Dr. Uzma Qudrat
Dr. Uzma Qudrat

@QudratUzma

14 تغريدة 1 قراءة Jun 21, 2022
اماں ابا کی شادی پچاس کی دہائی کے آخر میں ہوئی۔ ابا گریجویٹ تھے اور اماں کبھی سکول بھی نہیں گئی تھیں۔ قرآن پڑھنا جانتی تھیں اور اسی توسط سے اردو کی بھی معمولی شدھ بدھ تھی۔ پڑھ لیتی تھیں مگر لکھ نہیں سکتی تھیں اور دستخط کی جگہ انگوٹھا لگاتی تھیں۔
1/14
ابا نے انہیں اردو لکھنا سکھایا انگریزی کے حروف تہجی کی پہچان کروائی، اردو اور انگریزی میں انکا نام لکھنے کی مشق بھی کروائی تاکہ وہ کاغذات پر اپنے نام کے دستخط کیا کریں۔ اماں نے کہا کہ انہیں انگریزی میں نام لکھتے شرم محسوس ہوتی ہے اس لیے وہ اردو میں ہی دستخط پر اکتفا کریں گی۔
2/14
سادہ خاتون تھیں گھر سے باہر نکلنا پسند نہیں کرتی تھیں مگر آہستہ آہستہ ابا کی بدولت انہوں نے تھوڑا حساب کتاب سیکھا، بینک اکاؤنٹ کھلوایا، گھر کے خرچے کا بجٹ بنایا کرتیں، شروع میں گھبراتی تھیں پھر آہستہ آہستہ عادت ہونی شروع ہوئی،
3/14
مہینے کے آخر میں پیسے بچا کر کچھ رقم جوڑ لیتیں تو ابا ان کے نام سے مختلف قومی بچت کی سکیموں کے سرٹیفیکیٹ یا شئیرز لا کر انہیں دیتے اور سکھاتے کہ کس طرح ان کا منافع آتا ہے۔
اماں کہتی تھیں کہ انہوں نے جو پیسے ان کے ہاتھ میں تھمائے کبھی ان کا حساب نہیں مانگا۔
4/14
بلکہ بھائی بڑے ہوئے تو کہا کرتے کہ بھئی اب تمہارے بچے بڑے ہو گئے ہیں ان پر ذمہ داری ڈالو تمہیں میری ضرورت نہیں ہونی چاہیے، ان سے بینک میں پیسے جمع کرواؤ، اپنے پیسوں کا خود دھیان رکھو۔
بچوں کو بھی پاکٹ منی دیا کرو اور ان کو بھی یہ سب سکھاؤ۔
5/14
ہم بہن بھائی کبھی ابا کے ساتھ بیٹھے ہوتے تو ابا اماں کی بہت تعریف کیا کرتے، ہم سے کہتے کہ دیکھو میری اوسط آمدنی میں تمہاری اماں کس قدر سلیقے سے گھر چلاتی ہیں، ان سے سیکھا کرو۔ اماں آس پاس ہی کام کر رہی ہوتیں، اور مجھے یہ سب بہت اچھا لگتا تھا۔
6/14
ہمارے ایک رشتے کے ماموں سعودی عرب سے پاکستان شفٹ ہوئے اور اپنا بزنس شروع کیا، انہیں کچھ رقم کی ضرورت تھی اور اماں سے انہوں نے اس بات کا زکر کیا، اماں نے ان سے کہا کہ وہ رقم دینے کو تیار ہیں مگر وہ پارٹنر شپ کرنا چاہتی ہیں،
7/14
نفع نقصان دونوں برداشت کریں گی منافع رقم سے کم لیں گی کیونکہ محنت انکی نہیں ہو گی۔ اور اصل رقم وہ جتنے عرصے بعد واپس کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ ماموں نے بخوشی انہیں اپنا بزنس پارٹنر بنا لیا۔
ابا کو پتہ چلا تو بہت خوش ہوئے، اماں کی بہت ہمت بندھائی اور کہا بھئی آپ تو بزنس وویمن
8/14
بن گئی ہیں!
یہ ابا ہی تھے جن کی حوصلہ افزائی اور دیے اعتماد کی بدولت اماں ہمیشہ خودانحصار اور خود کفیل رہیں۔ اپنے مکان کے کرائے کا حساب خود رکھتیں، ابا ہنستے اور اماں سے کہتے تھے کہ بھئی آپ کو تو اکاؤنٹنٹ ہونا چاہیے تھا مجال ہے کہ کوئی پیسہ یہاں وہاں ہو جائے۔
9/14
میں چھوٹی تھی تو یاد ہے کہ ایک دفعہ ابا نے کچھ کاغذات میرے سامنے رکھے اور کہا ان پر دستخط کر دو، میں نے پین اٹھا کر دستخط کر دیے تو کہنے لگے کہ پڑھا تھا کہ کیا لکھا ہے ان کاغذات پر؟ میں نے کہا “نہیں”۔
10/14
کہنے لگے پڑھا نہیں تو دستخط کیسے کر دیے؟ کیا پڑھنا نہیں جانتیں؟
میں نے کہا ابا آپ نے دیے اس لیے،
کہنے لگے میں کچھ بھی کاغذ دے دوں گا تو تم دستخط کر دو گی؟
پھر آرام سے سمجھایا کہ یاد رکھو کبھی بھی کوئی بھی تمہیں کوئی بھی دستاویز دے ان پر پڑھے بغیر کبھی دستخط نہیں کرنا۔
11/14
اور اس میں کوئی شرم محسوس کرنے یا لحاظ کرنے کی ضرورت نہیں۔
میں بہت شرمندہ ہوئی اور اس کے بعد جب بھی وہ کوئی سرٹیفیکیٹ یا پیپر دیتے میں کہتی کہ ابا آپ رکھ دیں میں پڑھ کر سائن کر کے آپ کو دیتی ہوں۔ اور وہ سر پر ہاتھ پھیر کر مسکرا کر شاباش دیتے۔
12/14
زندگی کی کتنی ہی سیکھ ہیں جو ہمیں اپنے ابا سے ملیں اماں کہتی تھیں کہ ابا ان کا فخر اور غرور تھے جنہوں نے انہیں سر اٹھا کر جینا سکھایا۔ انہیں اس قابل بنایا کہ وہ ساری زندگی کبھی کسی پر معاشی طور سے بوجھ نہیں بنیں۔
13/14
کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کچھ کام کرتے یہ خیال نہ آئے کہ ارے یہ تو ہم نے ابا سے سیکھا تھا!
اور آج کا مخصوص دن تو محض ایک بہانہ ہے کچھ یادیں تازہ کر لینے کا، کچھ عہد اپنے آپ سے باندھ لینے کا کہ تربیت کے کچھ گُن بھی اگر اگلی نسل تک پہنچا سکیں تو شاید یہ زندگی رائیگاں نہیں۔
14/14

جاري تحميل الاقتراحات...