Dr Waqas Nawaz
Dr Waqas Nawaz

@WaqasnawazMD

10 تغريدة 11 قراءة May 19, 2023
مرے بھولے بھائی کوئی میں سمجھاتا ہوں وہ بھی " سرعام " - اس نامعلوم نمبر کے "وٹس ایپ" سے آزادی جو آجکل آپ کے ٹویٹس کے متن کا تعین کرتا ہے- اس فون آپریٹر سے آزادی جو آپکی میری کالز ریکارڈ کرتا ہے- اس میڈیا سے آزادی جو گولیوں سے چھلنی لاشوں کی راکھ سے جلی ہوئی عمارتوں کی آرتی اتارتا ہے- اس قانون سے آزادی جس کے تحت کسی ڈکٹیٹر کو کبھی بھی سویلین کورٹ میں ٹرائل نہیں کیا جا سکا لیکن عام عوام کو ملٹری کورٹس میں ٹرائل کرنے کیلئے آپ سمیت سب حامی ہوجاتے ہیں - اس خوف سے آزادی جو آپ کو ظل شاہ اور ارشد شریف کیلئے آواز اٹھانے سے روکتا ہے - اس جالے سے آزادی جس میں عوام چھوٹی موٹی چیونٹیوں کی طرح پھنسے رہتے ہیں اور بڑے بڑے مکڑے اس کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں اور اس نظام سے آزادی جس میں اقرار الحسن جیسا انسان سستا ہو کر اپنا نظریہ بدل لیتا ہے- سمجھ آیا یا اور سمجھاؤں ؟
آپ سب سے درخواست ہے - ایک ایک آزادی کی وجہ جو آپ کے لیے اہم ہے اس کو لکھ کر اس کو ری ٹویٹ کرتے جائیں تاکہ ان جیسے سب کو پتا چل جائے کہ نوجوان نسل کیوں اور کس سے آزادی کی خواہاں ہے - 🔥
اس ایف ای آر سے آزادی جو ارشد شریف کی ماں اور بیوہ جویریہ @javerias کے بس ہاتھ میں رہ گئی اور درج نہی ہوئی -ایف ای آر جو سابقہ وزیر اعظم پر محض تقریر کرنے پر کوئی بھی ساجھا’ ماجھا نتھو گیرہ کرا سکتا ہے لیکن سابقہ وزیر اعظم خود پر قتل کی ایف ای ار کسی سرکاری ملازم پر نہی کرا سکتا-
اس سرکس سے آزادی جس نے ہمیں “جمہور” سے بچہ جمورا بنا ڈالا ہے جو مداری کی ڈگڈگی پر بس ترانے گاتا ہے اور مجبوری کا کتھک ڈانس کرتا ہے - جہاں اگر کوئی نظریاتی انسان اشاروں پر ناچنے سے انکار کردے تو اس پہلے بے گھر پھر بے وطن اور پھر بے جان کردیا جاتا ہے -
اس منافق میڈیا سے آزادی جو کسی سویلین لیڈر کی کھل کر کتی کردے لیکن کسی ایجنسی کے بندے کا نام آتے ہی “ٹونٹ”بجا کر نام دبادے - جو ملک ریاض کو “پراپرٹی “ٹائیکون“کہتی رہے اور نام نہ لیکر لفافے حلال کرے-جو اپنے پیٹی بھائی ارشد شریف کا سرعام قتل پی جائے اور میڈیا کی آزادی کا چورن بیچے
اس بے شرمی سے آزادی جو بارہ اپریل کو آئین پاکستان کی سالگرہ کے دن اس آئین کو توڑ کر آئین کے احترام کا نعرہ لگاے- جو کشمیر کو حق رایے دہی دینے کا چورن بیچے اور اپنے بائیس کروڑ عوام کا حق انتخاب محض ہار کے ڈر سے مارلے اور پھر بھی ڈھٹائی سے “ ووٹ کو عزت دو “ کا نعرہ مارے
اس پوسٹ مارٹم رپورٹ سے آزادی جس میں صاف دکھتے ہویے بھی یہ نہ ثابت ہو کہ ایک مجذوب ظل شاہ کو ٹارچر سیل میں مارا گیا - اس پریس کانفرنس سے آزادی جس میں قتل کو حادثہ بتایا جایے-آئ جی کے اس دھمکی آمیز ہاتھ سے آزادی جو جب ظل شاہ کے والد کے کندھے پر آیا تو اس نےاپنے بیٹے کا قتل بھلا دیا
جو ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبتے ہی مسلمان عورتوں کے نکاحوں کو غیر شرعی قرار دیں ان مفتیوں اور مولویوں سے آزادی - جو سیاسی مخالفین کو بلیک میل اور رسوا کرنے کیلئے ان کی بیوی کے ساتھ خلوت کے لمحوں کو جلوت بنا دے اس مافیا اور پورن ہب سے آزادی -
اس دفعہ 144سے آزادی جو طاقتور کے اشارے پر کیے گیے جلسے پر کبھی نہ لگے اور سپریم کورٹ کے دروازے پر گالیاں اور لڈیاں ڈالنے پر بھی دفع ہی ہوجاے-اس بے بسی سے آزادی جو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بھی محسوس کرے جب اسکی ماں بہن کی باتیں رکارڈ کرکے24/7 چلائی جائیں اور وہ نوٹس تک نہ ایشو کرسکے
عمران ریاض کی رہائی کیلئے سڑکوں پر ریلی کرنے سے جو روکے اس اندیشے سے آزادی -
مجھے یقین ہے lس گھٹن میں آپکا بھی دم گھٹتا ہوگا لیکن یہ سب“سر عام”بول نہ پانے کی جو مصلحت ہے’میں اس سے آزادی کی بات کر رہا ہوں-میری بات سخت لگی تو اگنورکریں جیسے ان غیر انسانی رویوں کو اگنور کردیتے ہیں

جاري تحميل الاقتراحات...