Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

18 تغريدة 63 قراءة Oct 21, 2022
آنے والے وقت میں آپ یورپ اور مغربی دنیا میں ایک نعرہ سنیں گے deus vult (دیوس وولٹ) یہ لاطین زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے
’’یہی خدا کی مرضی ہے‘‘
اور اس نعرے کے اوپر دنیا کے دو سب سے بڑے مذاہب میں ایک فیصلہ کن لڑائی ہونی ہے ۔
یہ لڑائی ایک بار پہلے بھی ہو چکی ہے ، اس کے ...
کردار ماضی میں بھی بہت پراسرار تھے اور مستقبل میں بھی بہت پراسرار ہونے ہیں اور اس نعرے کی ابتداء آج سے ایک ہزار سال پہلے آسمان میں ایک ساتھ نظر آنے والے چار واقعات سے ہوئی تھی ۔
سنہ 1095ء کا یورپ جسے خشک سالی ، قحط اور بیماریوں نے جکڑا ہوا تھا ، اس سال کے شروع میں ...
فرانس کے آسمان میں چار نظارے ایک ساتھ دیکھے گئے
شہاب ثاقب کی بارش یعنی meteor shower ، ڈارک گرین ارورا لائٹس ، چاند گرہن اور ایک دمدار ستارہ ۔
گیارہویں صدی کی ایک لاطین کتاب gesta francorum میں ایک راہب نے اپنی آنکھوں دیکھی ایک گواہی لکھی ہے کہ ...
’’فرانس کے ایک چرچ ...
میں پوپ اربن نے آسمان کی طرف دیکھا اور بائبل کے یہ الفاظ کہے ...
’’خدا کہتا ہے کہ جب میرے نام پر دو لوگ جمع ہوں تو ان کے درمیان تیسرا میں خود ہوتا ہوں ، وقت آ گیا ہے کہ ہر عیسائی چاہے وہ غریب ہو یا امیر اسے اپنے بھائی کی مدد کے لیے یروشلم جانا چاہیئے کیوں کہ جب ...
خدا کے دشمنوں (مسلمانوں) پر تلوار سے حملہ کیا جائے تو اس وقت خدا کے ہر سپاہی کے مونہہ سے ایک ہی نعرہ نکلے گا ...
یہی خدا کی مرضی ہے ، یہی خدا کی مرضی ہے ... deus vult ...‘‘
پوپ اربن کو اپنے اس نعرے کے بدلے چند ہزار لوگوں کی توجہ مل جانے کی امید تھی لیکن اس نعرے کا ری ایکشن ...
پوپ اربن کے اندازے سے کہیں زیادہ تھا ۔
عورتوں اور بچوں کو ملا کر یروشلم کو مسلمانوں سے واپس لینے کے لیے جانے والے یہ لوگ ایک لاکھ سے زیادہ کی تعداد میں تھے جن کے پاس ہتھیار بھی تھے اور اس طرح شروع ہوا تاریخ میں پہلی کروسیڈ کا prelude ... جسے میں اور آپ ...
صلیبی جنگ بھی کہتے ہیں اور اس مارچ کو لیڈ کرنے والا پراسرار سا شخص peter the hermit تھا ۔ یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پوپ اربن کے خیالات کی انجینئرنگ کے پیچھے دراصل peter the hermit تھا ۔
اس شخص کی زندگی اور موت کے متعلق ہمیں ڈاکیومنٹ ہوا وا کچھ زیادہ نہیں ملتا اور جو ...
انفارمیشن موجود ہے وہ محض مختلف کہے سنے اکاؤنٹس سے ہم تک پہنچتی ہے ۔
ان ہی روایتی باتوں میں سے ایک بات یہ ہے کہ اس نے سنہ 1095ء سے پہلے یروشلم کا ایک سفر کیا تھا اور یورپ واپس آ کر فرانس اور بیلجیئم میں بہت aggressive تبلیغ کی ، لوگوں کو بھڑکایا کہ ترک ، عیسائیوں کے ساتھ ...
بدترین سلوک کرتے ہیں ، وہ حیران کن طور پر ایک eloquent شخص تھا ، بولنے کی مہارت رکھنے والا اور لوگوں سے اپنی بات منوا لینا اس کے لیے بہت آسان ہوتا تھا ۔
اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے یروشلم میں عیسیٰؑ کو دیکھا ہے جنہوں نے اسے مسلمانوں سے لڑنے یعنی کروسیڈز کا حکم دیا ہے ...
لیکن میں اس شخص کو پراسرار کیوں مانتا ہوں ؟ کیوں کہ peter the hermit فرانس کا رہنے والا تھا ، اس کا فرنچ نام pierre l’ermite تھا ، آج تک یہ کلیئر نہیں ہو سکا کہ hermit اسکا نام تھا یا اسکا ٹائٹل کیوں کہ hermit کے معنی ہیں وہ ، جو اکیلا رہتا ہو ۔
یہ شخص اپنے سادہ کپڑوں اور ...
ایک گدھے پر سواری کرنے کی وجہ سے مشہور تھا ، سادہ لوح ، زبان اور لوگوں کی نفسیات کا ماہر شخص جو ایک گدھے پر سواری کرنے کے لیے مشہور ہو ، اور آپ میں سے جو لوگ گدھے کی اہمیت کو جانتے ہیں ، وہ سمجھ جائیں گے کہ میں کس ریفرنس کی طرف اشارہ کر رہا ہوں ۔
فرانس سے یروشلم کے لیے نکلنے ...
والی اس مارچ میں زیادہ تر لوگ ان پڑھ تھے جنہیں کوئی آئیڈیا نہیں تھا کہ وہ کہاں اور کیوں جا رہے ہیں ، وہ راستے میں آنے والےہر شہر کو یروشلم سمجھتے ہوئے اسے تباہ کر دیتے اور اس طرح شروع ہوا یہودیوں کا ایک بار پھر سے قتل عام جس میں ہزاروں یہودی قتل ہوئے ، انہوں نے خود کشیاں ...
کر لیں یا پھر زبردستی عیسائی بنا دیئے گئے یہاں تک کہ جب یہ کروسیڈرز بلغراد پہنچے تو بلغراد کا کمانڈر گھبرا گیا کیوں کہ اسے کوئی آرڈرز نہیں ملے تھے کہ اب کیا کرنا ہے لہٰذا اس نے کروسیڈرز کو شہر میں داخل ہونے سے روک دیا جس پر انہوں نے بلغراد کو بھی تباہ کر دیا تھا اور اسی طرح ...
شور و غل کے ساتھ جب یہ اناطولیہ پہنچے تو وہاں پر ترک ان کے انتظار میں بیٹھے تھے جہاں سے انہوں نے ان کروسیڈرز پر تیروں کی بارش کر دی ۔
لیکن ایک بات میں ضرور مینشن کروں گا جو database of crusaders to holy land میں لکھی ہوئی ہے کہ مسلمانوں نے زیادہ تر کروسیڈرز کو مار دیا تھا ...
لیکن عورتوں ، بچوں اور جنہوں نے سرنڈر کر دیا تھا ، انہیں چھوڑ بھی دیا تھا ۔
لیکن اس دوران ان کا پراسرار کردار peter the hermit انہیں درمیان میں چھوڑ کر واپس یورپ چلا گیا تھا ۔
البتہ اس کا بنایا ہوا نعرہ ... deus vult ... زندہ رہا ، یہ سب پہلی کروسیڈ کا prelude تھا جو ٹھیک ...
آج کے دن 21 اکتوبر 1096ء کو ہوا تھا ، جسے مسلمان پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن اس کے ٹھیک ایک سال بعد ایک مرتبہ پھر سے 21 اکتوبر 1097ء کو یورپ سے deus vult کا نعرہ گونجا اور باقاعدہ پہلی کروسیڈکا آغاز ہوا جس کی سپورٹ میں پھر پورا یورپ اور چرچ کھڑے تھے اور اس بار ...
یروشلم کے لیے نکلنے والے مارچ میں انپڑھ کسان نہیں بلکہ یورپ کے بہترین لڑاکے تھے جنہوں نے آخر آج کے ترک شہر انطاکیہ کامحاصرہ کر لیا ۔
ان واقعات کے بعد آنے والے پانچ سو سالوں میں deus vult کئی مرتبہ گونج چکا ہے ۔
آپ نے اکثر right wing عیسائی پلیٹ فارمز پر ایک بات پڑھی ہو گی ...
تمہارا جہاد ، ہمارا کروسیڈ ، deus vult
اس نعرے نے مستقبل میں ایک بار پھر سے گونجنا ہے اور ایک بار پھر سے اس نعرے والوں کی سربراہی ایک پراسرار شخص نے کرنی ہے جواپنے گدھے کی وجہ سے مشہور ہو گا اور جس کے متعلق میں ڈیٹیلز کے ساتھ کسی اور تھریڈ میں لکھوں گا ۔
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...