Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

17 تغريدة 4 قراءة Feb 24, 2023
اس وقت برٹش لائبریری میں ایک ڈاکیومنٹ موجود ہے ، اس ڈاکیومنٹ کا نام دستاویز نمبر 41178 ہے ، یہ دراصل ایک خط ہے جسے آج سے ایک سو پانچ سال پہلے لکھا گیا تھا ، جس ٹیبل پر یہ خط لکھا گیا تھا اس وقت وہ ٹیبل بھی تل ابیب یعنی اسرائیل کے میوزیم آف ڈایاسپورا میں رکھا ہوا ہے ، اس خط پر ...
تاریخ آج کے دن کی طرح یعنی 2 نومبر 1917ء ہے ، آپ نے شاید اس دستاویز کا نام بالفور ڈکلیئریشن کے طور پر سنا ہو گا ، آسان الفاظ میں اس پر لکھا ہے کہ
انگلینڈ کے بادشاہ یہود کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ وہ فلسطین جا کر وہاں اپنی قوم کے لیے ایک گھر بنائیں ۔
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ...
اس خط کی نیچے جس شخص کے دستخط موجود ہیں وہ اُس وقت انگلینڈ ، بلکہ مجھے برٹش امپائر لکھنا چاہیئے ، کے بڑے ناموں میں سے ایک نام تھا ۔
انگلینڈ کے پرائم منسٹر آرتھر بالفور ، جن کے متعلق beatrice webb جن کا نام آپ نے لندن سکول آف اکنامکس کے حوالے سے سنا ہو گا ، نے اپنی ڈائری میں ...
لکھا تھا کہ بالفور ایک بہترین دماغ اور جسم کے مالک ہیں لیکن انہیں اتنی بڑی سلطنت کے پرائم منسٹر کے طور پر دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ، لگتا ہے کہ وہ سیاست میں وقت گزارنے آئے ہیں ، انہیں ملکی معاملات سے جیسے دلچسپی ہی نہیں ہے ، ان کی دلچسپی تو میوزک ، لٹریچر ، فلاسفی اور مذاہب میں ہے ۔
لیکن آرتھر بالفور کی دلچسپی ایک اور چیز میں بھی تھی ، موت میں ، وہ موت کے ٹاپک کے ساتھ آبسیسڈ تھے ، بلکہ پہلی بڑی جنگ میں مرنے والے برٹش فوجیوں کی قبروں کے لیے انہوں نے اپنا ایک سپیشل ڈیزائن بھی بنا کہ بھیجا تھا جسے
’’غیر معمولی طور پر بدصورت‘‘ کہا گیا تھا ۔
یہ خط جس شخص کے ...
نام لکھا گیا تھا انکی فیملی انگلینڈ کی ایک امیر ترین بینکنگ فیملی تھی اور ان کا نام تھا walter rothschild ایک شرمیلے سے انسان جو اپنی شرم اور کمزور صحت کی وجہ سے سات سال کی عمر تک سکول بھی نہیں گئے تھے ۔
لیکن جیسے بالفور کو انگلینڈ کا وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی سیاست سے دلچسپی ...
نہیں تھی ویسے ہی والٹر کو امیر ترین انسان ہوتے ہوئے بھی پیسے سے دلچسپی نہیں تھی ، لیکن آرتھر ہی کی طرح ان کی بھی ایک بڑی خاص دلچسپی تھی
موت کے ٹاپک کے ساتھ ان کا obsession ۔
انہوں نے انڈیااور برازیل کے جنگلات کا سفر کر کہ تین لاکھ پرندوں کی skins ، بائیس لاکھ تتلیوں کے ...
کیمیکل لگے مردہ جسم اور ہزاروں چلنے اور رینگنے والے جانوروں و مچھلیوں کے کیمیکل لگا کر محفوظ کیے جسم رکھے ہوئے تھے ۔
یہ دنیا میں کسی بھی پرائیویٹ کولیکٹر کے پاس موجود سب سے بڑی کولیکشن تھی جو اتنی بڑی تھی کہ بعد میں اسے نیچرل ہسٹری میوزیم ہی سنبھال سکا تھا ۔
جانوروں اور ...
موت سے آبسیسڈ ایک شخص جو ایک مرتبہ صرف اس لیے اپنے زیبرے لے کر انگلینڈ کی ملکہ کے محل پہنچ گیا تاکہ اسے بتا سکے کہ
ہاں ، زیبروں کو پالتو بنایا جا سکتا ہے ۔
تو پھر کیا وجہ کہ دو ایسے لوگ جنہیں نہ پیسے سے دلچسپی تھی اور نہ سیاست سے ، ان کے درمیان ایک ایسے خط کا تبادلہ ہوا جو ...
صرف اور صرف سیاسی نیچر کا تھا ؟
میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اس دنیا میں کچھ بھی رینڈم نہیں ہوتا ، میرے اگلے پراجیکٹ میں آپ دیکھیں گے کہ کس طرح سپین میں ہونے والی ایک چھوٹی سی بات نے انڈیا اور پاکستان بلکہ دنیا بھر کے سمندروں کی تاریخ کو بدل دیا تھا ۔
ان دونوں اشخاص کے درمیان بھی ...
اس خط کا ایکسچینج ہونا رینڈم نہیں تھا کوئی حادثہ نہیں تھا اور اگر آپ میری طرح ان واقعات کو دیکھیں تو آپکو ایک بہت واضح پیٹرن نظر آئے گا ۔
یہ دونوں لوگ ، موت کے ٹاپک سے آبسیسڈ ہونے کے ساتھ ایک بہت ہی ایلیٹ اور انٹیلیکچوئل سوشل گروپ the souls کے ممبرز بھی تھے ، یہ گروپ کیسا تھا ؟
اس کے ایک ممبر wilfrid scawen نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا کہ
مصر سے مایوس ہونے کے بعد مجھے یہ گروپ ملا جو ذہین ترین مردوں اور خوبصورت ترین عورتوں کا بنا ہوا ہے ، یہ لوگ اپنے آپ کو the souls یعنی روحیں کہتے ہیں ، لندن میں ابھی تک مجھے اس سے حیرت انگیز اور غیر معمولی گروپ نہیں ..
ملا ، یہ لوگ لذتوں کو پسند کرتے ہیں لیکن یہ لذتیں انتہائی غیر معمولی اقسام کی ہیں ۔
بالفور کی سیاست میں ہوتے ہوئے بھی سیاست سے غیر دلچسپی اور موت کے ٹاپک سے آبسیشن ، لارڈ rothschild کی اپنی بزنس امپائر ہوتے ہوئے بھی پیسے سے غیر دلچسپی اور موت سے آبسیسشن ، اورپھر ان دونوں کی ...
ایک ایلیٹ گروپ the souls سے وابستگی ، ایک ایسا گروپ جس کے متعلق ولفریڈ کی رائے میں آپ کو بتا چکا ہوں ۔
اگر آپ دو جمع دو چار کر لیں تو آپ کو بہت کچھ سمجھ آ جائے گا ۔
ولفریڈ کا مصر سے مایوسی کو مینشن کرنا ، the souls کے خوبصورت ترین اور ذہین ترین مردوں اور عورتوں کا خود کو ...
روحیں کہہ کر بلانا ، ان کا خود کو ایسی لذتوں میں ملوث کرنا جو ولفریڈ کے الفاظ کے مطابق ایک superior kind کی ہیں اور ان لوگوں کے درمیان ... ایک ایسے خط کا ایکسچینج ہونا جس کا دنیا کے تین بڑے مذاہب اور سیاست سے ڈائریکٹ تعلق تھا ؟
ایک سو پانچ سال پہلے ہوئے اس فیصلے کے پیچھے ...
پراسرار لوگوں اور چھپے ہوئے رازوں کی تہہ کے اوپر تہہ چڑھی ہوئی ہے جنہیں میں کسی دن ڈیٹیلز کے ساتھ بتاؤں گا لیکن وقت ہو تو آپ اس خط کو ضرور پڑھیئے گا جس کی تصویر میں نے شروع ہی میں اٹیچ کی تھی اور آپ کے ذہن میں مشکوٰۃ شریف کی وہ حدیث نبوی ﷺ آئے گی کہ ...
عنقریب دنیا کے گمراہ لوگ تمہارے خلاف دوسروں کو ایسے بلائیں گے کہ جیسے کھانے والے لوگ کھانے کے برتن کی طرف ایک دوسرے کو دعوت دے رہے ہوتے ہیں ۔
(مشکوٰۃ 5369)
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...