ابن عبدالوہاب نجدی کی تحریک کو علمائے عرب نے " وہابیت" اور اس کے پیروکاروں کو " وہابی" سے تعبیر کیا - اور جب اسماعیل دہلوی نے ابن عبدالوہاب نجدی کے نظریات کو ہندوستان میں پھیلایا تو ہندوستان کے اہل بصیرت علماء و مفکرین نے اسکی تحریک کو بھی" وہابیت " اور خود اسماعیل دہلوی اور اسکے
پیروکاروں کو " وہابی" سے خطاب کیا اسلئے کہ ان دونوں تحریکوں میں سو فیصد یکسانیت موجود تھی - اسماعیل دہلوی اور اسکے ہمنواؤں کو انکے " تقویۃ الایمانی" عقائد کی بنیاد پر وہابی کہتے ہیں -
جاري تحميل الاقتراحات...