سرسید گرلز کالج کراچی کی یہ طالبہ ریس لگاتی ہوئی منی بسوں کی زد میں آئی اور موقع پر دم توڑ گئی۔ اس کی بہن نجمہ زیدی اورایک تیسری طالبہ بھی اس حادثے میں شدید زخمی ہوئی تھیں۔
جیسے ہی اس حادثے کی خبر سرسید کالج پہنچی، وہاں کی طالبات احتجاج کے لیے سڑک پر آگئیں، قریب ہی واقع 2/15
جیسے ہی اس حادثے کی خبر سرسید کالج پہنچی، وہاں کی طالبات احتجاج کے لیے سڑک پر آگئیں، قریب ہی واقع 2/15
عثمانیہ کالج کے طلبہ بھی احتجاج میں شامل ہو گئے اور پھردیکھتے ہی دیکھتے یہ احتجاج پورے کراچی میں پھیل گیا۔
یہ وہ زمانہ تھاجب جنرل ضیاءالحق نے غیرجماعتی جمہوریت بحال کرکے چند ماہ قبل ہی مارشل لاءکے خاتمے کااعلان کیاتھا اور غوث علی شاہ سندھ کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ 3/15
یہ وہ زمانہ تھاجب جنرل ضیاءالحق نے غیرجماعتی جمہوریت بحال کرکے چند ماہ قبل ہی مارشل لاءکے خاتمے کااعلان کیاتھا اور غوث علی شاہ سندھ کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ 3/15
ہنگامہ آرائی شروع ہوئی توبہت سی بسوں کو نذرآتش کردیاگیا، جن میں وہ بس بھی شامل تھی جس کی زدمیں طالبات آئی تھیں ۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ بس ڈرائیورکو سزا دی جائے۔ کراچی میں چونکہ ٹرانسپورٹ پرپٹھانوں کاغلبہ تھااس لئے یہ ہنگامہ آرائی لسانی فسادات میں تبدیل ہوگئی۔ 4/15
پولیس نے طلبہ کو منتشرکرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کردیئے اورکچھ پولیس والے شیلنگ کرتے ہوئے اس گرلز کالج میں بھی داخل ہوگئے جس کی طالبات بس کی زدمیں آئی تھیں ۔ لاٹھی چارج اور شیلنگ سے بے شمار طلباءزخمی ہو گئے اورپھر کراچی میں ایسی ہنگامہ آرائی شروع ہوئی کہ جوپھیلتی ہی 5/15
چلی گئی۔ وزیراعلیٰ کوحالات پرقابوپانے کےلئے فوج طلب کرناپڑی اورمتاثرہ علاقوں میں کرفیونافذ کردیاگیا۔
اگلے روز بشریٰ زیدی کی نماز جنازہ کے موقع پرفسادات میں شدت آگئی اورنماز جنازہ کے بعد پورا کراچی لسانی فسادات کی لپیٹ میں آگیا۔ بس ڈرائیور کی گرفتاری کے لئے شروع ہونے والے 6/15
اگلے روز بشریٰ زیدی کی نماز جنازہ کے موقع پرفسادات میں شدت آگئی اورنماز جنازہ کے بعد پورا کراچی لسانی فسادات کی لپیٹ میں آگیا۔ بس ڈرائیور کی گرفتاری کے لئے شروع ہونے والے 6/15
احتجاج کا نتیجہ پختون مہاجرفسادات صورت نکلا۔
بشریٰ زیدی کی ہلاکت کے بعد ایک ہفتے تک کراچی آگ میں جلتارہا۔اس ایک ہفتے کے دوران کم وبیش 200افراد جاں بحق اوربے شمار زخمی ہوگئے ۔تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ۔شہرمیں نامعلوم افراد نے نفرتیں پھیلانے والے 7/15
بشریٰ زیدی کی ہلاکت کے بعد ایک ہفتے تک کراچی آگ میں جلتارہا۔اس ایک ہفتے کے دوران کم وبیش 200افراد جاں بحق اوربے شمار زخمی ہوگئے ۔تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ۔شہرمیں نامعلوم افراد نے نفرتیں پھیلانے والے 7/15
پمفلٹ تقسیم کئے کراچی کے لوگوں نے پہلی بار اسلحہ بردار نوجوانوں کو دیکھاجو خدامعلوم کہاں سے آتے تھے اور اندھا دھند فائرنگ کرکے فرارہوجاتے تھے ۔اس عرصے کے دوران ناظم آباد ،نارتھ ناظم آباد ،لیاقت آباداوراورنگی ٹاؤن سمیت کراچی کے بہت سے علاقے میدان جنگ بنے رہے ۔کئی مکانات 8/15
نذرآتش کردیئے گئے اور دکانیں جلاکرراکھ کردی گئیں۔
1990 ءکے بعد سے بشریٰ زیدی کے اہل خانہ کاکسی کوعلم نہیں کہ وہ کہاں ہیں، شاید انہوں نے کراچی یاپاکستان ہی چھوڑدیا۔لیکن اس حادثے کے اثرات آج بھی کراچی میں موجودہیں۔
بشریٰ زیدی کی ہلاکت کے بعدہنگامہ آرائی کاآغازطلبہ نے کیاتھا۔ 9/15
1990 ءکے بعد سے بشریٰ زیدی کے اہل خانہ کاکسی کوعلم نہیں کہ وہ کہاں ہیں، شاید انہوں نے کراچی یاپاکستان ہی چھوڑدیا۔لیکن اس حادثے کے اثرات آج بھی کراچی میں موجودہیں۔
بشریٰ زیدی کی ہلاکت کے بعدہنگامہ آرائی کاآغازطلبہ نے کیاتھا۔ 9/15
ان ہی دنوں کراچی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اپنی سیاسی شناخت کے ساتھ مہاجر قومی موومنٹ کے روپ میں سامنے آئی تھی، بشریٰ زیدی کے واقعے کے بعد مہاجر قومی موومنٹ کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔
اس وقت کے فوجی ڈکٹیٹرکے پاس یہ بہترین موقع تھاکہ وہ کراچی کی 10/15
اس وقت کے فوجی ڈکٹیٹرکے پاس یہ بہترین موقع تھاکہ وہ کراچی کی 10/15
سیاست کارخ تبدیل کرنے کےلئے ایم کیو ایم کی سرپرستی کرے سوالطاف حسین ،فاروق ستار ،طارق عظیم جواس سے پہلے طالب علم رہنماؤں کی حیثیت سے جانے جاتے تھے ۔اس واقعے کے بعد ان کی شہرت بلندیوں پرپہنچ گئی ۔ اس ایک واقعے نے کراچی کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا، مہاجر قومی موومنٹ کراچی 11/15
کے لوگوں کی مقبول ترین جماعت بن گئی۔
صرف کراچی ہی نہیں حیدر آباد اورسکھر تک ایم کیوایم نے اپنی مقبولیت کے جھنڈے گاڑے اورکراچی میں امن قائم رکھنے کےلئے اقتدارمیں ایم کیوایم کوحصہ دیناہرسیاسی جماعت کے لئے لازمی ٹھہر ا۔
بعد کے دنوں میں الطاف حسین اوران کے ساتھیوں نے جوچاہا اور 12/15
صرف کراچی ہی نہیں حیدر آباد اورسکھر تک ایم کیوایم نے اپنی مقبولیت کے جھنڈے گاڑے اورکراچی میں امن قائم رکھنے کےلئے اقتدارمیں ایم کیوایم کوحصہ دیناہرسیاسی جماعت کے لئے لازمی ٹھہر ا۔
بعد کے دنوں میں الطاف حسین اوران کے ساتھیوں نے جوچاہا اور 12/15
جیسے چاہا کراچی میں وہی ہوا ۔ایم کیوایم کی قوت توڑنے کےلئے کئی طرح کے منصوبے بنائے گئے۔ ایجنسیاں متحرک ہوئیں ، کبھی کوئی آپریشن ہوا توکبھی مذاکرات کے ذ ریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ کبھی یوںہوا کہ غیرحقیقی لوگوں پرمشتمل کوئی حقیقی گروپ قائم کردیاگیااورکبھی یوں ہواکہ 13/15
مختلف دھڑوں نے شہر کے مختلف حصوں پرقبضہ کرلیا۔پھرپنجابی ،پختون محاذ بھی بنا اورپاک سرزمین شادباد کے ترانے بھی سنائے گئے لیکن پندرہ اپریل 1985ءسے پہلے کاکراچی ہمیشہ کے لئے خواب ہوکررہ گیا۔ 14/15
ایک آخری بات وہ ڈرائیور جس کی گاڑی تلے بشری زیدی روندی گئی تھی اور جس کی گرفتاری کے مطالبے پر پشتون مہاجر لسانی فسادات ہوئے وہ پشتون تھا ہی نہیں۔ وہ آزاد کشمیری کا باشندہ تھا۔ لیکن یہ کسی نے جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔
۔ بشکریہ نئی بات 15/15
۔ بشکریہ نئی بات 15/15
جاري تحميل الاقتراحات...