آزاد کشمیر: گندم پر subsidy
اسے پہلےکہ اس بات یو ان سوالات کے جوابات ضروری ہیں
1 آزاد کشمیر کی کل آبادی 43 لاکھ ہے۔لیکن حکومت کے ہاس یہ اعداد و شمار ہی نہیں کہ ان میں سے کتنے لوگ پاکستان یا پاکستان سے باہر آباد ہیں۔ کسی بھی حکومت نے یہ اعداد شمار حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔
اسے پہلےکہ اس بات یو ان سوالات کے جوابات ضروری ہیں
1 آزاد کشمیر کی کل آبادی 43 لاکھ ہے۔لیکن حکومت کے ہاس یہ اعداد و شمار ہی نہیں کہ ان میں سے کتنے لوگ پاکستان یا پاکستان سے باہر آباد ہیں۔ کسی بھی حکومت نے یہ اعداد شمار حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔
2۔ آزاد کشمیر میں ایک سال سے پانچ سال تک بچوں کی تعداد کیا ہے؟
3۔ آزاد کشمیر میں 60 سال سے زیادہ عمر کے کتنے لوگ رہتے ہیں ؟
4۔ آزاد کشمیر میں کتنے لوگ ایک یا دو وقت چاول کھاتے ہیں؟
5۔ آزاد کشمیر کے کتنے لوگ مکئی کا آٹا استعمال کرتے ہیں ؟
6۔ میرہور, بھمبر اور کوٹلی میں
3۔ آزاد کشمیر میں 60 سال سے زیادہ عمر کے کتنے لوگ رہتے ہیں ؟
4۔ آزاد کشمیر میں کتنے لوگ ایک یا دو وقت چاول کھاتے ہیں؟
5۔ آزاد کشمیر کے کتنے لوگ مکئی کا آٹا استعمال کرتے ہیں ؟
6۔ میرہور, بھمبر اور کوٹلی میں
کتنی گندم پیدا ہوتی ہے اور وہ کتنی آبادی کی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔
7. کیا میرہور, بھمبر اور کوٹلی کو subsidy subsidy جاتی ہے؟
یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جنکے جوابات کی بعد ہی حکومت subsidy subsidy تعین کرسکتی ہے۔ ان سوالات کا جواب ہی نہیں تو حکومت کس بنیاد پر 3 لاکھ ٹن گندم
7. کیا میرہور, بھمبر اور کوٹلی کو subsidy subsidy جاتی ہے؟
یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جنکے جوابات کی بعد ہی حکومت subsidy subsidy تعین کرسکتی ہے۔ ان سوالات کا جواب ہی نہیں تو حکومت کس بنیاد پر 3 لاکھ ٹن گندم
خریدتی ہے اور اس ہر subsidy دیتی ہے۔ مفروضے پر جب یہ کیا جائے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ چند لوگوں کی جیب بھرنے کے لیے یہ استعمال ہوتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں subsidy پر
آزاد کشمیر کی آبادی 43 لاکھ ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں سے10 لاکھ لوگ پاکستان اور پاکستان سے باہر رہتے ہے۔ آزاد کشمیر میں 33 لاکھ لوگ موجود ہیں۔ ایک سال سے پانچ سال تک کے بچوں کی تعداد 5 لاکھ ہوسکتی ہے جبکہ بزرگوں کی تعداد 2 لاکھ ہوگی۔
آزاد کشمیر کی آبادی 43 لاکھ ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں سے10 لاکھ لوگ پاکستان اور پاکستان سے باہر رہتے ہے۔ آزاد کشمیر میں 33 لاکھ لوگ موجود ہیں۔ ایک سال سے پانچ سال تک کے بچوں کی تعداد 5 لاکھ ہوسکتی ہے جبکہ بزرگوں کی تعداد 2 لاکھ ہوگی۔
33 لاکھ میں سے 7 لاکھ تفریق کریں تو باقی 26 لاکھ لوگ رہ جاتے ہیں۔ اگر یہ 26 لاکھ لوگ صرف گندم کا ہی استعمال کریں تو آزاد کشمیر کی کل ضرورت 3 لاکھ 25 ہزار ٹن ہوگی۔ اگر حکومت کے دعوے کو سچ مان لیا جایے تو 1 لاکھ 50 ہزار ٹن کوٹلی,میرپور اور بھمبر میں ہیدا ہوتی ہے اور لوگ 50 ہزار ٹن
عام مارکیٹ سے خریدتے ہیں۔ اس کے بعد حکومت کو صرف ایک لاکھ 25 ہزار ٹن گندم کی ضرورت رہتی ہے۔ وہ بھی اسی صورت میں اگر لوگ صرف گندم کا ہی استعمل کریں۔
لیکن کیا ایسا ہے؟ آزاد کشمیر میں ایک بڑی آبادی ایک وقت مکئی اور چاول کا استعمال کرتی ہے۔ اگر یہ شامل نہ بھی کریں تو آزاد کشمیر می
لیکن کیا ایسا ہے؟ آزاد کشمیر میں ایک بڑی آبادی ایک وقت مکئی اور چاول کا استعمال کرتی ہے۔ اگر یہ شامل نہ بھی کریں تو آزاد کشمیر می
صرف ایک لاکھ 25 ہزار ٹن گندم کی ضرورت ہے۔ لیکن آزاد کشمیر کی حکومت 3 لاکھ ٹن گندم خریدتی ہے۔ س کا صاف مطلب یہ ہے 01 لاکھ 75 ہزار ٹن پہلے ہی فروخت کی جاتی ہے اور جو آزاد کشمیر پہنچتی ہے تو اس میں سے بھی ایک بڑے حصے کو اوپن مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے یا پھر سمگل کیا جاتا ہے۔
اب یہ کیسے ہوتا ہے یہ ایک دلچسپ کہانی ہے
گندم کی خریداری کے بعد کس طرح سے کرپشن کی جاتی ہے۔
حکام یہ مانتے ہیں کہ لاہور میں پاسکو سے گندم خریدنے کے بعد وہاں ہی فروخت کی جاتی رہی ہے۔
ایک اہم عہدیدار کا کہنا ہے اس میں مل مالکان، محکمے کے لوگ اور گاڑیوں کے ڈرائیور ملوث ہیں۔۔
حکام یہ مانتے ہیں کہ لاہور میں پاسکو سے گندم خریدنے کے بعد وہاں ہی فروخت کی جاتی رہی ہے۔
ایک اہم عہدیدار کا کہنا ہے اس میں مل مالکان، محکمے کے لوگ اور گاڑیوں کے ڈرائیور ملوث ہیں۔۔
حکام کا کہنا ہے کہ لاہور میں پاسکو کے گدام سے گندم کا ٹرک نکلتا ہے تو وہ وہاں ہی فروخت ہوتا ہے۔ ٹرک کا ڈرائیور راولپنیڈی میں آزاد کشمیر کے محکمہ خوراک کے گدام میں موجود افسر کو ٹیلیفون پر ووچر نمبر کے ساتھ ساتھ گندم کی مقدار درج کراتا ہے۔
اس گدام کا افسر مل ملکان کو ووچر نمبراور گندم کے مقدار درج کراتا ہے۔ مل مالکان سرکاری ڈپو پر ووچر نمبر اور آٹے کے مقدار درج کراتے ہیں۔ یوں ووچر ہی چلتا ہے, وہی پستا ہے اور وہی بکتا ہے۔ جو گندم فروخت ہوتی ہے اس میں سب افسروں اور مل مالکان کا شیئر ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ مل مالکان سرکااری ڈپو کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے آٹے کے تھیلے کا وزن کم رکھتے ہیں ۔ اگر 20 کلو کا تھیلہ ہے تو اس میں 18 کلو ہی آٹا ہوگا۔ اسی طرح سے جب مل سے آٹا سرکاری ڈپو پر جاتا ہے تو ٹرک میں آٹے کے تھیلوں کی تعداد کم ہوتی ہے جو درج کروائی جاتی ہے۔
اس طرح سے جو آٹا بچایا جاتا ہے وہ پھر اوپن مارکیٹ میں بکتا ہے یا سمگل ہوتا ہے۔
کمیشن
حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں سیکریٹری کو مل مالکان 10 لاکھ روپے ماہانہ دیتے رہے ہیں جبکہ وزیر کو 15 لاکھ اور وزیر اعظم کسے بھی فائل پر دستخط کرنے کے لیے پیسے لیتا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں سیکریٹری کو مل مالکان 10 لاکھ روپے ماہانہ دیتے رہے ہیں جبکہ وزیر کو 15 لاکھ اور وزیر اعظم کسے بھی فائل پر دستخط کرنے کے لیے پیسے لیتا رہا ہے۔
subsidy
مل ملکان کے علاوہ افسروں اور سیاست دانوں کے لیے ہے۔
حکام کا کہنا کہ subsidy کا عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں۔
ان کا کہنا ہے گندم کا ایک بڑا حصہ سرکاری گندام پر پہنچنے سے پہلے فروخت ہوت ہے یا آٹا اوپن مارکیٹ میں فروخت ہے یا پھر سمگل ہوتا ہے۔
مل ملکان کے علاوہ افسروں اور سیاست دانوں کے لیے ہے۔
حکام کا کہنا کہ subsidy کا عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں۔
ان کا کہنا ہے گندم کا ایک بڑا حصہ سرکاری گندام پر پہنچنے سے پہلے فروخت ہوت ہے یا آٹا اوپن مارکیٹ میں فروخت ہے یا پھر سمگل ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آٹا ضرورت مندوں تک پہنچتا ہی نہیں ہے۔
ان کا کہنا کہ موجودہ سیکریٹری خوراک نے جاٰئزہ لے کر حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آٹے پر subsidy کے بجائے ضرور مندوں کو نقد رقم دے یا پھر
Targeted
Subsidy
دے.
ان کا کہنا کہ موجودہ سیکریٹری خوراک نے جاٰئزہ لے کر حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آٹے پر subsidy کے بجائے ضرور مندوں کو نقد رقم دے یا پھر
Targeted
Subsidy
دے.
حیران کن بات یہ ہے کہ 2018 تک حکومت پاکستان آٹے پر subsidy دیتی تھی یہ وہ وقت تھا جب لوگ سرکری آٹا استعمال ہی نہیں کرتے۔ اس وقت گندم یا آٹے کا بڑا حصہ فروخت ہوتا تھا یا سمگل ہوجاتا تھا۔ اس دوران افسروں اور سیاست دانوں کی جیبوں میں بڑی رقم جاتی تھی۔
اب بھی آزاد کشمیر کی حکومت پاکستان سے اس گندم کے لیے 10 ارب روپے کا مطالبہ کررہی ہے جو ضرورت مندوں تک پہنچتی ہی نہیں۔ یہ ہیں پاکستان کے وہ خیر خواہ جو ہاکستان کو لوٹ رہے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہاکستان کو لوٹنے والوں میں آزاد کشمیر کے سیاست دانوں اور افسروں کا بھی حصہ ہے۔
جاري تحميل الاقتراحات...