تھریڈ 🤷♂️
نواز شریف کو واپس نہیں آنا چاہیے !
میرا لکھنا میری ذاتئ راۓ ہے میرا ویژن آپ کی سوچ کے مطابق نہیں ہو سکتا ہے نہ ہی آپ کی سوچ سے میرا متفق ہونا ضروری ہے اُسی طرح آپ اس تھریڈ سے بالکل بھئ نہ متفق ہوں اور نہ ہی اس کو سمجھنے کی کوشش کریں
نواز شریف کو واپس نہیں آنا چاہیے !
میرا لکھنا میری ذاتئ راۓ ہے میرا ویژن آپ کی سوچ کے مطابق نہیں ہو سکتا ہے نہ ہی آپ کی سوچ سے میرا متفق ہونا ضروری ہے اُسی طرح آپ اس تھریڈ سے بالکل بھئ نہ متفق ہوں اور نہ ہی اس کو سمجھنے کی کوشش کریں
چھوڑیں پیچھے جو کچھ بھی ہوا نواز شریف کے دو ادوار کیسے تھے اور کس طرح اقتدار سے الگ کیا گیا لمبی کہانی ہے ہم آخرئ دور کی چند باتیں کر لیتے ہیں کیسے اقتدار سے الگ کیا گیا اور کن کن وجوہات کی بنا پر چلتے ہوۓ ملک کی چولیں ہلا دی گئیں
نواز شریف کو واپس نہیں آنا چاہیے اور اگر آئیں بھی تو سیاست سے کنارہ کر جانا چاہیے کیونکہ جہاں انسان کی عزت نہ ہو وہاں باقی سب چیزیں کوئی معنئ نہیں رکھتی ہیں یہاں نواز شریف کو بحثیت عام انسان کے طور پر دیکھتے ہیں جو خوشی غمی کے جذبات رکھتا ہے
سیاستدان کی زندگی بھی ڈاکٹر جیسی ہوتی ہے جذبات اور احساسات سے عاری جیسے ڈاکٹر کے سامنے مریض ہو تو وہ ہمدردی کا جذبہ نہیں جگا پاتا ہے اس کے سامنے صرف مریض کی زندگی کو بچانا اہم ہوتا ہے اسی طرح سیاستدان کے سامنے پورا ملک ہوتا جس کا نظام اس کو چلانا اور ترقی کئ راہ پر ڈالنا ہوتا ہے
نواز شریف کے تین ادوار میں ملک نے ترقی کی تھی انفراسٹکچر بدلنا شروع ہوگیا تھا کام کاروبار کی نئی راہیں کھلنا شروع ہو گئیں تھیں عوام خوشحال تھی بیروزگارئ کی شرح کم تھی مہنگائی کنڑول میں تھی عوام کی بنیادی ضروریات ڈور سٹیپ پر مہیا ہو رہی تھیں بس پھر نظر لگ گئی رزلٹ آپ کے سامنے ہے
نواز شریف کو نہ لیڈر مانتا ہوں نہ ہی سیاستدان اور نہ ہئ ان کی جماعت کو سیاسی جماعت مانتا ہوں میرا ماننا ہے یہ بزنس گروپ ہے اور بزنس گروپ کے طور اپنا کام بہترین کرتے ہیں میرا لکھنا نہ کوئی خوشامد ہے نہ ہی مجھے گڈ بکس میں رہنا ہے میرا کام ہے اچھا کام جس کا ہو اس کو سراہنا چاہیے
نواز شریف ہو یا مریم نواز جب عوام کئ بات کر کے عوام سے دور رہیں تو غصہ اس بات پر آتا ہے جھوٹی گفتگو مت کرو عوام کو بیچو مت عوام کے جذبات سے کھیلو مت ان کی بات کی ہے تو ان کے درمیان رہو ان پر اعتماد کرو ان کی امُنگوں کے مطابق فیصلہ کرو اور لیڈر بن کے ان کو لیڈ کرو
نواز شریف کو کس چیز کی کمی تھی نہ سیاست میں آتا تو بھی دنیا کی ہر چیز قدموں میں موجود تھی خوشحال گھرانہ چلتے کاروبار اور کیا چاہیے تھا مگر شائد عوامئ خدمت کا کیڑا یا پروٹوکول کے مزۓ میں اس گند میں اترنا پڑا اور پھر خراج تو دینا ہی تھا عوام کی خدمت کو سامنے رکھا جاۓ
تو عوام خود بولتی ہے کہ کس کا دور اچھا تھا اور کس کے دور میں یہ خوشحال تھے ہم عوام بھی کبھی شکر گذار نہیں ہوۓ ہیں اور نہ ہی کسی سیاستدان کے احسان مند کہ اس کئ وجہ سے ہماری زندگیوں میں یہ کمی ہوئی ہے یا بیشی ہوئی ہے بس جب رج جاتے ہیں تو گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں
نواز شریف قرضے لے رہا تھا یا ملک کی معشیت کے ساتھ گیم کر رہا تھا وہ اُس وقت بہتر جانتا تھا اس کو کیا کرنا ہے اور جو کھلارا ڈال رہا ہے اس کو سمیٹنا کیسے ہے اس کے پاس پلان اور ٹیم دونوں موجود تھیں وہ جانتا تھا کب کہاں کیسے اور کس کس کے ساتھ کام کرنا ہے
چلتے ہوۓ ملک کو ایک نا اہل اور گھٹیا شخص کے حوالے کرنے کے لیے نواز شریف کو کیسے ذلیل و رسوا کیا گیا ہم سب جانتے ہیں جس دن نواز شریف کو جوتا مارا گیا تھا میرۓ ذاتی خیال میں اُسی دن نواز شریف کو سیاست کو خیرباد کہہ دینا چاہیے تھا اور مُلک چھوڑ دینا چاہیے تھا
جس شخص نے ملک کو عزت دی اس کا مقام دنیا میں اونچا کیا موٹر ویز کا جال بچھایا صوبوں کو ساتھ لے کر چلا ایٹمی طاقت بنایا گوادر کو بنانا شروع کیا عوام کا معیار زندگی بلند گیا اس شخص کو جوتا مارنا اس کے سب کیے کراۓ پر لعنت بھیجنے کے مترادف تھا
یعنی اس کو بتایا گیا کہ تمھاری کوئی ضرورت نہیں ہے ہماری شائد عادت ہی یہی ہے ہمیں رج کھان کی مستیاں چڑھ جاتی ہیں نواز شریف نے وہی مستیاں ہمیں آرام و سکون سے گھر بیٹھے مہیا کر دی تھیں لہذا جوتے پڑنا تو فرض تھا ہمیں عزت و احترام جیسے لفظوں سے آشنائی ہی نہیں ہے
یہ صرف ہمیں ہماری ذات کی حد تک اچھے لگتے ہیں نواز شریف کی نااہلی سے لے کر جیل یاترا پھر زندگی کے ساتھ کی جدائی سے لے کر زہر دینے تک پھر بیٹی کے ساتھ جیل کاٹنے پر اس عوام کی صبح شام لترول ہونی چائیے جو ٹھنڈے گرم کمروں میں بیٹھ کر صرف تماش بینی کرنا جانتی ہے
جن جو صرف اپنے فائدۓ سے غرض ہے جن کے ویژن کو اُرلی لگی ہوئی ہے جن کو خاں صاحب جیسا دماغی مفلوج بنا سکتا ہے جو آنکھوں دیکھی مکھی خوشی خوشی نگل سکتے ہیں جو کو سستا پیڑول مہنگا لگتا تھا جن کو سستا آٹا بجلی مہنگا لگتا تھا جب کو سبزیاں فری ملتی تھیں
جن کئ بنیادی ضروریات آدھی تنخوا میں پوری ہو جاتی تھیں جن کے پاس خوشی غمی کی صورت میں چار پیسے ہوتے تھے ان کو نواز شریف چور نظر آنے لگ گیا تھا ان کے نزدیک ملک کا سب سے بڑا غدار نواز شریف تھا ان کے بقول نواز شریف نے ان کئ نسلوں کا فیوچر گروی رکھ دیا ہے
ان کو دن رات خاں صاحب کی کہانیوں پر یقین کرنے کے سوا اور کوئی چارہ ہی نظر نہیں آرہا تھا ہم اپنے دشمن خود ہیں ہمیں کسی اور دشمن کی ضرورت ہی نہیں ہے ہمیں نواز شریف کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں اس کی پالیسیوں کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں ہمارا گذارا بہترین ہو رہا ہے
خاں صاحب نے ہمیں درست ٹریک پر ڈال دیا ہے پھر کیا ہوا اگر ہمارۓ ائرپورٹ گروی ہیں موٹر ویز گروئ ہیں سٹاک ایکسچینج انڈر آبزرویشن ہے سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کنڑول کر رہی ہے ڈالر کی پرائس کنڑول نہیں ہو رہی دن بدن مہنگائی کا طوفان آگے بڑھی جا رہا ہے بیروزگاری بڑھ رہی ہے
یہ سب نواز شریف ہوتا تو ہم کیسے اس سے مستفید ہو سکتے تھے لہذا نواز شریف کو کبھی واپس نہیں آنا چاہیے اور وزیر اعظم تو قطعئ طور پر بھی نہیں بننا چاہیے ورنہ شائد ملک پھر ٹریک پر آگیا تو ہم کیسے سروائیو کریں گے ویسے بھی نواز شریف نے بہت ملک برباد کر دیا ہے
اب خاں صاحب جیسے لوگوں کی ہی ضرورت ہے جو ملک کو ٹریک پر ڈال دیں
نواز شریف کو آپ جوتا ماریں اس کو بیٹی کے سامنے ذلیل کریں اس کو زہر آپ دیں اس کی بیوی سے آخری دو منٹ آپ بات نہ کرنے دیں اس کو جیل میں ذہنی ٹارچر کرنے کی کوششیں کریں اس کی بیٹی کو باپ کی وجہ سے بلیک میل کریں اس کی بیٹی کی عزت کو بازار میں آپ اچھالیں
اس کی فیملی کئ خواتین کو کچہریوں میں پیش کروائیں
اور اُمید یہ کریں نواز شریف واپس آۓ اور آپ کا بھار اُٹھاۓ آپ کو واپس 2018 میں لے کر جاۓ جوکہ ناممکن بات ہے مگر کنڑول تو ہو سکتا ہے سوچ آپ کی یہ ہو نواز شریف کی ملک کو ضرورت ہے لہذا آپ اس کے پاؤں بھی پڑنے کو تیار ہیں
مگر لعنت ڈالنی چاہیے نواز شریف کو آپ سب پر اور کبھی واپس رُخ نہیں کرنا چاہیے
اپنے گریبانوں میں دیکھیں آپ نے سلوک کیا کیا تھا نواز شریف کے ساتھ اور اس کی فیملی کے ساتھ کیا نواز شریف کا قصور یہ تھا وہ آپ کو اپنے جیسا بہترین لائف سٹائل دینا چاہتا تھا آپ کو بیروزگاری سے بچابا چاہتا تھا آپ کے فیوچر کو برائیٹ کرنا چاہتا تھا
آپ میں شعور ہوتا تو وہ آپ سمجھا پاتا کہ آپ کے لیے درست راستہ کونسا ہے جو عوام خاں صاحب کی جھوٹی کہانیوں پر آنکھ بند کر کے یقین کر رہی تھی وہاں نواز شریف جیسے بندۓ کی کوئی ضرورت بنتی ہی نہیں تھی نواز شریف ایویں آپ کا خدائی خدمتگار بنا ہوا تھا
آپ کے لیے دن رات ایک کر رہا تھا آپ کو تو جوتیوں میں بٹی دال کھانے کی عادت تھی وہ آپ کو عزت کی روٹی دینا چاہتا تھا
اس ملک کے ساتھ ہر ادارۓ نے اپنے اپنے طور کھلواڑ کیا اور پھر آج ان معافیوں کی کوئی ضرورت نہیں جو اُس وقت مانگنی چاہیے تھیں جب آپ ملک برباد کرنے کے پلان پر عمل در آمد کرنا شروع کر رہے تھے
آپ نے خاں صاحب کو بھگوان بنانے کے چکروں میں ایک شریف انسان کی عزت پر حملہ کیا اور اس کو ذلیل کیا کیوں ؟
نواز شریف سیاستدان ہوتا لیڈر ہوتا تو آپ کے ساتھ وہی سلوک کرتا جو پپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے ملک کے ساتھ کیا اس کے عوامئ خدمت کے کیڑۓ نے اس کو جوتا بھی مروایا اور ذلیل بھی کروایا اور پھر جیل میں زہر بھی دلوایا وہ تو قسمت اچھی تھی ورنہ کسر تو آپ نے کوئی نہیں چھوڑی تھی
اور شائد اب بھی یہی چاہتے ہیں کہ کب نواز شریف سے چھٹکارا ملے گا
ایک طرف آپ نواز شریف سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں دوسری طرف آپ اس کے پاؤں پڑتے ہیں کہ واپس آ کر ملک کو پھر درست ٹریک پر ڈالے تاکہ آپ پھر اس کو ذلیل کر کے نکال سکیں اور اپنئ خواہشات کو پورا کر سکیں
ایک طرف آپ نواز شریف سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں دوسری طرف آپ اس کے پاؤں پڑتے ہیں کہ واپس آ کر ملک کو پھر درست ٹریک پر ڈالے تاکہ آپ پھر اس کو ذلیل کر کے نکال سکیں اور اپنئ خواہشات کو پورا کر سکیں
مگر اب ایسا ہوگا نہیں کیونکہ نواز شریف اب واپس اپنئ شرائط پر آۓ گا اور اپنی وکٹ پر آپ کو کھلاۓ گا
میرا تو خیال ہے نواز شریف اب آپ کو سو پیاز بھی کھلاۓ گا اور سو جوتے بھی مارۓ گا بشمول عوام کیونکہ جہاں نواز شریف بدلہ لینا سے کترا جاتا تھا اب وہاں وہ سب حساب برابر کرۓ گا جو تین ادوار میں آپ نے اس کے ساتھ روا رکھے لہذا تیار رہیں اپنا حساب دینا بہت اوکھا ہوتا ہے
مریم نواز نے اپنے باپ کی کمی کو پاکستان میں رہ کر پورا کرنے کی کوشش کی مگر آپ کو سچ ہضم نہیں ہوتا ہے لہذا جب تک وہ باہر نہیں گئی آپ کو سکون نہیں مل رہا تھا لہذا اس کو بھی ملک سے باہر بھیج دیا کیونکہ آپ کو لیڈر بننا کسی کا پسند ہی نہیں وہیں عوام چ ہے جن کو شعور ہی نہیں ہے
کون ان کے لیے اہم ہے کون اہم نہیں ہے عوام کا وہی حال ہے “جنے لایا گلی اودۓ نال ٹُر چلی” اور اس کی بہترین مثال آپ نے خاں صاحب کی بکواس کی صورت میں دیکھی ہی ہے ہر قسم کے گند کے سامنے آنے کے باجود کوئی ماننے کو تیار ہی نہیں ہے کہ اس شخص نے ملک کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی
مریم نواز لیڈر بننے کے مراحل طے کر ہئ رہیں تھیں مگر خوشامدیوں کے ہاتھ چڑھ گئیں ان کو ماڈل بنانا شروع کر دیا راجکماری کے ٹائٹل سے نواز دیا ان کو جوتوں کپڑوں میں الجھا دیا جس سے ان کی شخصیت میں انہی چیزوں کا اثر غالب آنا شروع ہوگیا
ان کی توجہ سیاست سے ہٹ کر خوشامدیوں کی گفتگو میں الجھ گی جس کا اکثر و بیشتر اظہار کرتا رہتا ہوں
بہرحال بات کو ختم کرتے ہیں نہ نواز شریف کو واپس آنا چاہئے اور نہ ہی مریم نواز کو کیونکہ ان کی کو اگر آپ نے ذلیل کرنا ہے اور اپنا پیٹ بھر کر گالیاں نکالنی ہیں تو بہتر ہے آپ بھوکے پیٹ روٹی کی تلاش کریں اور خاں صاحب جیسے لوگوں کئ صحبت سے مستفید ہوں یہی لوگ آپ کے لیے بہتر ہیں
چھوڑیں نواز شریف کی واپسی دن گننے اور مریم نواز کی لیڈری کو آپ کو اس قابل ہے ہی نہیں کہ آپ کو کوئئ اچھا پلیٹ فارم مہیا کیا جاۓ آپ کی نسلوں کو اچھا فیوچر دیا جاۓ آپ کے لیے بنیادی ضروریات کا پورا ہونا آسان کیا جاۓ بیروزگاری کے طوفان سے نمٹا جاۓ
آپ کو بس جوتیوں میں دال بانٹی جاۓ جس کے آپ حق دار ہیں
نواز شریف یا اس کی فیملی کا دماغ خراب ہے سکون بھری زندگی چھوڑ کر کانٹوں کے بستر کو قبول کرۓ جس کا انجام پھر وہی ذلالت ہو جو تین دفعہ ہوئی آپ ماشاء اللّہ خود سمجھدار ہیں
نواز شریف یا اس کی فیملی کا دماغ خراب ہے سکون بھری زندگی چھوڑ کر کانٹوں کے بستر کو قبول کرۓ جس کا انجام پھر وہی ذلالت ہو جو تین دفعہ ہوئی آپ ماشاء اللّہ خود سمجھدار ہیں
آپ کا ویژن نواز شریف سے زیادہ ہے چلا لیں ملک اور عوام اپنا بندوبست خود کرۓ چورئ کریں یا ڈاکہ ڈالیں آپ جانیں آپ کا کام جانے نواز شریف کو بھول جائیں
مہنگائی سے لڑیں مریں ہسپتالوں میں رُلیں بنیادی ضروریات کے لیے خوار ہوں بیروزگاری سے سامنا کریں قصہ مختصر نواز شریف کو بھول جائیں وہ واپس آگیا بھی گیا تو بھئ آپ کو ناکوں چنے ضرور چبواۓ گا
کیونکہ اب وہ نواز شریف نہیں رہا جو آپ کی آواز کا درد محسوس کرتا تھا آپ کے لیے دن رات ایک کرتا تھا اب وہ کھیلے گا اور آپ گیند کے پیچھے بھاگیں گے
بہرحال بات سمجھ آجاۓ تو خود کو بدلیں اور معافی مانگیں اس شخص سے جو آپ کے لیے کھڑا تھا مگر آپ اس کے لیے کھڑۓ نہیں ہو سکے جو آپ کا درد سمجھ سکتا تھا مگر اس کی تکلیف میں آپ اس کے ساتھ نہیں کھڑۓ تھے وقت ملے تو سوچئیے گا ضرور ….
جزاک اللّہ خیراً
کنگ میکر
جزاک اللّہ خیراً
کنگ میکر
جاري تحميل الاقتراحات...