یہ دبنگ تقریر ریڈیو کے ذریعے دنیا بھر میں لائیو نشر کی گئی۔
یہ ایک آزاد لیڈر کی تقریر تھی جو بیلجئیم اور پورے یورپ کی اشرافیہ پہ شدید ناگوار گزری۔ تقریب تھوڑی دیر کیلئے روک دی گئی۔ بوڈواں کمرے سے واک آؤٹ کرگیا جبکہ "اپنے لوگوں" نے لممبا سے کہا کہ "ہاتھ تھوڑا ہولا کرو سر جی"
یہ ایک آزاد لیڈر کی تقریر تھی جو بیلجئیم اور پورے یورپ کی اشرافیہ پہ شدید ناگوار گزری۔ تقریب تھوڑی دیر کیلئے روک دی گئی۔ بوڈواں کمرے سے واک آؤٹ کرگیا جبکہ "اپنے لوگوں" نے لممبا سے کہا کہ "ہاتھ تھوڑا ہولا کرو سر جی"
آج تک کسی افریقی کی اتنی جرأت نہ ہوئی تھی کہ سفیدفام یورپی آقاؤں کے سامنے نظر بھی اُٹھا سکے جبکہ یہاں ایک 34 سالہ کل کا غلام بیلجئم کے بادشاہ بوڈواں کے سامنے کھڑا اُسکو آئینہ دکھا رہا تھا کہ تم اور تمہارے آبا (لیوپالڈ دوئم) کے ہاتھ لاکھوں افریقیوں کے خون سے رنگے ہیں۔
مغربی اخبارات نے لممبا کی اس تقریر کو اشتعال انگیز قرار دیا۔ کانگو کے نجم سیٹھیوں اور شہباز شریفوں نے کہا کہ یہ ہمیں سفارتی تنہائی کا شکار کر دے گا جبکہ بیلجئین اشرافیہ کے لئے یہ انکے بادشاہ کی توہین تھی اور لممبا کو اپنی اپنی اس "بدتمیزی" کی بڑی بھاری قیمت چکانی پڑی۔
جون 1960 میں اقتدار منتقل ہوتے ہی لممبا کے خلاف ملک کے ایک جنوبی کونے سے علیحدگی پسندوں کی تحریک اُٹھ کھڑی ہوئی (بلکہ کھڑی کر دی گئی) ساتھ ہی ساتھ ملک میں ایک انتشار کی سی کیفیت بنا دی گئی جسکی آڑ لے کر بیلجئیم نے اپنے فوجی دستے کانگو بھیج دئیے کہ ہمارے شہریوں کی جان کو خطرہ ہے
دراصل یہ فوجی دستے جنوبی صوبے کے علیحدگی پسندوں کی درِ پردہ حمایت کیلئے ہی بھیجے گئے تھے۔ دنیا سرد جنگ کی لپیٹ میں تھی اور امریکہ بہادر کو نظر آرہا تھا کہ لممبا کانگو اور دیگر افریقی ممالک کو سویت کیمپ میں لے جائے گا اور یہ کہ لممبا کا یورپ کے خلاف رویہ انتہائی غیرلچکدار ہے
لہذا امریکی بھی لممبا کی جان کے در پے ہو گئے۔ اور یوں ایسی سازشیں کرنے والے تمام دیرینہ کردار (یورپ+امریکہ) اکٹھے ہوگئے۔
ملکی انتشار کا بہانہ بنا کر دنوں میں ہی کانگو کے صدر نے لممبا کی حکومت کو برطرف کیا جسکے فوراً بعد کانگو کے آرمی چیف موبتو نے مارشل لا نافد کردیا
ملکی انتشار کا بہانہ بنا کر دنوں میں ہی کانگو کے صدر نے لممبا کی حکومت کو برطرف کیا جسکے فوراً بعد کانگو کے آرمی چیف موبتو نے مارشل لا نافد کردیا
اہلِ نظر کہتے ہیں کہ بیلجئیم کے بادشاہ کے سامنے کی گئی اُس تقریر سے ہی لممبا نے اپنی موت کے حکمنامے پر خود دستخط کردیئے تھے۔ اس وحشیانہ آپریشن ریجیم چینج کے پیچھے سرد جنگ کے دیگر عوامل تو ہوں گے ہی لیکن اس میں لممبا کے خلاف ایک ذاتی نفرت اور انتقام کی خواہش بھی تھی کہ یہ
لیکن مغربی طاقتوں کی شاہانہ "طبعِ نازک" پہ گراں گذرنے والے تیسری دنیا کے آزاد لیڈرز کے دردناک انجام کی اس آفاقی کہانی کے پیچھے چند غور طلب نکتے ہیں:
آپ یہ غور کریں کہ ریجیم چینج آپریشنز کی ایسی سازشیں یورپ اور امریکہ کے "قانون پسند اور مہذب افراد" اپنے اقتدار کے ایوانوں میں بناتے ہیں، گمراہ کُن پراپیگنڈہ کا آغاز مغربی پریس کرتا ہے لیکن ان سازشوں کو پایہ تکمیل تک ہمیشہ اپنے ہی ہم وطن پہنچاتے ہیں۔
احمد فراز کے درد میں ڈوبے ہوئے اشعار ہیں کہ:
"مری بستی سے پرے بھی مرے دشمن ہوں گے
پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا
آشنا ہاتھ ہی اکثر مری جانب لپکے
میرے سینے میں سدا اپنا ہی خنجر اترا"
حقیقی آزادی کے خواب دیکھنے والے دیوانوں پہ مہلک ترین وار ہمیشہ اپنی بستی والے ہی کرتے ہیں
"مری بستی سے پرے بھی مرے دشمن ہوں گے
پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا
آشنا ہاتھ ہی اکثر مری جانب لپکے
میرے سینے میں سدا اپنا ہی خنجر اترا"
حقیقی آزادی کے خواب دیکھنے والے دیوانوں پہ مہلک ترین وار ہمیشہ اپنی بستی والے ہی کرتے ہیں
سنہ 1857 کے مون سون میں دلی کا محاصرہ کرنے والے سپاہیوں کی اکثریت یہیں کے رہنے والوں پہ مشتمل تھی۔ ہڈسن اور منٹگمری جیسے انگریز افسروں کے احکام پر عمل کرنے والے سپاہی تو یہیں پنجاب اور سرحد کے رہنے والے مقامی جوان تھے۔
کیا مغرب کی "تقسیم کرو اور راج کرو" کی پالیسی آج ختم ہو چکی ہے؟ کیا یہ پچاس سال پہلے تک دنیا کو ابترین غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے والے یورپی و امریکی آج مہذب ہوچکے ہیں؟ کیا ہم نے پچھلے 20 سالوں میں افغانستان، عراق اور لیبیا جیسے ممالک میں یہی کچھ ہوتے نہیں دیکھا؟
آج بھی وہی کھیل ہے، وہی کھلاڑی ہیں، وہی مظلوم ہیں، وہی عزائم ہیں، وہی ذہنیت ہے اور وہی مفادات ہیں۔ بس اب ظاہری لبادے (انسانی حقوق، آزادیِ اظہارِ رائے اور جمہوری روایات وغیرہ) مزید گہرے کر دئیے۔
لیکن سوال تو ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ "ہم" عوام کیوں اتنے کند ذہن اور اندھے ہیں۔
لیکن سوال تو ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ "ہم" عوام کیوں اتنے کند ذہن اور اندھے ہیں۔
کہ صرف اُن باہر والوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں جبکہ سب سے گھناؤنا کردار باہر والے نہیں بلکہ اندر والے اپنے بھائی بہن ادا کرتے ہیں۔
اسی غداری کے نتیجے سے اقتدار ہتھیانے والوں کی لوٹ مار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پہ بعد میں اہلِ یورپ اور امریکہ ضخیم کتابیں اور تحقیق مقالے
اسی غداری کے نتیجے سے اقتدار ہتھیانے والوں کی لوٹ مار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پہ بعد میں اہلِ یورپ اور امریکہ ضخیم کتابیں اور تحقیق مقالے
لکھتے ہیں جنہیں ہم جیسے احساسِ کمتری کے مارے پڑھتے ہیں اور سر دھنتے ہیں۔
استعمار کا یہ منافقت جمع غداری کا کھیل اُسی آب و تاب سے چل رہا ہے جیسا دوسری جنگِ عظیم سے پہلے چل رہا تھا بس طریقہِ واردات مزید باریک ہوگیا ہے۔
استعمار کا یہ منافقت جمع غداری کا کھیل اُسی آب و تاب سے چل رہا ہے جیسا دوسری جنگِ عظیم سے پہلے چل رہا تھا بس طریقہِ واردات مزید باریک ہوگیا ہے۔
جاري تحميل الاقتراحات...