Aitzaz Hussain Mayo ☭
Aitzaz Hussain Mayo ☭

@aitzaz_mayo

5 تغريدة 40 قراءة Jul 01, 2023
گاؤں آیا تو پرائمری سکول کے ہم جماعت سے ملاقات ہوئی۔
غریب تھا لیکن مجھ سے ذیادہ ذہین تھا۔
پرائمری سکول تک وہ مجھ سے آگے رہا، کیونکہ پرائمری تک میدان ایک جیسا تھا، اس کی ذہانت کا میری ذہانت سے مقابلہ تھا۔
جب ہائی سکول میں گئے تو میری ذہانت کیساتھ میری دولت بھی میدان میں آ گئی۔
سائنس سبجیکٹس رکھے تو میں نے ساتھ ٹیوشن لینا شروع کردی وہ نہ لے سکا، نتیجتاً اس کے میٹرک میں کم نمبر آئے۔
سرمائے نے واضح فرق ڈالا۔
پھر سرمایہ میرے کام آیا میں گورنمنٹ کالج لاہور آگیا وہ سیا لکوٹ کے ڈگری کالج میں ہی داخل ہو گیا۔
میں نے پہننا، بولنا سیکھ لیا لاہور آ کے
وہ گزارے کرتا رہا ساتھ مزدوری کرتا رہا۔
اب بات CSS کی آئی میں نے سرمایہ لگایا اس کی ذہانت اور میری ذہانت اور دولت پھر آمنے سامنے۔
میں نے اکیڈمی پڑھی، ہر مضمون کیلئے الگ ٹیچر، وہ خود ہی رٹے مارتا رہا۔
اب ریاست بھی میری طرف آگئی۔ یعنی میرا سرمایہ،ذہانت اور ریاست ایک طرف
اور اس کی اکیلی ذہانت ایک طرف۔
مقابلہ اب بالکل بھی انصاف پہ مبنی نہیں تھا۔
اچھی انگریزی نے مجھے پاس کروا دیا، اچھے سوٹ، اچھی انگریزی نے مجھے انٹرویو میں بھی پاس کروا دیا۔
کہانی بتانے کا مقصد یہ تھا کہ کس طرح سرمایہ ریاستی نظام سے مل کے غریب کو پیچھے دھکیل دیتا ہے۔
Exceptions do not make laws and norms
اگر کوئی غریب اس نظام سے لڑ کے معجزانہ طور پہ آجاتا ہے تو اس کو نظام کے انصاف پہ مبنی ہونے کی دلیل نہیں دیا جا سکتا۔
مقابلہ میری ذہانت کا میرے غریب ہم جماعت کی ذہانت سے ہونا چاہئیے تھا، میرا سرمایہ اس میں نہیں آنا چاہئیے تھا

جاري تحميل الاقتراحات...