Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

19 تغريدة 8 قراءة Feb 24, 2023
آج ایک بہت ہی اہم دن ہے ، جانتے ہیں کیوں ؟ تیرہ صدیاں پیچھے چلے جایئے ۔
26 جنوری سنہ 661ء ... آج وہ دن ہے جب حضرت علی ابن طالبؓ کی assassination ہوئی تھی اور دو دن بعد ان کی شہادت جس کے ساتھ خلافت راشدہ کا بھی خاتمہ ہو گیا تھا ۔
لیکن یہ واقعہ کوئی اچانک نہیں ہوا تھا ...
اس واقعے کو ایک عورت نے انجینئر کیا تھا اور آپؐ نے اس واقعے کی پیشن گوئی بھی کر دی تھی ۔
یہ پیشن گوئی ہوئی تھی کھجوروں کے ایک باغ میں جہاں حضرت علیؓ ایک مرتبہ سو رہے تھے ۔
آپؐ اس باغ میں آئے ، حضرت علیؓ کو جگایا اور ان کے سر میں لگی مٹی کو دیکھ کر کہا کہ ...
اے ابو تراب (اے مٹی والے) اٹھو ! کیا میں تمہیں دو بدترین لوگوں کے متعلق بتاؤں؟
ایک سرخ رنگ کا وہ شخص جس نے اللہ کی اونٹنی کو مارا تھا اور ایک وہ شخص جو تمہیں یہاں پر مارے گا (یعنی تمہارے سر پر جہاں مٹی لگی ہوئی ہے) حتیٰ کہ تمہاری داڑھی خون سے گیلی ہو جائے گی (سلسلۃ الصحیحہ 3633)
اور یہ پیشن گوئی پوری ہوئی آج کے دن یعنی 26 جنوری 661ء کو کوفہ کی مسجد میں جہاں عبد الرحمٰن ابن ملجم نے حضرت علیؓ کی گردن پر زہر میں ڈوبی ہوئی تلوار ماری تھی ۔
لیکن میں نے آپ کو بتایا کہ اس واقعے کو دراصل ایک عورت نے انجینئر کیا تھا اور میں آپ کو اسکے متعلق کچھ بتانا چاہتا ہوں ۔
حضرت علیؓ نے خارجیوں کے خلاف جو پہلی لڑائی کی اسے ’’نہروان‘‘ کہتے ہیں ۔
ان خارجیوں میں سے ایک خارجی مصر کا ایک شخص عبدالرحمٰن ابن ملجم بھی تھا جو حضرت علیؓ کے فیصلوں سے خوش نہیں تھا اور اس وجہ سے وہ آپؓ پر حملہ کرنے کے لیے کوفہ پہنچ گیا ۔
لیکن کوفہ میں اس کی ملاقات ...
ایک بہت ہی خاص گروپ سے ہوئی ، خارجیوں کے ایک گروپ سے ، اور یہ وہ خارجی تھے جن کے دس فیملی ممبرز نہروان میں مارے گئے تھے ۔
یہ وہ گروپ تھا جس میں ابن ملجم نے ایک عورت کو دیکھا ۔
’’قطام‘‘ نام کی ایک ایسی عورت جس کا باپ اور بھائی دونوں نہروان میں مارے جا چکے تھے اور وہ عورت ...
حضرت علیؓ کی جان کی دشمن ہو چکی تھی ۔
علیؓ کے خلاف اپنی ferocity کی وجہ سے یہ عورت ابن ملجم کو بہت پسند آئی اور اس نے اس کے ساتھ شادی کی خواہش ظاہر کی لیکن اس عورت نے شادی کے لیے ایک شرط رکھی ۔
’’علی ابن طالبؓ کی شہادت ۔‘‘
اور اس طرح اس عورت نے پورا ایک پلان انجینئر کیا ...
اس نے دو مزید assassins جن کے نام ’’وردان اور شبیب‘‘ تھے ، انہیں بھی ابن ملجم کے ساتھ بھیجا اور یہ تینوں لوگ گہری رات میں کوفہ کی مسجد کے پاس چھپ کر کھڑے ہو گئے اور حضرت علیؓ کا انتظار کرنے لگے۔
فجر کے قریب جب علی ابن طالبؓ مسجد میں داخل ہوئے تو اس وقت وہ ...
سورۃ انبیاء پڑھ رہے تھے اور تب ان تینوں نے ایک ساتھ attack کیا ۔
شبیب کی تلوار تو اپنا نشانہ miss کر گئی ، وہ بھاگ گیا اور دوبارہ پکڑا نہیں گیا ، اسی طرح وردان بھی بھاگ گیا لیکن اس کے رشتہ دار نے اسے پکڑ لیا اور وہیں اسے مار دیا لیکن ابن ملجم کی تلوار نے اپنا ٹارگٹ miss نہیں کیا
اس نے حضرت علیؓ کو وہیں hit کیا جہاں آپؐ نے پیشن گوئی کی تھی اور اس کے دو دن بعد حضرت علیؓ کی شہادت کے ساتھ خلاف راشدہ کا بھی خاتمہ ہو گیا ۔
لیکن آپؐ کی پیشن گوئی میں ایک اور ’’بدبخت‘‘ کا بھی ذکر تھا ، سرخ رنگ کا وہ شخص جس نے اللہ کی اونٹنی کو مارا تھا ۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ...
اس واقعے کو بھی ایک عورت ہی نے انجینئر کیا تھا ۔
اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اہل حجر کو ایک معجزے کے طور پر دی گئی تھی جب انہوں نے اپنے نبی صالحؑ سے ڈیمانڈ کی کہ ہمیں پہاڑ سے ایک اونٹنی نکال کر دکھائیں ۔
سورۃ اعراف میں اہل حجر کے ’’بڑوں‘‘ کو ایک بہت ہی خاص ٹائٹل دیا گیا ہے ...
’’متکبر سردار‘‘ (الاعراف 07:75)
لیکن ان متکبر سرداروں میں سے بھی 9 سردار ایسے تھے جنہیں سورۃ نمل میں اس سے بھی بڑھ کر ایک ٹائیٹل میں دیا گیا ہے یعنی
’’وہ سردار جن میں کوئی خیر نہیں تھی‘‘ (النمل 27:48)
لیکن کسی بھی قسم کی خیر سے خالی ، ان متکبر سرداروں میں ایک شخص ایسا بھی تھا
جسے سورۃ شمس میں اس سے بھی بڑھ کر ایک ٹائیٹل دیا گیا ہے ۔
’’اشقہا‘‘ (الشمس 91:12)
یعنی
’’اس شہر کا بدترین شخص ، the most wreched one ، the most wicked one ‘‘
اور اس شخص کے کیے واقعے کو بھی دراصل دو عورتوں ہی نے انجینئر کیا تھا ۔
ان میں سے پہلی عورت تھی ’’صدوق‘‘ جس نے ...
ایک بڑے اور متکبر سردار ’’مصرع‘‘ کو entice کیا ، یہ دونوں آپس میں کزنز بھی تھے ، اور مصرع نے صدوق کو ’’اپنا آپ‘‘ دینے کا وعدہ کیا ۔
جبکہ دوسری عورت تھی ’’عنیزہ‘‘ جس نے اپنی بیٹیوں کے ذریعے ’’اس شہر کے بدترین شخص ، قدار‘‘ کو entice کیا کہ وہ اسے اپنی بیٹیاں دے گی اور بدلے میں ..
ان دونوں نے ایک ہی شرط رکھی ۔
’’اونٹنی کا خون ۔‘‘
اور ایک دن جب وہ اونٹنی پانی پی کر واپس جا رہی تو مصرع آگے بڑھا اور اونٹنی پر تیر چلا دیئے ۔
لیکن صرف تیر چلانا ان عورتوں کے لیے کافی نہیں تھا ، وہ بھی آگے بڑھیں اور چیخنے چلانے لگ گئیں کہ
’’اسے قتل کرو‘‘
اور پھر اس وقت ...
’’شہر کا بدترین شخص‘‘ آگے آیا اور اس نے اللہ کی اونٹنی پر تلوار چلا دی اور پھر ان واروں سے اونٹنی کی موت ہو گئی ۔
علیؓ کی شہادت کے بعد ابن ملجم کو بھی execute کر دیا گیا اگرچہ خلافت راشدہ ختم ہو گئی لیکن اللہ کے لیے کام کرنے والے اپنا کام کرتے رہے ۔
کیا آپ نے نوٹ کیا کہ ...
ان دونوں واقعات میں دو بدبخت ترین لوگ کامن ہیں ، ان میں وہ عورتیں بھی کامن ہیں جنہوں نے ان دونوں واقعات کو انجینئر کیا ۔
لیکن ان میں ایک تیسری چیز بھی کامن ہے کہ دونوں واقعات کے بعد بھی اللہ کے لیے کام کرنے والے نہیں رکے ۔
آج حضرت علیؓ کی assassination کا دن ہے ، انہیں شہید ...
کرنے والے شخص کو حدیث میں ’’بدبخت ترین‘‘ شخص کا ٹائیٹل ملا ہے ۔
یہی ٹائیٹل قرآن پاک میں ایک اور شخص کو بھی ملا ہے ، وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کا قتل کیا تھا ۔
ان واقعات میں بہت مماثلت ہے اور میں تیسری مماثلت کی پیروی کرتے ہوئے ...
آج ایک بار پھر سے
’’چالیس ہزار سالوں کے علم‘‘
سیریز کا آغاز کر رہا ہوں اور اس نئے آغاز کی شروعات ، ان شاء اللہ کل جمعے کے بعد ...
’’اللہ کی اونٹنی اور اہل حجر‘‘
والے اسی واقعے اور اسی چیپٹر کے ساتھ’’furqan qureshi blogs‘‘ پر ہو گی ۔
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...