Muddassar Rashid
Muddassar Rashid

@Muddassar04

32 تغريدة 147 قراءة Oct 24, 2022
اسم اعظم کیا ہے ؟
ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب
بسم اللہ حامدا و مصلیا
ایک عزیز کے اس مطالبہ پر کہ اسم اعظم سے متعلق تمام اقوال یکجا مل جائیں یہ تحریر لکھی۔
اسم اعظم کے بارے میں علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کا ایک رسالہ الدر المنظم فی الاسم الاعظم دستیاب ہے جس میں 👇
انہوں نے اسم اعظم سے متعلق تمام اقوال کا استیعاب کیا ہے۔ اسی رسالہ سے تمام اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔
1. اسم اعظم کا کوئی وجود نہیں ہے بایں معنی کہ اللہ تعالیٰ کے تمام ہی اسماء عظیم ہیں ایک نام کو دوسرے پر فضیلت دینی جائز نہیں ہے۔ یہ قول ابو جعفر طبری، ابوالحسن اشعری، 👇
ابو حاتم ابن حبان اور قاضی ابوبکر باقلانی رحمہم اللہ کا ہے … اسی جیسا قول امام مالک رحمہ اللہ کا ہے۔ ان حضرات کے نزدیک جن روایتوں میں اسم اعظم کا ذکر آیا ہے، ان میں اعظم سے مراد عظیم ہے۔ ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ روایتو ں میں وارد اعظمیت سے مراد زائد ثواب ہے، یعنی 👇
ان کلمات کے ساتھ دعا کرنے میں زیادہ ثواب ہے۔
2. اسم اعظم کونسا ہے ؟ اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اس کا علم نہیں دیا۔
3. یہ ’’ہو‘‘ ہے امام فخر الدین رحمہ اللہ نے یہ قول بعض اہل کشف کا نقل کیا ہے۔👇
4. یہ ’’اللہ‘‘ ہے کیونکہ ایک تو اس کا کسی دوسرے کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا۔ دوسرے تمام اسمائے حسنیٰ میں یہ اسم اصل ہے۔ اسی وجہ سے تمام اسمائے حسنیٰ کی اضافت و نسبت اسم ’’اللہ‘‘ کی طرف کی جاتی ہے۔ ابن ابی حاتم کی تفسیر میں جابربن عبداللہ بن زید کا قول منقول ہے کہ 👇
اللہ کا اسم اعظم ’’اللہ ‘‘ ہے کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہُوَاللّٰہُ الَّذِیْ لَآاِلٰہَ اِلَّاھُوَ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ ھُوَالرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۔
(i) ابن ابی لدنیا کتاب الدعاء میں شعبی رحمہ اللہ کا قول 👇نقل کرتے ہیں کہ
اللہ کا اسم اعظم ’’یا اللہ‘‘ ہے۔
5. یہ ’’اللّٰہ الرحمن الرحیم‘‘ ہے۔ مستدرک حاکم میں ہے کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بِسم اللّٰہ الرحمن الرحیم کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اس کے اور 👇
اللہ کے اسم اکبر (اعظم) کے درمیان اتنا قرب ہے جتنا کہ آنکھ کی سیاہی اور سفیدی کے درمیان ہے۔
(i) دیلمی کی مسند فردوس میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً نقل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم سورہ حشر کی آخری
چھ آیتوں میں ہے۔👇
6. یہ ’’ الرحمٰن الرحیم الحی القیوم‘‘ ہے۔ ترمذی وغیرہ میں اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے  (ایک)  وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لَآإلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ اور (دوسری) سورہ آل عمران کی
پہلی آیت اللّٰہ لا إلہ الا ھو الحی القیوم۔
7. یہ ’’الحی القیوم‘‘ ہے۔ ابن ماجہ اور حاکم نے ابو امامہ ؓ کی مرفوع حدیث نقل کی کہ (رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا) اسم اعظم تین سورتوں میں ہے۔ بقرہ میں آل عمران میں اور طہٰ میں۔
ابوامامہ ؓ سے نقل کرنے والے راوی قاسم کہتے ہیں کہ 👇
میں نے اسم اعظم کو ان تین سورتوں میں تلاش کیا تو میں نے پہچانا کہ یہ ’’الحی القیوم‘‘ ہے۔
8. ’’ اَلْحَنَّانُ الْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ذُوْالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ‘‘ ہے۔ احمد، ابوداؤد، ابن حبان اور حاکم نے حضرت انس ؓ سے حدیث نقل کی کہ 👇
وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا۔ پھر (نماز کے بعد) اس نے دعا کی اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَسْئَلُکَ بِاَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لَآ إِلٰہَ اِلّآ اَنْتَ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَاذَا الْجَلَاَلِ وَالْإِکْرَامِ یَاحَیُّ 👇
یَا قَیُّوْمُ تونبی ﷺ نے فرمایا انہوں نے اللہ سے اس کے اس عظیم نام کے ساتھ دعا کی ہے۔ جب اس کے ساتھ اللہ سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا کو قبول فرماتے ہیں اور جب اس کے ساتھ سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ہیں۔
👇
9. یہ ’’بَدِیْعُ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَ رْضِ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ‘‘ ہے۔ ابو یعلیٰ نے سری بن یحیی کے واسطے سے بنوطئی کے ایک قابل تعریف شخص کی حکایت نقل کی کہ میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا رہتا تھا کہ مجھے اسم اعظم دکھا دیں تو میں نے آسمان میں ستاروں پر یہ لکھا ہوا دیکھا 👇
’’یا بدیع السمٰوات والارض یا ذالجلال والاکرام‘‘۔
10. ’’ذوالجلال والاکرام‘‘ ترمذی میں معاذؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو یا ذا الجلال و الاکرام کہتے سنا تو فرمایا تمہاری دعا قبول ہوئی لہٰذا مانگو۔
👇
11. اَللّٰہُ لَآ إِلٰہَ اِلَّا ھُوَا الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا أَحَدٌ‘‘۔
ابودائود، ترمذی، ابن حبان اور حاکم میں بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو یوں دعا مانگتے سنا 👇
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِاَنِّیْ أَشْھَدُ أَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ لآ إِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ تو آپ نے فرمایا تم نے اللہ سے اس نام کے ساتھ سوال کیا ہے کہ 👇
جب اللہ سے اس کے ساتھ سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ہیں اور جب اس کے ساتھ دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا قبول فرماتے ہیں۔ ابودائود میں میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں تم نے اللہ سے اس کے اسم اعظم کے ساتھ سوال کیا۔👇
12. ’’رَبِّ رَبِّ‘‘۔ حاکم نے ابو الدردا اور ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا کہ اللہ کا اسمِ اعظمؒ ’’رَبِّ رَبِّ‘‘ ہے۔
ابن ابی الدنیا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے موفوعاً اور موقوفاً نقل کیا کہ جب بندہ یا رَبّ رَبّ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے بندے میں موجود ہوں، 👇
توں سوال کر تجھے عطا کیا جائے گا۔
13. ’’مالک الملک‘‘۔ طبرانی نے اپنی معجم کبیر میں سند ضعیف کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کا وہ اسم اعظم کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہیں 👇
آل عمران کی اس آیت میں ہے ’’قُلِ اللّٰھُمَّ مالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ … وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ‘‘ تک۔
14. ’’حضرت یونس علیہ السلام کی دعا‘‘۔ ابن ابی حاتم نے کثیر بن معبد کا قول نقل کیا کہ میں نے 👇
حسن بصری رحمہ اللہ سے اللہ کے اسم اعظم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے، یعنی مچھلی والے کی دعا لَآ إلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔
حاکم نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے مرفوعاً نقل کیا کہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) 👇
کیا میں اللہ کے اسم اعظم یعنی یونس علیہ السلام کی دعا کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں۔ ایک شخص نے پوچھا کیا وہ خاص یونس علیہ السلام کے لئے تھی، تو آپ نے فرمایا کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا 👇
وَنَجَّیْنَاہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ۔ (یعنی ہم نے ان کو غم سے نجات دی اور ایسے ہی ہم تمام مومنوں کو نجات دیتے ہیں)
15. ’’کلمہ توحید‘‘ یہ قول قاضی عیاضؒ نے نقل کیا ہے۔
16. زین العابدین رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کو اسم اعظم سکھا دیں تو👇
خواب میں دیکھا کہ اسم اعظم یہ ہے۔ ’’اللّٰہ اللّٰہ اللّٰہ الذی لَآإِلٰہَ اِلَّا ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ‘‘
17. یہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں مخفی ہے۔👇
18. یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہر وہ نام ہے کہ جس کے ساتھ بندہ اپنے رب سے پورے استغراق کے ساتھ دعا کرے کہ اس حالت میں کسی اور کی طرف خیال نہ ہو کیونکہ جو اللہ تعالیٰ کو اس حالت میں پکارے تو اس کی دعا قبول ہونے کے قریب ہوتی ہے۔
👇
(i) ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں نقل کیا کہ ایک شخص نے بایزید بسطامیؒ سے اسم اعظم کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا اس کی کوئی متعین تعریف نہیں ہے، یہ تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے لئے تمہارے دل کا خالی ہونا ہے … الخ۔
👇
(i i) ابو نعیم نے ابو سلیمان دارانی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا کہ میں نے بعض مشائخ سے اللہ کے اسمِ اعظم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کیا تمہیں اپنے قلب کی معرفت حاصل ہے میں نے جواب دیا کہ جی ہاں، تو انہوں نے کہا کہ جب تم اپنے دل کو دیکھو کہ وہ (پوری 👇طرح) متوجہ ہے اور
نرم ہے تو اللہ سے اپنی حاجت مانگو۔ یہی (کیفیت) اللہ کا اسم اعظم ہے۔
(i i i) ابو نعیم نے نقل کیا کہ ایک شخص نے ابن ربیع سائح رحمہ اللہ سے کہا کہ مجھے اسم اعظم سکھا دیجئے، تو انہوں نے فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کی اطاعت کرو وہ تمہیں ہر چیز عطا کرے گا۔‘‘
👇
19. ’’ اَللّٰھم‘‘ زرکشی نے اس کو جمع الجوامع کی شرح میں نقل کیا ہے اور یہ دلیل لائے کہ اللہ کا لفظ ذات پر دلالت کرتا ہے اور میم ننانوے صفات پر دلالت کرتی ہے۔ اسی لئے حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اَللّٰھم مجمع دعا ہے۔
👇
20. الٓمٓ۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ کا قول نقل کیا کہ الٓمٓ اللہ کا اسم اعظم ہے۔
@threadreaderapp pl compile and unroll

جاري تحميل الاقتراحات...