پاکستان کی اگلی جنگ۔۔۔۔
اگر میں کہوں کہ ہم اگلی جنگ بھارت سے مل کر چین سے لڑنے جا رہے ہیں تو کیسا محسوس ہو گا آپ کس پر شرط لگائیں گے کہ یہ جنگ کون جیتے گا۔۔؟
بظاہر ناممکن نظر آنے والی یہ بات پچھلے ایک ماہ میں رونما ہونے والے بین الاقوامی واقعات سے دن بدن کلئیر ہوتی جا
اگر میں کہوں کہ ہم اگلی جنگ بھارت سے مل کر چین سے لڑنے جا رہے ہیں تو کیسا محسوس ہو گا آپ کس پر شرط لگائیں گے کہ یہ جنگ کون جیتے گا۔۔؟
بظاہر ناممکن نظر آنے والی یہ بات پچھلے ایک ماہ میں رونما ہونے والے بین الاقوامی واقعات سے دن بدن کلئیر ہوتی جا
رہی ہے۔
پہلے پس منظر پھر ذرا چیدہ چیدہ واقعات پر نظر دوڑائیں ڈاٹس کنکٹ کریں آپ کو سب واضح نظر آئے گا۔
جنرل باجوہ سے شروع کرتے ہیں
باجوہ کے بارے میں بات ہوئی کہ اسکے اثاثے 50 ارب کے ہیں جبکہ اسکی آمدنی کے تمام ذرائع چاہے کک بیکس کی صورت میں ہوں یا بلاول کو
پہلے پس منظر پھر ذرا چیدہ چیدہ واقعات پر نظر دوڑائیں ڈاٹس کنکٹ کریں آپ کو سب واضح نظر آئے گا۔
جنرل باجوہ سے شروع کرتے ہیں
باجوہ کے بارے میں بات ہوئی کہ اسکے اثاثے 50 ارب کے ہیں جبکہ اسکی آمدنی کے تمام ذرائع چاہے کک بیکس کی صورت میں ہوں یا بلاول کو
وزیراعظم بنانے کے لیے زرداری کی رشوت کی صورت میں کبھی 50 ارب کے فگر کو ٹچ نہیں کر سکتے جسکا واضح مطلب یہ ہے کہ کشمیر میں 370 ختم کرنے پر انڈیا کی طرف سے کی گئی ادائیگی والی جو بات کہیں نہ کہیں گردش کرتی رہی وہ سچ ہے یعنی انڈیا پاکستان دو سال پہلے ہی اس سطح پر ایک پیج پر آ
چکے تھے۔
تبھی بالاکوٹ ائیر سٹرائیک پر مسلح ردعمل دینے کے بجائے سفارتی جواب دینے کے حامیوں می سب سے آگے باجوہ صاحب تھے۔ یہ بات اسٹیبلشمنٹ مخالف یا حمایت یافتہ دونوں اقسام کے صحافی کنفرم کر چکے ہیں کہ انڈینز کو جواب دینے کا فیصلہ خان اور ائیرچیف کا تھا جسکی پرزور
تبھی بالاکوٹ ائیر سٹرائیک پر مسلح ردعمل دینے کے بجائے سفارتی جواب دینے کے حامیوں می سب سے آگے باجوہ صاحب تھے۔ یہ بات اسٹیبلشمنٹ مخالف یا حمایت یافتہ دونوں اقسام کے صحافی کنفرم کر چکے ہیں کہ انڈینز کو جواب دینے کا فیصلہ خان اور ائیرچیف کا تھا جسکی پرزور
حمایت فیض حمید نے کی تھی۔ اب ذرا پچھلے ایک ماہ کے چیدہ چیدہ واقعات پر نظر دوڑائیں کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کیا کر رہی ہے۔
پاک چائنہ شاہکار جے ایف تھنڈرز کی نائجیریا کی بجائے یوکرین کو منتقلی۔
امریکی سفیر جیسے کسی بڑے سفارت کار کے گوادر کے دورے کے بعد خوشی کے تاثرات۔
پاک چائنہ شاہکار جے ایف تھنڈرز کی نائجیریا کی بجائے یوکرین کو منتقلی۔
امریکی سفیر جیسے کسی بڑے سفارت کار کے گوادر کے دورے کے بعد خوشی کے تاثرات۔
بلوچستان کا دورہ کرنے کے بعد امریکی سفیر کا چہکتے ہوئے بلوچستان کے بارے میں کنسرن شو کرنا اور مجموعی طور پر پاکستان کی بات نہ کرنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ "آذاد بلوچستان کونسل" کو ماضی میں جس طرح امریکیوں نے پذیرائی دی تھی معاملہ امریکی پھر وہیں سے جوڑیں گے۔
یہ سارا ماحول اس لیے بنایا جا رہا ہے کہ چین کو اشتعال دلا کر پہل اس سے کروائی جائے۔ عین ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں چینی انجینئرز ورکرز پر حملے بھی ہوں۔
مختصراً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ
پاکستان نے چین کو بھرپور طریقے سے دھوکا دے دیا ہے اور اپنے
مختصراً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ
پاکستان نے چین کو بھرپور طریقے سے دھوکا دے دیا ہے اور اپنے
سارے انڈے امریکی ٹوکری میں ڈال دیے ہیں امریکہ زیادہ سے زیادہ جنوری فروری تک چین سے جنگی محاذ کھول لے گا کسی ایک جنگی محاذ سے نہ وہ چین کو گھیر سکتا ہے اور نہ زچ کر سکتا ہے چنانچہ محاذ ایک سے زیادہ ہونگے تائیوان کی طرف سے نیٹو کی مدد کے ساتھ جبکہ تبت کی طرف انڈیا کی مدد کے ساتھ
محاذ کھولا جائے گا۔ اس امر کو تقویت حالیہ بھارتی انٹرنیشنل سچویشن دیتی ہے۔
جہاں پہلے جسٹن ٹروڈر کے جہاز میں منشیات ہونے کا الزام لگا اور اسکے بعد کینیڈا میں سکھ حریت رہنما کے قتل کا الزام راء پر لگ گیا۔ ان واقعات کے نتیجے میں دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو
جہاں پہلے جسٹن ٹروڈر کے جہاز میں منشیات ہونے کا الزام لگا اور اسکے بعد کینیڈا میں سکھ حریت رہنما کے قتل کا الزام راء پر لگ گیا۔ ان واقعات کے نتیجے میں دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو
ملک چھوڑنے کا کہنا اور اگلے ہی روز دوسرے سکھ راہنما کا قتل ظاہر کرتا ہے کہ اگر انڈیا راضی نا ہوا تو اس پر شاید اسی طرح کے اور کیس بھی بنیں گے پھر طاقتوروں کی طرف سے اپنی شرائط پر انڈیا کو تبت کے محاذ کی طرف دھکیلا جائے گا۔
ہماری بدقسمتی یہ کہ BRI کے فلیگ شپ پروجیکٹ سی پیک کو
ہماری بدقسمتی یہ کہ BRI کے فلیگ شپ پروجیکٹ سی پیک کو
تباہ کرکے امریکی دسترخوان کے ٹکڑوں پر رال ٹپکانے والے ڈفرز پاکستان کی طرف سے بھی محاذ کھولنے پر راضی ہیں۔
اس امر کو تقویت یوں ملتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ میں باجوہ کی legacy کو ایکسٹینشنز دی جا رہی ہیں۔ ن لیگ کی حکومت کا قیام عربی دوستوں کی فرمائش بھی ہے اور بھارت کی دلی خواہش بھی جس
اس امر کو تقویت یوں ملتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ میں باجوہ کی legacy کو ایکسٹینشنز دی جا رہی ہیں۔ ن لیگ کی حکومت کا قیام عربی دوستوں کی فرمائش بھی ہے اور بھارت کی دلی خواہش بھی جس
کا اظہار انڈین و پاکستانی پرو اسٹیبلشمنٹ میڈیا اینکرز کرتے پائے جاتے ہیں۔ گزشتہ روز کے رانا ثناء اللہ کے اعتراف نے مہر تصدیق ثبت کی ہے کہ امریکہ خان حکومت ختم کر کے شریفوں کو اقتدار اس لیے دلانا چاہتا ہے کہ چین سے مخاصمت شروع ہونے پر دونوں ممالک میں پرو امریکن
و دوستانہ (چاہے یکطرفہ ہی ہوں) جذبات رکھنے والی حکومتیں قائم ہوں تاکہ فوکس صرف چین کی تباہی رہے۔
یہاں ہماری بچت کی صورت صرف ایک ہی ہے جس طرح امریکہ میں ریاست کے خیرخواہوں کے خاموشی سے حرکت میں آ جانے کی اطلاعات ہیں اسی طرح اگر ہمارے ہاں کوئی اندرونی ردعمل نہ آیا تو ہم
یہاں ہماری بچت کی صورت صرف ایک ہی ہے جس طرح امریکہ میں ریاست کے خیرخواہوں کے خاموشی سے حرکت میں آ جانے کی اطلاعات ہیں اسی طرح اگر ہمارے ہاں کوئی اندرونی ردعمل نہ آیا تو ہم
خدانخواستہ ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ختم کر دیے جائیں گے۔
جاري تحميل الاقتراحات...