تینوں ابراہیمی مذاہب یعنی یہودیت ، عیسائیت اور اسلام حضرت آدمؑ کے پہلے انسان ہونے پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ صرف چند ہزار سال پہلے اس دنیا میں آئے جبکہ دریافت ہونے والی کھوپڑی بتا رہی تھی کہ زندگی تو اس دنیا میں لاکھوں سالوں سے موجود ہے ۔ بہرحال تینوں مذاہب نے اس چیلنج کو اپنے اپنے
طور ہینڈل کیا ، عیسائیوں نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ فاسلز جھوٹے ہیں اور خدا نے ہمارا ایمان ٹیسٹ کرنے کے لیے دنیا میں یہ ہڈیاں رکھی ہیں ایسے ہی یہودیت نے بھی اسے جھوٹا کہہ کر جان چھڑا لی ۔ لیکن مسلمانوں کے لیے یہ دریافت ایک ایسا کانٹا بن گئی جسے نہ اُگلا جا سکتا تھا نہ نِگلا
جا سکتا تھا ۔ بہرحال مسلم علماء نے بھی اپنے طور کوشش کی اور کہا کہ اس کھوپڑی کی عمر معلوم کرنے کے لیے جو طریقہ استعمال کیا گیا ہے یعنی carbon dating تیکنیک ، وہ ایک ناقابل اعتبار طریقہ ہے ۔
یہ بات کچھ حد تک درست بھی تھی کیوں کہ کاربن ڈیٹنگ میں ذرا سی بھی ملاوٹ ہو تو بہت غلط
یہ بات کچھ حد تک درست بھی تھی کیوں کہ کاربن ڈیٹنگ میں ذرا سی بھی ملاوٹ ہو تو بہت غلط
رزلٹ سامنے آتا ہے ۔ بہرحال ایک تو اس دریافت کے بعد آرکیالوجسٹس کے کام میں تیزی آ گئی اور دھڑا دھڑ نئے نئے فاسلز ملنے لگے اور دوسری طرف ان فاسلز کی عمر معلوم کرنے کے لیے جدید سے جدید ٹیکنالوجی بھی سامنے آنے لگ گئی ، میں ان میں سے کچھ کے نام آپ کو بتا دیتا ہوں
radio carbon dating
radio carbon dating
electron paramagnetic resonance
thermo luminescence dating
radio metric dating
incremental dating
اور اب سب سے جدید ٹیکنالوجی accelerated mass spectrometry اور uninium thorium method زیر استعمال ہیں جو کسی بھی چیز کے پگمنٹس کو ڈائیریکٹ سیمپل کر کے بتا دیتے ہیں کہ فلاں چیز
thermo luminescence dating
radio metric dating
incremental dating
اور اب سب سے جدید ٹیکنالوجی accelerated mass spectrometry اور uninium thorium method زیر استعمال ہیں جو کسی بھی چیز کے پگمنٹس کو ڈائیریکٹ سیمپل کر کے بتا دیتے ہیں کہ فلاں چیز
اتنے ہزار یا اتنے لاکھ سال پرانی ہے ۔ اوکے ، اب مسلمانوں کے سامنے دو بڑے بڑے مسائل کھڑے ہو گئے ، ایک تو یہ کہ ان میں سے کس کس ٹیکنالوجی کو غلط کہیں ؟ چلو کاربن ڈیٹنگ کا رزلٹ غلط ہو سکتا ہے ، ریڈیو میٹرک کا رزلٹ غلط آ سکتا ہے لیکن کیا سبھی کا رزلٹ غلط ہو گا ؟ اور دوسرا مسئلہ یہ
کہ کس کس ڈھانچے کو جھوٹا کہیں ؟ ایک ڈھانچہ فیک ہو سکتا ہے ، دس ڈھانچے فیک ہو سکتے ہیں ، سو فیک ہو سکتے ہیں لیکن اب تک 6000 سے زیادہ انسانی ڈھانچے مل چکے ہیں جن میں 72 لاکھ سال پرانے فاسلز بھی ہیں ۔
اس مقام پر تو یوں لگنے لگا جیسے بند گلی میں پھنس گئے ہیں ، کریں تو کریں کیا ؟
اس مقام پر تو یوں لگنے لگا جیسے بند گلی میں پھنس گئے ہیں ، کریں تو کریں کیا ؟
آخر کار بڑے بڑے سکالرز میں رائے تقسیم ہونا شروع ہو گئی ۔ کچھ نے تو خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھ لیا ، اور کچھ ایوولوشن کے کچھ حصوں کو مانتے اور کچھ حصوں کا انکار کرتے البتہ کچھ سکالرز ابھی بھی اس بات پر ڈٹے ہوئے تھے کہ نہیں نہیں ، یہ صرف تھیوریز اور محض اندازے ہیں ۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ، صرف کہہ دینے سے کہ یہ محض تھیوریز اور اندازے ہیں ... جان نہیں چھوٹ جاتی ۔
ماڈرن ایجوکیشن سے منسلک نسل سوال کرتی ہے ، یہاں تک کہ 1970 میں ترکی ، پاکستان ، سعودی عرب ، لبنان وغیرہ کو باقاعدہ کیمپین چلانی پڑی کہ ایوولوشن جھوٹ ہے ، فراڈ ہے ، دھوکا ہے ۔
ماڈرن ایجوکیشن سے منسلک نسل سوال کرتی ہے ، یہاں تک کہ 1970 میں ترکی ، پاکستان ، سعودی عرب ، لبنان وغیرہ کو باقاعدہ کیمپین چلانی پڑی کہ ایوولوشن جھوٹ ہے ، فراڈ ہے ، دھوکا ہے ۔
اور علماء اسے یہودی اور عیسائی سازش قرار دیتے ۔ لیکن مسئلہ وہیں کا وہیں ، چلو دو منٹ کے لیے مان بھی لیتے ہیں کہ یہ یہودی سازش تھی لیکن آخر ان لاکھوں سال پرانے ڈھانچوں کو فِٹ کدھر کریں ؟
بالآخر سکالرز کی اکثریت نے حل یہ نکالا کہ ہمیں اس موضوع پر توقف سے کام لینا چاہیئے ۔
بالآخر سکالرز کی اکثریت نے حل یہ نکالا کہ ہمیں اس موضوع پر توقف سے کام لینا چاہیئے ۔
توقف کا مطلب ہوتا ہے کہ جو چیز قرآن میں ڈکلیئر نہیں ہوئی اس پر بحث کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ لیکن علماء کے اس توقف نے فائدے سے زیادہ نقصان پہنچا دیا اور 2016 میں ’’یقین انسٹیٹیوٹ فار اسلامک ریسرچ‘‘ نے ایک پیپر شائع کیا کہ ’’مسلم سکالرز کے درمیان اس معاملے پر کوئی اتفاق نہیں اور
اور ایسا لگتا ہے کہ کوئی سکالر اس کا جواب دینے کے لیے eligible ہے بھی نہیں‘‘
اس سنگین خاموشی کے بعد سے معاملات الجھتے گئے اور اس وقت 19 فیصد مسلمان یہ مانتے ہیں کہ ہم ایوولوشن سے ہی پیدا ہوئے ہیں بلکہ 2009 میں جب McGill University نے پاکستان کے ہائی سکولز میں ایک سروے کیا اور
اس سنگین خاموشی کے بعد سے معاملات الجھتے گئے اور اس وقت 19 فیصد مسلمان یہ مانتے ہیں کہ ہم ایوولوشن سے ہی پیدا ہوئے ہیں بلکہ 2009 میں جب McGill University نے پاکستان کے ہائی سکولز میں ایک سروے کیا اور
سٹوڈنٹس کے سامنے یہ سوال رکھا کہ
’’ان لاکھوں فاسلز کو دیکھ کر آپ یہ بات مانتے ہیں کہ اس دنیا پر زندگی اربوں سالوں سے موجود تھی ؟‘‘
تو 86 فیصد نے جواب ’’ہاں‘‘ میں دیا ۔ آپ مانیں یا نہ مانیں ، اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی جواب تھا بھی نہیں ۔
اور سونے پر سہاگہ کہ سنہ 2013 اور بعد
’’ان لاکھوں فاسلز کو دیکھ کر آپ یہ بات مانتے ہیں کہ اس دنیا پر زندگی اربوں سالوں سے موجود تھی ؟‘‘
تو 86 فیصد نے جواب ’’ہاں‘‘ میں دیا ۔ آپ مانیں یا نہ مانیں ، اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی جواب تھا بھی نہیں ۔
اور سونے پر سہاگہ کہ سنہ 2013 اور بعد
میں pew research سروے نے دکھایا کہ ’’ہاں‘‘ کہنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ، اور تو اور عراق اور افغانستان جیسے ممالک میں بھی 26 فیصد نے ’’ہاں‘‘ ہی کہی تھی بس پھر کیا تھا داعش نے 2014 میں موصل پر قبضہ کیا تو ان کا سب سے پہلا قدم سکولوں میں بیالوجی پڑھانے پر پابندی لگانا تھا ۔
اب پابندی تو لگ گئی لیکن اس سے مسئلے کا حل پھر بھی نہیں نکلا اور سوال وہیں کا وہیں ، ان ڈھانچوں کو کہاں فِٹ کریں ؟ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ فرقان آخر کن ڈھانچوں کی بات کر رہا ہے تو چلیں میں آپ کو کچھ مشہور فاسلز کے بارے میں بتاتا ہوں ۔
سنہ 1974 میں ایتھیوپیا سے ایک ڈھانچہ ملا ...
سنہ 1974 میں ایتھیوپیا سے ایک ڈھانچہ ملا ...
جو bi-pedal یعنی دو ٹانگوں پر چلنے والی کسی مخلوق کا تھا ، اس کا نام مقامی زبان میں پیار سے dinkinesh رکھا گیا جس کا مطلب ہے ’’تم بہت پیاری ہو‘‘ میں اس کی تصویر بھی آپ کو دکھا دیتا ہوں ، آج دنیا اس ڈھانچے کو lucy کے نام سے جانتی ہے (فلم lucy میں اسی ڈھانچے کا ریفرینس ہے)
اوکے ، یہاں آپ دو باتیں نوٹ کریں کہ ایک تو لوسی پر تحقیق 50 سال سے چل رہی ہے اور دوسرا یہ کہ وہ لوگ اپنی ریسرچ کو کتنا سنجیدگی سے لیتے ہیں ۔ بہرحال ، ایسے ہی ایتھیوپیا میں ایک 20 لاکھ سال پرانا ڈھانچہ ملا جو دو پیروں پر چلنے والی مخلوق کا تھا اور اسے ڈھونڈنے والی ٹیم نے پیار سے
ایک بہت بڑی غار liang bua سے بھی 9 ڈھانچوں کی ایک پوری فیملی ملی لیکن عجیب بات یہ کہ سب کے سب صرف تین فٹ قد کے تھے یعنی آج کے حساب سے بونے بلکہ انہیں تو نام بھی hobbits ہی کا دیا گیا اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات کہ ان کے پاس ملنے والے اوزار ان ڈھانچوں سے بھی کہیں زیادہ پرانے تھے
تو پھر اب کیا کیا جائے ؟ آنکھیں بند کر کے سب کچھ کو غلط تو نہیں کہہ سکتے ۔
اس موقع پر مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جو میں نے st. augustine کی پانچویں صدی کی کتاب de civitate dei یعنی the city of god میں پڑھا تھا کہ عیسیٰؑ کے 170 سال بعد رومن بادشاہ julian کے سامنے ایک یونانی
اس موقع پر مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جو میں نے st. augustine کی پانچویں صدی کی کتاب de civitate dei یعنی the city of god میں پڑھا تھا کہ عیسیٰؑ کے 170 سال بعد رومن بادشاہ julian کے سامنے ایک یونانی
عیسائی اور ایک کافر کا مناظرہ ہوا اور آدم کے بارے میں دونوں کا نقطہ نظر سننے کے بعد julian نے کہا کہ پھر ہو سکتا ہے ایک کے بجائے کئی آدم آئے ہوں ۔ یہ تھیوری آج مسلمانوں تک میں موجود ہے لیکن حقیقت کیا ہے ؟ اس کے لیے آپ کو بہت توجہ سے قرآن ، حدیث اور ایوولوشن کو سٹڈی کرنا ہو گا ۔
اگر آپ ایوولوشن کو روز مرۃ کی زندگی میں دیکھیں تو وہ آپ کو اکثر چیزوں میں نظر آئے گی بلکہ آٹھویں صدی کے عراقی سکالر الجاحظ نے ایک بڑی مشہور کتاب لکھی تھی ’’کتاب الحیوان‘‘ جس میں وہ 350 سے زیادہ جانوروں کی زندگی ، عادات اور خصلتیں ڈسکس کرتے ہیں ، اس میں وہ لکھتے ہیں کہ
’’میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے کہ کسی جگہ پر قبضہ کرنے کے لیے اکثر بڑے چوہے ، چھوٹے پرندوں پر غالب آ جاتے ہیں اور اگر پرندوں نے اپنا دفاع نہیں کیا تو اس جگہ پر چوہے قابض ہو جائیں گے‘‘
غور کریں تو یہ نظریہ ماڈرن ایوولوشن کی struggle for existence تھیوری ہی کے برابر ہے ۔ اور اپنے
غور کریں تو یہ نظریہ ماڈرن ایوولوشن کی struggle for existence تھیوری ہی کے برابر ہے ۔ اور اپنے
پچھلے تھریڈ یعنی نوحؑ والے تھریڈ میں canidae فیملی کے اندر پچھلے 500 سال میں ہوئی ایوولوشن کی مثال تو میں تفصیل سے دے چکا ہوں ۔ پھر ایک اور مثال ہماری زبان کی ہے آج اگر ہم 300 سال پرانی اردو دیکھیں تو میرا نہیں خیال کہ وہ ہمیں سمجھ بھی آئے گی یہ مائیکرو ایوولوشن کی مثالیں ہیں ۔
لیکن ان ڈھانچوں نے ہماری لڑائی ایوولوشن کے اس نظریئے سے کروائی ہے جس کے مطابق انسان بندر سے evolve ہوا اور ثبوتوں نے ہمارے اکثر سکالرز کو ’’توقف‘‘ کرنے میں ہی عافیت دکھائی ۔
لیکن اس لڑائی کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے میں تھریڈ میں وہ چیلنج اٹھا رہا ہوں جو سب سے زیادہ مشکل ہے ۔
لیکن اس لڑائی کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے میں تھریڈ میں وہ چیلنج اٹھا رہا ہوں جو سب سے زیادہ مشکل ہے ۔
یعنی 1856 میں ہوئی جرمنی کی وہ دریافت !
اور وہ ڈھانچہ تھا انسان سے پہلے گزری ایک نسل neanderthal کا جو ساڑھے چار لاکھ سال پہلے اس دنیا میں ظاہر ہوئے اور 40 ہزار سال پہلے تک رہے ۔ یہ اب تک کی سب سے مشہور نسل ہے اور جب کبھی کسی فلم میں پتھر کے زمانے کے لوگ دکھانے ہوتے تو
اور وہ ڈھانچہ تھا انسان سے پہلے گزری ایک نسل neanderthal کا جو ساڑھے چار لاکھ سال پہلے اس دنیا میں ظاہر ہوئے اور 40 ہزار سال پہلے تک رہے ۔ یہ اب تک کی سب سے مشہور نسل ہے اور جب کبھی کسی فلم میں پتھر کے زمانے کے لوگ دکھانے ہوتے تو
یعنی 72 لاکھ سال پرانی لوسی تو بندروں کے زیادہ قریب تھی وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن اس تھریڈ میں آگے چل کر آپ دیکھیں گے کہ neanderthals کو اتنی سادگی سے جھٹلا دینا آسان نہیں یہ انسانوں کی بڑی قریب مخلوق تھی ۔
ان neanderthals کے ڈھانچے زیادہ تر یوریشیا یعنی یورپ اور ایشیاء کے ممالک میں
ان neanderthals کے ڈھانچے زیادہ تر یوریشیا یعنی یورپ اور ایشیاء کے ممالک میں
ملے موسٹلی فرانس ، سپین ، سلوواکیہ اور ان کے ڈھانچوں کی ساخت دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک کم عقل اور خونخوار نسل تھے ۔
وہ غاروں میں رہتے تھے اور آگ جلا سکتے تھے کیوں کہ ان کی غاروں میں مینگانیز ڈائی آکسائیڈ ملتی ہے ، ان کی غاروں میں آگ بنانے کی جگہ بھی ملی اور وہ پتوں اور
وہ غاروں میں رہتے تھے اور آگ جلا سکتے تھے کیوں کہ ان کی غاروں میں مینگانیز ڈائی آکسائیڈ ملتی ہے ، ان کی غاروں میں آگ بنانے کی جگہ بھی ملی اور وہ پتوں اور
جڑی بوٹیوں کو بنیادی دوائی کی طرح بھی استعمال کرتے تھے ۔
اس پوائینٹ پر پہنچ کر اکثر لوگ سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ واقعی دوائی تو انسان ہی استعمال کرتا ہے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ دوائی کے متعلق آپ کا تھوڑا کانسیپٹ کلیئر کر دوں کہ دوائی دنیا کا ہر جاندار استعمال کرتا ہے ۔
اس پوائینٹ پر پہنچ کر اکثر لوگ سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ واقعی دوائی تو انسان ہی استعمال کرتا ہے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ دوائی کے متعلق آپ کا تھوڑا کانسیپٹ کلیئر کر دوں کہ دوائی دنیا کا ہر جاندار استعمال کرتا ہے ۔
پھر کینیا کی پریگننٹ ہتھنیاں بھی اپنی پریگنینسی کے دوران وہ پتے کھاتی ہیں جنہیں وہ عموماً نہیں کھاتیں ۔ بلکہ آپ شاید حیران ہوں کہ برازیل کے spider monkeys اپنے mating season سے پہلے خاص قسم کے پھل کھاتے ہیں ۔
آپ کی دلچسپی کے لیے بتا دوں کہ animal kingdom میں جانوروں کی
آپ کی دلچسپی کے لیے بتا دوں کہ animal kingdom میں جانوروں کی
دوائی سے واقفیت کی ایک پوری سٹڈی ہے جسے zoopharmacognosy کہتے ہیں اس لیے neanderthals کے جڑی بوٹیوں کو دوائی کے طور پر کھانا زیادہ حیرانی کی بات نہیں ۔
اب یہاں سے آگے میں آپ کو neanderthals اور بنی آدم کے درمیان کچھ وہ فرق بتاؤں گا جنہیں قرآن اور حدیث نے جگہ جگہ واضح کیا ہے ۔
اب یہاں سے آگے میں آپ کو neanderthals اور بنی آدم کے درمیان کچھ وہ فرق بتاؤں گا جنہیں قرآن اور حدیث نے جگہ جگہ واضح کیا ہے ۔
سب سے بڑا ثبوت جو بہت واضح ہے ، neanderthals کی زبان ! انسان میں ایک gene ہوتا ہے Fox-P2 جو زبان اور لینگوئیج کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ سائینسدان تو اکثر مزاق میں اسے grammer gene بھی کہتے ہیں ، اگرچہ نینڈرتھلز میں وہ gene تھا لیکن اس gene کا وہ variant نہیں تھا جو
بنی آدم میں ہوتا ہے جس کا آسان الفاظ میں یہ مطلب ہے کہ وہ صرف آوازیں نکال سکتے تھے ۔
لینگوئیج پر اثر انداز ہونے والے 48 جینز کے گروپ میں سے ان کے 11 جینز ایک بالکل مختلف methylation process دکھا رہے تھے بلکہ dr. liebermann phillip نے بڑی محنت سے ان کا vocal tract بھی تیار کیا
لینگوئیج پر اثر انداز ہونے والے 48 جینز کے گروپ میں سے ان کے 11 جینز ایک بالکل مختلف methylation process دکھا رہے تھے بلکہ dr. liebermann phillip نے بڑی محنت سے ان کا vocal tract بھی تیار کیا
اور ان کی قدرتی آواز بنانے کی کوشش بھی کی لیکن آخری نتیجہ یہ نکلا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ایک نومولود بچے کی طرح آوازیں نکالتے تھے اور ناک سے بالکل نہیں بول سکتے تھے جیسے ہم اردو میں ’’نون‘‘ کی آواز نکالتے ہیں ۔
اور آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ فرقان ہمیں کہاں لے کر جا رہا ہے !
اور آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ فرقان ہمیں کہاں لے کر جا رہا ہے !
سورۃ بقرۃ کی آیت 31
’’اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام نام سکھا کر فرشتوں کے سامنے کیا‘‘
آدمؑ کو پیدائش پر ملا اللہ تعالیٰ کا ایک گفٹ ، زبان ، بولنے کی صلاحیت ، انہیں تمام چیزوں کے نام سکھا دیئے گئے ، انہیں بولنے کی قوت دی گئی ۔ اور آپ فکر نہ کریں اس تھریڈ کے آخر میں پہنچ کر میں
’’اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام نام سکھا کر فرشتوں کے سامنے کیا‘‘
آدمؑ کو پیدائش پر ملا اللہ تعالیٰ کا ایک گفٹ ، زبان ، بولنے کی صلاحیت ، انہیں تمام چیزوں کے نام سکھا دیئے گئے ، انہیں بولنے کی قوت دی گئی ۔ اور آپ فکر نہ کریں اس تھریڈ کے آخر میں پہنچ کر میں
آپ کو چند بڑی حیرت انگیز باتیں بتانے والا ہوں ۔ لیکن ذرا سوچیں ، ساڑھے چار لاکھ سال میں neanderthals ایک ’’نون‘‘ بولنا بھی نہیں سیکھ سکے لیکن بنی آدم ؟
آپ امیجن کر سکتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں 7000 زبانیں بولی جا رہی ہیں ؟
اور ذرہ سورۃ روم کی آیت 22 پڑھیں
آپ امیجن کر سکتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں 7000 زبانیں بولی جا رہی ہیں ؟
اور ذرہ سورۃ روم کی آیت 22 پڑھیں
’’تمہاری زبانوں اور رنگتوں کے اختلاف میں علم والوں کے لیے تو بڑی نشانیاں ہیں‘‘
آپ کو پتہ ہے صرف ایک جملہ بولنے کے لیے ہمارے مونہہ کے اندر 18 میکانزم کام کر رہے ہوتے ہیں لہٰذا ساڑھے چار لاکھ سال میں ’’بچوں جیسی آوازیں نکالنا سیکھنا‘‘ اور صرف پچاس ہزار سال میں 7000 unique زبانوں
آپ کو پتہ ہے صرف ایک جملہ بولنے کے لیے ہمارے مونہہ کے اندر 18 میکانزم کام کر رہے ہوتے ہیں لہٰذا ساڑھے چار لاکھ سال میں ’’بچوں جیسی آوازیں نکالنا سیکھنا‘‘ اور صرف پچاس ہزار سال میں 7000 unique زبانوں
کا اسٹیبلیش ہو جانا ؟ کیا ابھی بھی آپ کو نشانیاں نہیں نظر آ رہیں ؟
دوسری بات کہ کسی neanderthal کا قد ساڑھے پانچ فٹ سے زیادہ نہیں ہے ، ان کے مرد ساڑھے پانچ فٹ اور عورتیں پانچ فٹ کی ہوتی تھیں اور بخاری کی حدیث کے مطابق آدمؑ کا قد ساٹھ ہاتھ تھا ، کبھی آپ نے سوچا کہ
دوسری بات کہ کسی neanderthal کا قد ساڑھے پانچ فٹ سے زیادہ نہیں ہے ، ان کے مرد ساڑھے پانچ فٹ اور عورتیں پانچ فٹ کی ہوتی تھیں اور بخاری کی حدیث کے مطابق آدمؑ کا قد ساٹھ ہاتھ تھا ، کبھی آپ نے سوچا کہ
نبی کریم ﷺ نے جب آدمؑ کی ڈسکریپشن بتائی تو سب سے پہلے ان کے قد ہی کو کیوں مینشن کیا ؟ اسی لیے کیا تاکہ کوئی انہیں کسی اور مخلوق سے کنفیوز نہ کر دے ۔
پھر neanderthals میں 80 فیصد لوگ چالیس کی عمر سے پہلے ہی مر جاتے تھے ، اصل میں اس کی ایک سب سے بڑی وجہ اس دور کے جانور بھی تھے
پھر neanderthals میں 80 فیصد لوگ چالیس کی عمر سے پہلے ہی مر جاتے تھے ، اصل میں اس کی ایک سب سے بڑی وجہ اس دور کے جانور بھی تھے
جن کی غاروں میں رہنے کے لیے neanderthals کو ان سے لڑنا پڑتا تھا ۔ 2016 میں 124 ڈھانچوں کی بڑی گہرائی سے سٹڈی ہوئی اور پتہ چلا کہ ان میں سے 74 فیصد تو جانوروں کے حملوں سے ہی مر جاتے تھے جن میں سب سے زیادہ حملے غاروں کے ریچھ ، پھر شیروں کے اور پھر بھیڑیوں کے حملوں سے مرے تھے ۔
اور اب سورۃ اعراف کی آیت 10 پڑھیں جہاں آدمؑ کی پیدائش کے فوراً بعد کیا لکھا ہے
’’ہم نے تمہیں زمین میں رہنے کی جگہ دی اور ہم نے اس میں تمہارا رزق بھی رکھ دیا‘‘
واقعی آدمؑ کو اس زمین میں جگہ دی گئی ، ان سے پہلے یہ تمام جانور بھی معدوم ہوئے اور دنیا بنی آدم کے رہنے کے قابل ہوئی ۔
’’ہم نے تمہیں زمین میں رہنے کی جگہ دی اور ہم نے اس میں تمہارا رزق بھی رکھ دیا‘‘
واقعی آدمؑ کو اس زمین میں جگہ دی گئی ، ان سے پہلے یہ تمام جانور بھی معدوم ہوئے اور دنیا بنی آدم کے رہنے کے قابل ہوئی ۔
تیسری چیز ذرا غور کریں کہ neanderthals کن علاقوں میں رہتے تھے ، یوریشیا کے ملک جہاں ویسے ہی دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ دور ایک ice age کا دور تھا یعنی آدھی سے زیادہ دنیا میں برفیلا موسم اور آخری glacial period ان نینڈرتھلز کے معدوم ہو جانے کے بعد کہیں جا کر
ختم ہوا ہے ۔ تو وہ گرم علاقوں میں ہجرت کیوں نہیں کر گئے ؟ اس پوائینٹ سے ہمیں بڑی اہم باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں ۔
پہلی بات کہ وہ دن کی روشنی کو کم اور رات کے اندھیرے کو زیادہ پسند کرتے تھے ، دوسری بات کہ ان کے genes میں دو بڑے دلچسپ پروٹینز ملے ہیں ۔
پہلی بات کہ وہ دن کی روشنی کو کم اور رات کے اندھیرے کو زیادہ پسند کرتے تھے ، دوسری بات کہ ان کے genes میں دو بڑے دلچسپ پروٹینز ملے ہیں ۔
جن کے نام exoc-6 اور asb-1 اور یہ دونوں genes اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ دن کو سوتے اور رات کو جاگتے تھے ۔
اور بنی آدم کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے ؟ سورۃ نمل کی آیت 86 پڑھیں
’’کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم نے رات بنائی کہ وہ اس میں آرام حاصل کر لیں‘‘
اب آپ کے لیے یہ بات شاید
اور بنی آدم کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے ؟ سورۃ نمل کی آیت 86 پڑھیں
’’کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم نے رات بنائی کہ وہ اس میں آرام حاصل کر لیں‘‘
اب آپ کے لیے یہ بات شاید
نئی ہو لیکن بنی آدم کے جسم میں ایک بائیوکیمیکل پراسیس ہوتا ہے جسے circadian cycle کہتے ہیں اور بڑی حیرت کی بات ہے کہ یہ solar time کے ساتھ sync ہوتا ہے ۔ آسان ترین الفاظ میں رات کے وقت بنی آدم کی نیند فطری ہے وہ چاہے یا نہ چاہے اور neanderthals کے ساتھ ماجرا اس کے بالکل الٹ تھا ۔
وہ دن کو سوتے اور رات کو جاگتے تھے اور اگر آپ اس آیت کو پورا پڑھیں تو آگے لکھا ہوا ہے کہ اس میں لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں ۔
اوکے ، آگے چلتے ہیں ، نینڈرتھلز ambush hunters تھے یعنی وہ چھپ کر بارہ سنگھوں اور ہرنوں کا شکار کرتے تھے اور ان کی عام خوراک ibex ہرن ، جنگلی سوؤر ،
اوکے ، آگے چلتے ہیں ، نینڈرتھلز ambush hunters تھے یعنی وہ چھپ کر بارہ سنگھوں اور ہرنوں کا شکار کرتے تھے اور ان کی عام خوراک ibex ہرن ، جنگلی سوؤر ،
بالوں والا گینڈا اور میمتھ ہاتھی تھے ۔ تو اب ایک بڑی فطری سی کنفیوژن ہوتی ہے کہ یہ تو انسانی behavior ہے ، گروہ بنا کر ambush اور شکار کرنا لیکن ذرا سوچیں کہ دنیا میں اس وقت کتنے جانور ہیں جو ambush hunting کرتے ہیں ۔ بنگال ٹائیگر اس کی سب سے بڑی مثال ہیں اور جھنڈ کی صورت میں
شکار کرنے والے بھیڑیئے اور جنگلی کتوں کے بارے میں آپ سب جانتے ہیں لہذا یہ رویہ جانوروں سے زیادہ مختلف نہیں ۔
پھر اس کے بعد neanderthals کے نتھنے بہت بڑے تھے اور ان کے گھٹنوں کی ساخت بتاتی ہے کہ وہ 35 سے 40 میل تک بھاگ سکتے تھے لیکن شکار نہ ملنے پر ایک دوسرے کو بھی کھا جاتے تھے
پھر اس کے بعد neanderthals کے نتھنے بہت بڑے تھے اور ان کے گھٹنوں کی ساخت بتاتی ہے کہ وہ 35 سے 40 میل تک بھاگ سکتے تھے لیکن شکار نہ ملنے پر ایک دوسرے کو بھی کھا جاتے تھے
مثلاً کروشیا ، سپین اور بیلجیئم کی غاروں سے ملے ڈھانچے بتاتے ہیں کہ ایک نینڈرتھل کی ٹانگ کی ہڈی توڑ کر اس میں سے گودا نکالا گیا تھا ۔
فرانس سے ملے ایک ڈھانچے کی پسلیوں پر ایک اور نینڈرتھل کے دانتوں کے نشان ہیں یعنی ایک نینڈرتھل نے دوسرے کو کھا لیا تھا اور سپین میں تو ...
فرانس سے ملے ایک ڈھانچے کی پسلیوں پر ایک اور نینڈرتھل کے دانتوں کے نشان ہیں یعنی ایک نینڈرتھل نے دوسرے کو کھا لیا تھا اور سپین میں تو ...
بارہ ڈھانچے ایسے ملے ہیں جن کے سر توڑ کر ان میں سے دماغ نکال کر کھایا گیا اور ان میں سے تین ڈھانچے بچوں کے تھے ۔
اب ذرا بنی آدم کے بارے میں سورۃ اسراء کی آیت 70 پڑھیں
’’یقیناً ہم نے آدم کی اولاد کو بہت عزت دی انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں ، انہیں پاکیزہ چیزوں کے رزق دیئے
اب ذرا بنی آدم کے بارے میں سورۃ اسراء کی آیت 70 پڑھیں
’’یقیناً ہم نے آدم کی اولاد کو بہت عزت دی انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں ، انہیں پاکیزہ چیزوں کے رزق دیئے
انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں ، انہیں پاکیزہ چیزوں کے رزق دیئے اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں فضیلت عطاء فرمائی‘‘
آپ نے اس آیت پر غور کیا ؟ 40 میل بھاگنے والی مخلوق نینڈرتھیل کے مقابلے میں بنی آدم کو خشکی اور تری کی سواریاں ملیں ، ایکدوسرے کو کھا جانے والے نینڈرتھل کے
آپ نے اس آیت پر غور کیا ؟ 40 میل بھاگنے والی مخلوق نینڈرتھیل کے مقابلے میں بنی آدم کو خشکی اور تری کی سواریاں ملیں ، ایکدوسرے کو کھا جانے والے نینڈرتھل کے
مقابلے میں بنی آدم کو پاکیزہ چیزوں کے رزق ملے ، ابن عباسؓ ہی سے مروی ہے کہ آدمؑ نے اس دنیا میں جو پہلی خوراک کھائی وہ گندم تھی اور ذرا آیت کے آخری حصے پر غور کریں کہ بہت سی مخلوق پر بنی آدم کو فضیلت ملی ہے اور ان مخلوقات نینڈرتھلز یقیناً شامل ہیں ۔
بہرحال ایک اور بات بھی ذہن
بہرحال ایک اور بات بھی ذہن
میں رکھیں کہ بہت سی مخلوق پر فضیلت ملی ہے ، سب مخلوقات کا لفظ نہیں ہے ، اور ان باقی مخلوقات کا ٹاپک اپنی کتاب میں ۔
اب اس پوائینٹ پر پہنچ کر آپ کو اتنا واضح ہو جانا چاہیئے کہ neanderthals ایک علیحدہ مخلوق تھے جنہیں ہم انسان نہیں کہہ سکتے ، وہ صرف ایک فطری تقاضوں والی مخلوق تھی
اب اس پوائینٹ پر پہنچ کر آپ کو اتنا واضح ہو جانا چاہیئے کہ neanderthals ایک علیحدہ مخلوق تھے جنہیں ہم انسان نہیں کہہ سکتے ، وہ صرف ایک فطری تقاضوں والی مخلوق تھی
جس کا مقصد صرف کھانا ، پینا ، سونا اور افزائش نسل کرنا تھا اور فکر نہ کریں میں آپ کو اس کی بھی دلیل پیش کرتا ہوں
سورۃ شعراء کی آیت 184 پڑھیئے ! میرے پاس قرآن میں اس کا ترجمہ لکھا ہوا ہے
’’اس سے ڈرو جس نے تمہیں تخلیق کیا اور تم سے پہلے کے لوگوں کو‘‘
اس ’’پہلے کے لوگوں‘‘ کی
سورۃ شعراء کی آیت 184 پڑھیئے ! میرے پاس قرآن میں اس کا ترجمہ لکھا ہوا ہے
’’اس سے ڈرو جس نے تمہیں تخلیق کیا اور تم سے پہلے کے لوگوں کو‘‘
اس ’’پہلے کے لوگوں‘‘ کی
عربی پڑھیں ’’جبلۃ الاولین‘‘ ہے اور میرا آپ سے سوال ہے کہ جبلت کسے کہتے ہیں ؟ آپ سب نے اردو کی کلاس میں پڑھا ہو گا ’’انسان کے جبلی تقاضے‘‘ ۔
گائیز جبلت کہتے ہیں زندگی کی ایک بہت بنیادی شکل کو ، یعنی وہ مخلوق ہے جس کی ضرورت صرف کھانا ، پینا ، سونا اور افزائش نسل کرنا ہے ۔
گائیز جبلت کہتے ہیں زندگی کی ایک بہت بنیادی شکل کو ، یعنی وہ مخلوق ہے جس کی ضرورت صرف کھانا ، پینا ، سونا اور افزائش نسل کرنا ہے ۔
اور جبلۃ الاولین کے کانسیپٹ پر نینڈر تھل نامی یہ مخلوق بالکل فِٹ بیٹھتی نظر آتی ہے ۔
اب اس پوائینٹ سے آگے میں ایک چیلنجنگ موضوع کو ڈسکس کرنا چاہتا ہوں اور امید ہے کہ وہ ڈسکس ہو پائے گا کیوں کہ میں آلریڈی چار ہزار الفاظ پہ پہنچ گیا ہوں اور وہ ہے غاروں میں بنی پینٹنگز کا موضوع !
اب اس پوائینٹ سے آگے میں ایک چیلنجنگ موضوع کو ڈسکس کرنا چاہتا ہوں اور امید ہے کہ وہ ڈسکس ہو پائے گا کیوں کہ میں آلریڈی چار ہزار الفاظ پہ پہنچ گیا ہوں اور وہ ہے غاروں میں بنی پینٹنگز کا موضوع !
اب تک 27 ممالک میں ایسی غاریں ملی ہیں جن کی دیواروں پر پینٹنگز ہیں اور یہ پینٹنگز 45 ہزار سال تک پرانی ہیں ۔ صرف سپین اور فرانس میں ہی 350 پینٹنگز ملی ہیں ۔
ان کے بنانے میں زیادہ تر finger tracing کی تیکنیک استعمال ہوئی ہے یعنی آسان الفاظ میں انگلیوں سے بنانا ۔
ان کے بنانے میں زیادہ تر finger tracing کی تیکنیک استعمال ہوئی ہے یعنی آسان الفاظ میں انگلیوں سے بنانا ۔
اور اس کے بعد 25 ہزار سال تک ایک بہت خاموشی سی محسوس ہوتی ہے لیکن یہ cave paintings خاموش نہیں تھیں ، ان میں ایسی بھی پینٹنگز ہیں جو اس دوران ہی بنی تھیں لیکن یہ کس نے بنائیں ؟ کوئی نہیں جانتا ۔ زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ ان ممالک میں بھی بنی ہوئی ہیں جو بالکل جزیرے ہیں یعنی
ان تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں مثلاً borneo جو کہ انڈیونیشیا کا ایک جزیرہ ہے !
ان پینٹنگز کے حوالے سے سب سے زیادہ عجیب بات جو مجھے پڑھنے کو ملی وہ آرکیالوجی کی ایک کتاب a chauvet primer میں لکھی ہے کہ ’’زیادہ تر پینٹنگز کو پچھلے کئی ہزار سالوں میں موڈیفائی کیا گیا ہے‘‘ یعنی
ان پینٹنگز کے حوالے سے سب سے زیادہ عجیب بات جو مجھے پڑھنے کو ملی وہ آرکیالوجی کی ایک کتاب a chauvet primer میں لکھی ہے کہ ’’زیادہ تر پینٹنگز کو پچھلے کئی ہزار سالوں میں موڈیفائی کیا گیا ہے‘‘ یعنی
کسی نے انہیں درست کیا ہے ، انسان سے پہلے کسی نے انہیں ٹھیک کیا ہے ، کسی female کے ہاتھوں نے ، لیکن کس نے کیا ہے ؟ یہ بات کوئی نہیں جانتا ۔
اور ٹیکنیکلی خاموشی کا یہ دور ایوولوشن میں بھی غیر رسمی زبان میں missing link کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یعنی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے
اور ٹیکنیکلی خاموشی کا یہ دور ایوولوشن میں بھی غیر رسمی زبان میں missing link کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یعنی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے
ایوولوشن کی بھی کڑی وقتی طور پر یہاں کچھ عرصے کے لیے ٹوٹ گئی تھی ۔ اس دوران اس زمین پر کونسی مخلوق رہ رہی تھی ؟ سورۃ مدثر کی آیت 31 پڑھ لیں !
’’آپ کے رب کے لشکروں کو سوائے اس کے ، اور کوئی بھی نہیں جانتا‘‘
ذرا سپین کی altamira غار میں بنی ان پینٹنگز کو دیکھیں ! کس قدر خوبصورت
’’آپ کے رب کے لشکروں کو سوائے اس کے ، اور کوئی بھی نہیں جانتا‘‘
ذرا سپین کی altamira غار میں بنی ان پینٹنگز کو دیکھیں ! کس قدر خوبصورت
کس نے ان میں رنگ بھرے ، کس فیمیل کے ہاتھوں نے انہیں خوبصورت بنایا ایوولوشن تو اسے missing link کہہ دیتی ہے لیکن میں ، ایز فرقان قریشی ، یہی کہوں گا کہ میرے رب کے لشکروں کو سوائے اس کے ، اور کوئی بھی نہیں جانتا ۔ اور یہاں میں آپ کو ایک بہت ہی دلچسپ بات بتانا چاہتا ہوں ۔
جتنی بھی پندرہ ہزار سال سے زیادہ پرانی پینٹنگز ہیں ، ان میں انسانی فگر کہیں نظر نہیں آتا ، صرف جانوروں کی شبیہیں ہیں ! اس پوائینٹ پر صرف اتنا کہوں گا کہ ابن عمرؓ اور ابن عباسؓ دونوں کے مطابق آدمؑ سے ٹھیک پہلے ، اس دنیا میں جنات آباد تھے اور ابن کثیر نے دو مزید مخلوقات کا بھی
ذکر کیا ہے ہنون اور بنون لیکن اس بارے میں مکمل تفصیل ان شاء اللہ اپنی کتاب میں لکھوں گا ۔ بہرحال ، نینڈرتھلز کے چار لاکھ سالہ دور کے بعد ایک طرح کے چند خاموش ہزاروں سال گزرے ہیں اور ان کے بعد اس دنیا میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے ہمیشہ کے لیے اس کی شکل بدل دی ۔
اور وہ تھا آدمؑ کا اس دنیا میں اتارے جانا ! اوکے ، اب یہاں سے آگے آپ نے غور سے پڑھنا ہے ، آدمؑ و حواؑ کا اس دنیا پر نزول کے بعد ان کے ایک پوتے ادریسؑ تھے جنہوں نے آدمؑ کی زندگی کے 308 سال دیکھے اور آدمؑ کے ان پوتے کے بارے میں آپ کا جاننا بہت ضروری ہے ۔ معاویہ بن حکمؓ نے ایک دفعہ
نبی کریم ﷺ سے خط رمل یعنی ریت اور مٹی میں لکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک ایک پیغمبر ایسے گزرے ہیں جنہوں نے یہ لکھا اور ابن اسحاق کہتے ہیں کہ وہ پیغمبر ادریسؑ تھے ۔ اب میرا آپ سے سوال ہے کہ ریت اور مٹی میں لکھنے کی بات سن کر آپ کے ذہن میں کیا چیز آتی ہے ؟
اوکے ، ذرا ان تختیوں پر لکھے ان الفاظ کو دیکھیں ان میں ستارہ ، مہینہ ، آدمی ، بادشاہ ، فصل ، بیل ، مقدر ، مچھلی ، نینوا ، رات اور خدا جیسے الفاظ لکھے ہیں جو نینڈرتھل کے برعکس ایک بہت systemetic معاشرہ دکھاتے ہیں ۔ ان الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ ذراعت ، انسان کے سٹیٹس ، وقت ، معبود ،
اور وہ تھا آدمؑ کو تمام نام سکھا کر اس دنیا میں اتارے جانا ۔
لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی ، میں آپ کو صرف چند الفاظ کے معنی دکھا رہا ہوں حالانکہ 6000 تختیوں میں تو صرف قانون کی باتیں لکھی ہیں ، اور باقی تختیوں میں گرد و نواح کے علاقوں سے تعلقات ، کچھ آسمانی دعائیں ، ادویات کا
لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی ، میں آپ کو صرف چند الفاظ کے معنی دکھا رہا ہوں حالانکہ 6000 تختیوں میں تو صرف قانون کی باتیں لکھی ہیں ، اور باقی تختیوں میں گرد و نواح کے علاقوں سے تعلقات ، کچھ آسمانی دعائیں ، ادویات کا
استعمال ، کچھ ستاروں اور سیاروں کی باتیں ، کچھ نظمیں اور کہانیاں ، کائینات کی تخلیق کی باتیں اور ایک تختی پر تو adapa کا نام بھی لکھا ہوا تھا جو تختیوں کے مطابق پہلے انسان تھے اور یہ ریفرینس صرف اور صرف آدمؑ کی طرف ہو سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک پوری تختی پر نوحؑ کے عظیم سیلاب کا
شہر نپور میں محنت کرتا تھا لیکن نہ اس کے پاس چاندی تھی نہ اس کے پاس سونا تھا ، اس کے گھر میں گندم بھی نہیں تھی ، اس کا دل بہت جلتا تھا ، اس کے چہرے سے اداسی نظر آتی تھی ، اس کے کپڑے بھی نہیں گندے تھے ، ایک دن اس نے سوچا ۔۔۔‘‘
اور پھر ایسے کہانی آگے چلتی ہے لیکن its amazing guys
اور پھر ایسے کہانی آگے چلتی ہے لیکن its amazing guys
ذرا امیجن کریں کہ یہ کہانی کسی نے آدمؑ کی صرف چند پشتیں گزرنے کے بعد مٹی کی تختیوں پر لکھی تھی ، حتیٰ کہ آج کے زمانے میں بھی ہم ایسی ہی کہانیاں اپنے بچوں کو سناتے ہیں ۔
بہرحال ادریسؑ ، آدمؑ کی زندگی ہی میں موجود تھے اور انہوں نے ہی سب سے پہلے ستاروں کی movements کو آبزرو کیا
بہرحال ادریسؑ ، آدمؑ کی زندگی ہی میں موجود تھے اور انہوں نے ہی سب سے پہلے ستاروں کی movements کو آبزرو کیا
، انہوں نے ہی سائینٹیفیک وزن اور پیمانے بنائے ، انہوں نے ہی سب سے پہلے قلم کا استعمال شروع کیا ، قرآن پاک میں ان کا نام دو مرتبہ آیا ہے اور ایک جگہ تو یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ہم نے انہیں ایک اونچی جگہ پر اٹھا لیا ، جو بذات خود ایک بہت دلچسپ اور حیران کن تفصیل ہے لیکن ان شاء اللہ
ادریسؑ کے بارے میں مزید تفصیل اپنی کتاب میں ڈسکس کروں گا ۔
ادریسؑ کے صرف چند ہزار سال بعد ہی سمرۃ کی تہذیب سامنے آئی اور ادریسؑ ہی کی دی ہوئی تعلیمات کے تحت انہوں نے 60 منٹ اور 60 سیکنڈز والے وقت کے پیمانے بنائے اور بیسکلی ادریسؑ ہی کے نام سے عربی لفظ ’’درس‘‘ بھی ہے یعنی
ادریسؑ کے صرف چند ہزار سال بعد ہی سمرۃ کی تہذیب سامنے آئی اور ادریسؑ ہی کی دی ہوئی تعلیمات کے تحت انہوں نے 60 منٹ اور 60 سیکنڈز والے وقت کے پیمانے بنائے اور بیسکلی ادریسؑ ہی کے نام سے عربی لفظ ’’درس‘‘ بھی ہے یعنی
’’تعلیم دینا‘‘ ۔ طبری کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں ملا تحفہ ’’عقل اور علم‘‘ تھا ، ذرا تصور کریں کہ وہ کیا عظیم علم ہو گا ۔
آخر میں جاتے جاتے میں آپ کو گیارہویں صدی میں لکھی ایک کتاب ’’الخزاری‘‘ میں سے ایک واقعہ سناتا ہوں جو سپین کے ایک یہودی عالم yahuda halavi نے بڑی
آخر میں جاتے جاتے میں آپ کو گیارہویں صدی میں لکھی ایک کتاب ’’الخزاری‘‘ میں سے ایک واقعہ سناتا ہوں جو سپین کے ایک یہودی عالم yahuda halavi نے بڑی
ایمانداری سے لکھا کہ ایک دفعہ خزاریوں کے بادشاہ (ترکی اور عراق میں ایک جگہ) نے اپنے دربار میں موجود یہودی ، عیسائی اور مسلمان علماء سے ایک سوال پوچھا کہ سچا مذہب کونسا ہے ؟ مجھ تک خبر پہنچی ہے کہ انڈیا میں رہنے والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس لاکھوں سال پرانی عمارتیں ہیں ۔
اس پر یہودی عالم نے کہا کہ انڈیا میں چونکہ کوئی مستقل مذہب نہیں ہے اس لیے آپ ان کی باتوں کو سنجیدہ نہ لیں ، ایسے ہی عیسائی عالم نے بھی انڈین مذاہب کو dissolute قرار دے دیا ، لیکن مسلمان عالم نے کہا کہ اس سے میرے عقیدے میں کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ آدم اور نوح پہلے انسان ہیں ۔
اور میں حیران ہوں کہ یہ کس قدر سمپل مگر سچا جواب ہے ۔ گائیز یہ دنیا نہ ہی ہماری تھی ، اور نہ ہی ہماری رہے گی ، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سے پہلے بھی ادھر مخلوقات آباد تھیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آدمؑ کو اس دنیا میں کہیں اور ہی سے بھیجا گیا تھا ۔ اور اس کا سب سے بڑا ثبوت ؟
لیکن ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھیئے گا ، سورۃ فاطر آیت 16
’’اگر وہ چاہے ، تو تم سب کو فناء کر دے ، اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق لے آئے ، اور یہ کام اس کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے‘‘
فرقان قریشی
’’اگر وہ چاہے ، تو تم سب کو فناء کر دے ، اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق لے آئے ، اور یہ کام اس کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے‘‘
فرقان قریشی
جاري تحميل الاقتراحات...