Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

85 تغريدة 255 قراءة Nov 26, 2021
ارم والے ، کہ جن کی اور کوئی مثال نہیں بنی تھی ۔
اس تھریڈ کا لکھنا میرے لیے کسی پہلی کو سلجھانے جیسا تھا ، وہ پہیلی جس کے متعلق قرآن پاک میں مجھے چوبیس clues ملے ، اس پورے تھریڈ میں آپ دیکھیں گے کہ کس طرح اپنے جوابوں کی تلاش میں ہم ان clues کا پیچھا کریں گے ۔
اور ہمارا یہ سفر شروع ہوتا ہے سورۃ فجر کی آیت 7 سے
’’ارم ذات العماد‘‘
اس چھوٹی سی آیت کا پرفیکٹ اردو ترجمہ تو شاید ناممکن ہے لیکن اس کا قریب ترین ترجمہ دو طرح سے ہو سکتا ہے
’’ارم والے ، جو اپنے آپ میں ستون تھے‘‘
یا پھر
’’ارم والے ، جن کے ستون تھے‘‘ ۔
اور اگر آپ اس کے آگے اور پیچھے والی آیات سٹڈی کریں تو ترجمہ کچھ ایسے ہو گا کہ
’’اہل عاد ، ارم ، ستونوں والے ، جن جیسا اور کوئی بھی نہیں بنایا گیا تھا‘‘
اس آیت کا ایک تیسرا ترجمہ بھی بنتا ہے لیکن وہ میں آپ کو آخر میں جا کر بتاؤں گا فی الوقت سب سے پہلا سوال ۔
کون تھے یہ عاد ؟
اور ان جیسا کوئی اور کیوں پیدا نہیں کیا گیا ؟ یہی میری پہیلی تھی ۔
اس پہلی کا سب سے پہلا clue مجھے سورۃ اعراف میں ملا جس کا خلاصہ یوں ہے کہ عاد ، بہت زمانے پہلے گزری ایک خوشحال قوم تھی جنہیں اللہ نے وہ دے رکھا تھا جو ان سے پہلے کسی کو نہیں دیا گیا ، لیکن ان کا نام صفحہ ہستی سے
ایسے مٹ گیا کہ آج ماڈرن ایج اسے ایک myth سمجھتی ہے ۔ اس کا کوئی نام و نشان ، کوئی باقیات کچھ بھی نہیں بچا ۔ یہاں تک کہ یہ لوگ کس علاقے میں آباد تھے اس کا بھی کوئی نام زندہ نہیں ۔
البتہ ان کا ہلکا سا تذکرہ ساڑھے چار ہزار سال پرانی ebla tablets میں ملتا ہے لیکن
صرف ’’عاد-دہ‘‘ کے نام کی حد تک ۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ کم سے کم موسیٰؑ سے پہلے کے زمانے میں تھے ۔
ان کی لوکیشن یا رہنے کی جگہ کونسی تھی ؟ اس حوالے سے دوسرا clue مجھے سورۃ احقاف میں ملا ، کہ عاد کے بھائی ہود نے انہیں ’’احقاف‘‘ کے قریب ڈرایا ، احقاف ریت کے ان ٹیلوں کو
کہتے ہیں جو قدرتی طور پر ہوا سے بنے ہوں ۔ گائیز سعودی عرب میں ایک صحراء ہے جس کا نام ’’ربع الخالی‘‘ ہے اس کا لفظی مطلب ہے ’’خالی ٹکڑا‘‘ یہ کسی بھی قسم کے پودے یا زندگی سے خالی صرف اور صرف ریت کا ایک سمندر ہے جہاں سارا دن ہوائیں ریت کے ٹیلے یا dunes کو بناتی اور بکھیرتی رہتی ہیں
اس اوپر والے نقشے میں آپ ربع الخالی صحراء دیکھ سکتے ہیں ۔ عربی زبان میں ریت کے ان ٹیلوں کو احقاف کہتے ہیں ۔ لیکن یہ صحراء بہت بڑا ہے اور اس میں کسی ایک سنگل لوکیشن کو ایسے ڈھونڈنا ممکن نہیں تھا ، لہٰذا تیسرا clue مجھے علی ابن طالبؓ سے مروی احادیث کی سٹڈی میں ملا ۔
علی ابن طالبؓ نے حضر موت سے آئے ایک شخص سے پوچھا کہ کیا تم نے حضرموت میں کوئی ایسا سرخ ٹیلہ دیکھا ہے جس کی مٹی راکھ جیسی ہو ؟ اس شخص نے کہا کہ آپ تو ایسے بتا رہے ہیں جیسے آپ خود بھی وہاں گئے ہوں ، اس پر حضرت علیؓ نے کہا کہ میں وہاں گیا تو نہیں لیکن مجھ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ
وہیں ہودؑ کی قبر ہے ۔ اور یہی میرا clue تھا ،کیوں کہ عاد کے طرف بھیجے جانے والے نبی ہودؑ ہی تھے ۔ حضرموت ، یمن اور ربع الخالی صحراء کے درمیان میں واقع ہے ، میں آپ کو نقشہ بھی دکھا دیتا ہوں ۔ سنہ 1930 میں ایک انگریز bertram thomas نے ارادہ کیا کہ وہ ربع الخالی صحراء کو اونٹ پر
کراس کرنے والا پہلا انگریز بننا چاہتا ہے ، اس نے اپنی ڈائیری میں لکھا کہ
’’حضر موت سے گزرتے ہوئے مجھے میرے بدو ملازم نے بتایا کہ کسی زمانے میں اس جگہ ارم نام کا ایک شہر ہوا کرتا تھا جس پر عذاب الہٰی آیا تھا ۔‘‘
پھر سنہ 1948 میں اومان کی ایک جیولوجیکل پارٹی اونٹوں پر زمین کا
سروے کر رہی تھی ، اپنے سروے کے دوران وہ ash-shisr نامی جگہ پہنچے جہاں انہیں دور سے ایک عام سی سفید دیوار نظر آئی لیکن قریب پہنچنے پر پتہ چلا کہ دراصل وہ زمین میں دھنسا ایک مینار یا ٹاور تھا جسے ریت کے ٹیلوں نے نظروں سے چھپا رکھا تھا ۔
اس سروے پارٹی میں موجود ایک جیالوجسٹ نے
اپنی ڈائیری میں لکھا کہ یہاں دور دور تک کوئی انسان ، گھر یا خیمہ نہیں ہے ، بس ایک بہت پرانے قلعے کی باقیات ہیں اور ریت کے ان ٹیلوں میں ہماری گاڑیوں کا چلنا ناممکن ہو رہا ہے ۔
البتہ 35 سال تک اس جگہ وقفے وقفے سے ریسرچ چلتی رہی اور nicholas clapp نامی ایک جیالوجسٹ اور اس کی ٹیم نے
رپورٹ پیش کی کہ اس دھنسے ہوئے قلعے کے نیچے ارم نام کا گمشدہ شہر ہو سکتا ہے لیکن جب اس قلعے کی کاربن ڈیٹنگ کی گئی تو تھوڑی مایوسی ہوئی کیوں کہ اس قلعے کی عمر چند سو سال سے زیادہ نہیں لگ رہی تھی ، البتہ clapp نے ہمت نہیں ہاری ، شاید وہ بھی میری طرح جنون کی حد تک علم کا شوقین تھا ۔
چنانچہ اس نے اپنی جیب سے خرچہ کیا اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا پہنچ گیا وہاں سے دوسری صدی کے یونانی نقشہ نویس ٹالمی کے بنائے ہوئے پرانے نقشے ڈھونڈے اور نہ صرف یہ بلکہ ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری میں بھی درخواست دے دی کہ مجھے ربع الخالی کے اس حصے کی ایکسرے سیٹلائیٹ تصاویر دی جائیں
اس کی محنت رنگ لائی اور ہونے والی دریافت واقعی حیران کن تھی ۔
اوپر بنا قلعہ واقعی زیادہ پرانا نہیں تھا لیکن اس قلعے کے نیچے دبے مزید ایک اور قلعے کے ٹاورز ملے ، لیکن صرف ایک مسئلے کے ساتھ ، وہ ٹاورز بھی دو ہزار سال سے زیادہ پرانے نہیں تھے ۔ البتہ اس سائیٹ کی ایکسرے تصاویر سے
ریت کے سو میٹر اونچے ٹیلوں کے نیچے بنے راستے ضرور نظر آ رہے تھے لیکن اتنی گہری کھدائی کے لیے بہت پیسے کی ضرورت تھی ، مرتے دم تک clapp اس گرانٹ کے لیے کوشش کرتا رہا اور بالآخر مرنے سے پہلے اس سائیٹ کا ایک نام رکھ گیا ’’the lost arabs‘‘ اس قلعے کا ایک کانسیپٹ ڈیزائین آپ دیکھ لیں ۔
لیکن یہ ارم کا قلعہ نہیں ہے ، یہ صرف دو ہزار سال پہلے بنا تھا ۔ لیکن اس قلعے کے نیچے دفن راستوں کی سیٹلائیٹ ایکسرے تصویروں سے کافی حد تک اندازہ ہوتا ہے کہ ارم کا گمشدہ شہر صحراء کے اسی حصے میں کہیں آباد تھا جہاں بعد میں مزید قلعے بھی بنے لیکن اہل عاد کی آخر کیا
ایسی achievement تھیں کہ بعد میں آنے والے ان جیسے نہ ہو سکے ؟ انہوں نے ایسا کیا حاصل کیا تھا کہ قرآن نے انہیں ’’ان کی کوئی مثال نہیں ہوئی‘‘ کہہ دیا ؟
یہاں سے اگلا clue مجھے دوبارہ سورۃ احقاف میں لایا ’’ہم نے انہیں اس طریقے کا مکین بنایا تھا کہ جیسا تمہیں نہیں بنایا ۔‘‘
کیا ان کے مساکن یعنی رہنے کی جگہوں کا ان کی achievements سے کوئی تعلق ہے ؟ اِنفیکٹ ہے ۔
آپ کو ’’ارم ذات العماد‘‘ یاد ہے ؟ اسکا دوسرا ترجمہ یاد کریں ’’ارم والے ، جن کے ستون تھے‘‘
اہل عاد اپنی تعمیرات میں انتہائی اونچے ستون بنایا کرتے تھے اور اتنے اونچے ستونوں کی وجہ کیا تھی ؟
وہ میں آگے چل کر بتاؤں گا لیکن پہلے میں چاہتا ہوں آپ کو ستونوں کے بارے میں کچھ بتا دوں کیوں کہ یہ بہت ضروری ہے ۔ ستون کو انگلش میں column یا pillar کہتے ہیں اور آگے چل کر میں یہی لفظ استعمال کروں گا ۔
قدیم انسان نے اپنی تعمیرات میں کالمز بنانے کا آغاز صرف ایک وجہ سے کیا تھا ۔
یہ ہوا اور زلزلے سے پیدا ہونے والی lateral force سے عمارت کو بچا لیتے تھے ۔ پھر آہستہ آہستہ ان کا استعمال beams اور arches کو سپورٹ دینے کے لیے بھی ہونے لگا ۔ اور جیسے جیسے آرکیٹیکچر میں انسان کی پسندیدگی بڑھتی گئی ، کالمز کا استعمال عمارت کی خوبصورتی کے لیے بھی ہونے لگا ۔
ہمارے پاس جو ریکارڈ موجود ہے اس کے مطابق فرعون بادشاہ کالمز کو بلندی اور طاقت کی علامت سمجھتے تھے ، میں آپ کو مصر کے karnak اور luxor مندروں کی تصویریں دکھا دیتا ہوں جہاں بادشاہ کی طاقت اور بلندی کو دکھانے کے لیے صرف اور صرف کالمز کی تعداد ہی 134 رکھی گئی تھی ۔
کالمز کو طاقت اور رتبے کی علامت مانتے ہوئے قدیم مذہبی عمارتوں میں بھی آپ کو کالمز زیادہ تعداد میں نظر آئیں گے ۔ کالمز کے دو حصے ہوتے ہیں ، نیچے والے حصے کو shaft اور اوپر والے حصے کو capital کہتے ہیں میں آپ کو تصویر کے ذریعے سمجھا دیتا ہوں اور آپ کو یہ دیکھ کر شاید حیرت ہو کہ
پاکستان میں بھی بہت سی جگہوں پر ایسے کالمز موجود ہیں جن کا کیپیٹل کنول کے پھول کی طرح ہوتا ہے ۔ یہ سٹائل بیسکلی مصریوں نے 4000 سال پہلے ڈیزائین کیا تھا کیوں کہ وہ دریائے نیل میں اُگے کنول کے پھولوں کی عبادت کیا کرتے تھے ۔
کالمز کے حوالے سے سب سے زیادہ elaborate ڈیزائین قدیم فارس یعنی ایران میں نظر آتے ہیں ، ایران کا ’’سو ستونوں والا ہال‘‘ بہت مشہور ہے جو بادشاہ xerxes نے بنوایا تھا ۔ ایرانی اپنے کالمز کے کیپیٹل میں عموماً دو جانور بناتے تھے بالخصوص بیل ۔ کبھی سوچا ہے کیوں ؟
کیوں کہ دو بیلوں والا کیپیٹل ان کے نوروز کے دن کی علامت ہے یعنی ایرانی نیو ایئر ۔ ان میں سے ایک بیل سورج کی علامت ہے اور دوسرا بیل چاند کی ، اور دونوں ایک نا ختم ہونے والی لڑائی یعنی رات اور دن کے بدلنے میں لگے ہیں ، یہی لڑائی دنوں ، مہینوں اور سالوں کی گردش ہے اور یہی لڑائی
نوروز کے آنے کا باعث ہے ۔ یہاں آپ کچھ نوٹس کر رہے ہیں گائیز ؟ یہ کالمز صرف عمارت کی خوبصورتی نہیں ہوتے بلکہ ان میں پورے کے پورے میسجز ، نظریات اور idealogies چھپی ہوتی ہیں ۔
اوکے ، میں ممبئی میں بنے اس پارسی مندر کی تصویر دکھا کر آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ
آپ اس عمارت میں کیا دیکھ رہے ہیں ؟ شاید آپ میں سے نوے فیصد لوگ کہیں گے کہ فرقان ، یہ ایک بڑی ڈیٹیلڈ اور خوبصورت عمارت ہے ، بس ۔ لیکن ذرا سنیئے !
اس عمارت کے سب سے اوپر سورج کا ریلیف ہے (جس کی پارسی عبادت کرتے ہیں) پھر اس کے نیچے بیل کے سر والے کیپیٹل سے بنے کالمز جو ہر نئے سال کی علامت ہیں ، اور سب سے نیچے بادشاہ کا مجسمہ جو عام انسانوں جیسا نہیں ہوتا لہٰذا اپنے بادشاہ کے سائے میں ہر سال گزرتے وقت کے ساتھ سورج کی عبادت
آپ دیکھ رہے ہیں ؟ یہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ایک پوری کی پوری آئیڈیالوجی ہے گائیز ! اور یہ بتانا بہت ضروری تھا کیوں کہ ہمارا اگلا clue سورۃ حم السجدۃ میں چھپا ہے جہاں اہل عاد کی وہ غلطی بتائی گئی جو انہوں نے کی تھی ۔
عظیم الشان ستونوں کے ڈیزائین کرنے والے ، جن کے بارے میں
پہلے بتایا گیا کہ ہم نے انہیں اس طریقے کا مکین بنایا جس طرح تمہیں نہیں بنایا ، ان کی مثال کوئی اور نہیں ہوئی انہوں نے اپنے ستون بنانے کے بعد ایک بڑی غلطی کر دی ، کہ وہ کہہ بیٹھے ’’کون ہے قوت میں ہم سے زیادہ‘‘
وہ کیسے ستون ہوتے ہوں گے ، جو ان کے بعد کسی کو نہیں دیئے گئے
جنہیں بنانے کے بعد انہوں نے کہا کہ کون ہے قوت میں ہم سے زیادہ ، یہ بات ہم صرف تصور کر سکتے ہیں ، البتہ اس حوالے سے میرے پاس ایک کانسیپٹ آرٹ موجود ہے جو میں آپ سے شیئر کر لیتا ہوں کہ ارم کے ستون دیکھنے میں کیسے ہوتے ہوں گے ۔
یہاں ایک بات آپ کی دلچسپی کے لیے بتا دوں کہ کالمز کا ڈیزائین صرف مصر اور ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ 2300 سال پہلے سکندر اعظم ان ڈیزائینز کو لے کر انڈیا اور پاکستان تک بھی آیا ۔ پاکستان میں تو خیر اتنے نہیں ہیں لیکن میں آپ کو انڈیا کی karla اور nasik غاروں میں بنے مندروں کے
کالمز دکھاتا ہوں ان میں پوری پوری آئیڈیولوجیز پوشیدہ ہیں گائیز ، ذرا ان تصویروں کو دیکھیئے اور کوشش کریں کہ شاید آپ ان میں چھپے کوڈز کو سمجھ سکیں ۔
لیکن ایک سوال ہے کہ کیا صرف اونچے اور بڑے بڑے خوبصورت ستون ہی اہل ارم کی achievement تھے ؟ آپ کو اوریجنل آیت یاد ہے جہاں سے ہم نے آغاز لیا تھا ؟ ’’ارم ذات العماد‘‘
یاد ہے میں نے کہا تھا کہ اس کا ایک دوسرا ترجمہ یہ بھی بنتا ہے کہ
’’ارم والے جو اپنے آپ میں ستون تھے‘‘
اور اس ترجمے نے مجھے push کیا کہ یہ بات شاید صرف بڑے بڑے ستونوں تک کی نہ ہو ۔ اور اس طرح اپنی پہیلی کا اگلا clue مجھے سورۃ اعراف تک لایا ’’ہودؑ نے ان سے کہا کہ اللہ نے تمہیں نوح کے بعد جانشین بنایا ہے اور جسامت میں تمہیں بڑھا دیا ہے ۔
اگر مجھے قرآن میں یہ clue نہ ملا ہوتا تو میں اس بارے میں تحقیق نہ کرتا ، بائیبل کے عہد نامہ قدیم میں ایک لفظ استعمال ہوا ہے nephilim ، کئی جگہ اس لفظ کو ترجمے کے بغیر ہی چھوڑ دیا گیا ہے لیکن جہاں اس لفظ کا ترجمہ ہوا ہے وہاں ’’انتہائی اونچے قد کے لوگ‘‘ جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں
اہل کتاب کہتے ہیں کہ اس لفظ کا مآخذ قدیم عبرانی لفظ n-p-l یعنی نِفِل ہے جس کا مطلب ’’گرنا‘‘ یعنی ’’fall‘‘ ہوتا ہے اور یہیں سے انہوں نے fallen angel جیسے کانسیپٹس لیے ہیں لیکن مزید سٹڈیز دکھاتی ہیں کہ اس کا اصل مآخذ لفظ دراصل hiff-il ہے جس کا مطلب ’’کسی کو پکڑ کر گرانا‘‘ ہوتا ہے
اور اس پوائینٹ پر میں فوراً اپنے اگلے clue پر آیا ۔ سورۃ شعراء میں ، جہاں ہودؑ اپنی قوم اہل عاد کو کہتے ہیں کہ جب تم کسی کی پکڑ کرتے ہو تو بہت شدید طریقے سے کرتے ہو ، یہاں اوریجنل عربی الفاظ پر غور کریں گائیز ، ’’بطش‘‘ کا لفظ استعمال ہو رہا ہے ، اس کا literal معانی
اچانک کسی کو ہاتھ سے پکڑنا ہوتا ہے ، مجھے نہیں پتہ کہ آپ ان پوائینٹس میں کوئی کنیکشن بنا پا رہے ہیں یا نہیں لیکن فرقان قریشی کو یہاں بہت واضح کنیکشن بنتا نظر آ رہا ہے ، بیشک وہ لوگ جسامت میں بہت بڑے تھے اور شاید یہی وہ وجہ تھی کہ ان کے ستون بھی اتنے ہی بڑے بڑے ہوتے ہوں گے ۔
اور اب مجھے ’’ارم ذات العماد‘‘ کا دوسرا ترجمہ بھی مزید کلیئر ہوتا نظر آ رہا ہے ، کہ ارم والے ، جو اپنی ذات میں ستون تھے ۔
اوکے ، میں جانتا ہوں یہ کانسیپٹ بہت دلچسپ ہے ، اور میں چاہ رہا تھا کہ اس حوالے سے مزید کچھ clues ڈھونڈوں اور وہ مجھے سورۃ مائدہ میں ملے جہاں
موسیٰؑ یہودیوں کو مصر سے نکال کر فلسطین تک لاتے ہیں لیکن وہاں پہنچ کر یہودی موسیٰؑ کو کہتے ہیں کہ ہم اس شہر میں نہیں جا رہے ، آپ اور آپ کا خدا جا کر ان سے لڑو ۔
انہوں نے ایسا کیوں کہا ؟ میری ریسرچ مجھے بتاتی ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے یہودیوں کے بارہ قبیلوں میں سے بارہ جاسوس
فلسطین بھیجے تاکہ وہ وہاں کی خبر لائیں اور انہی جاسوسوں نے واپس آ کر بتایا کہ ہم نے بہت بڑے اور بہت طاقتور لوگ دیکھے ہیں جن کے سامنے ہم بہت حقیر تھے ۔
وہ کون لوگ تھے ؟ وہ عمالیق یا عمالقہ نامی قوم کے لوگ تھے جو اہل عاد کے بچ جانے والوں کی نسل میں سے تھے اور انہی سے خوفزدہ ہو کر
یہودیوں نے موسیٰؑ سے کہا کہ ہم نے ان سے نہیں لڑنا ، بلکہ آپ اور آپ کا خدا جا کر ان سے لڑو ۔ میری تحقیق جاری رہی اور مزید ایک clue مجھے سورۃ بقرۃ میں ملا کہ کئی سال گزرنے کے بعد یعنی یہودی صحراء میں بھٹکتے سزا کاٹنے کے بعد بالآخر جب عمالقہ سے لڑنے کے لیے پہنچے تو ان کا سامنا
جالوت سے ہوا اور یہ شخص نام کے ساتھ قرآن میں مینشن ہے ۔ یہ جالوت کون تھا ؟ اسے انجیل میں goliath نام سے بلایا گیا ہے ۔ آپ میں سے جس کسی نے انجیل کی سٹڈی کی ہے ، جس نے بھی dead sea scrolls اور masoretic text پر تحقیق کی ہے ، وہ یہ بات جانتا ہے کہ ان سب میں لکھا ہے کہ
کہ goliath ایک انتہائی اونچا ، لمبا ، تڑنگا اور طاقتور مرد تھا اور masoretic text میں اس کی اونچائی six cubits and a span لکھی ہے یعنی کہ تقریباً دس فُٹ اونچا آدمی ۔
یہی وہ شخص تھا جس کا قتل کرنے والے حضرت داؤدؑ بنے ، میں آپ کو سولہویں صدی کے کچھ آرٹ ورکس دکھا دیتا ہوں
جہاں goliath کی لڑائی کو دکھایا گیا ہے اور یہ واقعہ نہ صرف قرآن میں مینشن ہے بلکہ انجیل اور تورات میں بھی لکھا ہوا ہے ۔ اور ان آرٹ ورکس میں آپ goliath کی جسامت کا اندازہ لگا سکتے ہیں جو اہل عاد ہی کے descendants میں سے شاید آخری دیوقامت انسان تھا ۔
اپنی پہیلی کے لیے clues ڈھونڈتے ڈھونڈتے مجھے سورۃ احقاف میں ایک جگہ بڑی منفرد سی عبارت ملی ، کہ ہم نے اہل عاد کو دیکھنا ، سننا اور دل بھی عطاء کیا تھا ، لیکن اس کا کیا مطلب ہے ؟ سبھی دیکھ اور سن سکتے ہیں ، اور دل تو سب کے ہی ہوتے ہیں لیکن اس خاص نقطے پر تحقیق نے مجھ پر چند بڑی
حیرت انگیز باتیں منکشف کیں اور اس تھریڈ میں تو نہیں لیکن ان شاء اللہ اپنی کتاب میں ، میں انہیں ضرور ڈسکس کروں گا ۔
اوکے ، یہاں تک پہنچنے کے بعد ہمیں کافی حد تک اندازہ ہو گیا کہ اہل عاد ربع الخالی صحراء میں بسنے والے انتہائی اونچی جسامت اور قد کے لوگ تھے ، وہ اپنی جسامت ہی کے
مطابق عالیشان ستونوں والی تعمیرات کیا کرتے تھے ، اور ان ہی باتوں پر تکبر کی وجہ سے وہ کہہ بیٹھے کہ کون ہے جو قوت میں ہم سے زیادہ ہو ۔
اور ان کے اس تکبر کا جواب مجھے ایک دفعہ پھر سے سورۃ حم السجدۃ میں لے آیا کہ
’’کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے انہیں بنایا ہے وہ اپنی قوت میں ان سے کہیں زیادہ ہے‘‘
اس پوائینٹ پر میرے تھریڈ کا پہلا ہاف مکمل ہو رہا ہے اور امید ہے کہ دوسرا ہاف پانچ ہزار الفاظ کے اندر مکمل ہو جائے گا اور یہ دوسرا ہاف عاد پر آنے والے عذاب سے متعلق ہے ۔
اگر میں اہل ارم کے عذاب پر تمام قرآنی آیات کو ایک جگہ اکٹھا کروں تو پتہ چلتا ہے کہ ان پر آنے والا عذاب ایک تیز ، چیختی چلاتی ، کڑک والی ہوا کا تھا جو آٹھ راتیں اور سات دن تک چلتی رہی ، اور وہ جس بھی چیز سے گزرتی اسے ریت کی طرح کر دیتی تھی (یہ تمام الفاظ قرآن میں موجود ہیں)
اپنے نبی ہودؑ کو deny کر دینے کے بعد ، اہل عاد کا اختتام ایک قحط سے شروع ہوا ۔ اس قحط سے تنگ آ کر انہوں نے ایک شخص سے فریاد کی کہ وہ بارش کی دعا مانگے ۔ اس شخص نے تہامہ کے پہاڑوں میں جا کر دعا مانگی کہ ہم پر ویسی بارش برسے جیسے پہلے برسا کرتی تھی اور آسمان میں ایک
گہرے سیاہ بادل کو دیکھ کر کہا کہ کاش یہ ہم پر برس جائے ۔
مشکوۃ شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بادلوں سے ڈھکا آسمان دیکھتے تھے تو آپ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل جاتا تھا ، آپ کبھی گھر کے اندر جاتے اور کبھی باہر آتے اور فرماتے کہ اہل عاد نے جب عذاب کے بادل کو دیکھا تو یہی سمجھا تھا کہ
وہ ان پر برسے گا ۔ اِنفیکٹ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جب کسی آدمی کو کسی کام کے لیے بھیجا جاتا تھا تو محاورتاً یہ بھی کہہ دیا جاتا تھا کہ عاد کے قاصد جیسے نہ ہو جانا (یعنی اس دعا مانگنے والے جیسے نہ ہو جانا جو ان پر عذاب لے آیا تھا)
ہوائیں ، جن کی طاقت کا clue مجھے سورۃ ذاریات میں ملا کہ وہ نرمی سے بھی چلتی ہیں اور وہ توڑ اور بکھیر بھی سکتی ہیں ۔ ہوائیں وہ طاقت ہیں جو زمین کو شیپ بھی کر سکتی ہیں ۔ ربع الخالی صحراء اور نیمیبیا کے صحراء میں بڑے بڑے ریت کے ٹیلے راتوں رات ایک جگہ سے دوسری جگہ صرف ہوا کی قوت سے
شِفٹ ہو جاتے ہیں ۔ میں آپ کو زمین کے erosion کی دو تصاویر دکھا رہا ہوں جہاں زمین ہوا کی قوت سے erode ہوئی ہے ۔ پاکستان میں جولائی اور اگست کی بارشیں بھی اِنفیکٹ مون سون ہواؤں کی وجہ سے ہوتی ہیں جو بحیرہ عرب اور انڈین سمندر سے ہمارے ملک میں بارشوں کا سسٹم لاتی ہیں ۔
جب جون جولائی میں ہمارے ہاں شدید گرمی ہو اور فضاء میں دباؤ کم ہو جائے تو ہوا کا اصول ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ زیادہ سے کم دباؤ والے علاقے کی طرف چلتی ہے اور اس طرح ہمارے ملک میں مون سون کی فائدہ مند بارشوں کا سسٹم آتا ہے ۔
لیکن کیا ہو ۔۔۔ اگر یہی ہوا آؤٹ آف کنٹرول ہو جائے تو ؟
اوکے ! meteorology کی زبان میں ہوا کا صرف ایک تیز جھونکا gust کہلاتا ہے لیکن ہر منٹ میں چلنے والے تیز جھونکے squalls اور پھر اس کے بعد اپنی رفتار کے حساب سے انہیں gale ، storm اور hurricanes کہتے ہیں ۔
لیکن ہوا کی طاقت کیا واقعی اتنی ہو سکتی ہے کہ وہ دس فٹ کی جسامت والے
عاد یا ان کے عالیشان ستونوں کو نقصان پہنچا سکے ؟ اب جو میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں ان باتوں میں سے شاید کچھ پر آپ کو یقین بھی نہ آئے لیکن یہ سب facts ہیں ۔
ہوا کی طاقت کا اندازہ لگانے کے لیے beaufort wind force scale استعمال ہوتا ہے ، اس کے 18 فورس سکیلز ہیں ۔
ایک عام ہوا ، جس میں ہم بچپن میں پتنگ اڑایا کرتے تھے وہ 0 فورس کی ہوا ہوتی ہے ، جس میں شام کو بیٹھنا ہمیں بہت پسند ہوتا تھا ۔
فورس 4 کی ہوا ، ایک بادبان والی بڑی کشتی کو آسانی سے دھکا دے سکتی ہے تقریباً 52 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے ، اس میں ہم کھڑے تو رہ سکتے ہیں
لیکن comfort کے ساتھ نہیں ۔
فورس 8 کی ہوا بیسکلی ایک زمینی طوفان میں چلتی ہے یعنی 117 کلومیٹر فی گھنٹہ ، اس میں ہمارے لیے کھڑے رہنا بہت مشکل ہو جائے گا ۔
فورس 11 کی ہوا ساحل سمندر پر آئے طوفانوں میں چلتی ہے ، یہ ہوا سڑک پر لگے بورڈز کو اکھیڑ سکتی ہے ، گاؤں میں بنے کچے گھروں
کی چھتوں کو اکھاڑ سکتی ہے ، اور اس پوائینٹ سے آگے کی ہوا ہمارے لیے نقصان دہ ہے ۔
فورس 15 کی ہوا زیادہ تر سمندروں میں چلتی ریکارڈ ہوئی ہے ، میں آپ کو ایک تصویر دکھا دیتا ہوں کہ اس طرح کی اونچی اونچی rogue waves یعنی پانی کی ’’پاگل لہریں‘‘ اس فورس 15 کی ہوا سے ہی پیدا ہوتی ہیں ۔
اگر آپ کو ایک آسان سا فارمولا دوں تو یوں سمجھ لیں کہ 43 کلومیٹر فی گھنٹہ سپیڈ والی ہوا ہماری بجلی کی تاروں کو ڈسٹرب کر سکتی ہے ، ان میں سے کچھ تاریں ٹوٹ سکتی ہیں ۔ 100 کلومیٹر کی رفتار والی ہوائیں پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کو دھکا دے سکتی ہیں ۔
ایسے ہی 250 کلومیٹر فی گھنٹہ پہنچ جانے پر ہوا ایک عام عمارت والے گھر کو زمین بوس کر سکتی ہے اور ایک دفعہ اس کی رفتار 324 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھ جائے تو پھر کسی بھی man-made عمارت کا ایک ہی مقدر ہوتا ہے
’’مکمل تباہی‘‘ یعنی ’’total destruction‘‘
مسند أحمد کی ایک حدیث ہے کہ اہل عاد پر بھیجی گئی ہوا ، ہوا کے خزانوں میں سے صرف ایک انگوٹھی کے حلقے کے برابر چھوڑی گئی تھی ، لیکن آخر اس بات کا مطلب کیا ہے ؟ کونسے ہوا کے خزانے ؟
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاید فرقان ہمیں بیوفورٹ فورس 18 کا بتانے لگا ہے لیکن آپ غلط ہیں ۔
ہوائیں صرف ہماری زمین پر نہیں چلتیں ، یہ دوسرے سیاروں پر بھی چلتی ہیں ، انہیں planetary winds کہتے ہیں ۔ ہمارے solar system میں سب سے تیز ہوائیں neptune پر چلتی ہیں جو 1000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ریکارڈ ہے میرا نہیں خیال کہ اس قدر تیز ہوا میں آپ زمین سے بھی اٹھ پائیں گے ۔
اٹھنا تو درکنار ، آپ شاید سانس بھی نہ لے پائیں ۔ لیکن کیا اتنا ہی ہے ؟ کیا نیپچون کی ہوائیں ہماری حد ہے ؟ 2001 میں ہم سے 190 لائیٹ ایئرز کے فاصلے پر ایک سیارۃ دریافت ہوا تھا جس کا نام HD-80606-B ہے اور اس پر آج تک کی سب سے تیز ترین ہوا ریکارڈ کی گئی ہے 15000 کلومیٹر فی گھنٹہ ۔
اتنا سمجھ لیں کہ اول تو آپ ہوا کی اس رفتار پر کھڑے ہو ہی نہیں سکتے اور اگر ہو بھی جائیں تو اس رفتار کی ہوا ہڈیوں سے آپ کا گوشت بھی اکھیڑ کر لے جائے گی یہ jupiter کے سائیز کا سیارہ ہے اور شاید آپ اس تصویر میں اس سیارے کا weather system دیکھ پائیں جہاں سرخ رنگ میں ہوا کی رفتار ہے ۔
اوکے ، میں نے آپ کو بتایا تھا کہ شاید کچھ باتوں پر آپ کو یقین نہ آئے لیکن وہ fact ہوں گی اور یہ اگلی بات ان ہی میں سے ایک ہے ۔ آج تک ، کائینات میں ، انسان نے ہوا کی جو سب سے تیز ترین رفتار theorize کی ہے ، وہ IGR-J17091-3624 نامی بلیک ہول کے گرد چلنے والی ہے ۔
عموماً ایسی باتوں پر میں لکھ دیتا ہوں کہ آپ نے میرا یقین نہیں کرنا اس لیے خود گوگل کر لیں لیکن چلیں میں ہی بتا دیتا ہوں کہ اس بلیک ہول کے گرد چلنے والی ہوا تین کروڑ بیس لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے ۔ گائیز ! یہ روشنی کی رفتار کا تین فیصد ہے اور اس رفتار کی ہوا میں
آپ شاید اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے خون کے خلیوں کو بھی بکھر جاتے ہوئے دیکھیں گے ۔ (میٹافوریکلی)
شاید اب آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ حدیث کے مطابق ہوا کے خزانے کیا ہو سکتے ہیں ۔ بہرحال ارم والوں کے عذاب کی طرف واپس آتا ہوں جہاں اگلے clues مجھے سورۃ قمر اور سورۃ حاقۃ میں ملے کہ
وہ ہوا بانجھ تھی ، اس میں بارش نہیں تھی ، وہ انہیں اکھڑے ہوئے کھجور کے تنوں کی طرح چھوڑ رہی تھی ۔ سورۃ ذاریات کے clue کے مطابق وہ جس چیز سے بھی گزرتی اسے ’’رمیم‘‘ کی طرح کر دیتی یعنی disintegrated ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ وہ جانوروں کو اٹھا کر اوپر تک لے جاتی تھی ۔
سورۃ حم السجدۃ کے clue کے مطابق اس ہوا میں چمک اور کڑک بھی تھی ، اور اس کے بعد ان کے گھروں میں کچھ دکھائی نہ دیتا تھا ۔
ان سارے clues کو ایک جگہ رکھنے پر قدرت کے 4 بھیانک phenomenas سامنے آتے ہیں جن میں سب سے پہلا dust storm ہے ، آپ میں سے بہت سے لوگ اس سے واقف بھی ہوں گے ۔
یہ ہوا کا وہ طوفان ہے جس میں ریت ، مٹی اور گردوغبار ہو یہ قحط کے مہینوں میں پیدا ہوتا ہے (جیسا اہل عاد کے ساتھ ہوا) اس میں دم گھٹنے سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے اور اس میں کچھ دکھائی بھی نہیں دے رہا ہوتا (جیسا کہ اہل عاد کے ساتھ ہوا) میں آپ کو ڈسٹ سٹورم کی ایک تصویر دکھا دیتا ہوں
دوسرا فینامنا dust devil ہے ، ان سے وہ لوگ واقف ہوں گے جو میدانی یا صحرائی علاقوں میں رہتے ہیں (جیسا کہ ارم والے رہتے تھے) کہ اکثر ہوا میں گھومتا ہوا ایک بھنور بن جاتا ہے ، ویسے تو یہ نقصان دہ نہیں ہوتا لیکن 2003 میں ایک dust devil نے ایک ڈبل سٹوری مکان کو اپنی جگہ سے
اکھیڑ دیا تھا اور جب اس میں ریت کے ذرات شامل ہو جائیں تو الیکٹریکلی چارج ہو جانے کی وجہ سے اس میں کڑک بھی پیدا ہو جاتی ہے ۔
تیسرا فینامنا firestorm کا ہے ، جب ٹمپریچر حد سے زیادہ ہو جائے اور وہاں خشک سالی ہو تو stack-effect کی وجہ سے اس جگہ تمام طرف سے ہوا جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے اور نتیجہ ایک گھومتے ہوئے آگ کے بھنور کی صورت میں نکلتا ہے خشک ، بارش سے خالی ، اور صرف تباہی لانے والی ستون جیسی ہوائی آگ
لیکن میری تحقیق میں شاید سب سے خوفناک طریقے سے آؤٹ آف کنٹرول ہوتی ہوائیں ایک tornado کی شکل میں ہوں ، سب سے تیز یعنی F5 کیٹگری کا تارنیڈو جس میں ہوا کی رفتار 450 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی اوپر کراس کر جاتی ہے ، جو آخری دفعہ 1925 میں امیرکہ میں آیا تھا اور 352 کلومیٹر تک
گھومتا تباہی پھیلاتا رہا تھا ۔ جو دیکھنے میں خود بھی ستون جیسا ہوتا ہے ، ایک 3 کلومیٹر چوڑا بدترین اور destructive ہوا کا ستون ۔
گائیز میں نے آپ کو صرف ان چیزوں کے بارے میں بتایا ہے جنہیں ہم جانتے ہیں ، سمجھتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ جیسے اس شہر ارم پر یہ ساری باتیں ایک ساتھ لیکن اپنی انتہائی شدید حالت میں نازل ہوئی ہوں گی ۔ کیوں ؟
کیوں کہ انہوں نے اپنے بنائے عظیم الشان ستونوں اور ستونوں جیسے ہی اپنے جسموں کو دیکھ کر پوچھ لیا تھا کہ کون ہے جو قوت میں ہم سے زیادہ ہو ؟ لیکن یہ سارا تھریڈ پڑھتے آپ نے یہ سوچا کہ آخر ان پر ہواؤں کا ہی عذاب کیوں آیا ؟
کیوں کہ انہیں اپنے ستونوں پر ناز تھا ، انہیں ستونوں جیسی اپنی جسامت پر تکبر تھا ، اور ان پر عذاب بھی شاید ستونوں ہی کی شکل میں آیا ، ہوا کے ستون ، شدید ترین ہوا کے ستون ۔
آپ کو یاد ہے میں نے بتایا تھا کہ اس آیت کا ایک تیسرا ترجمہ بھی بنتا ہے جو میں آخر میں بتاؤں گا ؟
اور وہ ہے ’’ارم والے ، ستونوں سے بھرے ہوئے‘‘
اور اب سمجھ آئی کہ ’’ارم ذات العماد‘‘ کیا ہے ۔
ارم والے ، ستون پر ستون پر ستون پر ستون ۔
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...