Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

5 تغريدة 5 قراءة Feb 24, 2023
اکتوبر 9 ، سنہ 1604 ء
آج سے ٹھیک 418 سال پہلے ایک بہت دلچسپ نظارہ ریکارڈ کیا گیا تھا
یہ نظارہ یا آبزرویشن چائینہ کی سولہویں صدی کی ایک دستاویز میں بھی لکھا ہوا ہے
سوئٹزر لینڈ کی abbey of st. gall کے ریکارڈ میں بھی
اور اٹلی کی سولہویں صدی کی کتاب discorso di lodovico میں بھی
نیچے لکھی ہوئی عبارت کے اندر میں آپ کو اٹلی کے ایک سکالر lodovico ، مصری سکالر ابن رضوان اور سوئٹزرلینڈ کے ایک راہب st. Gall کی آبزرویشنز بتا رہا ہوں ۔
’’آسمان میں ایک بہت بڑی اور بہت خوبصورت شئے نظر آ رہی ہے ، تقریباً چاند جتنی بڑی ، آسمان اسکی روشنی سے چمک رہا ہے اور اسکی ...
روشنی اتنی ہے کہ زمین پر ہمارے سائے بھی واضح پڑ رہے ہیں ، تین ہفتے سے یہ منظر ہمیں دن کے وقت بھی دکھائی دے رہا ہے اور رات کے وقت یہ آسمان کی سب سے چمکدار شئے بن جاتا ہے ، سب لوگ اسے اپنا مہمان ستارہ کہتے ہیں ۔‘‘
ان لوگوں نے دراصل ایک ستارہ پھٹتے ہوئے دیکھا تھا جسے آج ہم ...
سوپر نووا کہتے ہیں ... ویسے تو انسانی آنکھ نے یہ منظر آخری مرتبہ صرف تبھی دیکھا تھا لیکن عنقریب ... ایسا ہی ایک نظارہ ہم ایک بار پھر سے دیکھنے والے ہیں ۔
دائرے میں موجود یہ ستارہ بیٹلجوس ، پاکستان میں بہت آسانی سے نظر آتا ہے اور آنے والے کسی بھی سال ، کسی بھی دن ، کسی بھی وقت ..
ہم اسے بالکل ویسے ہی پھٹتے ہوئے دیکھیں گے ، جیسا کہ سولہویں صدی کے چائینیز ، عرب اور یورپین لوگوں نے دیکھا تھا ، لیکن ایک بات ہے ...
کہ ان لوگوں کے مقابلے میں ہمارا یہ نظارہ ، کئی گنا بڑا اور کئی گنا خوبصورت ہو گا کیوں کہ بیٹلجوس ، ہم سے تینتیس گنا زیادہ قریب ہے :)
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...