تھریڈ:
مظفرآباد نعروں کا معاملہ!
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں تین اور چار جون کو ’پاکستان لٹریچر فیسٹول‘ منعقد ہوا۔
پہلے دن وہاں ایک سیشن تھا ’مسئلہ کشمیر اور میڈیا کا کردار‘
اس سیشن کی ماڈریٹر عاصمہ شیرازی تھیں۔⬇️
مظفرآباد نعروں کا معاملہ!
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں تین اور چار جون کو ’پاکستان لٹریچر فیسٹول‘ منعقد ہوا۔
پہلے دن وہاں ایک سیشن تھا ’مسئلہ کشمیر اور میڈیا کا کردار‘
اس سیشن کی ماڈریٹر عاصمہ شیرازی تھیں۔⬇️
پینل میں حامد میر، وسعت اللہ خان، مظہر عباس اور دیگر شامل تھے۔
حامد میر نے میڈیا کے کردار پر مناسب بات کی۔
وسعت اللہ خان نے بھی کشمیر کے تنازع سے متعلق ریاستی بیانیے کی بجائے کسی متبادل یا آؤٹ آف دی باکس حل کی بات کی۔ وہ گفتگو بھی اچھی تھی۔⬇️
حامد میر نے میڈیا کے کردار پر مناسب بات کی۔
وسعت اللہ خان نے بھی کشمیر کے تنازع سے متعلق ریاستی بیانیے کی بجائے کسی متبادل یا آؤٹ آف دی باکس حل کی بات کی۔ وہ گفتگو بھی اچھی تھی۔⬇️
وسعت اللہ خان کی گفتگو کے دوران ہال میں موجود کچھ نوجوانوں نے آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔
جس کے بعد چند لمحوں کے لیے سیشن رک سا گیا۔وسعت اللہ خان اور حامد میر کھڑے ہو کر جانے لگے۔ انہوں نے ناگواری کا اظہار کیا۔
اب ان نعروں کی مختلف تشریحات مارکیٹ میں پھینکی جا رہی ہیں۔⬇️
جس کے بعد چند لمحوں کے لیے سیشن رک سا گیا۔وسعت اللہ خان اور حامد میر کھڑے ہو کر جانے لگے۔ انہوں نے ناگواری کا اظہار کیا۔
اب ان نعروں کی مختلف تشریحات مارکیٹ میں پھینکی جا رہی ہیں۔⬇️
سادہ بات یہ ہے کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں قوم پرست/آزادی پسند جماعتیں موجود ہیں، جو کشمیر کی آزادی اور خودمختاری کا مطالبہ کرتی ہیں۔ طلبہ تنظیمیں بھی ہیں جیسا کہ این ایس ایف اور جے کے ایس ایل ایف وغیرہ ۔⬇️
ان کے نعرے بھی معروف ہیں جیسا کہ ’یہ وطن ہمارا ہے، اس پر حکومت ہم کریں گے‘ وغیرہ۔
کشمیر میں یہ معمول ہے۔
جب نوجوانوں نے وسعت اللہ خان اور دیگر کی گفتگو سنی تو کچھ باتیں انہیں دل کے قریب لگیں جیسا کہ ’آؤٹ آف دی باکس حل‘ تو انہوں نے اپنی presence شو کرنے کے لیے نعرے لگائے۔⬇️
کشمیر میں یہ معمول ہے۔
جب نوجوانوں نے وسعت اللہ خان اور دیگر کی گفتگو سنی تو کچھ باتیں انہیں دل کے قریب لگیں جیسا کہ ’آؤٹ آف دی باکس حل‘ تو انہوں نے اپنی presence شو کرنے کے لیے نعرے لگائے۔⬇️
یہ ایسے ہی ہے جیسے گزشتہ برس لاہور کے آواری ہوٹل میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران کچھ نوجوانوں نے نعرے بازی کی تھی۔ اس کے بعد بھی پروگرام جاری رہا تھا۔
کسی سیشن میں نوجوانوں کا نعرے بازی کرنا کوئی ایسی غیرجمہوری بات نہیں۔⬇️
کسی سیشن میں نوجوانوں کا نعرے بازی کرنا کوئی ایسی غیرجمہوری بات نہیں۔⬇️
نعروں سے کشمیر آزاد ہو گا یا نہیں، اس بارے میں بالکل ایسے ہی کچھ نہیں کہا جا سکتا جیسے اس بارے میں کہ آیا لٹریری سیشنز سے کشمیر آزاد ہو گا یا نہیں؟
نعرے اپنے سیاسی عقیدے کے اظہار کا مؤثر ذریعہ ہوتے ہیں اور اگر وہ رائے ساز پَرت کے سامنے لگیں تو ان کی معنویت ذرا بڑھ جاتی ہے۔ ⬇️
نعرے اپنے سیاسی عقیدے کے اظہار کا مؤثر ذریعہ ہوتے ہیں اور اگر وہ رائے ساز پَرت کے سامنے لگیں تو ان کی معنویت ذرا بڑھ جاتی ہے۔ ⬇️
ہاں، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہموار چل رہے سیشن میں تھوڑا سا رخنہ نہیں آنا چاہیے تھا۔ لیکن یہ بھی تو ذہن میں رہے کہ سیشن کسی ہموار سرزمین پر تو نہیں ہو رہا تھا۔
تو وہاں نوجوانوں نے نعرے لگا دیے، بس ہو گیا، ان کا موقف رجسٹر ہو گیا اور سیشن پھر چلنے لگا۔⬇️
تو وہاں نوجوانوں نے نعرے لگا دیے، بس ہو گیا، ان کا موقف رجسٹر ہو گیا اور سیشن پھر چلنے لگا۔⬇️
وسعت اللہ خان نے اس کے بعد بھی ایک دو جملوں میں ناگواری ظاہر کی لیکن میری رائے میں اس کی کچھ خاص ضرورت نہیں تھی۔ لڑکے چُپ ہو گئے تھے۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کشمیر کا تنازع پر سرکاری موقف (درسی مطالعہ پاکستان والا موقف) کے علاوہ بھی کشمیریوں کے مختلف گروپس کے نقطہ ہائے نظر ہیں۔ ⬇️
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کشمیر کا تنازع پر سرکاری موقف (درسی مطالعہ پاکستان والا موقف) کے علاوہ بھی کشمیریوں کے مختلف گروپس کے نقطہ ہائے نظر ہیں۔ ⬇️
ان کے بھی کچھ خواب ہیں۔ وہ نعروں، ریلیوں،مظاہروں اور وال چاکنگ وغیرہ کی شکل میں اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس پوسٹ کے ذریعے صرف یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ وہاں کسی مہمان یا پینلسٹ کی بے عزتی نہیں ہوئی بلکہ معمول کی ایک سرگرمی ہوئی۔⬇️
اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس پوسٹ کے ذریعے صرف یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ وہاں کسی مہمان یا پینلسٹ کی بے عزتی نہیں ہوئی بلکہ معمول کی ایک سرگرمی ہوئی۔⬇️
جو جتنا ہوا ہے ، اس کو اتنا ہی سمجھنا چاہیے۔ مبالغہ آمیزی یا یہ کہنا کہ فلاں فلاں صحافیوں کی کشمیر میں بے عزتی ہوئی، فضول بات ہے بلکہ ان صحافیوں سے اپنی خار مٹانے جیسی حرکت ہے۔⬇️
بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے والے اکثر وہ لوگ ہیں جو عاصمہ شیرازی اور حامد میر کو بعض دیگر وجوہات کی بناء پر پسند نہیں کرتے۔ وہ اس واقعے کو ان کے خلاف ایک موقعے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔⏺️
ختم شد
ختم شد
جاري تحميل الاقتراحات...