Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

15 تغريدة 16 قراءة Feb 24, 2023
آج ایک بہت اہم تاریخ ہے ، کیوں کہ یہ وہ تاریخ ہے جس میں بالآخر اللہ کے گھر کو بتوں سے پاک کر دیا گیا تھا ۔
11 جنوری 630ء جب اس وقت کا مکہ وادی ابراہیم میں پھیلا ہوا تھا ، چاروں طرف کالے اور سخت پہاڑ اور سٹی تک پہنچنے کے صرف چار راستے تھے لیکن محمد الرسول اللہؐ نے ...
مسلم آرمی کے چار گروپس بنا کر ان چاروں راستوں سے مکہ میں داخل کروایا اور آپؐ خود سب سے بڑے راستے سے آ رہے تھے ، وہ روٹ جو مدینہ سے آتا تھا ۔
اس وقت کعبہ میں چھوٹے بڑے تین سو ساٹھ بت تھے جن میں سے سب سے بڑا ہبل تھا ، گہرے سرخ رنگ کے پتھر سے بنا ایک بہت بڑا مجسمہ جس کا ...
دایاں ہاٹھ ٹوٹا ہوا تھا لیکن اس ٹوٹے ہوئے ہاتھ کو قریش نے سونے کے بنے ایک ہاتھ کے ساتھ ریپلیس کیا ہوا تھا ۔
ان تمام بتوں کو آپؐ ایک ایک کر کہ کعبہ سے نکالتے جا رہے تھے اور آپؐ کے دائیں ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جسے آپ بتوں پر مارتے جا رہے تھے اور الاسراء کی وہ آیت پڑھتے جا رہے تھے ۔
حق آ گیا اور باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے والا ہی ہے (الاسراء 17:81)
اس کے بعد آپؐ نے ایک خطاب کیا تھا ، ایک بہت اہم خطاب جس کے دوران آپ نے قریش سے پوچھا کہ تمہیں کیا لگتا ہے کہ تمہارے ساتھ کیا سلوک ہو گا ؟
ان کے بڑے سرداروں میں سے ایک بہت خوبصورت اور ایک بہت وجیہہ سردار تھا ...
سہیل بن امر جسےبولنے کا ماہر سمجھا جاتا تھا ، انفیکٹ اسے اپنے اچھا بولنے کی صلاحیت کی وجہ سے ٹائٹل بھی قریش کے ’’خطیب‘‘ کا ملا ہوا تھا ۔
اس وقت سہیل نے جواب دیا کہ ہمیں آپ سے سوائے اچھائی کے اور کسی چیز کی امید نہیں ہے اور اس پر آپؐ نے جواب دیا کہ میں تمہیں وہی الفاظ کہوں گا ...
جو یوسفؑ نے اپنے بھائیوں کو کہے تھے کہ آج تمہارے خلاف کوئی پکڑ نہیں ، تمہیں عام معافی دی جاتی ہے ۔
آپؐ کی اس بات پر سہیل بن امر جیسا خطیب بھی لاجواب محسوس کرنے لگا اور بعد میں وہ ایمان لے آئے تھے ۔
لیکن اس عام معافی کے باوجود بھی کچھ لوگ خود کو بے بس محسوس کر رہے تھے ...
اس کی ایک مثال کہ جب آپؐ کے خطاب کے بعد بلالؓ نے کعبہ پر چڑھ کر اذان دی تھی تو تین کافر اپنے صحن سے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے ۔
اس وقت ان میں سے ایک کافر عطب بن اسید نے کہا کہ شکر ہے اللہ نے میرے باپ کو یہ الفاظ سننے سے بچا لیا (یعنی کہ وہ یہ دن دیکھنے سے پہلے ہی مر گیا) لیکن ...
جب آپؐ نے اس سے یہ بات کہنے کے وجہ پوچھی تو وہ حیران ہو کہ کہنے لگا کہ آپ کو یہ کس نے بتایا ؟ اللہ کی قسم اس وقت تو سوائے ہم تین کے وہاں اور کوئی بھی نہیں تھا ۔ اس واقعے کے بعد عطب بن اسید بھی ان لوگوں میں سے ہوئے جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا۔
لیکن ان کے علاوہ ...
دس لوگ ایسے بھی تھے جن کے قتل کے آرڈرز ابھی بھی ایشو تھے اور ان دس میں سے ایک عکرمہ بن ابو جہل ، یعنی ابوجہل کے بیٹے جو اس وقت مکہ چھوڑ کر چلے گئے تھے لیکن بعد میں مسلمان ہو گئے تھے ۔
اور کبھی اتفاق ہو تو ان کے ایمان لانے کا واقعہ پڑھیئے گا کہ کیسے انہوں نے سمندری طوفان میں ...
گھرے لوگوں کو اللہ سے دعائیں مانگتے دیکھا اور دل میں سوچا کہ اسی ایک اللہ کی دعوت تو محمد بھی دے رہے ہیں ، جس پر وہ مکہ واپس آئے اور اسلام قبول کر لیا ۔
لیکن بڑے سرداروں میں سے ایک نام امیہ بن خلف کے بیٹے صفوان بن خلف کا بھی تھا جو قریش کا ایک بہت ہی انفلوئینشل سردار تھا ...
اور انتہاء کا متکبر بالکل اپنے باپ کی طرح ۔
اس کی مثال میں ایسے دیتا ہوں کہ اس نے بدر میں حصہ تو نہیں لیا تھا لیکن جب ایک پیغام لانے والے نے اسے خبر پہنچائی کہ قریش بدر میں ہار گئے ہیں تو اس نے پیغام لانے والے کو بدحواس کہہ دیا تھا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم بدر ہار جائیں ..
بعد میں جب اس پیغام لانے والے سے پوچھا گیا کہ صفوان کہاں ہے ؟ تو اس نے کہا کہ ...
’’وہ وہاں ہے ، اپنے کمرے میں ، جبکہ ہم اس کے بھائیوں اور باپ کو بدر میں مرتا دیکھ کر آئے ہیں ۔‘‘
بہرحال جب مکہ فتح ہوا تو عکرمہ کی صرح صفوان بھی مکہ چھوڑ کر جدہ چلے گئے تاکہ وہاں سے ...
یمن چلے جائیں لیکن اس سے پہلے کہ وہ یمن جاتے ، ایک مرتبہ پھر سے ان تک ایک قاصد پہنچا اور کہا کہ ...
صفوان ! اپنے آپ کو تباہ مت کرو ، وہ لوگ بہت رحمدل ہیں ، ان کی طاقت تمہاری طاقت ہو گی ، ان کی عزت تمہاری عزت ہو گی ، ان کی جگہ تمہاری جگہ ہو گی ۔
لیکن کسی وقت کے متکبر سردار ...
صفوان نے اس مرتبہ آئے قاصد کو کہا کہ مجھے خوف ہے کہ محمد مجھے نہیں چھوڑیں گے لیکن قاصد نے پھر کہا کہ تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا ۔
بہرحال صفوان مکہ واپس آئے اور کہا کہ مجھے سوچنے کے لیے دو ماہ کا وقت دیں لیکن محمد رسول اللہؐ نے انہیں چار ماہ کا وقت دے دیا اور یہ بات سن کر ...
صفوان نے بھی اسلام قبول کر لیا ۔
گیارہ جنوری سنہ 630ء کو صرف کعبہ کے بت نہیں ٹوٹے تھے ، اس دن بڑی بڑی human egos کے ، بڑی بڑی انسانی اناؤں کے بت بھی ٹوٹے تھے ۔
واقعی ، حق آ گیا اور باطل مٹ گیا ، اور باطل نے تو مٹنا ہی تھا ۔
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...