25 تغريدة 27 قراءة Jun 26, 2022
🧵
زیرِ نظر تصویر پچھلے چند دنوں میں ٹویٹر پر بار بار آپکی نظروں سے گزری ہوگی۔ اور ساتھ ہی ساتھ چشمہ پہنے ہوئے ایک سیاہ فام نوجوان کی تصویر بھی آپ نے دیکھی ہوگی جسکی آنکھوں سے سنجیدگی اور ذہانت چھلک رہی ہے۔
یہ تھریڈ کانگو کے اِس پہلے جمہوری وزیراعظم پیٹرس لممبا پر لکھا گیا ہے
جیسے برصغیر برطانیہ کی، الجزائر فرانس کی اور لیبیا اٹلی کی کالونی تھی ویسے ہی وسطی افریقہ کا علاقہ بیلجئیم کی کالونی تھی جسے کانگو کا نام دیا گیا تھا۔
دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد استعماری قوتوں نے افریقہ اور ایشیا کے معاشی استحصال کیلئے جب اپنا طریقہِ واردات بدلنا شروع کیا
تو جہاں دیگر ممالک برائے نام آزاد ہوئے وہیں بیلجئیم نے بھی کانگو کو آزاد کر دیا۔ عام انتخابات ہوئے اور 34 سالہ پیٹرس لممبا کی جماعت نے پارلیمانی اکثریت حاصل کر لی۔
لممبا افریقہ کی یورپی استعمار سے "حقیقی آزادی" کے خواہاں تھے اور یورپ کے مقابلے کیلئے افریقی اتحاد کے داعی بھی تھے
جون 1960 میں اقتدار کی منتقلی کی تقریب کانگو کے دارلحکومت میں منعقد ہوئی جہاں بیلجئیم کے بادشاہ بوڈواں نے تقریر کرتے ہوئے کانگو میں بیلجئیم کے استعمار کو "civilising mission" کا نام دیا اور 1885 سے اِس "مقدس مشن" کا آغاز کرنے والے اپنے پیشرو لیوپالڈ دوئم کی مدح سرائی کی۔
جواب میں لممبا نے ایک معرکتہ الآرا تقریر کی جو شیڈول کا حصہ نہ تھی۔ اس دلیرانہ خطاب کو آج دنیا کانگو کی آزادی کی تقریر کے نام سے جانتی ہے جس میں لممبا نے تقریب میں موجود بیلجئم کی اشرافیہ کے سامنے یورپی استعمار کے مظالم گنوائے اور اس پر شدید ترین تنقید کی۔
یہ دبنگ تقریر ریڈیو کے ذریعے دنیا بھر میں لائیو نشر کی گئی۔
یہ ایک آزاد لیڈر کی تقریر تھی جو بیلجئیم اور پورے یورپ کی اشرافیہ پہ شدید ناگوار گزری۔ تقریب تھوڑی دیر کیلئے روک دی گئی۔ بوڈواں کمرے سے واک آؤٹ کرگیا جبکہ "اپنے لوگوں" نے لممبا سے کہا کہ "ہاتھ تھوڑا ہولا کرو سر جی"
آج تک کسی افریقی کی اتنی جرأت نہ ہوئی تھی کہ سفیدفام یورپی آقاؤں کے سامنے نظر بھی اُٹھا سکے جبکہ یہاں ایک 34 سالہ کل کا غلام بیلجئم کے بادشاہ بوڈواں کے سامنے کھڑا اُسکو آئینہ دکھا رہا تھا کہ تم اور تمہارے آبا (لیوپالڈ دوئم) کے ہاتھ لاکھوں افریقیوں کے خون سے رنگے ہیں۔
مغربی اخبارات نے لممبا کی اس تقریر کو اشتعال انگیز قرار دیا۔ کانگو کے نجم سیٹھیوں اور شہباز شریفوں نے کہا کہ یہ ہمیں سفارتی تنہائی کا شکار کر دے گا جبکہ بیلجئین اشرافیہ کے لئے یہ انکے بادشاہ کی توہین تھی اور لممبا کو اپنی اپنی اس "بدتمیزی" کی بڑی بھاری قیمت چکانی پڑی۔
جون 1960 میں اقتدار منتقل ہوتے ہی لممبا کے خلاف ملک کے ایک جنوبی کونے سے علیحدگی پسندوں کی تحریک اُٹھ کھڑی ہوئی (بلکہ کھڑی کر دی گئی) ساتھ ہی ساتھ ملک میں ایک انتشار کی سی کیفیت بنا دی گئی جسکی آڑ لے کر بیلجئیم نے اپنے فوجی دستے کانگو بھیج دئیے کہ ہمارے شہریوں کی جان کو خطرہ ہے
دراصل یہ فوجی دستے جنوبی صوبے کے علیحدگی پسندوں کی درِ پردہ حمایت کیلئے ہی بھیجے گئے تھے۔ دنیا سرد جنگ کی لپیٹ میں تھی اور امریکہ بہادر کو نظر آرہا تھا کہ لممبا کانگو اور دیگر افریقی ممالک کو سویت کیمپ میں لے جائے گا اور یہ کہ لممبا کا یورپ کے خلاف رویہ انتہائی غیرلچکدار ہے
لہذا امریکی بھی لممبا کی جان کے در پے ہو گئے۔ اور یوں ایسی سازشیں کرنے والے تمام دیرینہ کردار (یورپ+امریکہ) اکٹھے ہوگئے۔
ملکی انتشار کا بہانہ بنا کر دنوں میں ہی کانگو کے صدر نے لممبا کی حکومت کو برطرف کیا جسکے فوراً بعد کانگو کے آرمی چیف موبتو نے مارشل لا نافد کردیا
پہلے تو لممبا کو گھر میں نظر بند رکھا گیا جہاں سے وہ بھاگنے میں کامیاب ہوگیا لیکن چند دن بعد ہی دسمبر 1960 میں اُسے اسکی اپنی فوج نے گرفتار کر کے جنوبی صوبے کے علیحدگی پسندوں کے حوالے کردیا۔ نہ صرف دورانِ فلائٹ اُسے زدوکوب کیا گیا بلکہ وہاں پہنچتے ہی اُسے سرِعام مارا پیٹا گیا
ایک ماہ بعد 17 جنوری 1961 کی رات اُسے فائرنگ اسکواڈ نے گولیاں مار مار کر ہلاک کردیا۔
اسکے بہیمانہ قتل کے وقت وہاں سیئٹن نامی ایک بیلجئین آفیسر بھی موجود تھا جس نے لممبا کی لاش کو تیزاب کی مدد سے جلد ٹھکانے لگانے کیلئے کیے گئے آپریشن میں بھی حصہ لیا اور اس "شکار کی یادگار" کے
طور پر لممبا کا ایک سونے کا مصنوعی دانت اپنے پاس رکھ لیا جسے آج بیلجئیم 60 سال بعد "بصد افسوس" کونگو کو سپرد کررہا ہے۔
اہلِ نظر کہتے ہیں کہ بیلجئیم کے بادشاہ کے سامنے کی گئی اُس تقریر سے ہی لممبا نے اپنی موت کے حکمنامے پر خود دستخط کردیئے تھے۔ اس وحشیانہ آپریشن ریجیم چینج کے پیچھے سرد جنگ کے دیگر عوامل تو ہوں گے ہی لیکن اس میں لممبا کے خلاف ایک ذاتی نفرت اور انتقام کی خواہش بھی تھی کہ یہ
کل کا غلام ہوتا کون ہے ہمارے سامنے ہمارے جرائم کا ذکر کرنے والا، ہمیں آئینہ دکھانے والا۔۔۔
اس دردناک قتل کے بعد جنرل موبتو تقریباً 30 برس کانگو پر امریکی اور یورپی حمایت کےساتھ حکمرانی کرتا رہا۔ یہ ایک الگ داستان ہے کہ اسکے بعد کیا ہوا اور کیوں ہوا۔
لیکن مغربی طاقتوں کی شاہانہ "طبعِ نازک" پہ گراں گذرنے والے تیسری دنیا کے آزاد لیڈرز کے دردناک انجام کی اس آفاقی کہانی کے پیچھے چند غور طلب نکتے ہیں:
یہ لممبا کے گرفتار ہونے کی بعد کی ایک ویڈیو ہے۔
اس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اُسکی رسیاں کسنے والے، اُسکے بال نوچنے والے، اسکو گرفتار کرکے جانوروں کی طرح باندھ کر لیجانے والے سبھی اُسکے اپنے ہم وطن کانگو کے رہنے بسنے والے ہیں۔ یہاں آپکو کوئی یورپی نظر نہیں آئے گا۔
آپ یہ غور کریں کہ ریجیم چینج آپریشنز کی ایسی سازشیں یورپ اور امریکہ کے "قانون پسند اور مہذب افراد" اپنے اقتدار کے ایوانوں میں بناتے ہیں، گمراہ کُن پراپیگنڈہ کا آغاز مغربی پریس کرتا ہے لیکن ان سازشوں کو پایہ تکمیل تک ہمیشہ اپنے ہی ہم وطن پہنچاتے ہیں۔
احمد فراز کے درد میں ڈوبے ہوئے اشعار ہیں کہ:
"مری بستی سے پرے بھی مرے دشمن ہوں گے
پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا
آشنا ہاتھ ہی اکثر مری جانب لپکے
میرے سینے میں سدا اپنا ہی خنجر اترا"
حقیقی آزادی کے خواب دیکھنے والے دیوانوں پہ مہلک ترین وار ہمیشہ اپنی بستی والے ہی کرتے ہیں
سنہ 1857 کے مون سون میں دلی کا محاصرہ کرنے والے سپاہیوں کی اکثریت یہیں کے رہنے والوں پہ مشتمل تھی۔ ہڈسن اور منٹگمری جیسے انگریز افسروں کے احکام پر عمل کرنے والے سپاہی تو یہیں پنجاب اور سرحد کے رہنے والے مقامی جوان تھے۔
کیا مغرب کی "تقسیم کرو اور راج کرو" کی پالیسی آج ختم ہو چکی ہے؟ کیا یہ پچاس سال پہلے تک دنیا کو ابترین غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے والے یورپی و امریکی آج مہذب ہوچکے ہیں؟ کیا ہم نے پچھلے 20 سالوں میں افغانستان، عراق اور لیبیا جیسے ممالک میں یہی کچھ ہوتے نہیں دیکھا؟
آج بھی وہی کھیل ہے، وہی کھلاڑی ہیں، وہی مظلوم ہیں، وہی عزائم ہیں، وہی ذہنیت ہے اور وہی مفادات ہیں۔ بس اب ظاہری لبادے (انسانی حقوق، آزادیِ اظہارِ رائے اور جمہوری روایات وغیرہ) مزید گہرے کر دئیے۔
لیکن سوال تو ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ "ہم" عوام کیوں اتنے کند ذہن اور اندھے ہیں۔
کہ صرف اُن باہر والوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں جبکہ سب سے گھناؤنا کردار باہر والے نہیں بلکہ اندر والے اپنے بھائی بہن ادا کرتے ہیں۔
اسی غداری کے نتیجے سے اقتدار ہتھیانے والوں کی لوٹ مار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پہ بعد میں اہلِ یورپ اور امریکہ ضخیم کتابیں اور تحقیق مقالے
لکھتے ہیں جنہیں ہم جیسے احساسِ کمتری کے مارے پڑھتے ہیں اور سر دھنتے ہیں۔
استعمار کا یہ منافقت جمع غداری کا کھیل اُسی آب و تاب سے چل رہا ہے جیسا دوسری جنگِ عظیم سے پہلے چل رہا تھا بس طریقہِ واردات مزید باریک ہوگیا ہے۔

جاري تحميل الاقتراحات...