『KINGMAKER』
『KINGMAKER』

@restizwell

27 تغريدة 3 قراءة Sep 14, 2022
تھریڈ 🤷‍♂️
نواز شریف کیوں قابل قبول نہیں ہے !
اس کہانی کو سمجھنے کے لیے تھوڑا پیچھے جانا پڑۓ گا 9/11 کے بعد پاکستان نے ڈالروں کا مُنہ دیکھ لیا تھا پراپرٹی کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئی تھیں خاص طور پر ڈیفینس میں پراپرٹی ڈیلروں کی موجیں لگنا شروع ہو گئیں تھیں
اور 2003/4 پراپرٹی کا پیک دور تھا ڈیلر حضرات کروڑوں پتی ہوگئے تھے جن کو بولنے لکھنے کی تمیز نہیں تھی وہ ڈیفینس میں اب “پائن” ہوگے تھے ان سب کی کہانیاں لکھنے کی ضرورت نہیں ہے آپ میں سے کافی لوگوں کو معلوم ہوں گی اور جن کو معلوم نہیں ہے وہ بھئ سکون ہی کریں
اسی دوران چند ڈیلر حضرات نے “گوادر” کا چکر لگایا اور لوگوں کو کہنا شروع کیا کہ گوادر میں انویسٹ کریں بہت سستی زمینیں ہیں جیسے کہ ہزاروں روپے میں ایکڑ مل جاتا ہے کچھ لوگوں نے انویسٹ بھی کیا اور کچھ دیوانے کا خواب سمجھ کر ٹھٹھا اُڑاتے رہے کچھ کو فائدہ ہوا اور کچھ کو نقصان بھی ہوا
بہرحال آگے چلتے ہیں گوادر میں چائنہ اپنا کام شروع کرتا ہے ادھر ڈیلر حضرات اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں ٹائم گذر رہا ہے گوادر کی کوئی خبر کہیں نہیں ہے سب انڈر گراؤنڈ ورک جارئ ہے پپلز پارٹی کے دور تج گوادر کی خبر کسی میڈیا پر نہیں تھی سواۓ دہشت گردوں کے حملے کی یا کسی فوجی آپریشن کی
اس بعد صرف چُپ تھی میاں صاحب کی گورنمنٹ میں گوادر کو پھر آگ لگ گئی ہزاروں روپے ایکڑ والی زمینیں کروڑوں کی ہوگئیں ڈیلروں نے اربوں روپیہ کمایا ادھر چائنہ بھی اپنا کام تیزی سے جاری رکھے ہوا تھا میاں صاحب چونکہ بزنس مین ہیں اس لیے گوادر پر پوری توجہ رکھے ہوۓ تھے
چائنہ روس ترکی سے کاروباری معاہدے ہو رہے تھے دنیا گوادر میں اپنا انٹرسٹ شو کر رہی تھی اُدھر گوادر کے ڈسے ہوۓ انڈیا ایران اور دبئی انٹرنینشل سازشوں میں مصروف ہوگے کیونکہ گوادر پورٹ چلنے سے ان سب کی روٹیاں بند ہونے کا خطرہ موجود تھا اور ہے اسی لیے گیم پلان کی گئی
“میاں صاحب کو اقامہ نہیں گوادر لے کر بیٹھ گیا تھا” اس گیم پلان میں ہر قسم کی آپشن کو یوز کیا گیا وہ چاہے ختم نبوت کا ایشو ہو یا ممتاز قادری کی پھانسی چاہے قادیانی فیکٹر ہو یا دھرنے کا کنجر خانہ اوپر سے APS کا سانحہ ہوگیا آپ جہاں سے مرضی کان پکڑ لیں مسئلہ گوادر ہی تھا
اب آجائیں گوادر اور میاں صاحب کی طرف اس کے لیے پھر پیچھے چلتے ہیں میاں صاحب ایٹمی دھماکے انٹرنینشل دباؤ کے باوجود بھی کر دیتے ہیں اب وہ کس نے کیے کس نے کرواۓ ایسے بہت سارۓ قصے ہم پڑھتے رہتے ہیں اس کو چھوڑیں بات وقت کے وزیر اعظم کی تھی کہ اس نے دھماکے کیے ہیں اب سزا تو ملنی تھی
لہذا مشرف دور آگیا مشرف کی قسمت اچھی کہ 9/11 ہوگیا میاں صاحب کا ایشو پس پشت چلا گیا ڈالروں کی بہار آگئی اور کہانی شروع ہوگی جو کہ آپ اوپر پڑھ چکے ہیں بہرحال 2013 میں میاں صاحب نے سارے ملک کو چھوڑ کر گوادر کو مارکیٹ کرنا شروع کر دیا
ملک میں انویسٹمینٹ آنی شروع ہوئی عوام کو ریلیف مل رہا تھا کاروباری سرگرمیاں تیزی سے جارئ تھیں پھر دھرنا پارٹی کے ہنگامے اور چائنہ کے صدر کا دورہ وغیرہ وغیرہ سب آپ کے سامنے ہے اس بحث کو چھوڑ دیتے ہیں ملکی حالات ایک ٹریک پر چل رہے تھے اکانومی بہتر ہو رہی تھی
کہ اقامے نے ملک کی بینڈ بجا دی میاں صاحب کی نااہلی کیس اور پھر سزا اس کے بعد ن لیگ کو دیوار کے ساتھ لگانا سب اندرونی اور بیرونی سازش تھی اور اب تک چل رہی ہے کیونکہ اصل کہانی ہے گوادر جو کہ صرف ن لیگ ہی اس پراجیکٹ کو مکمل کر سکتی ہے اس لیے ن لیگ قابل قبول نہیں ہے
گوادر چلنے کا مطلب ہے پاکستان ترقی کی منزلوں کو چھو جاۓ گا وہ عیاشی پوری دنیا میں نہیں ہوگی جو گوادر میں ہونی تھی وہ ہوٹل کلب کاروباری سرگرمیاں جو دبئی میں نہیں ہونی تھیں ان کا مرکز ہونا تھا گوادر دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں نے اپنے ہیڈ آفس دبئی سے گوادر شفٹ کر لینے تھے
آپ کو پتا ہی نہیں ہے گوادر کس بلا کا نام ہے اور اس بلا کو قابو کرنے کے لیے سب سے ضروری تھا ن لیگ کو قابو کرنا کیونکہ پپلز پارٹی کا کوئی انٹرسٹ گوادر میں نہیں ہے ان کو کراچی سے ہی فرصت نہیں ہے یہیں آپ ایک بات اور سوچیں ملک ریاض نے ہر جگہ بحریہ بنایا گوادر میں نہیں بنایا
کیونکہ جو پیدا اسے کراچی میں مل رہی ہے وہ گوادر میں نہیں ملنی تھئ گوادر میں اس وقت جتنے بھی بڑے ڈیلر آپ کو ملیں گے وہ سب پنجابی ہیں ان کی اربوں کی انویسٹمینٹ وہاں موجود ہے اپنے گھر ہیں اپنے دفتر ہیں اور وہ ان حالات میں بھی وہاں اپنا کام کر رہے ہیں
خیر میاں صاحب کو گوادر کو بنانے اور سنوارنے کی سزا مل رہی ہے ان کے کیس ختم نہیں ہونے اور نہ سرکار میں آنے دیا جاۓ گا جب تک یہ مکمل طور یقین نہیں کر لیا جاۓ گا کہ گوادر انٹرنینشل خلائی مخلوق کے ہاتھ میں آگیا ہے اور اگر ان کی پہنچ ایٹمی اثاثوں تک ہوگئی ہے
ن لیگ اسی طرح دیوار کے ساتھ لگی رہے گی ان کو کوئی ریلیف نہیں ملنا ہے یہ موجودہ ن لیگ کی سرکار نہیں ہے شہباز شریف صاحب کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے اور وہ کیوں بنے اس کا جواب بڑۓ میاں صاحب ہی دیں گے
گوادر کی بڑی کہانیاں آپ نے سُنیں اور پڑھیں اور ابھی مزید آگے بھی سُننے کو ملیں گی اس میں ابھی اور بہت سارے کارڈز یوز ہونے ہیں وہ مذہبی ہوں سیاسی ہوں سماجی ہوں جو بھی ہوں اس کو نہیں چلنے دینا تو نہیں چلنے دینا چائنہ اپنا کام کر رہا ہے فائدہ بھی لے رہا ہے
پر اس کا فائدہ نہ پاکستان کو ہو رہا ہے اور پھل عوام کھا رہی ہے ہم مہنگائی کے بوجھ تلے دبی جا رہے ہیں معشیت برباد ہو رہی ہے ڈالر بے قابو ہے اور غریب بارہ فٹ زمین کے اندر دھنس گیا ہے کسی طرف کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے اوپر سے سیاسی حالات آپ کے سامنے ہیں
دوسری طرف سیلاب کی تباہی موجود ہے آپ کیسے ملک کو اوپر اُٹھائیں گے جب اندر باہر سے آپ کو مار پڑ رہی ہو اور ملک کے سیاستدان ہی ملک کو ڈبونے کے مشن پر ہوں جن میں خاں صاحب و ہمنوا قابل ذکر ہیں تو ترقی خاک ہوگی کونسے ادارے مضبوط ہوں گے یا آپ کریں گے
جب آپ بیرونی پریشر کو ہینڈل ہی نہیں کر سکتے تو اندرونی تو ویسے ہی اوقات سے باہر ہے لہذا بربادی کی طرف گامزن ہیں ایسی کونسی قوتیں ہیں جو نہیں چاہتی کہ پاکستان ترقئ کرۓ ؟ کس کو نہیں پتا سب کو پتا ہے اور جن کو ان طاقتوں کو مُنہ توڑ جواب دینا چاہیے
وہ خود انہی سازشوں کا حصہ ہیں اپنا بویا ہوا کاٹنے پر مجبور ہیں مگر کیا کریں گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس رہا ہے حل کسی کے پاس نہیں ہے اور جن کے پاس حل موجود ہے وہ قابل قبول نہیں ہیں لہذا مرنا عوام کے مقدر میں لکھا ہوا ہے اشرافیہ نے جتنا کما اور بنا لیا ہے
ان کی سات نسلوں کے لیے کافی ہے لہذا راوی چین ہی چین لکھتا ہے ہم نعرے مارتے رہے ہیں اور نعرے مارتے رہیں گے اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے ہیں
باقی رہ گئی میاں صاحب اور گوادر کی کہانی تو یہاں ختم کرتے ہیں کہ میاں صاحب نے اپنی کوشش کی کہ پاکستان کو ایک مقام دلوایا جاۓ دنیا کے سامنے ایک ماڈل پیش کیا جاۓ کاروباری راہیں کھولی جائیں سرکار بھی کماۓ عوام بھی کماۓ روزگار ملے مزدور کی حثیت اپ گریڈ ہو
لوگ اپنا لیونگ سٹینڈرڈ ہائی کریں اور رج کے کھائیں مگر بات وہی ہے اشرافیہ کو غلام لوگ پسند ہیں مرتے ہوۓ ایڑیاں رگڑتے ہوۓ وہ کیسے چاہتے کہ کوئی کمی ان کے سامنے سر اُٹھا کر جیے لہذا سزا ضروری ہے بھگت اب وہ بھی رہے ہیں
اور ہم بھئ مگر ہمارۓ پاس نہ ڈالر ہیں نہ جزیرے آخرئ اثاثہ چھوٹا موٹا گھر ہی بچا ہے وہ بھی بکنے کے دھانے پر ہے لہذا اصل کہانی گوادر ہے اور اسی کہانی کو جب آپ کھولنا شروع کریں گے تمام کردار آپ کے سامنے عیاں ہو جائیں گے
وہ چاہے اندرونی ہوں یا بیرونی ہر کردار اپنا کریکٹر بخوبی نبھاتے ہوۓ نظر آجاۓ گا فیصلہ آپ خود کر لیں کہ جینا کیسے ہے اور جینے کے لیے راستے کونسے ہیں
حسب معمول تھریڈ لمبی ہوگئی ہوگی اس کو اس بات کے ساتھ ختم کرتے ہیں اشرافیہ کبھی نہیں چاہے گی بلکہ انہوں نے کیا چاہنا ہے بیرونی طاقتیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ پاکستان کبھی ترقئ نہ کرۓ اور ان کے سامنے سر جھکا کر رکھے
جزاک اللّہ خیراً
کنگ میکر

جاري تحميل الاقتراحات...