14 تغريدة 6 قراءة Aug 24, 2023
حال میں جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے نام سے ایک تنظیم سامنے آئی ہے۔ یہ تنظیم مختلف جگہوں ہر چھوٹے چھوٹے اجتمعات کررہی ہے اور سالوں بعد یہ نعرہ سنا کہ کشمیر کے مسلے کا حل صرف جہاد ہے۔
میرا ان سے کچھ سوالات ہیں۔
۔ جب برہان والی کی شہادت ہوئی تو انڈیا نے کشمیر کو محصور کیا۔ لیکن اس کے باوجور مقبوضہ کشمیر میں روز ہزاروں کی تعداد میں لوگ باہر نکلتے۔ ان ہر انڈیا کی فوج pellet کا استعمال کرتی۔ صرف سی آر پی ایف نے پہلے 34 دنوں میں بچوں، عورتوں جوانوں اور بزرگوں پر 16 لاکھ پیلٹ برسایے۔
اس کے نتیجے میں 14 کشمیری شہید، 1000 کشمیریوں نے اپنی آنکھیں کھو دیں اور 8000 ہزار لوگ زخمی ہویے۔ وہاں ایک دن کے بچے سے لے کر اسی سال کے بزرگ تک گھر میں قید تھے۔ وہ 120 دن قید رہے۔ وادی کے لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم آخری جنگ لڑ رہے ہیں، ہماری مدد کرو۔
اس وقت آپ کہاں تھے؟ آپ دنیا کی چوتھی بڑی طاقت کے خلاف لڑنا چاہتے ہو تو کیا آپ نے کسی ایک کشمیری کا علاج کرایا جس کی آنکھیں ضائع ہوئیں؟ کیا آپ نے کسی کی مدد کی جس کے جوان بچے مارے گیے؟
کیا آپ نے کسی کو گھر بنا کر دیا جس کا گھر تباہ ہوا؟ کیا آپ نے کسی بھوکے یا بیمار کو خوراک
یا ادویات پہنچائی؟
اپ نے ایسا کچھ نہیں کیا تو پھر یہ آٹھ سال بعد یہ نعرہ کیسے یاد آیا؟
آپ یہ تو کہتے ہو one solution, gun solution ,gun solution
اب یہ بھی بتا دو یہ کتنی بندوقیں ہونگی اور ان بندوقوں سے کتنے عرصے آپ انڈیا کی دس لاکھ فوج کے خلاف لڑیں گے؟ یہ کب تک آپ جاری رکھو گے
؟ آپ کشمیری خواتین اور بچوں کو کیسے protect کرو گے؟ ان کی ,
financia،l
،legal and medical support
کیسے کرو گے یا ہھر آپ کا اتنا کام آپ بارود استعمال کرو۔ آپ 720 کلومیٹر لائن آف کنٹرول ہر کیوں بھارتی فوج کو نہیں ہٹاتے؟ کیا لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج قبول ہے آپ کو؟
2016
سے لے کر 5 اگست 2019 تک یہی صورت حال رہی۔ اس وقت آپ کو gun solution یاد نہیں آیا۔
5 اگست 2019 کو اہنوں اور غیروں نے مقبوضہ کشمیر کی چھوٹی سی آبادی کے ساتھ وہ کام کیا جس کا زخم قیامت تک ٹھیک نہیں ہوگا۔ آپ زخم دینے والوں میں ہی تھے۔
4 اگست 2019 کو جب رات کی دس بجے تو انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کو بلیک ہول میں بدل دیا۔ بچے ماؤں سے جدا ہویے، مائیں بچوں سے، بیٹے باپ سے الگ ہوئے اور بھائی بھائی سے الگ ہوا۔ یہ سب اسلیے ہوا کہ internet اور فون بند ہوچکے تھے۔ دو لاکھ فوج اور بلائی گئی۔ اب وادی میں انڈیا کی فوج کی
بڑھ کر دس لاکھ ہوگئی تھی۔ ہر گھر کے سامنے فوجی کھڑا تھا۔ مقبوضہ کشمیر کی ساری آبادی اہنے گھروں میں گرفتار ہوگئی تھی۔ ایک گھنٹہ پہلے پیدا یونے والا بچہ اور 100 سال کا بزرگ گرفتار تھا۔ 5 اگست کو انڈیا نے کشمیر کا special status ختم کردیا اور جبری طور پر خود کے ساتھ ضم کیا۔
راتوں کو گھروں پر حملے کرکے 40 ہزار نوحوانو کو اغوا کیا گیا۔ گھروں میں گھس کر بچوں، خواتین اور مردوں پر تشدد کیا گیا۔ اسی دوران امریکی این جی او genocide watch نے کشمیر کے بارے میں genocide alert جاری کیا۔ کشمیریوں کا آپس میں رابطہ نہ تھا دنیا سے رابطہ تو بہت دور کی بات۔
Genocide
کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔
انڈیا یہاں ہی نہیں رکا۔ انڈیا نے42 لاکھ ہندوستانیو کو کشمیر ک شہری بنا کر کشمیر کی demography change کی۔ ان کی آبی اراضی ہتھائی گئی۔ 2000 ارب روپے کا نقصان پینچایا، 5 لاکھ لوگ بے روز گار ہویے اور آٹھ مہینے کشمیری قید میں رہے۔
،
۔
آپ نے، آپ کی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں نے مکمل خاموشی اختیار کی جیسے کہ کشمیریوں کا کئی وجود ہی نہیں تھا۔ خاموشی کا مطلب آپ کو ہتہ ہے۔ اس کا مطلب یہی لیا جاتا ہے مودی کی حمایت۔
برہان کی شہادت کو سات سال ہوئے اور کشمیر کو جبری طور پر انڈیا میں ضم کیے جانے والے واقع کو 4 سال ہوئے
اس دوران کشمیریوں پر جو گزری آپ سب نے پلکیں بھی نہیں جھپکائیں۔ چار سال بعد آپ ایک دن اچانک نمودار ہوتے ہیں اور gun solution, gun solution کا نعرہ لگاتے ہیں۔ آپ نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو for granted لیا کہ جب چاہو ان کو مرنے کے لیے تہنا چھوڑ دو۔ لائن آف کنٹرول پر انڈیا کی فوج کو
ہٹاو ۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو آپ کی ضرورت نہیں ہے۔ جس طرح تہنا چھوڑے جانے کے بعد مشکل ترین حالات میں خود کو زندہ رکھا وہ اگے بھی راستہ نکال لیں گے۔ اب طہت ہانی بہہ گیا ہے۔ ان کو معاف رکھو۔

جاري تحميل الاقتراحات...