ میں ایٹمی حملے کا خدشہ ظاہر کر کے انڈیا کی دہائیاں سننے والی ہونگی۔
چناچہ اقوام متحدہ کے کرتا
دھرتا طاقتور ملکوں کے
ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے ماتحت چند پسندیدہ ممالک کا ایک گروپ تشکیل دیا جائے گا جو پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات کی نگرانی اور "حفاظت" کرے گا یعنی ایٹمی اثاثہ جات کے ضمن میں ہم آہستہ آہستہ یوکرین کی سطح تک پہنچائے جائیں گے۔
بین الاقوامی عسکری پوزیشنز کو دیکھ
کر لگتا ہے کہ چین کو گھیرے میں لینے کی یہ جنگ یا فالس فلیگ اسی نومبر کے آخری ہفتے تک شروع کر دیا جائے گا۔
اگر یہ جنگ صرف انڈیا پاکستان تک محدود رہی تو اگلے سال مقامی گندم میسر نہیں ہو گی اور بھوک اس جنگ کا اضافی تحفہ ہو گی۔
لیکن اگر چین اس جنگ میں کود گیا تو پھر یہ بین الاقوامی
جنگ میں تبدیل ہو جائے گی اور جتنا ہولناک اسلحہ موجود ہے یہ جنگ بڑی تباہی لائے گی شاید ڈیڑھ سال میں دنیا کا حلیہ بدل جائے۔
ایک بار پھر گیند (گنجے شریف) کی صورت میں ہمارے ناخداؤں کے ہاتھ میں ہے۔
دیکھتے ہیں کہ نواز شریف قربانی بنیں گے یا کانٹا۔۔۔
اضافی نوٹ۔۔۔
ایک بار پھر پاکستانی قوم کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ فضول اخراجات سے اجتناب کر کے گھر میں چند ماہ کا غلہ اور ضروریات زندگی کا ذخیرہ ضرور رکھیں۔

جاري تحميل الاقتراحات...