انہوں نے اس سلسلے میں المرتضیٰ ایسوسی ایٹس سے رابطہ کیا ہے لیکن وہ کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیتے- یہ 1982 کا واقعہ ہے- پاکستان کے کمزور قانونی نظام کے باعث اداروں نے انکی فریاد پر کان نہیں دھرے لیکن پھر لیبیا میں کچھ پاکستانیوں کی پراسرار اموات کی اطلاعات آنا..(جاری ⬇️) 3/13
کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی- کمیٹی نے انتہائی جانفشانی کیساتھ معاملے کی تحقیقات کیں- پاکستان میں لیبیا کے سفارتخانے کو آگاہ کیا گیا اور کمیٹی ممبران کا ایک وفد لیبیا بھی گیا- دس ماہ کی تحقیقات میں حقائق سامنے آ گئے جنکے مطابق لیبیا کی جن کمپنیوں کی ملازمت پر..(جاری ⬇️) 5/13
لیبر کو بھیجا گیا تھا وہ جعلی تھیں اور حقیقتاً انکا کوئی وجود نہیں تھا- لیبیا کے کچھ بدنام زمانہ جرائم پیشہ افراد نے پاکستان سے جن لوگوں کو المرتضیٰ ایسوسی ایٹس کے ذریعے لیبیا منگوایا وہ انسانی اسمگلنگ کے گروہوں سےمنسلک تھے جو تیسری دنیا کےغریب ممالک سے بیگار لینے..(جاری ⬇️) 6/13
کیلئے لوگ/لیبر منگوا کر انہیں غلام بناتے اور شدید گرمی والے علاقوں میں جہاں عام طور پر درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم نہ ہوتا وہاں لیجا کر مفت کی مشقّت لیتے اور اس دوران بدترین تشدد بھی کرتے- انہیں لیبیا کے دارلحکومت ٹریپولی کے مضافات میں 45 کلومیٹر دور ایک..(جاری ⬇️) 7/13
علاقے "زاویہ" کے بیگار کیمپوں میں رکھا جاتا-
تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں FIA پاسپورٹ سیل راولپنڈی نے انسانی اسمگلنگ کیس بنا کر ایف آئی آر نمبر 161/82 مورخہ 31 نومبر 1982 زیر دفعات 420, 468, 471, 277 درج کی- تقریباً 20 ماہ کے ٹرائل کے بعد راولپنڈی کی ملٹری کورٹ..(جاری ⬇️) 8/13
تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں FIA پاسپورٹ سیل راولپنڈی نے انسانی اسمگلنگ کیس بنا کر ایف آئی آر نمبر 161/82 مورخہ 31 نومبر 1982 زیر دفعات 420, 468, 471, 277 درج کی- تقریباً 20 ماہ کے ٹرائل کے بعد راولپنڈی کی ملٹری کورٹ..(جاری ⬇️) 8/13
نمبر 32 نے مورخہ 8 اگست 1984 کو زلفی بخاری کے والد واجد حسین بخاری اور چچا منظور حسین بخاری کو 14-14سال قید بمعہ تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبطگی کی سزا سنائی-
ریکارڈ بتاتا ہے کہ سال 1981 سے لیکر 1984 تک مذکورہ کیس کا فیصلہ آنے سےپہلے ہی بخاری فیملی نے اپنا..(جاری ⬇️) 9/13
ریکارڈ بتاتا ہے کہ سال 1981 سے لیکر 1984 تک مذکورہ کیس کا فیصلہ آنے سےپہلے ہی بخاری فیملی نے اپنا..(جاری ⬇️) 9/13
کے نام واجد بخاری نے اپنی بیٹیوں معصومہ بخاری اور سکینہ بخاری کے ناموں پر رکھے- یہاں ذکر ضروری تو نہیں تھا لیکن ضمناً کرتا چلوں کہ اگست 2016 میں اسلام آباد کے مشہور زمانہ قتل کیس کے مقتول بیرسٹر فہد ملک جنہیں اسلام آباد سیکٹر F-10 کے پولیس سٹیشن کےسامنے راجہ ارشد..(جاری ⬇️) 11/13
اور نعمان کھوکھر نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا وہ سکینہ بخاری کے شوہر تھےیعنی واجد بخاری کے داماد اور زلفی بخاری کے بہنوئی-
زلفی بخاری اور اسکی دونوں بہنوں معصومہ بخاری اور سکینہ بخاری کے نام 2016 کے مشہور زمانہ پانامہ پپیرز لیکس میں موجود آفشور کمپنیوں جنکے نام..(جاری ⬇️) 12/13
زلفی بخاری اور اسکی دونوں بہنوں معصومہ بخاری اور سکینہ بخاری کے نام 2016 کے مشہور زمانہ پانامہ پپیرز لیکس میں موجود آفشور کمپنیوں جنکے نام..(جاری ⬇️) 12/13
"کے-فیکٹر لمیٹڈ", "بریڈ بری ریسورسز لمیٹڈ" اور "بے-ٹیک لمیٹڈ" تھے میں سامنے آے تھے-
تھریڈ کو طوالت سے بچانے کیلئے زلفی بخاری کےنیب کیس اور واجد بخاری کے نئے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ میں تعمیری بےضابطگیوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی بابت تفصیلی تھریڈز پھر صحیح- شکریہ 🔵 13/13
تھریڈ کو طوالت سے بچانے کیلئے زلفی بخاری کےنیب کیس اور واجد بخاری کے نئے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ میں تعمیری بےضابطگیوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی بابت تفصیلی تھریڈز پھر صحیح- شکریہ 🔵 13/13
تصحیح
"""""""
ایف آئی آر کی تاریخ ٹائپنگ کی غلطی کی وجہ سے 31 نومبر 1982 لکھی گئی-
درست تاریخ 3 نومبر 1982 ہے- ✅
"""""""
ایف آئی آر کی تاریخ ٹائپنگ کی غلطی کی وجہ سے 31 نومبر 1982 لکھی گئی-
درست تاریخ 3 نومبر 1982 ہے- ✅
جاري تحميل الاقتراحات...