بہت زمانے پہلے کی بات ہے کہ اللہ میاں نے نوح نام کے ایک نبی بھیجے ، اس وقت لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے ، نوحؑ نے لوگوں کو منع کیا کہ ایسا نہ کرو اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرو لیکن لوگوں نے مذاق اڑایا ۔ اس پر اللہ میاں نے نوحؑ کو حکم دیا کہ ایک بہت بڑی کشتی بناؤ اور اپنے گھر والوں
سمیت سارے جانوروں کو اس کشتی میں رکھ لو کیوں کہ اب میں ان لوگوں کو سزا دینے والا ہوں ۔
جب یہ کشتی بن گئی اور جانور اس میں چڑھ گئے تو آہستہ آہستہ بارش شروع ہوئی جو دیکھتے دیکھتے بہت تیز ہو گئی اور اتنی برسی کہ سارا شہر پانی سے بھر گیا لیکن بارش پھر بھی نہیں رکی یہاں تک کہ
جب یہ کشتی بن گئی اور جانور اس میں چڑھ گئے تو آہستہ آہستہ بارش شروع ہوئی جو دیکھتے دیکھتے بہت تیز ہو گئی اور اتنی برسی کہ سارا شہر پانی سے بھر گیا لیکن بارش پھر بھی نہیں رکی یہاں تک کہ
پوری دنیا بارش ، طوفان اور سمندر میں ڈوب گئی ۔ لیکن نوحؑ ، ان کے گھر والے اور کشتی میں بیٹھے سارے جانور بچ گئے ۔
ایک پانچ سال کے بچے کے لیے یہ بہت fascinating کہانی تھی ، میں نے سیکھا کہ اللہ میاں اپنے نیک بندوں کو ضرور بچا لیتے ہیں ، تیز بارشیں اور طوفان انہیں کچھ نہیں کہتے ۔
ایک پانچ سال کے بچے کے لیے یہ بہت fascinating کہانی تھی ، میں نے سیکھا کہ اللہ میاں اپنے نیک بندوں کو ضرور بچا لیتے ہیں ، تیز بارشیں اور طوفان انہیں کچھ نہیں کہتے ۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ میرے لیے دنیا کے سارے جانوروں کے کشتی میں سوار ہو جانے والی بات بھی بہت زبردست تھی ۔ بارش کا ڈر تو میرے ذہن سے نکل گیا لیکن میں اتنے سارے جانوروں شیر ، چیتا ، ہاتھی ، چوہا ، ذرافہ اور جن جن کے نام پانچ سال کی عمر تک سیکھے تھے ، سب کے بارے میں سوچنے لگ گیا ۔
یہ 28 سال پہلے ہونے والا میری زندگی کا ایک واقعہ ہے ! لیکن اپنی امی کی اس یاد کی طرح یہ سوال بھی میرے ذہن سے کبھی نہیں نکلا ، اور میں ہمیشہ سوچتا کہ ایک کشتی میں سارے جانور کیسے آ سکتے ہیں ؟
جوان ہونے کے بعد کبھی کبھار دوستوں کے ساتھ یہ سوال ڈسکس ہوتا تو زیادہ تر لوگ
جوان ہونے کے بعد کبھی کبھار دوستوں کے ساتھ یہ سوال ڈسکس ہوتا تو زیادہ تر لوگ
ایسی باتوں میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے ٹال دیتے ، کچھ کہتے کہ یار سیدھی سی بات ہے یہ معجزہ تھا فرقان ، تمہیں کیوں اتنا تجسس ہے ، کچھ کہہ دیتے کہ فرقان ، دین میں ایسے سوال نہیں پوچھا کرتے گناہ ملتا ہے ۔
میں خاموش تو ہو جاتا لیکن سوال پھر بھی ذہن سے نہیں نکلا ۔
میں خاموش تو ہو جاتا لیکن سوال پھر بھی ذہن سے نہیں نکلا ۔
آخر نوحؑ کا نام قرآن پاک میں 43 دفعہ یعنی تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ دفعہ مینشن ہے تو ہر دفعہ قرآن پاک پڑھنے پر ان کی طرف توجہ جاتی ۔
پھر دو سال پہلے ایک تھیوری سامنے آئی جس میں اس شخص نے کہا کہ اصل میں اس دور کی ٹیکنالوجی بہت عروج پہ تھی ، نوحؑ کے پاس DNA کا علم تھا ۔
پھر دو سال پہلے ایک تھیوری سامنے آئی جس میں اس شخص نے کہا کہ اصل میں اس دور کی ٹیکنالوجی بہت عروج پہ تھی ، نوحؑ کے پاس DNA کا علم تھا ۔
اور اس طرح انہوں نے دنیا بھر کے تمام جانوروں کا DNA سیمپل لیا اور اپنی کشتی میں رکھ لیا تاکہ سیلاب کے بعد اس DNA سے ہی دوبارہ جانوروں کو پیدا کیا جا سکے ۔
یہ تھیوری fascinating تو تھی کیوں کہ 2008 میں ناروے نے ایک بہت عجیب سا پراجیکٹ بنایا تھا ۔
یہ تھیوری fascinating تو تھی کیوں کہ 2008 میں ناروے نے ایک بہت عجیب سا پراجیکٹ بنایا تھا ۔
اور اسے بنانے کے پیچھے یہ سوچ تھی کہ اگر تمام دنیا میں جنگ شروع ہو جائے ، تباہی پھیل جائے تو ہماری تمام فصلوں ، پھولوں اور پھلوں کے بیچ کسی ایک جگہ محفوظ ہوں تاکہ دوبارہ سے دنیا میں خوراک پیدا کی جا سکے ۔
لہٰذا انہوں نے یہ سٹوریج فیسیلیٹی بنائی اور اس کا ڈیزائین ایسا ہے کہ
لہٰذا انہوں نے یہ سٹوریج فیسیلیٹی بنائی اور اس کا ڈیزائین ایسا ہے کہ
آج اگر تیسری جنگ ہوتی ہے ، تمام انسان مر جاتے ہیں ، بجلی ختم ہو جاتی ہے تو اس کے بعد بھی یہ عمارت 200 سال تک اپنے اندر پڑے بیج خراب نہیں ہونے دے گی ۔ اور اس وقت اس والٹ میں مختلف اقسام کے دو کروڑ بیج محفوظ پڑے ہیں ۔
اب یہ DNA والی تھیوری تھی تو کافی دلچسپ لیکن ایک مسئلہ تھا ۔
اب یہ DNA والی تھیوری تھی تو کافی دلچسپ لیکن ایک مسئلہ تھا ۔
اگر یہ تھیوری مان لی جائے تو نہ صرف ابن عباسؓ اور زید بن اسلمؓ کی روایتوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے کہ اس کشتی میں پہلے پرندے سوار ہوئے پھر جانور اور سب سے آخر میں گدھا ۔ بلکہ قرآن پاک کے narrative کو بھی سمجھنا مشکل ہو جائے گا کہ ’’ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک جوڑا رکھ لیں‘‘ ۔
اب میں آپ کو اپنے ساتھ ایک سفر پر لے جانا چاہتا ہوں ، ایک پرانے سوال کا جواب ڈھونڈنے ۔
جانور اس کشتی میں کیسے پورے آئے ہوں گے ؟ اور ہمارا جواب ڈھونڈنے کا یہ سفر قرآن ہی کی آیات میں سے ہو گا ۔
ذرا سورۃ نحل کی آیت 13 پڑھیئے ! میرے پاس موجود قرآن پاک میں اس کا اردو ترجمہ ہے ۔
جانور اس کشتی میں کیسے پورے آئے ہوں گے ؟ اور ہمارا جواب ڈھونڈنے کا یہ سفر قرآن ہی کی آیات میں سے ہو گا ۔
ذرا سورۃ نحل کی آیت 13 پڑھیئے ! میرے پاس موجود قرآن پاک میں اس کا اردو ترجمہ ہے ۔
’’اور جو کچھ اس نے تمہارے لیے زمین میں پھیلایا ہے اس کے مختلف رنگ ہیں اس میں سبق حاصل کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں‘‘
آپ نے یہ آیت کئی دفعہ پڑھی ہو گی ، اور یقیناً سبحان اللہ کہہ کر آگے بڑھ گئے ہوں گے کہ ہاں یار دیکھو ، کتنے رنگوں کی چیزیں ہیں ، ماشاء اللہ گلاب کو دیکھو
آپ نے یہ آیت کئی دفعہ پڑھی ہو گی ، اور یقیناً سبحان اللہ کہہ کر آگے بڑھ گئے ہوں گے کہ ہاں یار دیکھو ، کتنے رنگوں کی چیزیں ہیں ، ماشاء اللہ گلاب کو دیکھو
لال رنگ کا ہے ، آسمان کو دیکھو نیلے رنگ کا ہے ، واہ سبحان اللہ ، چلو اب اگلی آیت پڑھو ۔
لیکن کیا آپ نے کبھی اس آیت کے deeper meaning کو سمجھنے کی کوشش کی ہے ؟ زمین میں پھیلائے جانے کا کیا مطلب ہے ؟ یہ کونسے رنگوں کی بات ہو رہی ہے ؟ اور آخر اس میں نشانیاں کونسی ہیں ؟
لیکن کیا آپ نے کبھی اس آیت کے deeper meaning کو سمجھنے کی کوشش کی ہے ؟ زمین میں پھیلائے جانے کا کیا مطلب ہے ؟ یہ کونسے رنگوں کی بات ہو رہی ہے ؟ اور آخر اس میں نشانیاں کونسی ہیں ؟
سب سے پہلی بات ! کہ اس آیت میں پھیلائے جانے کے لیے ’’ذَرَأَ‘‘ کا لفظ ہے جس کا لفظی معنی ...
’’ضرب دینا ، ملٹی پلائے کرنا ‘‘
یا پھر
’’کسی ایک چیز کو بڑھا دینا‘‘
ہے اور اسی لیے اولاد کے لیے بھی اکثر ذریت کا لفظ استعمال ہوتا ہے جو ذرأ ہی سے نکلا لفظ ہے ۔
’’ضرب دینا ، ملٹی پلائے کرنا ‘‘
یا پھر
’’کسی ایک چیز کو بڑھا دینا‘‘
ہے اور اسی لیے اولاد کے لیے بھی اکثر ذریت کا لفظ استعمال ہوتا ہے جو ذرأ ہی سے نکلا لفظ ہے ۔
اور رنگ کے لیے ’’لون‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا ایک مطلب تو واقعی رنگ یعنی color ہے لیکن اس کا ایک اور مطلب بھی ہے
’’نوع‘‘ یعنی ’’قِسم ، type ، kind‘‘
یا پھر
’’ایک جیسا مزاج رکھنے والی چیزوں کا گروپ‘‘ ۔
’’نوع‘‘ یعنی ’’قِسم ، type ، kind‘‘
یا پھر
’’ایک جیسا مزاج رکھنے والی چیزوں کا گروپ‘‘ ۔
اور اس آیت کے اس deeper meaning نے مجھے احساس دلایا کہ yessss ، یہاں چھپا ہے میرے سوال کا جواب ۔
گائیز ! اس آیت کے اندر پورے کا پورا taxonomy کا علم پوشیدہ ہے ، یعنی تمام جاندار مخلوقات کی classification یا ان کی درجہ بندی کا علم ۔
گائیز ! اس آیت کے اندر پورے کا پورا taxonomy کا علم پوشیدہ ہے ، یعنی تمام جاندار مخلوقات کی classification یا ان کی درجہ بندی کا علم ۔
جس سے جانوروں کو ان کے مزاج کے اعتبار سے مختلف اقسام میں تقسیم کر کے بہت چھوٹے سے ایریا میں فِٹ کیا جا سکتا تھا ۔
مجھے اندازہ ہے کہ آپ میں سے زیادہ تر کو ابھی میری بات کی سمجھ نہیں آئی ، اس لیے غور سے آیت کا مفہوم پڑھیئے !
مجھے اندازہ ہے کہ آپ میں سے زیادہ تر کو ابھی میری بات کی سمجھ نہیں آئی ، اس لیے غور سے آیت کا مفہوم پڑھیئے !
’’زمین میں تمہارے لیے تھوڑے سے بڑھ کر زیادہ ہونے والی چیزوں میں مختلف انواع ہیں ، اقسام ہیں ، مزاج ہیں ، species ہیں اور اس میں سیکھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں‘‘
اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ فرقان ایسے ہی اپنی طرف سے مطلب نکال رہا ہے تو سورۃ فاطر کی آیت 28 پڑھ لیں ۔
اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ فرقان ایسے ہی اپنی طرف سے مطلب نکال رہا ہے تو سورۃ فاطر کی آیت 28 پڑھ لیں ۔
’’اور اسی طرح انسانوں ، جانداروں اور مویشیوں کے بھی مختلف رنگ (اقسام یا مزاج) ہیں اور اللہ سے ڈرتے اسی رنگ (قسم یا مزاج) والے ہیں جو علم رکھتے ہوں‘‘
اگر ابھی نہیں سمجھ آئی تو چلیں میں آپ کو ایک پریکٹیکل مثال بھی دے دیتا ہوں ، آپ میں سے جنہوں نے خلیج کی ریاستیں وزٹ کر رکھی ہیں
اگر ابھی نہیں سمجھ آئی تو چلیں میں آپ کو ایک پریکٹیکل مثال بھی دے دیتا ہوں ، آپ میں سے جنہوں نے خلیج کی ریاستیں وزٹ کر رکھی ہیں
وہ اچھی طرح یہ بات جانتے ہیں کہ عربی لوگ آپس میں ایک دوسرے سے ’’شلونک‘‘ (شو لون -ک) کہہ کر بھی حال چال پوچھتے ہیں ۔
اور یہ ہماری اردو میں ویسا ہی ہے کہ ’’کیسے مزاج ہیں‘‘
اور اب یہاں سے میرے تھریڈ کا دلچسپ ترین حصہ شروع ہونے والا ہے لہٰذا ذرا اب ریلیکس ہو کر پڑھتے جایئے !
اور یہ ہماری اردو میں ویسا ہی ہے کہ ’’کیسے مزاج ہیں‘‘
اور اب یہاں سے میرے تھریڈ کا دلچسپ ترین حصہ شروع ہونے والا ہے لہٰذا ذرا اب ریلیکس ہو کر پڑھتے جایئے !
’’تمام جانداروں کی زوج میں سے دو کو اس کشتی میں سوار کر لیں اور اپنے گھرانے والوں کو بھی‘‘
اس زوج کے لفظ کی ٹرانسلیشن تو میں تھوڑا آگے چل کہ آپ کو بتاؤں گا لیکن اس سے پہلے بڑا سوال ! دنیا بھر کے جانوروں کے جوڑوں میں سیلیکشن کیسے ہو گی ؟
اس زوج کے لفظ کی ٹرانسلیشن تو میں تھوڑا آگے چل کہ آپ کو بتاؤں گا لیکن اس سے پہلے بڑا سوال ! دنیا بھر کے جانوروں کے جوڑوں میں سیلیکشن کیسے ہو گی ؟
اس وقت زمین پر ، پانی میں اور ہوا میں اڑنے والے جانداروں کو ملا کر 87 لاکھ species کے جانور موجود ہیں ۔ یہ میں آپ کو ان کی آبادی نہیں ، بلکہ اقسام کا بتا رہا ہوں جن میں سے چیتا ایک species ہے ، شارک ایک species ہے ، عقاب ایک species ہے اور انسان ایک species ہے ۔
اس حساب سے نوحؑ کو پونے دو کروڑ جانداروں کو کشتی پر لانا چاہیئے تھا اور یہی تو میرا سوال ہے کہ کیسے ؟
اوکے ، سب سے پہلے تو آپ ان 87 لاکھ species میں سے marine life یعنی سمندری جانوروں کو تو نکال دیں کیوں کہ وہ پانی میں رہ سکتے ہیں انہیں کشتی کی ضرورت نہیں ہے ۔
اوکے ، سب سے پہلے تو آپ ان 87 لاکھ species میں سے marine life یعنی سمندری جانوروں کو تو نکال دیں کیوں کہ وہ پانی میں رہ سکتے ہیں انہیں کشتی کی ضرورت نہیں ہے ۔
سمندروں کے اندر ابھی تک ہم نے چھوٹے سے plankton سے لے کر دنیا کے سب سے بڑے جانور blue whale تک کے سائیز کی 2 لاکھ species دریافت کی ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 20 لاکھ دریافت ہونی ابھی باقی ہیں لہٰذا مخلوقات کا ایک بہت بڑا حصہ تو ویسے ہی نکل گیا ۔
دوسری چیز ، کیڑے مکوڑے یعنی حشرات الارض ! اور ٹیکنیکلی کیڑے سانس نہیں لیتے ، ان کے پھیپھڑے نہیں ہوتے بلکہ ان کے جسم ماحول سے ڈائیریکٹلی آکسیجن جذب کرتے ہیں ۔ اسی لیے تو وہ مٹی ، پانی اور کیچڑ میں زندہ رہ لیتے ہیں اور ان 87 لاکھ species میں سے 60 لاکھ سپیشز تو صرف ان ہی
تیسری بات ، باقی جانوروں کی طرف آئیں لیکن ساتھ ساتھ ان دو آیات میں ملی انسٹرکشنز کو اپنے ذہن میں رکھیں
’’تمام مخلوقات کی انواع ہیں ، مزاج ہیں ، سپیشز ہیں اور حکم یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے زوج کو لینا ہے‘‘
اور اس پوائینٹ سے آگے میں آپ کو ایک انتہائی دلچسپ بات بتانے لگا ہوں ۔
’’تمام مخلوقات کی انواع ہیں ، مزاج ہیں ، سپیشز ہیں اور حکم یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے زوج کو لینا ہے‘‘
اور اس پوائینٹ سے آگے میں آپ کو ایک انتہائی دلچسپ بات بتانے لگا ہوں ۔
بائیولوجی میں جانوروں کی سپیشز کی مختلف طریقے سے رینکنگ کی جاتی ہے ، اس علم کا نام ہے taxonomy یہ یونانی لفظ taxis سے نکلا ہے جس کا مطلب arrangement یا ترتیب دینا ہوتا ہے ۔ اب جب جانداروں کو اقسام کے حساب سے گروہوں میں تقسیم کرنا ہو تو ان کی کچھ اس طرح سٹڈی کی جاتی ہے ۔
دوسرا رینک ہے domain یعنی کہ وہ جاندار ایک خلیئے والا بیکٹیریا ہے یا اس کے جسم میں ایک سے زیادہ خلیے ہیں ؟ میں اور آپ زیادہ تر ایک سے زیادہ خلیے والوں سے واقف ہیں کیوں کہ وہی عام زندگی میں نظر آتے ہیں ۔
تیسرا رینک ہے kingdom یعنی کہ وہ جاندار جانور ہے ، پودا ہے یا فنگس ہے ؟
تیسرا رینک ہے kingdom یعنی کہ وہ جاندار جانور ہے ، پودا ہے یا فنگس ہے ؟
چوتھا رینک ہے phyla یعنی کہ اس جاندار کا باڈی پلان کیسا ہے ؟ اس میں ریڑھ کی ہڈی ہے یا نہیں ؟ یا جیلی فِش کی طرح ہے ؟ بغیر ریڑھ کی ہڈی والے زیادہ تر جانور سمندروں میں رہتے ہیں اور ریڑھ کی ہڈی والے جانور آپ کو ہر طرف نظر آتے ہیں ۔
پانچواں رینک ہے class یعنی کہ وہ جاندار زمین پر
پانچواں رینک ہے class یعنی کہ وہ جاندار زمین پر
رہتا ہے یا ہوا میں اڑنے والا ہے ؟ اپنے بچوں کو دودھ پلاتا ہے یا انڈے دیتا ہے ؟ اور ہماری یعنی انسانوں کی کلاس mammals ہے شاید آپ نے کبھی میٹرک میں پڑھا ہو یعنی دودھ پلانے والے ۔
چھٹا رینک ہے order یعنی کہ وہ جاندار سبزی کھانے والے اونٹ یا زرافے کی طرح کھُر والا ہے یا پھر
چھٹا رینک ہے order یعنی کہ وہ جاندار سبزی کھانے والے اونٹ یا زرافے کی طرح کھُر والا ہے یا پھر
گوشت خور اور پنجوں والے ریچھ کی طرح ہے ؟ اس وقت 26 مختلف آرڈرز کے جاندار ہیں ۔
ساتواں رینک ہے family یعنی کہ ’’زوج‘‘ ، مختلف orders کے وہ تمام جانور جو ایک جیسے features رکھتے ہوں مثلاً کتا ، بھیڑیا ، لومڑی ، گیدڑ یہ سب canidae family کے جانور ہیں ۔ یہ الفاظ شاید آپ نے کبھی
ساتواں رینک ہے family یعنی کہ ’’زوج‘‘ ، مختلف orders کے وہ تمام جانور جو ایک جیسے features رکھتے ہوں مثلاً کتا ، بھیڑیا ، لومڑی ، گیدڑ یہ سب canidae family کے جانور ہیں ۔ یہ الفاظ شاید آپ نے کبھی
نیشنل جیوگرافک پہ سنے بھی ہوں اور اس ہی رینک کو آپ نے ذہن میں رکھنا ہے ۔
آٹھواں رینک ہے genus یعنی کہ وہ تمام جانور جو ایک دوسرے سے بہت قریبی تعلق رکھتے ہیں مثلاً tiger ، leopard اور snow-leopard ان تینوں کو panthera genus کے گروپ میں رکھا جاتا ہے ۔ بائی دا ویز یہ لفظ genus تو
آٹھواں رینک ہے genus یعنی کہ وہ تمام جانور جو ایک دوسرے سے بہت قریبی تعلق رکھتے ہیں مثلاً tiger ، leopard اور snow-leopard ان تینوں کو panthera genus کے گروپ میں رکھا جاتا ہے ۔ بائی دا ویز یہ لفظ genus تو
ہم سب نے کہیں نہ کہیں سن رکھا ہے ۔
اور آخری رینک ہے species یعنی کسی خاص قسم کی خصوصیات رکھنے والی ایک قسم ، مثلاً کتا ایک species ہے ، برفانی ریچھ ایک سپیشز ہے اور یہ لفظ species تو مجھے یقین ہے آپ سب نے سن رکھا ہو گا ۔
اب مخلوقات کی ان تمام rankings کو غور سے دیکھیں !
اور آخری رینک ہے species یعنی کسی خاص قسم کی خصوصیات رکھنے والی ایک قسم ، مثلاً کتا ایک species ہے ، برفانی ریچھ ایک سپیشز ہے اور یہ لفظ species تو مجھے یقین ہے آپ سب نے سن رکھا ہو گا ۔
اب مخلوقات کی ان تمام rankings کو غور سے دیکھیں !
نوحؑ کو کشتی پر چڑھانے کے لیے جاندار چاہیں ، ان جانداروں میں سے بھی coral reef جیسی آبی حیات اور کیڑے مکوڑے تو ویسے ہی باہر ہیں ، کورل کی تصویر میں نے ابھی آپ کو پہلے دکھائی تھی ۔
باقی بچے animal kingdom کے جانور تو ان میں سے بھی صرف ریڑھ کی ہڈی والے جانور چاہیں ، اور پھر
باقی بچے animal kingdom کے جانور تو ان میں سے بھی صرف ریڑھ کی ہڈی والے جانور چاہیں ، اور پھر
ان مچھلیوں کو بھی نکال دیا جائے تو پیچھے تیس ہزار ایسی سپیشز بچتی ہیں جنہیں کشتی پر سوار کرنے کی ضرورت تھی اور ان تیس ہزار میں بھی ایسے پرندے اور جانور ہیں جن کے انڈے لیے جا سکتے تھے لیکن ابھی میں تیس ہزار میں سے بھی کم کرتا ہوں بس دیکھتے جایئے کہ قرآن ہمیں کیسے گائیڈ کر رہا ہے ۔
دیئے گئے حکم کو دوبارہ دیکھیئے
’’تمام جانداروں کی زوج میں سے دو کو سوار کرو‘‘
میں نے کہا تھا کہ زوج کا ترجمہ آگے چل کہ بتاؤں گا زوج کس کو کہتے ہیں ؟ زوج ایک جوڑے کی فیملی کو کہتے ہیں ایک ایسا جوڑا جو آگے ایک اور فیملی بھی بنا سکتا ہے جو ایک طرح کا reproduction unit ہوتا ہے ۔
’’تمام جانداروں کی زوج میں سے دو کو سوار کرو‘‘
میں نے کہا تھا کہ زوج کا ترجمہ آگے چل کہ بتاؤں گا زوج کس کو کہتے ہیں ؟ زوج ایک جوڑے کی فیملی کو کہتے ہیں ایک ایسا جوڑا جو آگے ایک اور فیملی بھی بنا سکتا ہے جو ایک طرح کا reproduction unit ہوتا ہے ۔
اور اب اس ساتویں رینک کو دیکھیں جسے میں نے ذہن میں رکھنے کا کہا تھا ، family کا رینک ، اور ذرا اس میں موجود جانوروں پر غور کریں ، اس پوری کلاسیفیکیشن میں ایک فیملی کے زیادہ تر جانور ایک دوسرے کے ساتھ mating کر کے افزائش نسل یا reproduce کر سکتے ہیں ۔
چلیں میں آپ کو ایک بہت عام مثال گدھوں ، گھوڑوں اور زیبرا کی دے دیتا ہوں جو تینوں equidae فیملی سے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ mate کر سکتے ہیں ۔ خچر کے بارے میں آپ سب جانتے ہیں جو گھوڑے اور گدھے کی mating کا نتیجہ ہے ۔
آسان ترین الفاظ میں نوحؑ کو حکم ہوا کہ تمام جانوروں کی زوج میں سے ایک ایک جوڑا کشتی پر سوار کر لیں ، ایک زوج کے جانور ، ایک فیملی کے جانور ۔ کیوں کہ ایک فیملی کے جانور آپس میں ملٹی پلائے کر کے آگے کئی species بنا سکتے ہیں ۔ گائیز ان آیات میں تو taxonomy کا پورا علم پوشیدہ تھا ۔
اوکے ، اب family کے رینک یا لیول پر پھر کتنے جانوروں کو اکٹھا کیا جائے ؟
بڑی محنت اور محتاط کیلکولیشنز کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کشتی پر سوار ہوئے تمام جانوروں میں mammals یعنی دودھ پلانے والے جانور ، birds یعنی پرندے ، reptiles یعنی رینگنے والے جانور اور amphibians یعنی
بڑی محنت اور محتاط کیلکولیشنز کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کشتی پر سوار ہوئے تمام جانوروں میں mammals یعنی دودھ پلانے والے جانور ، birds یعنی پرندے ، reptiles یعنی رینگنے والے جانور اور amphibians یعنی
وہ جانور جو پانی اور خشکی دونوں میں رہتے ہیں یعنی کچھوا ، مینڈک وغیرہ ، ان سب کو ملا کہ کل 7000 مختلف species کے چھوٹے بڑے جانور کشتی پر سوار ہونے تھے ۔جن میں بہت سے جانور ہیں ، بہت سوں کے انڈے بھی ہیں اور انجیل سے ایک ایڈیشنل بات پتہ چلتی ہے کہ جانور جوان ، کم عمر اور صاف ہوں ۔
اور یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے کیوں کہ جوان جانوروں کا مطلب ہے افزائش نسل کے زیادہ چانسز اور کم عمر جانوروں کا مطلب ہے کہ چھوٹے جانور چھوٹی جگہ میں زیادہ پورے آ سکیں گے ۔ البتہ جانور صاف کیوں ہوں ؟ یہ بات میں اپنی کتاب میں ڈسکس کروں گا ۔
اب اس پوائینٹ پر میری طرح آپ کے ذہن میں بھی چند سوالات آ رہے ہوں گے جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ جانور کھاتے کیا تھے ؟ چلو سبزی خوروں کے لیے تو اجناس کا سٹاک رکھا جا سکتا ہے لیکن گوشت خور جانوروں کا کیا ؟
اس سوال کے جواب کے لیے میں تھوڑی دیر کے لیے آپ کو نوحؑ کی کشتی سے نکال کر
اس سوال کے جواب کے لیے میں تھوڑی دیر کے لیے آپ کو نوحؑ کی کشتی سے نکال کر
جا کر bison اور ہرن کا شکار کھیلو اس وقت انسان نے گوشت کو نمک لگا کر اسے محفوظ کرنا شروع کیا آسان الفاظ میں salted meat جو لمبے عرصے تک سٹور کیا جا سکتا ہے ، فریج کے استعمال سے پہلے یہ پریکٹیس پاکستان میں بھی عام تھی کہ گوشت کو نمک لگا کر سکھا کر خراب ہونے سے محفوظ کر لیا جائے ۔
اور دوسری بات کہ یہ کشتی ایک cruise-ship نہیں تھا گائیز ! جس میں بہترین قسم کے کھانے اور خوراکیں میسر ہوں یہ ایک survival ship تھا ، ایک کارگو شِپ تھا ۔ سورۃ عنکبوت کی آیت 15 پڑھیں جہاں اس کشتی کے لیے ’’سفینۃ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے ، سفینۃ یعنی کہ ایک کارگو شِپ اور
جتنے بھی کارگو شِپس ہوتے ہیں ان پر خواہشات والی چیزیں نہیں رکھی جاتیں ، صرف survival والی چیزیں رکھی جاتی ہیں ۔
اوکے ! اب اگر آپ میری طرح سوچ رہے ہیں تو آپ کے ذہن میں ہو گا کہ فرقان ! آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ سات ہزار مختلف species کے جانور اس کشتی پر سوار ہوئے ، اور آپ خود
اوکے ! اب اگر آپ میری طرح سوچ رہے ہیں تو آپ کے ذہن میں ہو گا کہ فرقان ! آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ سات ہزار مختلف species کے جانور اس کشتی پر سوار ہوئے ، اور آپ خود
بتا رہے ہیں کہ آج لاکھوں سپیشز زندہ ہیں تو صرف چند ہزار سالوں میں 7000 سے لاکھوں سپیشز کیسے پیدا ہو گئیں ؟
چلیں میں آپ کا دماغ تھوڑا اور چکرا دیتا ہوں ۔ آپ کو پتہ ہے آج جتنی بھی سپیشز ہیں ان میں سے بہت ساری تو اس کشتی پر تھی ہی نہیں ۔ مثلاً میرا پسندیدہ کتا dobermann تو
چلیں میں آپ کا دماغ تھوڑا اور چکرا دیتا ہوں ۔ آپ کو پتہ ہے آج جتنی بھی سپیشز ہیں ان میں سے بہت ساری تو اس کشتی پر تھی ہی نہیں ۔ مثلاً میرا پسندیدہ کتا dobermann تو
صرف 120 سال پہلے ڈیویلپ ہوا ہے ، ہو سکتا ہے آپ کا پسندیدہ کتا german shepherd ہو تو وہ بھی صرف 122 سال پہلے ڈیولپ ہوا ۔
اِنفیکٹ آج کتوں کی 300 سے زیادہ ایسی breeds ہیں جو پانچ سو سال پہلے وجود ہی نہیں رکھتی تھیں اور میں آپ کو ان کی تصاویر دکھا دیتا لیکن اس تھریڈ کے اندر
اِنفیکٹ آج کتوں کی 300 سے زیادہ ایسی breeds ہیں جو پانچ سو سال پہلے وجود ہی نہیں رکھتی تھیں اور میں آپ کو ان کی تصاویر دکھا دیتا لیکن اس تھریڈ کے اندر
میں کتوں کی تصاویر پوسٹ کرنا مناسب نہیں سمجھتا ۔
لیکن میں آپ کو ایک چھوٹی سی کہانی سنا دیتا ہوں ۔ 1880 میں جرمنی کا ایک شخص تھا karl dobermann وہ حکومت کے لیے لوگوں سے ٹیکس اکٹھا کرتا تھا ، اب چونکہ ہر وقت اس کے پاس پیسے ہوتے تھے اس لیے چور ڈاکو اکثر اس پر حملہ کر کے
لیکن میں آپ کو ایک چھوٹی سی کہانی سنا دیتا ہوں ۔ 1880 میں جرمنی کا ایک شخص تھا karl dobermann وہ حکومت کے لیے لوگوں سے ٹیکس اکٹھا کرتا تھا ، اب چونکہ ہر وقت اس کے پاس پیسے ہوتے تھے اس لیے چور ڈاکو اکثر اس پر حملہ کر کے
پیسے چوری کر لیتے تھے لہٰذا اسے ایک ایسے محافظ کتے کو ساتھ رکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی جو سائیز میں بڑا ہو ، جسمانی طور پر مضبوط ہو ، بے خوف ہو ، خطرناک ہو ، حملہ کرنے میں نڈر ہو اور دیکھنے میں بھی intimidating ہو ۔
لہٰذا اس نے ان خصوصیات والے مختلف نسل کتوں کی breeding شروع کی ۔
لہٰذا اس نے ان خصوصیات والے مختلف نسل کتوں کی breeding شروع کی ۔
پیدا ہونے والی جس نسل میں یہ خصوصیات نظر آتیں اسے رکھ لیا اور باقیوں کو تلف کر دیتا ۔ 20 سال کی بہت محتاط محنت کے بعد وہ ایک ایسی نسل ڈیولپ میں کامیاب ہو گیا جسے آج ہم dobermann کہتے ہیں ، جس میں وہ ساری خصوصیات ہیں جو میں نے اوپر لکھیں اس کی تصویر آپ انٹرنیٹ پر دیکھ لیں ۔
اب غور کریں کہ اگر 20 سال کے اندر ایک ہی فیملی canidae کے جانور میں اس قدر varieties پیدا ہو سکتی ہے تو ذرا سوچیں کہ ہزاروں سال میں قدرت کیا کچھ کر سکتی ہے حالانکہ آج جتنی species کتوں کی ہیں اتنی تو کسی اور جانور کی ہیں بھی نہیں ۔
لہٰذا وہ کشتی جس کی حفاظت کا ذمہ رب کا تھا ...
لہٰذا وہ کشتی جس کی حفاظت کا ذمہ رب کا تھا ...
اس کشتی میں موجود جانوروں کی چند ہزار فیملیز کو لاکھوں سپیشز میں بدلنے کے لیے اس رب کا حکم ہی کافی تھا ، اور مجھے اس پھیلاؤ پر حیرانی نہیں ہے کیوں کہ میں نے اس تھریڈ پر ریسرچ کی ہے اور اس ریسرچ کے دوران جانوروں کی ایسی ایسی families اور species دیکھی ہیں کہ اگر میں
اللہ کی بنائی taxonomy پر لکھنے بیٹھوں تو شاید پچاس ہزار الفاظ سے کم پر بات مکمل نہ ہو ۔
البتہ ریفرینس کے لیے میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ صرف canidae فیملی سے 34 سپیشز نکلی ہیں یعنی کتے ، بھیڑیئے ، لومڑی ، گیدڑ اور کایوٹی نامی جانور ۔
البتہ ریفرینس کے لیے میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ صرف canidae فیملی سے 34 سپیشز نکلی ہیں یعنی کتے ، بھیڑیئے ، لومڑی ، گیدڑ اور کایوٹی نامی جانور ۔
آپ کو سورۃ نحل کی آیت کا مفہوم یاد ہے نہ ؟ ہم نے زمین میں جو بھی تمہارے لیے تھوڑے سے بڑھایا ہے ، اس کے مختلف رنگ ہیں ، مزاج ہیں ، اقسام ہیں ۔ اور اب آپ کو پتہ چلا کہ اس آیت کے آخری الفاظ یہ کیوں ہیں کہ
’’اس میں تو سمجھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں ۔‘‘
’’اس میں تو سمجھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں ۔‘‘
گائیز ! سمجھنے والے اس آیت سے taxonomy کا پورا علم اخذ کر سکتے تھے ۔
اوکے ! اب جانوروں سے ہٹ کہ اس سیلاب کے متعلق ایک سوال جو آج کل بہت زیادہ لوگوں نے mis-interpret کیا ہے ، نہ صرف اہل کتاب بلکہ بہت سے پاکستانی مسلمان سکالرز بھی اس کا شکار ہو گئے ۔
اوکے ! اب جانوروں سے ہٹ کہ اس سیلاب کے متعلق ایک سوال جو آج کل بہت زیادہ لوگوں نے mis-interpret کیا ہے ، نہ صرف اہل کتاب بلکہ بہت سے پاکستانی مسلمان سکالرز بھی اس کا شکار ہو گئے ۔
کیا یہ سیلاب پوری دنیا پہ آیا تھا ؟
بہت سے سائینسدان یہ بات کہتے ہیں کہ تاریخ میں آئے ایک گلوبل سیلاب کے ثبوت نہیں ملتے ، لہٰذا ہمارے چند سکالرز نے یہ ڈکلیئر کیا کہ شاید یہ سیلاب پوری دنیا میں نہیں بلکہ مقامی طور پہ آیا ہو گا ۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں ان دونوں باتوں کا جواب
بہت سے سائینسدان یہ بات کہتے ہیں کہ تاریخ میں آئے ایک گلوبل سیلاب کے ثبوت نہیں ملتے ، لہٰذا ہمارے چند سکالرز نے یہ ڈکلیئر کیا کہ شاید یہ سیلاب پوری دنیا میں نہیں بلکہ مقامی طور پہ آیا ہو گا ۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں ان دونوں باتوں کا جواب
تو مجھے اجازت دیں کہ آج میں اپنے اس تھریڈ کو بھی تھوڑا سا طویل کر دوں سائینسدانوں کو میں ان کی اپنی زبان سائینس میں جواب دوں گا لیکن اس سے پہلے میں ان مسلمان سکالرز کو ان کی زبان میں دلائل دینا چاہتا ہوں یعنی مقدس کتابوں کی زبان میں کیوں کہ وہ سائینسدانوں سے زیادہ قصوروار ہیں ۔
اگر مان لیا جائے کہ وہ ایک مقامی سیلاب تھا تو پہلا سوال کہ نوحؑ کو کشتی بنانے کی ضرورت کیوں پڑی ؟ وہ ھودؑ یا صالحؑ یا لوطؑ کی طرح اپنا شہر چھوڑ کر چلے کیوں نہیں گئے ؟ (ان میں سے دو انبیاء پر میں پہلے تھریڈ لکھ چکا ہوں جو آپ کو furqan qureshi blogs کے فیسبک پیج پر مل جائے گا)
دوسرا سوال یہ کہ پھر جانوروں کو بھی ساتھ لینے کی کیا ضرورت تھی ؟ آج ہم سب جانتے ہیں کہ بہت سے جانور مثلاً چوہے اور پرندے سیلاب سے پہلے ہی سیلاب کو sense کر کے وہاں سے علاقہ چھوڑ جاتے ہیں ۔
اور تیسرا سوال کہ پوری دنیا میں اس وقت کم سے کم 300 ایسے مختلف کلچرز ہیں جہاں ایک ایسے
اور تیسرا سوال کہ پوری دنیا میں اس وقت کم سے کم 300 ایسے مختلف کلچرز ہیں جہاں ایک ایسے
عظیم سیلاب کی کہانی ملتی ہے جس نے پوری دنیا کو ڈھک لیا تھا ، اور دنیا کے مختلف کونوں میں ایک گلوبل سیلاب کے بغیر ایک جیسی کہانیوں کا پھیلے ہونا کیسے ممکن ہے ؟
اور میرا یقین کریں ، بڑی محنت سے میں نے کچھ بڑی دلچسپ چیزیں اکٹھی کی ہیں کہ اپنی ریسرچ میں کہاں کہاں مجھے اس سیلاب کا
اور میرا یقین کریں ، بڑی محنت سے میں نے کچھ بڑی دلچسپ چیزیں اکٹھی کی ہیں کہ اپنی ریسرچ میں کہاں کہاں مجھے اس سیلاب کا
ذکر ملا لیکن ان کلچرز کو ایکسپلور کرنے سے پہلے مجھے ضرورت تھی کہ اس کشتی کی لوکیشن کا تو علم ہو جہاں سے میں ان کلچرز کے فاصلے ماپ سکوں اور قرآن نے وہ بھی بتا دیا ۔
سورۃ ھود 44 میں کہ وہ کشتی جودی پہاڑ پر رکی ، مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ قرآن مجھے اس سفر میں گائیڈ کر رہا ہے ۔
سورۃ ھود 44 میں کہ وہ کشتی جودی پہاڑ پر رکی ، مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ قرآن مجھے اس سفر میں گائیڈ کر رہا ہے ۔
جودی سے ساڑھے تین ہزار کلومیٹر دور norway کی نورس مائیتھالوجی میں مجھے ایک کہانی ملی اور آپ سب جانتے ہیں کہ aurora lights کے ساتھ اپنی محبت کی وجہ سے میں نے نورس مائیتھالوجی کو بہت گہرائی سے سٹڈی کیا ہے ۔
نورس مائیتھالوجی میں ایک jotun کی کہانی ہے ، jotun وہ شخص ہوتا ہے کہ جو
نورس مائیتھالوجی میں ایک jotun کی کہانی ہے ، jotun وہ شخص ہوتا ہے کہ جو
خدا سے باتیں کرتا ہے ، اس jotun کا نام کہانی کے مطابق bergelmir ہے جو پوری دنیا میں آئے سیلاب میں ایک بڑی سی کشتی لے کر نکلتا ہے ۔
اس کہانی میں bergelmir کے نام نے میری توجہ فوراً اپنی طرف کھینچی کیوں کہ جرمن زبان سے واقفیت کی وجہ سے میں جانتا ہوں کہ bergelmir کے دو تلفظ ہیں ۔
اس کہانی میں bergelmir کے نام نے میری توجہ فوراً اپنی طرف کھینچی کیوں کہ جرمن زبان سے واقفیت کی وجہ سے میں جانتا ہوں کہ bergelmir کے دو تلفظ ہیں ۔
پہلا ber-gelmir اور دوسرا berg-elmir ان دونوں میں وہی فرق ہے جو ہماری اردو کے ’’آنا اور انآء‘‘ میں فرق ہے دیکھنے میں ایک جیسے لیکن مطلب مختلف ، اور برگلمیر کا جو پہلا تلفظ ہے اس کے مطابق مطلب ’’ریچھ کی طرح دھاڑنے والا‘‘ جبکہ دوسرے تلفظ کا مطلب ’’پہاڑوں میں آواز دینے والا‘‘ ہے ۔
اوکے ، اب سورۃ ھود کی آیت 42 پڑھیئے جہاں نوحؑ کا ایک بیٹا کنعان پہاڑوں میں چڑھنے لگا تو نوحؑ نے اونچی آواز دے کر اسے واپس بلانے کی کوشش کی ،
آپ کا نہیں پتہ لیکن نورس مائیتھالوجی کے jotun (جو خدا سے بات کرے) ایک bergelmir جو پہاڑوں میں اونچی آواز سے بولے اور جو کشتی لے کر نکلے ۔
آپ کا نہیں پتہ لیکن نورس مائیتھالوجی کے jotun (جو خدا سے بات کرے) ایک bergelmir جو پہاڑوں میں اونچی آواز سے بولے اور جو کشتی لے کر نکلے ۔
اوکے ، اب جودی پہاڑ سے چار ہزار کلومیٹر دور ، ناروے کے بالکل دوسری طرف انڈیا میں آئیں جہاں ھندو مائیتھالوجی کا ایک کانسیپٹ ہے manvantra جس کا مطلب دھرتی کا تباہ ہونے کے بعد دوبارہ رہنے کے قابل بننا ہے ۔ اس کانسیپٹ میں ایک شخص کا ذکر ہوتا ہے manu جو دنیا میں بسنے والے لوگوں میں
سب سے پہلا انسان ہے جس نے ایک عظیم سیلاب کے بعد دنیا کو آباد کیا ۔ انفیکٹ آج کا ہندی لفظ manush یعنی انسان اسی manu سے نکلا ہے اور منو اور نوح کے نام اور ان کی کہانی میں کوئی مماثلت ہے یا نہیں ، اس بات کا فیصلہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں ۔
اب جودی پہاڑ سے ساڑھے چار ہزار کلومیٹر دور آئیرلینڈ کی طرف آئیں ، آئیریش مائیتھالوجی کی ایک کتاب ہے جس کا اردو میں مطلب ’’آئیرلینڈ پر انسان کی کہانی‘‘ ہے ۔ اس کہانی کا ایک کردار ہے ceasire ، اور اس طرف بھی میری توجہ اس کردار کے نام کی وجہ سے ہوئی کیوں کہ آئیریش زبان میں ceasire
کا مطلب ہے افسوس یا بہت زیادہ غم کرنے والا اور شاید بہت سے لوگ لفظ نوح سے واقف نہ ہوں کہ نوح کا مطلب بھی غم اور افسوس کرنے والا ہی ہوتا ہے بلکہ نوحہ یعنی غمگین باتیں کرنا لفظ نوح ہی سے نکلا ہے ۔
ایسا کیوں تھا ؟ اس کے پیچھے نوحؑ کی زندگی کا ایک واقعہ ہے جو پھر کبھی بتاؤں گا ۔
ایسا کیوں تھا ؟ اس کے پیچھے نوحؑ کی زندگی کا ایک واقعہ ہے جو پھر کبھی بتاؤں گا ۔
جودی سے پونے سات ہزار کلومیٹر دور چائینہ میں آئیں جہاں چائینیز مائیتھالوجی میں gun-yu کی کہانی ہے کہ کسی زمانے میں پوری دنیا سیلاب میں ڈوب گئی تھی اور پھر gun-yu نے دوبارہ سے آباد کرنی شروع کی اب کیا آپ اس کہانی کی روداد اور گونیو اور نوح کے نام میں کیا کوئی مماثلت نہیں دیکھتے ؟
جودی پہاڑ سے دو ہزار کلومیٹر دور عراق میں آئیں جہاں ملی sumerian king list نامی تختیاں جن میں ایک بادشاہ ziusudra کا ذکر ہے جو طوفان اور ایک عظیم سیلاب میں نکلا تھا اور اس کی عمر بہت لمبی تھی ۔
سورۃ عنکبوت کی آیت 14 پڑھیں جہاں قرآن میں ایک نبی کی طویل زندگی کا ذکر ہو رہا ہے ۔
سورۃ عنکبوت کی آیت 14 پڑھیں جہاں قرآن میں ایک نبی کی طویل زندگی کا ذکر ہو رہا ہے ۔
اور اس نبی کا نام ہے نوحؑ ۔ چلیں میں آپ کے جانے پہچانے ایک فلسفی افلاطون کی کتاب کا حوالہ دیتا ہوں جو اس نے 2360 سال پہلے لکھی تھی جس میں prometheus ایک شخص deucalion کو حکم دیتا ہے کہ ایک بڑی کشتی بناؤ کیوں کہ پوری دنیا میں سیلاب آنے والا ہے اور آپ deucalion کا مطلب جانتے ہیں ؟
اس کا مطلب ہوتا ہے a master sailor یعنی ’’سب سے بہتر کشتی چلانے والا‘‘ ۔ پھر عراق ہی میں ملی مشہور زمانہ تختیاں یعنی epic of gilgamesh جس میں ایک utnapishtim کا ذکر ہے جسے خدا کی طرف سے حکم ملتا ہے کہ ایک عظیم سیلاب آنے والا ہے ، تم ایک بہت بڑی کشتی بناؤ ۔
ایران سے دنیا کا قدیم ترین مذہب زرتشت جو آج بھی زندہ ہے ، اس میں ایک کہانی ہے کہ متھرا نے ایک پتھر سے پانی نکالا جس کی وجہ سے پوری دنیا سیلاب سے ڈوب گئی ۔
سورۃ قمر کی آیت 12 یاد کریں جہاں اس سیلاب کے دوران زمین کے چشمے بھی پھوٹ پڑے تھے اور زمین و آسمان دونوں کے پانی مل گئے ۔
سورۃ قمر کی آیت 12 یاد کریں جہاں اس سیلاب کے دوران زمین کے چشمے بھی پھوٹ پڑے تھے اور زمین و آسمان دونوں کے پانی مل گئے ۔
ٓآپ شاید میری بات کا یقین نہ کریں لیکن ایک عظیم گلوبل سیلاب کی کہانی مجھے جودی پہاڑ سے چودہ ہزار کلومیٹر دور hawaii جزیروں کی مائیتھالوجی میں بھی ملی یعنی دنیا کے نقشے کے بالکل پیچھے کی طرف ۔
اور پھر اس کے بھی بالکل الٹی سمت میں بارہ ہزار کلومیٹر دور آسٹریلیا کے aboriginal
اور پھر اس کے بھی بالکل الٹی سمت میں بارہ ہزار کلومیٹر دور آسٹریلیا کے aboriginal
لوگوں کی مائیتھالوجی میں بھی اور میں نے بہت کوشش کی کہ ان کی کہانی کا ورژن میں کسی طرح ڈاکیومنٹڈ شکل میں آپ کو دکھا دوں لیکن ایب اوریجنل لوگ صحرائی عرب بدوؤں اور گوئٹے مالا کے maya لوگوں کی طرح verbal story telling کی تیکنیک استعمال کرتے ہیں ۔
بہرحال آپ میں سے جو لوگ دنیا کے نقشے سے واقف ہیں وہ یہ بات جانتے ہیں کہ فرقان جان بوجھ کر ہمیں دنیا کے بالکل علیحدہ علیحدہ کونوں سے پوری دنیا میں آنے والے ایک عظیم سیلاب کا ریکارڈ دکھا رہا ہے ۔ اور ایک دفعہ پھر سے میں آپ کو دنیا کا نقشہ دکھا دیتا ہوں جس میں yellow نشان
ایک بات ذہن میں رکھ لیں کہ ورژن صرف قرآن کا سچا ہے ، ان تمام کلچرز کی کہانی بتانے کا مقصد صرف یہ دکھانا تھا کہ ایک عظیم سیلاب کا ذکر پوری دنیا کے کلچرز میں ہے ، ہاں ورژن صرف وہی سچا ہے جو قرآن میں ہے ، اور کلچرز نے اپنے علاقوں اور زبانوں کے حساب سے اس میں اپنے رنگ بھی بھر دیئے ۔
اب چند اہم ترین سوالوں میں سے ایک سوال ، کہ اگر واقعی سیلاب گلوبل تھا تو پھر اس سیلاب کے ختم ہونے کے بعد تمام جانور اس دنیا میں برابر برابر کیوں نہیں تقسیم ہوئے ؟
اور میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ہم سائینس کو سائینس کی ہی زبان میں اس گلوبل سیلاب کا ثبوت بھی دکھائیں گے لیکن بدقسمتی سے اب تھریڈ چھ ہزار الفاظ سے اوپر جا چکا ہے جو میری لمٹ ہے ۔
گائیز یہ سیلاب کیوں آیا تھا ؟ وہ کشتی دیکھنے میں کیسی تھی ؟ جودی پر کشتی رکنے کے بعد کیا ہوا ؟
گائیز یہ سیلاب کیوں آیا تھا ؟ وہ کشتی دیکھنے میں کیسی تھی ؟ جودی پر کشتی رکنے کے بعد کیا ہوا ؟
اور ایک بہت اہم سوال کہ جب زیادہ تر انبیاء کی قوموں پر عذاب صرف ان کے اپنے علاقے میں آتا تھا تو پھر نوحؑ کی قوم کا عذاب پوری دنیا پر کیوں آیا ؟ باقی دنیا میں ایسا کیا ہو رہا تھا ؟ وہ طوفان کیسا تھا ؟ وہ پانی کہاں سے آ رہا تھا ؟ وہ پہاڑوں جیسی لہریں کیسے پیدا ہوئیں ؟
ان شاء اللہ یہ سارے ٹاپکس اپنی کتاب میں کور کروں گا کیوں کہ ہمیں ان واقعات پر ریسرچ کرنے کی ضرورت ہے گائیز ، اگر ہمارے پاس سچ ہے ، تو پھر ہمیں اسے پیش بھی سچ ہی کی طرح کرنا چاہیئے ۔
آپ کو یاد ہے میں نے آپ کو بتایا تھا کہ اس وقت دنیا میں جانوروں کی 87 لاکھ سپیشز موجود ہیں لیکن
آپ کو یاد ہے میں نے آپ کو بتایا تھا کہ اس وقت دنیا میں جانوروں کی 87 لاکھ سپیشز موجود ہیں لیکن
تب میں نے آپ کو یہ نہیں بتایا تھا کہ ہم ان میں سے صرف 14 فیصد کو ہی جانتے ہیں اور جاتے جاتے میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں ۔ پانچ سال کی عمر میں مجھے اللہ میاں کا نوحؑ کی کشتی کو بچا لینے کا سن کر بہت تسلی ملی تھی ۔
لیکن آج اس کشتی کے جانوروں پر اپنا تھریڈ لکھتے ہوئے
لیکن آج اس کشتی کے جانوروں پر اپنا تھریڈ لکھتے ہوئے
میں سورۃ ھود کی آیت 6 کے بارے میں سوچ رہا ہوں
’’زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں ، ان سب کا رزق اللہ کے ذمے ہے ، اللہ جانتا ہے کہ وہ کہاں رہتے ہیں ، اللہ ہی جانتا ہے کہ انہیں کہاں رزق دینا ہے ، اور یہ سب ایک صاف کتاب میں لکھا ہوا ہے ۔‘‘
ان 87 لاکھ سپیشز میں سے انسان ایک سپیشز ہے اور
’’زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں ، ان سب کا رزق اللہ کے ذمے ہے ، اللہ جانتا ہے کہ وہ کہاں رہتے ہیں ، اللہ ہی جانتا ہے کہ انہیں کہاں رزق دینا ہے ، اور یہ سب ایک صاف کتاب میں لکھا ہوا ہے ۔‘‘
ان 87 لاکھ سپیشز میں سے انسان ایک سپیشز ہے اور
میں انسانوں کا بھی 8 ارب حصہ ہوں اور اگر اللہ ان کھربوں کو سنبھال رہا ہے تو وہ مجھے کیسے چھوڑ دے گا ۔
پہلی بار یہ واقعہ امی سے سن کر دل کو تسلی ملی تھی کہ اللہ میاں بچا لیں گے آج اس واقعے پر تھریڈ لکھ کر پھر سے دل کو تسل مل رہی ہے کہ اللہ میاں کبھی نہیں چھوڑیں گے ۔
فرقان قریشی
پہلی بار یہ واقعہ امی سے سن کر دل کو تسلی ملی تھی کہ اللہ میاں بچا لیں گے آج اس واقعے پر تھریڈ لکھ کر پھر سے دل کو تسل مل رہی ہے کہ اللہ میاں کبھی نہیں چھوڑیں گے ۔
فرقان قریشی
جاري تحميل الاقتراحات...