Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

14 تغريدة 7 قراءة Oct 17, 2022
کچھ دن پہلے میں نے battle of tours کے متعلق ایک تھریڈ لکھا تھا جس میں مسلمان فرانس اور جرمنی کی بازی ہار گئے تھے ۔
اس پر کچھ نسواری رنگ کے انگریزوں کو ایک مروڑ اٹھا تھا کہ اگر یورپ مسلمانوں کے ہاتھ آ جاتا تو مسلمانوں نے وہاں بھی شیعہ سنی کی تقسیم کر کہ ...
یورپ کو تاریک کر دینا تھا ۔ میں آپ کو ایک دلچسپ بات بتاؤں ؟
یہ لڑائی اکتوبر 732ء میں ہوئی تھی اور عجیب اتفاق ہے کہ اس کے ساڑھے گیارہ سو سال بعد اسی یورپ سے آئے اصلی انگریزوں نے اکتوبر 1871ء کو انڈیا میں ایک بدصورت قانون بنایا تھا
Criminal Tribes Act 1871
اور میں آپ کو ...
اس قانون کے پیش کرنے والے انگریز t.v. stephens کے ایگزیکٹ الفاظ بتاؤں ؟
’’انسان کے شروعاتی زمانے سے لوگ اپنے آباؤ اجداد کے پیشے اختیار کرتے آئے ہیں ، بڑھئی کا بیٹا بڑھئی بن جاتا ہے اور چرواہے کا بیٹا چرواہا تو یقیناً ایسا بھی ہوتا ہوگا کہ مجرم کا بیٹا مجرم بن جاتا ہو گا‘‘ ...
اور اس طرح آغاز ہوا ایک بدترین دور کا جس میں انگریز سرکار نے اپنی ناپسندیدہ کمیونٹیز یا برادریوں کی ایک لسٹ بنائی اور انہیں ... ’’guilty by birth‘‘ ... یعنی ’’پیدائشی مجرم‘‘ کا ٹائٹل دے کر شہروں اور گاؤں سے باہر مخصوص علاقوں تک محدود کرنا شروع کر دیا ، بچوں کو ماں باپ سے ...
علیحدہ کر کہ بغیر کسی مقدمے یا جرم کے penal colonies میں رکھا جاتا اور اگر برادری کا کوئی شخص انگریز کے بتائے ہوئے علاقے سے باہر قدم رکھتا تو پوری برادری پر اس قانون کے تحت مقدمہ ہو جاتا ۔
سونے پر سہاگہ کہ کوئی کمیونٹی اس قانون کے خلاف اپیل نہیں کر سکتی تھی اورجب وہ لوگ ...
عام انسانوں کی طرح نوکری یا کام ڈھونڈنے کی کوشش کرتے تو کوئی انہیں نوکری نہیں دیتا تھا کیوں کہ برٹش حکومت نے اخباروں کے ذریعے عوام کو پوری طرح سے اپنی طرف کر لیا تھا ۔
اور اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ یہ کالونیز بہت پیاری سوسائٹیز تھیں تومیں آپ کی یہ غلط فہمی بھی دور کر دیتا ہوں ...
ان کالونیز میں ایک کالونی تھی ’’عزیز نگر سیٹلمنٹ‘‘ جہاں کھانے پینے کا سامان بھی نہیں ہوتا تھا اور اس وقت کے ایک سوشل ایکٹیوسٹ مسٹر جمبو لنگھم اس کالونی میں کھانے پینے کی چیزیں پہنچانے کی کوششیں کرتے رہتے تھے ۔
یہ کون لوگ یا برادریاں تھے ؟ میں آپ کو وہ بھی بتا دیتا ہوں ...
یہ غریب لوگ تھے ، کم درجے کے ، پہاڑی یا خانہ بدوش لوگ جو بقول مؤرخ david arnold کے ...
’’وہ لوگ دیکھنے میں انیسویں صدی کے جدید یورپین سٹینڈرڈز کے مطابق نہیں لگتے تھے ۔‘‘
ان خاص برادریوں کے علاوہ خواجہ سراء کمیونٹی بھی اس کالے قانون کی لپیٹ میں آئی کیوں کہ وہ لوگ اکثر ...
یتیم بچوں کو گود لے لیتے تھے لیکن اس قانون کے تحت وہ بچے ان سے لے لیے جاتے اور انہیں جرمانے اور سزائیں دے دی جاتیں ۔
غریب اور سوسائٹی کے دھتکارے ہوئے ان لوگوں کی دو نسلیں اس کالے قانون کا شکار رہیں اور تقریباً سو سال بعد جواہر لال نہرو نے اس قانون کے ختم کرنے پر کام کیا لیکن ..
اس ایک صدی میں پبلک کی ان لوگوں کے خلاف جو نفسیات ڈیولپ ہو چکی تھی وہ باقی رہی ، بلکہ 2007 میں یونائیٹڈ نیشنز نے انڈیا کوایک خط لکھا تھا اور اس قانون کی باقیات کے خلاف ایکشن لینے کا کہتے ہوئے لکھا تھا کہ
’’تمام انسان برابر پیدا ہوتے ہیں ، کوئی کسی سے برتر یا کم تر نہیں ہوتا‘‘ ..
آپ کو پتہ ہے کہ میرا ٹویٹر ہینڈل ’’muslim by choice‘‘ کیوں ہے ؟
کیوں کہ میں نے اسلام اور ماڈرن ایجوکیشن کو ایک ساتھ سٹڈی کیا ہے ، اور اپنی سٹڈی کے دوران میری نظر سے ایک خطبہ گزرا تھا ..
’’اے لوگو ! تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے ، خبردار رہنا ! کسی عربی کو ...
کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر ، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر ، کوئی فضیلت نہیں ، سوائے تقویٰ کے ۔ اے لوگو ! یہ مہینہ بڑی حرمت والا ہے ، یہ شہر بڑی حرمت والا ہے ، اور تمہاری عزتیں ایکدوسرے کے لیے ویسے ہی حرمت والی ہیں جیسی یہ مہینہ اور یہ شہر ...
اے لوگو ، دیکھو ! جو یہاں موجود ہیں ، وہ یہ باتیں ان تک بھی پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں ۔‘‘ (محمد رسول اللہ ﷺ فی الخطبہ حجۃ الوداع مسند احمد 4568)
اپنے ریسرچ ورک کے بعد یہ بات میں فخریہ لکھ رہا ہوں کہ میں اس خطبے کو دینے والی ...
اس ہستی کا فالوور ہوں جس نے یونائیٹڈ نیشنز کے خطوط سے صدیوں پہلے انسانیت کا بہترین چارٹر دے دیا تھا ... کہ ...
تمام انسان برابر ہیں ، کوئی کسی سے برتر نہیں ،سب لوگ پیدائشی طور پر آزاد ہیں ، کوئی شخص کسی کا غلام نہیں
اور یہی بات مجھے مسلم بائے چوائس بناتی ہے ۔
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...