بخاری کی احادیث میں اس واقعے کے متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص حضرت موسیٰؑ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ کسی ایسے انسان کو جانتے ہیں جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہو ؟
حضرت موسیٰؑ نے جواب دیا کہ نہیں ، اور اس جواب پر انہیں اللہ کی طرف سے ایک وحی آئی کہ اپنے
حضرت موسیٰؑ نے جواب دیا کہ نہیں ، اور اس جواب پر انہیں اللہ کی طرف سے ایک وحی آئی کہ اپنے
ساتھ ایک نمک لگی مچھلی لیں اور دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر جائیں ، جس جگہ مچھلی آپ سے گم ہو جائے ، وہاں آپ کی ایک ایسے بندے سے ملاقات ہو گی جسے میں نے اپنے علوم میں سے ایک علم دے رکھا ہے ، ایسا علم کہ جو آپ کے پاس نہیں ہے ۔ مختصر یہ کہ حضرت موسیٰؑ اپنے ایک خادم کے ساتھ نمک لگی
مچھلی لے کر نکلتے ہیں اورصخرۃ (جو چٹانی علاقے کو کہتے ہیں) پہنچ کر مچھلی زندہ ہو کر پانی میں چلی جاتی ہے لیکن حضرت موسیٰؑ کو علم نہیں ہوتا ، اور جب آگے جا کر انہیں پتہ چلتا ہے کہ مچھلی تو پہلے ہی کہیں کھو گئی تو وہ الٹے قدموں واپس چل کر آتے ہیں اور وہاں انہیں ایک ایسا شخص نظر آتا
ہے جس نے اپنے گرد کپڑا لپیٹ رکھا ہے ۔ اوکے ، مجھے پوری امید ہے کہ یہاں سے آگے کے واقعات آپ نے خود بھی پڑھ رکھے ہوں گے ، لیکن ذرا پچھلے دو پیرا گراف دوبارہ پڑھیئے ، آپ کچھ نوٹس کر رہے ہیں ؟ سوائے حضرت موسیٰؑ کے نام کے اس پورے واقعے میں کسی ایک بھی جگہ ، فرد یا وقت کا بالکل بھی
نام لے کر ذکر نہیں کیا گیا ۔ ایسا کیوں ؟ اور یہی تجسس ، میرے اس تھریڈ کو لکھنے کی وجہ بنا ۔
آپ سب جانتے ہیں کہ میں اپنے تھریڈز میں سب سے پہلے واقعے میں بتائی گئی جگہ کا ذکر کرتا ہوں ، اور واقعی میں نے اس تھریڈ کے لیے بڑی محنت سے کچھ نقشے بھی تیار کیے ہیں لیکن آج نقشے دکھانے سے
آپ سب جانتے ہیں کہ میں اپنے تھریڈز میں سب سے پہلے واقعے میں بتائی گئی جگہ کا ذکر کرتا ہوں ، اور واقعی میں نے اس تھریڈ کے لیے بڑی محنت سے کچھ نقشے بھی تیار کیے ہیں لیکن آج نقشے دکھانے سے
پہلے میں آپ کو اس شخص کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جن سے حضرت موسیٰؑ ملے تھے ۔
بخاری اور مسلم میں اس شخص کے متعلق مجھے جو احادیث ملیں ان میں نام لے کر ایک شخصیت کا ذکر ہے ، اور وہ تھے خضرؑ ۔ آیا کہ وہ ایک نبی تھے یا ولی ؟ ہم نہیں جانتے ۔ ہمیں یہ بھی نہیں کنفرم کہ وہ انسان تھے یا
بخاری اور مسلم میں اس شخص کے متعلق مجھے جو احادیث ملیں ان میں نام لے کر ایک شخصیت کا ذکر ہے ، اور وہ تھے خضرؑ ۔ آیا کہ وہ ایک نبی تھے یا ولی ؟ ہم نہیں جانتے ۔ ہمیں یہ بھی نہیں کنفرم کہ وہ انسان تھے یا
بقول کچھ علماء کے ایک فرشتہ ۔ اوکے ، آپ کو اس واقعے کا تھوڑا سا بیک گراؤنڈ مل گیا اب اس واقعے کی شروعاتی آیات پر آئیں ۔ ایک نمک لگی مچھلی کا صرف اسی مخصوص چٹان پر زندہ ہونا کیسے ؟ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ فرقان یہ تو ایک معجزہ تھا ، لیکن وہ نبی جنہوں نے اپنے رب سے واضح کلام کیا ہو
انہیں بھلا مچھلی زندہ کرنے کا معجزہ کیوں دکھانا ۔ ابن کثیر ، تاریخ طبری اور سفیانؒ تینوں کا یہی ماننا ہے کہ اس چٹان کے نیچے درحقیقت آب حیات کا چشمہ تھا اور اسی پانی کے چھینٹے پڑنے سے وہ مچھلی زندہ ہوئی اور قرآن کے الفاظ کے مطابق
’’عجیب طریقے سے پانی میں راستہ بنا کر چلی گئی‘‘
’’عجیب طریقے سے پانی میں راستہ بنا کر چلی گئی‘‘
اس راستہ بنانے کے لیے جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ ’’سَرَبَا‘‘ ہے ، اور اس سربا کا مطلب ’’پھسل جانا‘‘ بھی ہے ، اور ’’زیر زمین راستہ یا ایک سرنگ‘‘ بھی ہے اور یہیں سے ’’انسرب‘‘ نکلا ہے جس کا مطلب کسی کے چھپ کر بیٹھنے کی سرنگ بھی ہے ۔ کیا یہ لفظ ’’سَرَبَا‘‘ کسی زیر زمین مقام کی نشاندہی
کر رہا ہے ؟ اس لفظ کو دیکھتے ہوئے تو ایسا ہی لگتا ہے لیکن ذرا آب حیات کی طرف واپس آئیں ۔۔۔ پہلا سوال ! کیا آب حیات ایک سچ ہے ؟
تاریخ اور مختلف کلچرز میں آب حیات کے لیے ایک ہزار سے اوپر نام آئے ہیں ، اس کی خصوصیات میں عمر بڑھنے کو آہستہ کرنا اور زخموں کو بھر دینا شامل ہے اور
تاریخ اور مختلف کلچرز میں آب حیات کے لیے ایک ہزار سے اوپر نام آئے ہیں ، اس کی خصوصیات میں عمر بڑھنے کو آہستہ کرنا اور زخموں کو بھر دینا شامل ہے اور
ہیروڈوٹس لکھتا ہے کہ میکروبینز بہت خوبصورت ، لمبے تڑنگے ، طاقتور اور جنگجو لوگ تھے اور ان کے پاس اتنا سونا تھا کہ یہ اپنے مجرموں کو بھی سونے کی بیڑیاں پہناتے تھے ، لیکن ان کی سب سے عجیب بات یہ تھی کہ یہ لوگ بہت لمبے لمبے عرصے تک جیتے تھے ، ان کے ایوریج شخص کی عمر کم سے کم 120 سال
ہوا کرتی تھی یعنی آج کے ایوریج انسان سے ڈبل ۔ ان کی خوراک ویسے تو دودھ اور گوشت پر مبنی تھی لیکن جب ہیروڈوٹس نے ان کے بادشاہ سے ان کی لمبی عمروں کے بارے میں پوچھا تو وہ انہیں ایک چشمے پر لے کر گیا جہاں کچھ لوگ اپنا جسم دھو رہے تھے ۔ ان کا جسم ایسے چمک رہا تھا کہ جیسے وہ
ان لوگوں کی عجیب و غریب خصوصیات کے متعلق ہیروڈوٹس مزید لکھتا ہے کہ جب ایران کے بادشاہ cambysis ii نے میکروبینز کی طرف اپنا وفد بھیجا کہ میری اطاعت قبول کرو ورنہ تم پر حملہ ہو گا تو میکروبینز کے بادشاہ نے وفد کو اپنی کمان دی اور کہا کہ اگر تم اسے موڑ کر اس میں ڈوری ڈال سکنے کی
طاقت رکھتے ہو تو میں بادشاہی چھوڑ کر تمہارے بادشاہ کی اطاعت میں آ جاؤں گا اور مزے کی بات کہ وفد ایسا کرنے میں ناکام رہا ۔
آب حیات کے متعلق ایک اور قابل ذکر واقعہ آج سے 2200 سال پہلے گزرے چائینہ کی بادشاہت qin dynasty میں بھی ملتا ہے یہ وہی qin ہے جس کے نام پر آج کا ملک چین ہے ۔
آب حیات کے متعلق ایک اور قابل ذکر واقعہ آج سے 2200 سال پہلے گزرے چائینہ کی بادشاہت qin dynasty میں بھی ملتا ہے یہ وہی qin ہے جس کے نام پر آج کا ملک چین ہے ۔
بادشاہ چِن نے بھی آب حیات کے چشمے کے متعلق باتیں سن رکھی تھیں لہٰذا پہلے اس نے ایک ہزار لوگوں کی مہم روانہ کی اور پھر تین ہزار مردوں اور عورتوں کی ایک مہم آب حیات کی تلاش میں روانہ کی لیکن ان میں سے کوئی بھی واپس نہ آیا ، اور یہی وہ مہم تھی جس میں بیسکلی جاپان دریافت ہو گیا تھا ۔
ٓآپ سوچ رہے ہوں گے کہ یونان سے میکروبیا اور میکروبیا سے چائینہ فرقان ہمیں کہاں کہاں گھما رہا ہے لیکن ذرا سنتے جایئے ، 15th سے لے کر 18th صدی تک کا دور age of exploration کہلاتا ہے یعنی دریافتوں کا دور ۔
اور سچ کہوں تو اس جنون کے پیچھے دراصل ایک حقیقی وجہ بھی تھی ۔ caribbean میں باہاماس کے علاقے میں ایک دلدلی علاقے کا ذکر ملتا ہے جو 6 کلومیٹر لمبا تھا ۔ اس علاقے کے شمال میں ایک ایسا تالاب تھا جو high-tide یعنی ’’مد‘‘ کے دوران بھر جاتا تھا اور low-tide یعنی جذر کے وقت اس میں
جو انسانی جلد کی healing میں بہت مدد کرتا ہے اور ان کہانیوں سے متاثر ہو کر پونسے ڈی لیون آٹھ سال تک جسے وہ fountain of youth کہتے تھے کی تلاش میں رہا ۔ بلکہ آپ میں سے جن لوگوں نے pirates of the caribbean کا چوتھا پارٹ دیکھا ہے اس میں اسی fountain of youth سے کانسیپٹ لیا گیا ہے ۔
آب حیات کے متعلق ایک نسبتاً عجیب و غریب ریفرینس مجھے 338 عیسوی میں لکھی گئی ایک کتاب alexander’s romance میں ملا ۔ یہ نبی کریم ﷺ سے پہلے کے دور کی بات ہے یہ کتاب اوریجنلی یونانی زبان میں لکھی گئی تھی لیکن بعد میں اس کے تراجم بھی ہوئے ، اس کے نام میں موجود لفظ romance ہمارے والا
رومینٹیک romance نہیں ہے بلکہ سولہویں صدی کی انگلش میں romance روزمرۃ کے کاموں کو کہتے تھے ۔ اس کتاب میں الیگزینڈر یعنی سکندر اعظم ، خضر نام کے ایک شخص سے ملتا ہے جو آب حیات میں ایک مچھلی ڈال کر اسے دکھاتے ہیں ۔ اس واقعے میں کتنی صداقت ہے ، مجھے نہیں پتہ ، لیکن 338 عیسویں میں
یہ واقعہ لکھا جانا ، بذات خود ایک بڑی عجیب بات ہے ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ فرقان نے تاریخ میں آب حیات کے بہت سا ذکر کر دیا لیکن یہ سب تو شاید فرضی کہانیوں سے زیادہ کچھ بھی نہیں ، بھلا پانی کیسے عمر کو آہستہ کر سکتا ہے ، یا زخموں کو بھر سکتا ہے ۔ لیکن ایک منٹ کے لیے سوچیئے کہ ...
کیا یہ واقعی ناممکن ہے ؟
بڑھاپے کا آنا کیا ہوتا ہے گائیز ؟ آسان ترین الفاظ میں accumulation of error یعنی جیسے جیسے ہمارے خلیوں یا سیلز میں اپنے آپ کو repair کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے ، ہم پر بڑھاپا طاری ہوتا جاتا ہے ۔ چلیں میں آپ کو سب سے آسان زبان میں سمجھاتا ہوں ۔
بڑھاپے کا آنا کیا ہوتا ہے گائیز ؟ آسان ترین الفاظ میں accumulation of error یعنی جیسے جیسے ہمارے خلیوں یا سیلز میں اپنے آپ کو repair کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے ، ہم پر بڑھاپا طاری ہوتا جاتا ہے ۔ چلیں میں آپ کو سب سے آسان زبان میں سمجھاتا ہوں ۔
جب ہمارا خلیہ ایک سے دو خلیوں میں تقسیم ہوتا ہے تو یہ ہمارے جسم کی بڑھوتری یا نشونما کے لیے بنیادی عمل ہے اور خلیے کی ہر تقسیم کے ساتھ اس کے اندر پائے جانے والے کروموسومز کے سروں پر موجود چھوٹے چھوٹے telomeres مزید چھوٹے ہوتے جاتے ہیں ۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جب ہم اپنے جوتوں کے تسمے
بار بار باندھیں تو ہر دفعہ باندھنے سے تسموں کا سرا آہستہ آہستہ خراب ہوتا جائے گا ۔ اور جب telomeres خطرناک حد تک چھوٹے ہو جائیں تو خلیہ مزید تقسیم نہیں ہو گا اور خلیے یا سیل کی زندگی کا یہ پوائینٹ hayflick-limit کہلاتا ہے ۔
تھیوریٹکلی ، اگر کسی طرح سے telomeres کی
تھیوریٹکلی ، اگر کسی طرح سے telomeres کی
اس hayflick-limit کو ختم کر دیا جائے تو ہمارا یہ سیل ہمیشہ تقسیم ہوتا رہے گا ، یعنی عام الفاظ میں ۔۔۔ لگاتار نشونما سے ایک بہت بہت بہت لمبی عمر ۔
اوکے ! telomeres میں ہونے والے اس نقصان کو کس طرح سے دور کیا جا سکتا ہے ؟ اس کا جواب ہمارے genes میں ہے ، اگر آپ بہت بوڑھے اور بالکل
اوکے ! telomeres میں ہونے والے اس نقصان کو کس طرح سے دور کیا جا سکتا ہے ؟ اس کا جواب ہمارے genes میں ہے ، اگر آپ بہت بوڑھے اور بالکل
نوجوان شخص کے genes کو ایک دوسرے سے کمپیئر کریں تو آپ دیکھیں گے کہ telomeres کا یہ نقصان سب سے زیادہ 60 قسم کے جینز میں فوکس کر رہا ہے ۔ لیکن کچھ جینز ایسے ہیں جو اس نقصان کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔
اور ان ہی genes میں سے ایک کا نام ہے SIR-2
اور ان ہی genes میں سے ایک کا نام ہے SIR-2
یعنی silent information regulator 2 جب yeast یعنی خمیر کے خلیے میں اس gene کی ایکسٹرا کاپیز ڈالی گئیں تو خمیر کی ایوریج عمر میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا اور جب اسے خمیر کے خلیے میں سے مکمل طور پر ڈیلیٹ کر دیا گیا تو اس کی عمر میں 15 فیصد کمی ہو گئی یہ سب انفارمیشن واقعی لاجواب ہے
لیکن مجھے اندازہ ہے کہ سبھی لوگ اس ٹیکنیکل گفتگو کو پڑھنا نہیں چاہتے اس لیے میں مزید اس کے بارے میں نہیں لکھ رہا ، لیکن چند عجیب اور حیران کن باتیں آپ سے ضرور شیئر کرنا چاہتا ہوں ۔
گائیز ! یہ ساری ٹیکنالوجی genetic repair mechanism کہلاتی ہے اور ہمارے پاس ابھی اس لیول کی
گائیز ! یہ ساری ٹیکنالوجی genetic repair mechanism کہلاتی ہے اور ہمارے پاس ابھی اس لیول کی
ٹیکنالوجی نہیں آئی جو ہمارے جسم کے تمام خلیوں میں ہوئے ڈیمیج کو آہستہ کر دے البتہ ہمارے پاس کچھ ٹیکنالوجیز واقعی ایسی ہیں جو بذات خود ایک حیرت کدہ ہیں ۔
آپ نے اکثر پاکستان میں گرمیوں میں چھپکلیاں نکلتے دیکھی ہوں گی ، لیکن کبھی آپ نے نوٹس کیا کہ چھپکلیوں کی دم کاٹ دینے پر کچھ ہی
آپ نے اکثر پاکستان میں گرمیوں میں چھپکلیاں نکلتے دیکھی ہوں گی ، لیکن کبھی آپ نے نوٹس کیا کہ چھپکلیوں کی دم کاٹ دینے پر کچھ ہی
ہفتوں میں اس کی پوری دم واپس آ جاتی ہے ؟ اِنفیکٹ چھپکلیوں میں salamander نام کی ایک قسم ایسی ہے جس کا جسم نہ صرف اپنی دم دوبارہ repair کر لیتا ہے بلکہ اپنی آنکھیں ، اپنے بازو اور اپنی آنتیں تک دوبارہ generate کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اب میرا سوال کہ آپ نے کبھی tissue culture
اور 2017-18 میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے جینوم ٹیکنالوجی سینٹر نے MAGESTIC نام کی ایک ٹیکنالوجی ایجاد کی تھی ، گائیز یہ اس قدر کلاسیفائیڈ ٹیکنالوجی ہے کہ پبلک کو اس کی مکمل انفارمیشن تک میسر نہیں ، البتہ اگر آپ اس کا نام غور سے پڑھیں تو آپ مجھ سے بہتر سمجھ جائیں گے کہ یہ
کیا کچھ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے ۔
Multiplex Accurate Genome Editing with Short and Trackable Integrated Cellular barcodes
سچ کہوں تو مجھے ، یعنی فرقان قریشی کو کبھی کبھی خوف آتا ہے کہ آب حیات کی تلاش میں انسان ٹیکنالوجی کی کون کونسی حدود کو چھو رہا ہے اور مجھے وہ واقعہ یاد آتا
Multiplex Accurate Genome Editing with Short and Trackable Integrated Cellular barcodes
سچ کہوں تو مجھے ، یعنی فرقان قریشی کو کبھی کبھی خوف آتا ہے کہ آب حیات کی تلاش میں انسان ٹیکنالوجی کی کون کونسی حدود کو چھو رہا ہے اور مجھے وہ واقعہ یاد آتا
جہاں حضرت جبرائیلؑ کو ایسے لوگوں پر عذاب کے لیے بھیجا گیا جو اپنے علم میں اس قدر آگے جا چکے تھے کہ وہ آسمانی معاملات میں دخل اندازی کی جرأت کرنے لگے تھے ۔
یہ تو تھی آب حیات کی تلاش میں ٹیکنالوجی کی کہانی لیکن ایک سوال شاید آپ کے ذہن میں ہو کہ کیا ہمیں قدرتی طور پر ایک بہت ہی
یہ تو تھی آب حیات کی تلاش میں ٹیکنالوجی کی کہانی لیکن ایک سوال شاید آپ کے ذہن میں ہو کہ کیا ہمیں قدرتی طور پر ایک بہت ہی
لمبی عمر کا ثبوت ملتا ہے ؟ میں آپ کو دو بہت ہی خاص جانوروں کے بارے میں بتاتا ہوں ۔
آپ نے کبھی turritopsis dohrnii نامی جیلی فِش کے بارے میں سنا ہے ؟ یہ ایک چھوٹی سی جیلی فِش ہے کہ جو واحد ایسا جانور ہے جسے سائینس immortal یعنی ’’امر‘‘ مانتی ہے کیوں کہ اس کے خُلیے
آپ نے کبھی turritopsis dohrnii نامی جیلی فِش کے بارے میں سنا ہے ؟ یہ ایک چھوٹی سی جیلی فِش ہے کہ جو واحد ایسا جانور ہے جسے سائینس immortal یعنی ’’امر‘‘ مانتی ہے کیوں کہ اس کے خُلیے
دوسرا جانور ہے شارک ، آپ کو پتہ ہے کہ شارک وہ واحد جانور ہے جو ہر ایک بیماری سے immune ہے ۔ اس پر کسی وائیرس کا اثر نہیں ہوتا ، یہاں تک کہ یہ کینسر سے بھی immune ہے ۔ شارکس ہی کی ایک خاص قسم greenland shark ہے ۔ میں آپ کو تصویر دکھا دیتا ہوں ، اس شارک کی عمر انتہائی حیرت انگیز
کس قدر بیکٹیریاز اور پیراسائیٹس ہیں ؟ البتہ اگر آپ منرل واٹر کی بات کریں جو کسی چشمے یا جھرنے سے آیا ہو تو وہ تھوڑا صاف ہوتا ہے اور اس میں عام پانی کی نسبت ایسے نمکیات ہوتے ہیں جو ہمارا جسم خود سے نہیں پیدا کرتا اس سے بھی زیادہ صاف تاثیر والا پانی سپرنگ یا گلیشئیر واٹر ہوتا ہے
ایسا ہی ایک گلیشئیر واٹر جاپان کے kobe جھرنوں سے لیا جاتا ہے اور آپ کی دلچسپی کے لیے بتا دوں کی اس کی قیمت پاکستانی 38,000 روپے 750 ملی لیٹر کی بوتل ہے ۔ اور اگر آپ کو اس سے بھی زیادہ صاف تاثیر والا پانی چاہیئے تو fiji کے جھرنوں سے نکلنے والا پانی پیئیں ، اس کی قیمت تو میں
آپ کو نہیں بتا رہا کیوں کہ آپ نے میرا یقین نہیں کرنا ، اس لیے گوگل پر acqua di cristallo tributo a modigliani لکھ کر سرچ کر لیں آپ خود اس کی قیمت جان لیں گے ۔
البتہ ایک پانی ہے جس کا میں بالکل آخر میں ذکر کرنا چاہتا تھا اور وہ ہے زمزم ۔ زمزم کے پانی میں باقی پانیوں کی نسبت
البتہ ایک پانی ہے جس کا میں بالکل آخر میں ذکر کرنا چاہتا تھا اور وہ ہے زمزم ۔ زمزم کے پانی میں باقی پانیوں کی نسبت
اس کا ph لیول تھوڑا سا زیادہ ہے جس کی وجہ سے یہ گردوں کی پتھری توڑنے میں واقعی ایک شافی دوا کا کام کرتا ہے اور بہت سی وجوہات پر میں زمزم کو ایک معجزہ مانتا ہوں ۔
ان میں سے ایک وجہ ہے کہ عموماً پانی کے کنوؤں میں بائیولوجیکل گروتھ یعنی کہ algae (کائی) وغیرہ اُگ آتی ہے لیکن
ان میں سے ایک وجہ ہے کہ عموماً پانی کے کنوؤں میں بائیولوجیکل گروتھ یعنی کہ algae (کائی) وغیرہ اُگ آتی ہے لیکن
زمزم کے کنوئیں میں کسی قسم کی کوئی کائی نہیں ہے ۔ ویسے تو ریسرچرز یہ کہتے ہیں کہ چونکہ زمزم کے کنوئیں میں 8000 لیٹر پانی فی سیکنڈ کے حساب سے آ رہا ہے ، اتنی تیز سپیڈ پر کائی کا جمنا مشکل ہوتا ہے ۔ لیکن آپ نے inga falls کا نام سنا ہے ؟ یہ کانگو کے دریا میں ایک آبشار ہے اور یہ
اوکے ، آپ سوچ رہے ہوں گے کہ فرقان نے بات آب حیات سے شروع کی تھی اور کہاں سے کہاں چلی گئی ، لیکن آب حیات کے چشمے کی تلاش میں یہ سارا سفر ضروری تھا ، اوکے ، تو پھر سب سے بڑا سوال ، کہ اگر یہ چشمہ سچ ہے تو یہ ہے کدھر ۔
ذرا سورۃ کہف کی آیت 60 پر واپس آئیے ! جہاں موسیٰؑ اپنے خادم کو
ذرا سورۃ کہف کی آیت 60 پر واپس آئیے ! جہاں موسیٰؑ اپنے خادم کو
کہتے ہیں کہ میں چلتا رہوں گا جب تک کہ میں ’’مجمع البحرین‘‘ نہ پہنچ جاؤں ، اللہ نے مجھے وہیں جانے کا حکم دیا ہے ۔
یہ مجمع البحرین کیا ہے گائیز ؟ اس کا ترجمہ میرے پاس موجود قرآن میں ’’دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ‘‘ ہوا ہے ۔ اوکے ، سمجھ میں آتا ہے ، لیکن اگر آپ حضرت موسیٰؑ کی
یہ مجمع البحرین کیا ہے گائیز ؟ اس کا ترجمہ میرے پاس موجود قرآن میں ’’دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ‘‘ ہوا ہے ۔ اوکے ، سمجھ میں آتا ہے ، لیکن اگر آپ حضرت موسیٰؑ کی
تاریخ میں وہ وقت کہ جب بحر احمر اور بحیرۃ روم دونوں کے پانی آپس میں واقعتاً ملے تھے ، ایکچوئیلی 1859 میں آیا جب ان دونوں پانیوں کو ملانے کے لیے ایک نہر کھودی گئی جسے آج ہم سوئیز کے نام سے جانتے ہیں اور تبھی پورٹ سعید کا شہر بھی آباد کیا گیا تھا ۔
سینائے پینینسولا کے ٹھیک اوپر ایک lagoon ہے ، lagoon ایک ایسی جھیل کو کہتے ہیں جس میں مد یعنی high-tide کے دوران سمندر کا پانی آ کر جمع ہو جاتا ہے اور وہ جگہ باقی سمندر سے بالکل ایک باریک سے خشکی کے ٹکڑے سے علیحدہ ہوتی ہے ۔ اس lagoon کا نام bardawil جھیل ہے ، اور اس کا نام
اور literally مجمع البحرین یعنی دو پانیوں کے جمع ہونے کی ڈیفینیشن پر سو فیصد پورا اترتا ہے ۔ یہی وہ جگہ ہے جسے ہیروڈوٹس نے اپنی کتاب histories میں serbonian bog کا نام دیا ہے کیوں کہ یہ جگہ چلنے کے حساب سے بہت ہی مشکل ہے ، دیکھنے میں سخت نظر آتی لیکن دلدل جیسی ہے یہاں تک کہ
فوجیں ان میں پھنس اور بالکل دھنس جایا کرتی تھیں ۔ مختلف پانیوں اور آب حیات کے حوالے سے اگر ان ساری باتوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو کیا موسیٰؑ کی اس مچھلی والی چٹان کے نیچے آب حیات کا چشمہ ہو سکتا ہے ؟ شاید ہاں کیوں کہ جیوگرافکلی ، macrobians کی سرزمین اور اس واقعے کے پیش
آنے والی جگہ تقریباً ایک جیسی ہی ہے ۔ لیکن اگر واقعی وہاں آب حیات تھا تو صاف صاف بتایا کیوں نہیں گیا ؟
اس کا جواب الٹا میں آپ سے ایک سوال کی صورت میں کرتا ہوں کہ اگر میں آپ کو بتاؤں کہ فلاں شہر کے فلاں محلے میں ایک ایسا چشمہ پھوٹ پڑا ہے جس کا پانی جوانی قائم رکھتا ہے تو آپ
اس کا جواب الٹا میں آپ سے ایک سوال کی صورت میں کرتا ہوں کہ اگر میں آپ کو بتاؤں کہ فلاں شہر کے فلاں محلے میں ایک ایسا چشمہ پھوٹ پڑا ہے جس کا پانی جوانی قائم رکھتا ہے تو آپ
اس جگہ یا اس محلے کے ساتھ کیا سلوک کریں گے ؟ آپ یقیناً اس پانی کی تلاش میں اس جگہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے کیوں کہ یہی وہ سب سے بڑی انسانی کمزوری ہے جس کی وجہ سے آدمؑ جنت سے نکالے گئے تھے ، ہمیشگی کی خواہش ۔ اور اسی لیے اس واقعے کی جگہ کو بہت vague رکھا گیا ، پہلے حضرت موسیٰؑ
کو صخرۃ یعنی آب حیات والی اس چٹان پر لیجایا گیا پھر انہیں مجمع البحرین پر لے جایا گیا ، پھر وہاں سے واپس صخرۃ تک لایا گیا ، یعنی آپ کہیں اس واقعے میں موجودcoordinates اور directions کو ٹریک کر ہی نہیں سکتے ۔ اور میں بھی آپ کو صرف مجمع البحرین دکھا سکتا ہوں ...
لیکن ایگزیکٹلی وہ چٹان کونسی تھی ؟ یہ شاید کوئی بھی نہیں جانتا ۔
کیا آب حیات کا اس کے علاوہ بھی کسی جگہ ذکر ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے آب حیات کی پوری ایک نہر کا ذکر اس کا نام لے کر کیا ہے ’’ماء الحیاۃ‘‘ نام سے ۔ مجھے صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، سنن نسائی اور مشکوٰۃ المصابیح میں
کیا آب حیات کا اس کے علاوہ بھی کسی جگہ ذکر ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے آب حیات کی پوری ایک نہر کا ذکر اس کا نام لے کر کیا ہے ’’ماء الحیاۃ‘‘ نام سے ۔ مجھے صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، سنن نسائی اور مشکوٰۃ المصابیح میں
کُل 7 احادیث ایسی ملی ہیں جن میں آب حیات کے نام سے اس کا ذکر ہے ۔ اور میں چاہتا ہوں کہ ان احادیث کا نچوڑ آپ غور سے پڑھیں !
’’جہنمیوں میں سے جن پر اللہ رحم کرنا چاہے گا ، اسے جہنم سے نکال لے گا ، اس وقت وہ بالکل جلے ہوئے ہوں گے اور انہیں ایک ایسے پانی کی نہر کے کنارے ڈالا جائے گا
’’جہنمیوں میں سے جن پر اللہ رحم کرنا چاہے گا ، اسے جہنم سے نکال لے گا ، اس وقت وہ بالکل جلے ہوئے ہوں گے اور انہیں ایک ایسے پانی کی نہر کے کنارے ڈالا جائے گا
جسے ماء الحیاۃ (آب حیات) کہتے ہیں اور اس کے پانی سے وہ اس خوبصورت طریقے سے اُگیں گے جیسے سیلاب جانے کے بعد سبزہ اُگ آتا ہے‘‘
رہی آب حیات کی بات ، مجھے پورا یقین ہے کہ وہ اس وقت بھی مجمع البحرین کے قریب کسی چٹان کی نیچے آنکھوں سے چھپا ہوا ہے ، جہاں موجود دلدلوں کی وجہ سے ...
رہی آب حیات کی بات ، مجھے پورا یقین ہے کہ وہ اس وقت بھی مجمع البحرین کے قریب کسی چٹان کی نیچے آنکھوں سے چھپا ہوا ہے ، جہاں موجود دلدلوں کی وجہ سے ...
گُم کر بھی کوئی چیز اس تک نہ پہنچ سکے ، لیکن خضرؑ کا نام ، ان کے بیٹھنے سے ہریالی ہونا ، آب حیات کی نہر کے کنارے اُن لوگوں کا سبزے کی طرح اُگ آنا ، ان تمام چیزوں کا ایک ربط بنتا ضرور نظر آ رہا ہے ۔
گائیز اس دنیا اور اس سے باہر ہمارے رب ذوالجلال کی ایسی ایسی نشانیاں موجود ہیں کہ
گائیز اس دنیا اور اس سے باہر ہمارے رب ذوالجلال کی ایسی ایسی نشانیاں موجود ہیں کہ
آپ یہاں سے اندازہ لگا لیں کہ 22 جولائی 2011 ہماری دنیا سے 12 ارب لائیٹ ایئرز کے فاصلے پانی دریافت ہوا تھا ۔جو بالکل ہمارے پانی جیسا یعنی H2O تھا ، بس ایک چھوٹے سے فرق کے ساتھ ۔
اور وہ یہ کہ اس پانی کی مقدار ہماری پوری دنیا میں موجود سمندروں کے پانی سے 140 کھرب گنا زیادہ ہے ۔
اور وہ یہ کہ اس پانی کی مقدار ہماری پوری دنیا میں موجود سمندروں کے پانی سے 140 کھرب گنا زیادہ ہے ۔
خدا جانے اس عظیم الشان پانی کے ذخیرے میں کیا تاثیریں ہوں گی اور اس میں رب ذوالجلال کی کیا کیا مخلوقات تیر رہی ہوں گی ۔
آپ کو پتہ ہے جب موسیٰؑ نے خضرؑ سے ان کا علم سیکھنے کے بارے میں درخواست کی تھی اس وقت ایک پرندہ آیا تھا اور اس نے پانی میں چونچ ڈال کر مونہہ میں پانی بھرا ...
آپ کو پتہ ہے جب موسیٰؑ نے خضرؑ سے ان کا علم سیکھنے کے بارے میں درخواست کی تھی اس وقت ایک پرندہ آیا تھا اور اس نے پانی میں چونچ ڈال کر مونہہ میں پانی بھرا ...
اور اڑ گیا اور اس پر خضرؑ نے موسیٰؑ سے کہا کہ جو علم مجھے اور آپ کو عطاء کیا گیا ہے ، وہ اللہ کے علم کے مقابلے میں ایسا ہی جیسے اس پرندے کی چونچ میں موجود پانی اور اس سمندر کا پانی ۔
سچ کہوں ، تو اپنے تھریڈز لکھتے ہوئے جیسے جیسے میں ان چیزوں پر ریسرچ کرتا جاتا ہوں ، ویسے ویسے
سچ کہوں ، تو اپنے تھریڈز لکھتے ہوئے جیسے جیسے میں ان چیزوں پر ریسرچ کرتا جاتا ہوں ، ویسے ویسے
سورۃ غافر کی آیت 57 بنی نوع انسان پر واقعی سچ ثابت ہوتی نظر آتی ہے ۔
’’آسمانوں اور زمین کی پیدائش انسان کی پیدائش سے بہت بڑی ہے لیکن اکثر لوگ جانتے ہی نہیں‘‘
فرقان قریشی
’’آسمانوں اور زمین کی پیدائش انسان کی پیدائش سے بہت بڑی ہے لیکن اکثر لوگ جانتے ہی نہیں‘‘
فرقان قریشی
جاري تحميل الاقتراحات...