Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

4 تغريدة 5 قراءة Feb 24, 2023
دسمبر 1499 اندلس کے مسلمانوں نے ایک بغاوت کی تھی ... اس کی وجہ سپین کے تین بادشاہوں اور کیتھولک چرچ کا ایک اعلان تھا
"عیسائی ہو جاؤ یا ملک چھوڑ دو"
اس وقت غرناطہ میں پانچ سے چھ لاکھ مسلمان تھے لیکن 1501 تک آفیشلی ایک بھی نہیں بچا اور پھر 1502 میں سپین کی ملکہ ایزابیلا نے ...
اسلام پر مکمل پابندی لگا دی اور کہا اب یا عیسائی ہو جاؤ یا پھر قتل ہو جاؤ ۔
تبھی 1504 میں ایک مالکی سکالر أحمد ابن ابی جمعہ نے وہ مشہور فتویٰ دیا تھا جسے "اورن فتوی" کہتے ہیں جس میں انہوں نے اندلس کے مسلمانوں کے لیے وضو ، نماز اور زکوٰة میں آسانی اور جان بچانے کے لیے ...
عیسائیوں کی طرح عبادت ، بلاسفیمی اور سؤر کھانے یا شراب پینے پر اپنی گائیڈینس دی تھی ۔
اس فتوے کا مینوسکرپٹ بڑا دردناک ہے بہرحال اس کے اوریجنل اوراق آج بھی کیتھولک چرچ نے اپنے پاس ویٹیکن لائیبریری میں سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں جس کے بعد نہ اندلس بچا نہ اندلس کے مسلمان ۔
یہ پندرھویں صدی کی ایک پینٹنگ ہے جس میں مسلمان عورتوں کے چرچ میں baptism کی منظر کشی ہے اور اگر آپ پیچھے زمین پر بیٹھی اس عورت کو دیکھیں تو میرا نہیں خیال ہم تصور بھی کر سکتے ہیں کہ اس وقت ان پر کیا بیت رہی ہو گی !
اور دوسری تصویر میں اورن فتوے کی ایک ہسپانوی ٹرانسلیشن ہے !

جاري تحميل الاقتراحات...