آپ کو پتہ ہے کہ ’’چالیس ہزار سالوں کے علم‘‘ سیریز نے مجھے ایک بہت زبردست بات سکھائی ہے لیکن وہ بتانے سے پہلے ایک چھوٹی سی کہانی سن لیں ۔
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ کسی جگہ بہت سے پروانے اکٹھے ہوئے اور باتوں باتوں میں انہوں نے ایک دوسرے سے پوچھا کہ ...
یہ ’’شمع‘‘ آخر ہوتی کیا ہے ؟
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ کسی جگہ بہت سے پروانے اکٹھے ہوئے اور باتوں باتوں میں انہوں نے ایک دوسرے سے پوچھا کہ ...
یہ ’’شمع‘‘ آخر ہوتی کیا ہے ؟
ہم کیوں اس کی طرف اڑے چلے جاتے ہیں ؟
اب ایک پروانے نے کہا کہ میں اسے دیکھنے جاتا ہوں اور واپس آ کر بتاؤں گا کہ شمع کیا ہوتی ہے ۔
لہٰذا وہ اڑتا اڑتا شہر کے محل کی طرف جاتا ہے ، کھڑکی میں بیٹھ کر ایک نظر کمرے میں جلتی شمع کو دیکھتا ہے اور واپس جا کر باقی پروانوں سے کہتا ہے کہ ...
اب ایک پروانے نے کہا کہ میں اسے دیکھنے جاتا ہوں اور واپس آ کر بتاؤں گا کہ شمع کیا ہوتی ہے ۔
لہٰذا وہ اڑتا اڑتا شہر کے محل کی طرف جاتا ہے ، کھڑکی میں بیٹھ کر ایک نظر کمرے میں جلتی شمع کو دیکھتا ہے اور واپس جا کر باقی پروانوں سے کہتا ہے کہ ...
’’شمع تو بڑی چمکدار سی کوئی چیز ہے ۔‘‘
لیکن پروانوں کا بادشاہ ہنس پڑتا ہے اور کہتا ہے کہ
’’نہیں ، تمہیں کچھ پتہ نہیں چلا کہ شمع کیا ہوتی ہے۔‘‘
اب دوسرا پروانہ کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ میں جا کر دیکھوں گا کہ شمع کیا ہوتی ہے ۔ اور اس طرح وہ بھی اڑتا اڑتا شہر کے محل کی طرف جاتا ...
لیکن پروانوں کا بادشاہ ہنس پڑتا ہے اور کہتا ہے کہ
’’نہیں ، تمہیں کچھ پتہ نہیں چلا کہ شمع کیا ہوتی ہے۔‘‘
اب دوسرا پروانہ کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ میں جا کر دیکھوں گا کہ شمع کیا ہوتی ہے ۔ اور اس طرح وہ بھی اڑتا اڑتا شہر کے محل کی طرف جاتا ...
اور کھڑکی سے بھی اندر جا کر شمع کے گرد ایک چکر لگاتا ہے اور واپس آ کر کہتا ہے کہ ...
’’شمع چمکدار ہوتی ہے اور اس میں سے تھوڑی تھوڑی حرارت بھی نکلتی ہے ۔‘‘
لیکن پروانوں کا بادشاہ اسے بھی یہی بات کہتا ہے کہ ...
’’مجھے تم پر شمع دیکھنے کے ثبوت نظر نہیں آ رہے ۔‘‘
’’شمع چمکدار ہوتی ہے اور اس میں سے تھوڑی تھوڑی حرارت بھی نکلتی ہے ۔‘‘
لیکن پروانوں کا بادشاہ اسے بھی یہی بات کہتا ہے کہ ...
’’مجھے تم پر شمع دیکھنے کے ثبوت نظر نہیں آ رہے ۔‘‘
اپنے بادشاہ کی یہ بات سن کر پروانے پھر اس سے درخواست کرتے ہیں کہ ...
بادشاہ سلامت ! ہم سب اکٹھے ہو کر شمع کو دیکھنے چلتے ہیں ۔ اور یوں سب پروانے شہر کے محل کی طرف اڑتے ہیں اور شمع کے پاس پہنچ کر اس کے گرد ایک دائرے کی صورت میں جمع ہو جاتے ہیں ۔
لیکن اس دوران ...
بادشاہ سلامت ! ہم سب اکٹھے ہو کر شمع کو دیکھنے چلتے ہیں ۔ اور یوں سب پروانے شہر کے محل کی طرف اڑتے ہیں اور شمع کے پاس پہنچ کر اس کے گرد ایک دائرے کی صورت میں جمع ہو جاتے ہیں ۔
لیکن اس دوران ...
ایک پروانے سے رہا نہیں جاتا ۔ وہ اڑتا اڑتا شمع کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر اس کے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ اپنے پروں سمیت ہی جل جاتا ہے ۔
اور اس وقت پروانوں کا بادشاہ کہتا ہے کہ …
’’اگر ہم میں سے کسی کو شمع کی حقیقت پتہ چلی ہے تو وہ یہ ہے جو جل چکا ۔‘‘...
اور اس وقت پروانوں کا بادشاہ کہتا ہے کہ …
’’اگر ہم میں سے کسی کو شمع کی حقیقت پتہ چلی ہے تو وہ یہ ہے جو جل چکا ۔‘‘...
حقیقت تک پہنچنے کے لیے ...
You have to burn yourself ...
اپنا آپ لگانا پڑتا ہے ، اپنے ایموشنز ، اپنا وقت ، اپنے جذبات دینے پڑتے ہیں ، تب جا کر آپ ’’سچائی‘‘ تک پہنچتے ہو ۔
تب جا کر آپ ’’excellence‘‘ حاصل کرتے ہو اور یہ کام صرف اور صرف ایک چیز ہی کروا سکتی ہے ۔
’’خالص محبت‘‘
You have to burn yourself ...
اپنا آپ لگانا پڑتا ہے ، اپنے ایموشنز ، اپنا وقت ، اپنے جذبات دینے پڑتے ہیں ، تب جا کر آپ ’’سچائی‘‘ تک پہنچتے ہو ۔
تب جا کر آپ ’’excellence‘‘ حاصل کرتے ہو اور یہ کام صرف اور صرف ایک چیز ہی کروا سکتی ہے ۔
’’خالص محبت‘‘
یہ وہ پوائنٹ تھا جس نے مجھ پر ایک حدیث کا مطلب اچانک شیشے کی طرح واضح کر دیا ۔
’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کے دل میں میری محبت تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہو جائے ۔‘‘ (بخاری 15)
میں اکثر سوچتا تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟
محبت کوئی مرضی سے تھوڑی ...
’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کے دل میں میری محبت تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہو جائے ۔‘‘ (بخاری 15)
میں اکثر سوچتا تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟
محبت کوئی مرضی سے تھوڑی ...
ہوتی ہے کہ دل چاہا تو زیادہ کر لی یا دل کیا تو کم کر دی ۔
لیکن اب سمجھ آ رہی ہے کہ یہ محبت ... یہ ان کے درجات بلند کرنے کے لیے نہیں تھی ۔
یہ محبت اس لیے ہونی تھی تاکہ ہم ’’excellence‘‘ حاصل کر سکیں ۔
تاکہ ہم اپنا آپ ، اپنے جزبات ، اپنا وقت لگا کر ’’حقیقت ‘‘ کو پہنچ سکیں ...
لیکن اب سمجھ آ رہی ہے کہ یہ محبت ... یہ ان کے درجات بلند کرنے کے لیے نہیں تھی ۔
یہ محبت اس لیے ہونی تھی تاکہ ہم ’’excellence‘‘ حاصل کر سکیں ۔
تاکہ ہم اپنا آپ ، اپنے جزبات ، اپنا وقت لگا کر ’’حقیقت ‘‘ کو پہنچ سکیں ...
تاکہ ہم ’’کمال‘‘ کے درجات تک پہنچ سکیں ، تاکہ ہم ’’ایمان‘‘ کو فیل کر سکیں ۔
آپ کو پتہ ہے اس حدیث کی ایک رپورٹ سنن نسائی میں تھوڑے سے مختلف الفاظ کے ساتھ ہے ؟
’’اس شخص نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا جسے اللہ اور اس کا رسول ہر چیز سے زیادہ پیارے ہو گئے ۔‘‘
(سنن نسائی 4992)
آپ کو پتہ ہے اس حدیث کی ایک رپورٹ سنن نسائی میں تھوڑے سے مختلف الفاظ کے ساتھ ہے ؟
’’اس شخص نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا جسے اللہ اور اس کا رسول ہر چیز سے زیادہ پیارے ہو گئے ۔‘‘
(سنن نسائی 4992)
میری ’’چالیس ہزار سالوں کے علم ‘‘سیریز نے مجھے یہ سکھا دیا کہ یہ محبت میرے اپنے فائدے کے لیے تھی ۔
میں اپنے جذبات ، اپنے احساسات ، اپنا وقت ، اپنی توجہ اللہ اور اسکے رسول میں انویسٹ کر سکوں ۔
تاکہ اس محبت سے مجھے ’’excellence‘‘ مل جائے ، یہ مجھے ’’حقیقت‘‘ سے متعارف کروا دے ۔
میں اپنے جذبات ، اپنے احساسات ، اپنا وقت ، اپنی توجہ اللہ اور اسکے رسول میں انویسٹ کر سکوں ۔
تاکہ اس محبت سے مجھے ’’excellence‘‘ مل جائے ، یہ مجھے ’’حقیقت‘‘ سے متعارف کروا دے ۔
اور بالآخر مجھے ایمان کی وہ ’’مٹھاس‘‘ فیل کروا دے جو صرف ایک خالص محبت ہی کروا سکتی ہے ۔
اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت جو بالآخر ...
ہمیں ’’excellence‘‘ دے دے گی ۔
فرقان قریشی
اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت جو بالآخر ...
ہمیں ’’excellence‘‘ دے دے گی ۔
فرقان قریشی
جاري تحميل الاقتراحات...