عدن شاہ
عدن شاہ

@Adan_shaa

6 تغريدة 7 قراءة Oct 09, 2023
امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ انتھونی بلنکن کہتے ہیں کہ اسرائیل میں پندرہ سے بیس امریکی مارے گئے ہیں۔
امریکی صدر مالی امداد کے ساتھ ساتھ بحری بیڑہ بھیجنے کا اعلان کرتا ہے۔
جرمنی اسرائیل کی حمایت میں اپنی سرکاری عمارات کو اسرائیلی جھنڈے سے روشن کر رہا ہے۔
پاکستانی منافق اعظم
فلسطینیوں سے رحم کی اپیلیں کر رہا ہے۔
دوسری جانب
ایرانی صدر فلسطین کی حمایت کرتا ہے۔
روسی ہیکرز فلسطینی کاز کیلئے پیغامات جاری کرتے ہیں۔
فلسطین کی بقیہ تنظیمیں حملے میں شمولیت شامی لبنانی تنظیمیں حملوں کا آغاز اور عراقی تنظیمیں اپنی سرزمین پر امریکی اثاثوں کو تباہ کرنے
کا بیان جاری کر رہی ہیں۔
تازہ ترین صورتحال کے مطابق حماس کے جنگجو اسرائیلی دارلحکومت تل ابیب میں بھی پہنچ چکے ہیں۔
اس سارے سنیریو میں اگر کوئ سمجھتا ہے کہ جنگ لوکل رہے گی اور ایک دو دن میں ختم ہو جائے گی تو نہایت غلط فہمی کا شکار ہے
ایران لبنان شام فلسطین جب جنگ میں شامل ہونگے
تو خطے کے باقی ممالک بھی کسی نہ کسی انداز میں جنگ کا حصہ ہونگے۔ آذر بائیجان اور آرمینیا پہلے ہی برسر پیکار ہیں ترکی آذربائجان کے ساتھ ہے۔ ایک چنگاری برصغیر میں پھوٹنے کی دیر ہے بس اس کے بعد اس پورے ریجن میں الاؤ دیکھنے والا ہوگا۔
بیلاروس سے غائب ہونے والے بیس ہزار ویگنرز
لڑاکے کہاں ہیں کس محاذ پر نمودار ہوں گے کوئ کچھ نہیں جانتا۔
یہ عالمی طاقتوں کی پراکسی وار ہے اور ایک بار پھر اسکا اکھاڑہ مشرق وسطیٰ ہے۔
ہوشمندوں کی قلت رہی اور امت مسلمہ سوئ رہی تو یہ جنگ بہت دیر تک چلے گی۔
بقول عمران خان
جنگ شروع کرنا آپکے اختیار میں ہوتا ہے ختم کرنا کسی
کے بس میں نہیں ہوتا۔
دعا کریں کہ ہمسائیوں کے گھر میں لگی آگ بجھ جائے ورنہ جھونپڑے ہمارے بھی سلامت نہیں رہیں گے۔

جاري تحميل الاقتراحات...