Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

11 تغريدة 10 قراءة Feb 24, 2023
کچھ دن پہلے ٹی وی پر ایک مذہبی قسم کا شو سامنے آیا ...
وہ لوگ بالکل پاگل تھے ... یا کم سے کم دیکھنے میں آپ کو ایسا ہی لگے گا کہ وہ پاگل ہیں ... اگر آپ ان کے مذہب اور ان کے کلچر کو نہیں سمجھتے ۔
وہ لوگ اپنے معبودوں کے پجاری تھے ، اور ان چیزوں کو ایکسٹریم تک لے کر جا رہے تھے ...
انہوں نے اپنے جسموں پر پینٹ کیے ہوئے تھے ...
عجیب و غریب سے کپڑے پہن رکھے تھے ...
وہ گا رہے تھے ، ڈانس کر رہے تھے ...
اپنے بتوں پر چیزیں نچھاور کر رہے تھے ...
ان کے لیے رو رہے تھے ، انہیں پکار رہے تھے ...
چیخ رہے تھے ، چلا رہے تھے ، ان کے نام لے رہے تھے ...
انہوں نے اپنے بتوں کی عبادت کے لیے بڑے بڑے علاقے مختص کیے ہوئے تھے جہاں جا کر وہ اپنے معبود دیکھتے تھے ۔
یوں لگتا تھا کہ جیسے ان کا سارا وجود ہی صرف اس ایک مقصد کے لیے قائم ہے ..
اپنے معبودوں کے لیے جنون کی خاطر ...
لیکن شاید آپ کو لگے کہ اس ساری بات سے ہمارا کیا تعلق ہے ؟ ...
اس لیے اس دفعہ غور سے پڑھیں ۔
کچھ دن پہلے ٹی وی پر ایک مذہبی قسم کا شو سامنے آیا ...
وہ لوگ بالکل پاگل تھے ... یا کم سے کم دیکھنے میں آپ کو ایسا ہی لگے گا کہ وہ پاگل ہیں ۔
اگر آپ ان کے مذہب اور ان کے کلچر کو نہیں سمجھتے ...
وہ لوگ اپنے معبودوں کے پجاری تھے ، اور ان چیزوں ...
کو ایکسٹریم تک لے کر جا رہے تھے ...
انہوں نے اپنے جسموں پر پینٹ کیے ہوئے تھے ...
عجیب و غریب سے کپڑے پہن رکھے تھے ...
وہ گا رہے تھے ، ڈانس کر رہے تھے ...
اپنے معبودوں پر چیزیں نچھاور کر رہے تھے ...
ان کے لیے رو رہے تھے ، انہیں پکار رہے تھے ...
چیخ رہے تھے ، چلا رہے تھے ، رو رو کر ان کے نام لے رہے تھے ...
انہوں نے اپنے بتوں کی عبادت کے لیے بڑے بڑے علاقے مختص کیے ہوئے تھے جہاں جا کر وہ اپنے معبود دیکھتے تھے ۔
یوں لگتا تھا کہ جیسے ان کا سارا وجود ہی صرف اس ایک مقصد کے لیے قائم ہے ...
اپنے معبودوں کے لیے جنون کی خاطر ...
دوسرے معبودوں کی عبادت ۔۔۔
اب صرف بنی اسرائیل کے سونے سے بنے ہوئے بچھڑے کی پوجا تک نہیں رہی ۔
غفلت ... کی کئی شکلیں ہیں ، کبھی یہ پتھروں کے بتوں کی شکل میں سامنے آتی ہے ، کبھی کھیل کود اور تفریح کی شکل میں ، کبھی سیاسی رہنماؤں کے بت تراش لیئے جاتے ہیں ، اور کبھی مذہبی پیشواؤں کو اپنا معبود مان لیا جاتا ہے ۔
آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے جہنم بنائی تو ۔۔۔
جبرائیلؑ کو اسے دیکھنے کے لیے بھیجا ، جب انہوں نے دیکھا کہ جہنم کا تو ایک حصہ دوسرے پر چڑھ چھڑھ کر جوش مار رہا ہے تو کہنے لگے کہ یا اللہ ، کون بدبخت اس میں داخل ہونا چاہے گا ؟
اور تب ... اس جہنم کو ہر اس چیز سے ڈھک دیا گیا جس کے جال میں انسان آ جاتا ہے ، لذتیں ، شہوتیں ...
اور اس وقت جب دوبارہ حضرت جبرائیلؑ نے جہنم کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ...
یا اللہ ، تیری عزت کی قسم ۔۔۔ مجھے تو لگتا ہے کہ اس سے کوئی بچ بھی نہیں سکے گا ۔ (جامع ترمذی 2560)
غفلت ۔۔۔ کی ہزاروں شکلیں ہیں ، اس کے جال سے بچیں ۔
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...