گوہر شاہی نے اپنے دادا کی نسبت سے اپنے فرقے گوہر شاہی کا نام اپنے دادا گوہر علی شاہ کے نام پر رکھا جو کہ سری نگر کا رہائشی تھا، وہاں اس سے ایک قتل سرزد ہوا، پکڑے جانے کے ڈر سے راولپنڈی بھاگ اور نالہ لئی کے گرد و نواح میں رہائش اختیار کی، جب انگریز پولیس کا ڈر زیادہ ہوا تو
2/12
2/12
فقیری کا روپ دھار کر تحصیل گوجر خان کے ایک جنگل میں ڈیرہ لگایا، جہاں کافی لوگ اس کے مرید ہو گئے اور جنگل کو نذرانے میں پیش کر دیا، یہی جنگل ڈھوک گوہر علی شاہ کے نام سے آباد ہوا اور یہیں 25 نومبر 1941 میں ریاض احمد گوہر شاہی کا ناپاک وجود دنیا میں آیا. گوہر شاہی نے اپنے گاؤں
3/12
3/12
میں ہی مڈل پاس کیا اور پھر پرائیویٹ طور پر میڑک کیا، اس کے بعد ویلڈنگ اور موٹر مکینک کا کام سیکھ کر اس کی دوکان کھولی مگر اس میں کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی. حصولِ روزگار کے لئے پریشانی ہوئی تو اس نے سوچا کہ دادا والا کام دھندہ یعنی پیری مریدی شروع کر دی جائے. اس کے لئے ابتداً
4/12
4/12
خانقاہ کے چکر لگائے اور کئی سال سیہون کے پہاڑوں اور لال باغ میں چلے اور مجاہدے کئے مگر گوہرِ مراد حاصل نہ ہوا اور پھر بری امام اور داتا دربار بھی رہا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا، اس کے بعد اس کی طبیعت بگڑ گئی اور پاگل پن کے دورے پڑنے لگے. بیس سال کی عمر سے تیس سال تک ایک گدھے
5/12
5/12
کا اثر رہا، نماز وغیرہ ختم ہو گئی، زندگی سینماؤں اور تھیٹروں میں گزرنے لگی۔ حصولِ دولت کے لیے حلال و حرام کی تمیز جاتی رہی۔ ہر طرح کے معاشی و معاشرتی خبائث میں مبتلا ہوا اور بے ایمانی، جھوٹ اور فراڈ کو اوڑھنا بچھونا بنایا، پھر ایک مرتبہ عزم مضبوط کر کے سندھ کے پسماندہ اور
6/12
6/12
نسبتاً غیر تعلیم یافتہ علاقے جام شورو میں جھونپڑی ڈال کر پیری مریدی شروع کر دی، کچھ کمزور عقیدہ لوگوں کی آمد شروع بھی ہو گئی اور کام چلنے ہی والا تھا کہ قریبی یونیورسٹی کے پرنسپل نے سارا منصوبہ خاک میں ملا دیا اور جھونپڑی اُکھاڑنے کا حکم دیا. پھر حیدر آباد سرے گھاٹ میں رہنے
7/12
7/12
لگا، اپنے آپ کو سید ظاہر کرنے لگا جبکہ ذات کا مغل تھا۔ سندھ کے لوگ چونکہ سید کے نام پر مرتے ہیں اس لئے کافی پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہیں سے شہرت ملی اور 1980 میں اس نے کوٹری حیدر آباد سندھ، خورشید کالونی سے ہی انجمن سرفروشانِ اسلام کی بنیاد ڈالی اور اپنے گمراہ کن عقائد کا پرچار
8/12
8/12
شروع کر دیا۔ اس انجمن کو 2011 میں پاکستان میں کالعدم قرار دے دیا گیا. اس ملعون نے پروردگار سے لیکر انبیاء اور آئمہ کرام کی توہین کی اس کے علاوہ جا بجا قرآن و احادیث کے ساتھ ساتھ شعائر اسلام کی توہین کا بھی مرتکب ہوا. اس دروغ گو ملعون نے مہدی ہونے کا جھوٹا دعویٰ بھی کیا.
9/12
9/12
1997 میں عیسٰی مسیح سے ملاقات کا جھوٹا دعویٰ بھی کیا اور توہین مقدسات کے مقدمات کا سامنا کرنے سے پہلے لندن فرار ہونے میں کامیاب ہوا جہاں 2001 میں غائب ہوگیا اور آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ کہاں گیا. اس کی جماعت آجکل مہدی فاؤنڈیشن اور مسیحا فاؤنڈیشن کے نام سے مصروف عمل ہے جسے
10/12
10/12
اس کا حواری یونس الگوہر چلا رہا ہے جو اپنے آپکو گوہر شاہی کا کتا کہلوانا پسند کرتا ہے۔ گوہر شاہی کے انہی گمراہانہ عقائد و نظریات کو دیکھتے ہوئے اور اس کی صفت دجالیت کو بروقت بھانپتے ہوئے ملک کے جن نامور علماء اور دینی مدارس نے اس پر مرتد و کافر، ملحد، زندیق اور ضال و مضل کا
11/12
11/12
فتویٰ صادر کیا، ان میں سر فہرست جامعہ فاروقیہ، جامعہ بنوری ٹاؤن، جامعہ دار العلوم کراچی، جامعہ رضویہ مظہر الاسلام فیصل آباد اور دار العلوم امجدیہ کراچی ہیں ۔اس کے جھوٹوں کی تردید اس وقت کے امام کعبہ شیخ محمد بن عبداللہ نبیل نے بھی کی اور اس پر فتویٰ ارتداد بھی صادر فرمایا.
12/12
12/12
جاري تحميل الاقتراحات...