میں نے عربی زبان والے اپنے تھریڈ میں لکھا تھا کہ قرآن کی زبان کو مکمل قرآن جیسا ہی ٹرانسلیٹ کر دینا ، کبھی انسان کے بس کی بات تھی ہی نہیں ۔
اس آیت کو غور سے پڑھیں اسپیشلی اس کے آخری لفظ یکسبون کو ، اس کا مطلب ہے achievement یا جو حاصل کیا ہو اور اس آیت کا قریب ترین ترجمہ ہو گا
اس آیت کو غور سے پڑھیں اسپیشلی اس کے آخری لفظ یکسبون کو ، اس کا مطلب ہے achievement یا جو حاصل کیا ہو اور اس آیت کا قریب ترین ترجمہ ہو گا
’’کافی نہ ہوا ان پر جو انہوں نے حاصل کیا تھا‘‘ یا جو انہوں نے achieve کیا تھا ۔ لیکن کونسی achievement ؟ یہ کن لوگوں کی بات ہو رہی ہے ؟
یہ بات ہو رہی ہے اہل ثمود کی ۔ بچپن سے آج تک ہم یہی سنتے پڑھتے آئے کہ ہاں ایک قوم تھی ، ثمود نام کی اور انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور ان پر
یہ بات ہو رہی ہے اہل ثمود کی ۔ بچپن سے آج تک ہم یہی سنتے پڑھتے آئے کہ ہاں ایک قوم تھی ، ثمود نام کی اور انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور ان پر
سخت عذاب آیا ، اور ایک عام ریڈر کی معلومات عموماً یہیں تک ہوتی ہیں ۔ لیکن کون تھے یہ اہل ثمود ؟ ان کا جرم کیا تھا ؟ اور اس آیت میں ان کی جن achievements کا ذکر ہے وہ کیا تھیں ؟ اور آخر قرآن پاک میں 23 دفعہ ان کا ذکر کیوں آیا ہے ؟ مجھے اندازہ ہے کہ آپ میں سے بہت سے لوگ اس واقعہ سے
واقف بھی ہوں گے لیکن پھر بھی مزید لکھنے سے پہلے نئے ریڈرز کے لیے یہ واقعہ مختصراً بیان کر دینا بہتر ہو گا ۔
اہل ثمود یا قوم ثمود ، ایک طویل عرصے پر پھیلی ایک نسل یا قوم تھی ۔ یہ آج کے سعودی عرب اور اردن کے درمیان آباد تھے ، آگے چل کر میں آپ کو وہ تمام نقشے بھی دکھاؤں گا ۔
اہل ثمود یا قوم ثمود ، ایک طویل عرصے پر پھیلی ایک نسل یا قوم تھی ۔ یہ آج کے سعودی عرب اور اردن کے درمیان آباد تھے ، آگے چل کر میں آپ کو وہ تمام نقشے بھی دکھاؤں گا ۔
انہیں قرآن پاک میں اہل حجر بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ بڑے بڑے پہاڑوں میں اپنے گھر تراشا کرتے تھے ۔ ان کی طرف آئے نبی کا نام حضرت صالحؑ تھا لیکن اہل حجر نے ان سے ایک معجزہ مانگا ، کہ آپ ہمیں چٹان سے ایک حاملہ اونٹنی نکال کر دکھائیں ، ان کی درخواست پوری ہوئی اور اللہ نے پتھر سے ایک
حاملہ اونٹنی معجزاتی طور پر نکال دی ، اس پر کچھ لوگ تو ایمان لے آئے لیکن باقیوں نے پھر بھی نہ مانا اور ایک دن اس اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں ، اسے قتل کر دیا اور اس کا بچہ چیختا چلاتا چٹانوں میں غائب ہو گیا ، اور تین دن کے بعد صبح کے وقت حجر والوں پر ایک خوفناک آواز کا عذاب آیا ۔
اہل ثمود کا ذکر آج سے 5000 سال پہلے کی سلطنت میسوپوٹامیا (جو آج کا عراق ہے) وہاں ملتا ہے ، پھر ان کا ذکر آج سے 2700 سال پہلے کے عاشوری بادشاہ sargon ii کی تختیوں میں بھی ملتا ہے جس میں وہ ta-mu-di نام کے صحراء میں رہنے والوں کا ذکر کرتا ہے جو اسے تحائف نہیں بھیج رہے ۔
آج سے کچھ عرصہ پہلے کھدائی کے دوران 2500 سال قبل گزرے بابل کے آخری بادشاہ nabonidus کا ایک حکم نامہ ملا جس میں te-mu-da-A-ar-ba-a (ثمودا عربا) یا ایک عرب ثمودی شخص کو چاندی کے سکے دینے کا حکم دیا گیا تھا اور خط کے مطابق وہ شخص کوئی بہت بڑا تاجر تھا ۔
اور صرف 1800 سال پہلے اہل روم الروافۃ مقام پر ایک مندر کا ذکر کرتے ہیں جو ثمود نے خود رومن گورنر کی سپورٹ سے بنایا تھا اور وہ اہل روم کے لیے لڑائی بھی کیا کرتے تھے ۔ اب آپ ایک عجیب بات نوٹ کر رہے ہیں ؟ کہ ثمود کا ذکر 5000 سال پہلے سے شروع ہو رہا ہے اور 1800 سال پہلے تک موجود ہے ۔
تاریخ میں مختلف جگہ بار بار ان کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ثمود طویل زمانے پر پھیلی ہوئی ایک نسل بھی تھی آپ کو دلچسپی کی ایک بات بتاتا ہوں کہ ہیومن جینوم پروجیکٹ کے تحت انڈیا کے راجھستان اور پاکستان کے سندھ میں پائے جانے والے rabari قبائل کی پشتیں ثمود سے جا کر ملتی ہیں ۔
سنہ 1812 میں سوئیٹزرلینڈ کا ایک مسافر ، جو اردن گھومنے آیا تھا راستہ بھٹک کر پہاڑوں میں وادی پیترہ دریافت کر بیٹھا ، اس کی کہانیوں نے ایک اور انگریز charles montage کو بڑا متاثر کیا ، اس نے بھی بڑے بڑے پہاڑوں میں موجود گھروں کی کہانیاں سن رکھی تھیں لہٰذا 1876 میں حج پر آنے والے
ایک قافلے کے ساتھ چلا آیا اور آفیشلی وادی حجر دریافت کی ۔ آپ یہ تصویریں دیکھ کر یقیناً متاثر ہو رہے ہوں گے کہ واقعی دیکھو پتھروں میں تراش تراش کر گھر بنانے کا ذکر تو ہے لیکن آج اپنے تھریڈ کے اندر میں آپ کو ایک ایسی دریافت دکھانا چاہتا ہوں جو ہزاروں سال سے نگاہوں سے پوشیدہ تھی ۔
سنہ 2018 میں تین بہت بڑے اداروں یعنی کنگ سعود یونیورسٹی ، فرانس کے CNRS اور جرمنی کے max planck institute کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے مل کر وادی حجر کے قریب ایک عجیب دریافت کی ۔ اس دریافت کی عمر کا اندازہ اس وقت تو دو ہزار سال لگایا گیا تھا لیکن بعد میں ان کی صحیح عمر معلوم کرنے کے
یہ دریافت کرنے والی ٹیم کی چیف آرکیالوجسٹ تھیں dr. maria guagnin انہوں نے اسرائیلی اخبار haaretz کو ایک انٹرویو دیا اور میں چاہتا ہوں کہ آپ ذرا غور سے ان کے الفاظ پڑھیں ۔
’’آرکیالوجی کی زبان میں چٹانوں میں تراشی شکلوں کو relief کہتے ہیں ، سب سے اہم بات یہ کہ چٹان میں تراشے ان
’’آرکیالوجی کی زبان میں چٹانوں میں تراشی شکلوں کو relief کہتے ہیں ، سب سے اہم بات یہ کہ چٹان میں تراشے ان
اونٹوں میں سے کچھ کے پیٹ گول اور ابھرے ہوئے ہیں جیسے وہ پریگننٹ ہوں ، نیولیتھک دور سے ہمیں چٹانوں میں بنے بہت سے ریلیف ملتے ہیں لیکن ان میں کوئی بھی جگہ ایسی نہیں کہ جہاں ریلیف اتنا واضح ہو کہ جیسے اونٹ چٹان سے باہر آ رہا ہے‘‘
یہ بات فرقان قریشی اپنی طرف سے نہیں لکھ رہا بلکہ یہ
یہ بات فرقان قریشی اپنی طرف سے نہیں لکھ رہا بلکہ یہ
الفاظ dr. maria guagnin کے ہیں جو جرمنی کے max planck institute for the science of human history کی لیڈ آرکیالوجسٹ ہیں
گائیز مجھے نہیں پتہ کہ آپ اس وقت کیا سوچ رہے ہیں لیکن سات آٹھ ہزار سال پرانے اونٹوں کی چٹانوں میں شبیہیں ، وہ بھی اس انداز میں کہ انہیں پریگنینٹ دکھایا گیا ہو ۔
گائیز مجھے نہیں پتہ کہ آپ اس وقت کیا سوچ رہے ہیں لیکن سات آٹھ ہزار سال پرانے اونٹوں کی چٹانوں میں شبیہیں ، وہ بھی اس انداز میں کہ انہیں پریگنینٹ دکھایا گیا ہو ۔
اور اتنے واضح ریلیف کہ جیسے اونٹ چٹان سے باہر آ رہا ہو ، اور پھر دوسری طرف اہل حجر کا اپنے نبی صالحؑ سے مطالبہ کہ آپ ہمیں ایک پریگنینٹ اونٹنی چٹان سے زندہ نکال کر دکھائیں کم سے کم مجھے یہ نقطے کہیں نہ کہیں ملتے ضرور نظر آ رہے ہیں ان چٹانوں کی دریافت والی جگہ کا نام camel site ہے
اس علاقے کا آفیشل نام الحجر آرکیولوجیکل سائیٹ ہے ۔ journal of archeological science نامی جس جریدے میں یہ رپورٹ شائع ہوئی تھی اس میں ایک اور بات لکھی تھی ’’ان چٹانوں کی دراڑوں میں جانور کی ہڈیاں بھی ملی ہیں لیکن یہ ہڈیاں ان اوزاروں کا حصہ ہو سکتی ہیں جن سے یہ چٹانیں تراشی گئیں‘‘
بائی دا ویز آپ کی دلچسپی کے لیے بتا رہا ہوں کہ ان چٹانوں کے تراشے جانے کا دور ابھی وہ دور تھا جب انسان نے اونٹ کو domesticate یعنی پالتو نہیں کیا تھا ۔ اونٹوں کی دو قسمیں ہیں ، ایک کوہان والا dromedary اور دو کوہانوں والا bactrian ۔ بیکٹرین اونٹ کو انسان نے ساڑھے چار ہزار سال
پہلے domesticate کیا اور ایک کوہان والے dromedary اونٹ کو تقریباً پانچ ہزار سال پہلے تو کیا وہ اونٹوں کو اپنانے کی چاہت میں ایک حاملہ اونٹنی کی شبیہہ کو زندہ کرنے کا معجزہ مانگ بیٹھے ؟
آپ کو یاد ہے میں نے اپنے تھریڈ کا آغاز ’’یکسبون‘‘ کے لفظ سے متاثر ہو کر کیا تھا ؟
آپ کو یاد ہے میں نے اپنے تھریڈ کا آغاز ’’یکسبون‘‘ کے لفظ سے متاثر ہو کر کیا تھا ؟
یعنی ’’جو بھی ان کی achievements تھیں‘‘ لیکن آخر کونسی اچیومنٹس ؟ کیا وادی حجر میں 131 پہاڑ تراش کر گھر بنا لینا ان کی بڑی اچیومنٹ تھی ؟ یا پھر چٹانوں میں پریگننٹ اونٹنیوں کے لائیف سائیز ریلیف تراشنا ؟ لیکن ابھی تو حجر والوں کی کہانی کے دلچسپ ترین حصوں کا آغاز ہوا ہے ۔
ان فیکٹ اپنے تھریڈ کا یہ والا حصہ مجھے اتنا دلچسپ لگا کہ اسے صحیح سے لکھنے کے لیے میں نے بڑی محنت سے ایک نقشہ تیار کیا تاکہ آپ کو ان کی اصل achievement دکھا سکوں ۔ میں پہلے آپ کو وہ ایک نقشہ دکھا چکا ہوں جہاں اہل ثمود رہا کرتے تھے اب ذرا ایک دوسرا نقشہ غور سے دیکھیئے ۔
پوری دنیا کا یہی وہ واحد راستہ تھا جو انڈیا سے مصالحے ، عرب سے خوشبوئیں اور موتی ، افریقہ سے جانوروں کی کھالیں ، چائینہ سے لکڑی ، ریشم ، قیمتی پتھر اور بہت سی دوسری لگژریز لے کر یورپ ، عرب ، انڈیا اور جاوا کے جزیروں کے درمیان سفر کرتا تھا ۔ اِنفیکٹ پاکستان کی موجودہ
شاہراہ ریشم بھی اسی پرانے روٹ کا ایک حصہ ہوا کرتی تھی ، بلکہ اسے میں نے پاکستان کے نقشے میں ریڈ لائین سے واضح بھی کیا ہے ۔
لیکن آپ نے اس روٹ میں ایک بات نوٹس کی ؟ کہ تمام روٹس ایک خاص جگہ پر ایک hub بنا رہے ہیں ذرا غور سے دیکھیئے جس ایریا کو میں نے سعودی عرب ، اردن اور فلسطین کے
لیکن آپ نے اس روٹ میں ایک بات نوٹس کی ؟ کہ تمام روٹس ایک خاص جگہ پر ایک hub بنا رہے ہیں ذرا غور سے دیکھیئے جس ایریا کو میں نے سعودی عرب ، اردن اور فلسطین کے
درمیان سبز دائیرے میں مینشن کیا ہے ، جہاں تمام روٹس مل رہے ہیں ، آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ کون سی جگہ ہے ؟ ایگزیکٹلی اہل حجر کی جگہ ۔
اب آپ کو سمجھ آ رہی ہو گی کہ بابل کے آخری بادشاہ نے ثمودا عرباء نامی بہت بڑے تاجر کو چاندی کے سکے دینے کا حکم نامہ کیوں دیا ہو گا ۔ یا عاشوری بادشاہ
اب آپ کو سمجھ آ رہی ہو گی کہ بابل کے آخری بادشاہ نے ثمودا عرباء نامی بہت بڑے تاجر کو چاندی کے سکے دینے کا حکم نامہ کیوں دیا ہو گا ۔ یا عاشوری بادشاہ
ان کی طرف سے تحائف نہ آنے کا گلہ کیوں کر رہا تھا ، ان لوگوں کے پاس دنیا بھر کی دولت چلتی چلی آ رہی تھی ، چاہے چٹان سے اونٹنی کا مطالبہ کرنے والے incense trade route سے بہت پہلے کی بات ہوں لیکن یہ علاقہ یقیناً تجارتی روٹ کا سٹریٹیجک مرکز تھا اور ان کے محل اس بات کے گواہ ہیں ۔
اوکے ، اب ان کا جرم کیا تھا ؟ سورۃ اعراف کی آیت 74 پڑھ لیں ، انہیں قوم عاد کے بعد سرداری ملی ، وہ زمین میں establish ہوئے ، انہوں نے پتھروں میں محل بنائے لیکن پھر ایک بہت بڑی غلطی کر بیٹھے ، اور زمین میں فساد ، کرپشن اور کفر کرنے لگ گئے ۔
اور کفر کی بھی بدترین شکل ، یعنی اللہ کے ساتھ شریک کر بیٹھے ۔ ان کی مذہبی پریکٹسز کی تحقیق کرتے مجھے چار بڑے نام ملے ، آپ کو صفائیۃ تختیاں یاد ہیں جن کا میں نے تھریڈ کے شروع میں ذکر کیا تھا ؟ ان میں اہل ثمود کے ’’دوشرۃ‘‘ نامی ایک بت کا ذکر ہے ، اور باقی تین لات ، عزیٰ اور مناۃ ۔
ٓآپ نے قرآن میں یقیناً پڑھا ہو گا کہ سورۃ نجم میں ان تین بتوں کا نام کے ساتھ ذکر آیا ہے ، کبھی سوچا کہ کیوں ؟ یہ تین بت کیوں ہزاروں سال سے انہی ناموں کے ساتھ چلتے آ رہے ہیں ؟ یہاں تک کہ مکہ کے کافر بھی انہیں پوجتے تھے ۔ قرآن پاک میں چھ مقامات پر ان کافروں کے لیے عذاب سنایا گیا ہے
جو (نعوذباللہ) فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور یہی لات ، عزیٰ اور مناۃ وہ تینوں فیمیل بت ہیں جنہیں کافر یہ ٹائیٹل دیا کرتے تھے ۔ اِنفیکٹ ساتویں صدی کی ’’کتاب الاصنام‘‘ یعنی بتوں کی کتاب میں مجھے ان کے متعلق کافی کچھ ملا ، یہاں تک کہ ان کی تاریخ بھی ، لیکن بتوں سے اپنی
اور ان کا دوسرا جرم ، جو انہوں نے اللہ کی اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ کر کیا ۔ یعنی آسان الفاظ میں ، اللہ کو للکارا ! قرآن میں اہل حجر کے نو بڑے آدمیوں کا ذکر ملتا ہے جن میں کوئی خیر کی بات نہیں تھی اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں مجھے ان کے سب سے بدبخت شخص کا ذکر ان الفاظ میں ملا کہ
’’وہ سب سے طاقتور اور شر پھیلانے والا تھا اور اسے اپنی قوم کا پورا تحفظ حاصل تھا‘‘ اور اسی نے اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں ۔ لیکن یہ کونچیں ہوتی کیا ہیں ؟ اِنفیکٹ یہ ران کی پچھلی سائیڈ کے مسلز کو کہتے ہیں اور یہ ظلم اٹھارویں صدی تک جانوروں اور انسانوں دونوں پر ہوتا رہا ہے ۔
جس میں trans-atlantic slave trade کے دوران غلاموں کی کونچیں کاٹ دی جاتی تھیں تاکہ وہ بھاگ نہ سکیں ۔
اہل حجر پر کونسا عذاب آیا ؟ میں نے قرآن پاک کی ثمود کے متعلق مختلف آیات کو سٹڈی کیا اور ان آیات کے مطابق ان پر زلزلہ اور ایک بے حد خوفناک سخت کڑاکے جیسی چیخ بھیجی گئی جس سے وہ
اہل حجر پر کونسا عذاب آیا ؟ میں نے قرآن پاک کی ثمود کے متعلق مختلف آیات کو سٹڈی کیا اور ان آیات کے مطابق ان پر زلزلہ اور ایک بے حد خوفناک سخت کڑاکے جیسی چیخ بھیجی گئی جس سے وہ
روندھی ہوئی گھاس کی طرح ہو گئے ۔ اپنے تھریڈ کے آگے آنے والے اس حصے کو لکھتے ہوئے مجھے سب سے زیادہ بے چینی محسوس ہوئی کیوں کہ یہ اللہ کے عذاب کی چیخ تھی ، اور اس چیخ کے بارے میں لکھنے کا مقصد آپ کو صرف یہ بتانا ہے کہ انسان کس قدر کمزور ہے کہ وہ صرف ایک زور کی آواز کی مار ہے ۔
آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کا جسم کس آواز کو برداشت کر سکتا ہے اور کس آواز کو نہیں ؟ اوکے ، انسان کے سننے کی ایک رینج ہے ، ہم 20 ہرٹز سے کم اور 20.000 ہرٹز سے زیادہ کی آوازیں نہیں سن سکتے ۔
لیکن آوازوں کی اونچائی ہرٹز کے بجائے decibels میں ماپی جاتی ہیں ۔ آپ کے سمجھنے کے لیے مثال
لیکن آوازوں کی اونچائی ہرٹز کے بجائے decibels میں ماپی جاتی ہیں ۔ آپ کے سمجھنے کے لیے مثال
دے دیتا ہوں کہ ایک ٹرک انجن کی آواز 80 ڈیسیبل تک ہوتی ہے اور ایک جیٹ انجن کی 130 ڈیسیبل تک ۔ ویسے تو یہ آوازیں برداشت کرنے کے قابل ہوتی ہیں لیکن جیسے جیسے آواز 150 ڈیسیبل سے اوپر جانا شروع ہو گی آپ اپنے جسم پر اس کا اثر ہوتا محسوس کرنا شروع کریں گے ۔ میں آپ کو اونچی آوازوں کی صرف
چار ریئل لائیف مثالیں دوں گا ۔ پہلی مثال راکٹ لانچ کی ہے ، ایک راکٹ لانچ ہوتے وقت 165 ڈیسیبل کی آواز پیدا کر سکتا ہے ، یہ آواز مار تو نہیں سکتی لیکن آپ کے کانوں کے پردے پھاڑ دینے کے لیے کافی ہے ۔ اِنفیکٹ saturn v نامی سپیس شٹل کی لانچ کے وقت اس کی آواز سے پیدا ہونے والی اینرجی
اور ان سپیکرز کے بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ اگر آپ اس سپیکر کے سامنے کھڑے ہوں اور اسے آن کر دیا جائے ، تو آپ کے کانوں سے خون فواروں کی طرح نکلے گا ۔
دوسری مثال سن کر شاید آپ کو حیرانی ہو ، کیوں کہ راکٹ سے بھی زیادہ اونچی آواز بیسکلی ایک جاندار کی ہے ۔ بلیو وہیل !
دوسری مثال سن کر شاید آپ کو حیرانی ہو ، کیوں کہ راکٹ سے بھی زیادہ اونچی آواز بیسکلی ایک جاندار کی ہے ۔ بلیو وہیل !
تیسری مثال دراصل ایک حادثے کی ہے ، 1883 میں انڈونیشیا میں ایک آتش فشاں پھٹا تھا ، آج بھی آپ میں سے بہت سے لوگ krakatoa نامی اس بدنام پہاڑ کو جانتے ہوں گے ، اور اس کے پھٹنے کی آواز اس قدر شدید تھی کہ اس دھماکے کی sound waves نے چار دفعہ پوری دنیا کا چکر لگایا بس اتنا سمجھ لیں کہ
اس وقت dutch east indies کمپنی کی آفیشل رپورٹ کے مطابق 165 گاؤں اس کی آواز کی shock waves سے تباہ ہو گئے تھے ۔
اور چوتھی مثال وہ ہے جس کے متعلق ہمیں ورچوئیلی کچھ بھی نہیں پتہ کہ وہ کس چیز سے نکلی تھی ، 1908 سائیبیریا (روس) میں ہماری تاریخ کی سب سے اونچی آواز پیدا ہوئی تھی ۔
اور چوتھی مثال وہ ہے جس کے متعلق ہمیں ورچوئیلی کچھ بھی نہیں پتہ کہ وہ کس چیز سے نکلی تھی ، 1908 سائیبیریا (روس) میں ہماری تاریخ کی سب سے اونچی آواز پیدا ہوئی تھی ۔
آپ سورۃ قمر کی آیت 31 کے بارے میں یاد کریں ’’ہم نے ان پر ایک چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے باڑ بنانے والے کی روندی ہوئی گھاس‘‘
اِس آواز کے ایپی سینٹر سے 210 کلومیٹر دور عینی گواہ صرف اتنا بتا سکے کہ ’’آسمان پھٹ گیا تھا اور دس منٹ بعد اتنے زور کی آواز آئی کہ ہم زمین پر گر کر
اِس آواز کے ایپی سینٹر سے 210 کلومیٹر دور عینی گواہ صرف اتنا بتا سکے کہ ’’آسمان پھٹ گیا تھا اور دس منٹ بعد اتنے زور کی آواز آئی کہ ہم زمین پر گر کر
بیہوش ہو گئے ۔ یہ آواز کہاں سے آئی ؟ کس چیز نے پیدا کی ؟ آج تک اس کی صحیح وجہ معلوم نہیں ہو سکی میری اس بارے میں ایک تھیوری ہے ، لیکن اس کا ذکر پھر کبھی کروں گا ۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ فرقان نے یہ تو بتا دیا کہ 200 ڈیسیبل سے اوپر کی آوازیں ہمارے لیے موت ہیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ فرقان نے یہ تو بتا دیا کہ 200 ڈیسیبل سے اوپر کی آوازیں ہمارے لیے موت ہیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ
ایسا کیوں ہے ؟ آواز ہمیں کیسے مارتی ہے ۔ وہ ایسے کہ 200 ڈیسیبل سے اونچی آواز سب سے پہلے آپ کے کان کے پردے پھاڑے گی ، اور پھر آپ کے پھیپھڑوں میں embolism پیدا کر دے گی یعنی آپ کے پھیپھڑوں میں ہوا کے بڑے بڑے بلبلے بن جائیں گے ، اور پھیپھڑوں میں ہوا کا دباؤ اتنا بڑھ جائے گا کہ وہ
پھٹ جائیں گے ، اور اس سے پہلے کے چانسز یہ ہیں کہ آپ کو آلریڈی ہارٹ اٹیک آ چکا ہو گا ۔
لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ نقصان پہنچانے والی آوازوں کا ہمیشہ اونچا ہونا ضروری نہیں ہے ، آپ کو یاد ہے میں نے بتایا تھا کہ ہم 20 ہرٹز سے نیچے کی آوازیں بھی نہیں سن سکتے ؟
لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ نقصان پہنچانے والی آوازوں کا ہمیشہ اونچا ہونا ضروری نہیں ہے ، آپ کو یاد ہے میں نے بتایا تھا کہ ہم 20 ہرٹز سے نیچے کی آوازیں بھی نہیں سن سکتے ؟
یہ آوازیں انفراسونک کہلاتی ہیں اور اگر انہیں ہمارے جسم پر فوکس کر کے چھوڑا جائے تو ہماری آنکھوں کے ڈھیلے وائیبریٹ کرنے لگیں گے ، ہمیں الٹیاں شروع ہو جائیں گی اور جسم میں شدید درد کی تیز لہریں دوڑیں گی ، اِن فیکٹ جن sound weapons کے بارے میں ہم سنتے ہیں وہ انفراسانک فریکوئینسیز ہی
سے بنانے کی کوشش ہوتی ہے اور اسے sonic bullet کہا جاتا ہے ۔
آخر میں ، میں چاہتا ہوں کہ آپ کو قدرت کی ایک بہت پراسرار سی آواز کے بارے میں بتاؤں ، یہ آواز ویسے تو skyquake یعنی آسمانی زلزلہ کہلاتی ہے کیوں کہ یہ آسمان سے ایک boom کی صورت میں آتی سنائی دیتی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ
آخر میں ، میں چاہتا ہوں کہ آپ کو قدرت کی ایک بہت پراسرار سی آواز کے بارے میں بتاؤں ، یہ آواز ویسے تو skyquake یعنی آسمانی زلزلہ کہلاتی ہے کیوں کہ یہ آسمان سے ایک boom کی صورت میں آتی سنائی دیتی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ
اب تک پوری دنیا کے علاقوں سے skyquakes یعنی آسمانی زلزلے رپورٹ ہوئے ہیں ، آج تک اس سے کوئی بڑا نقصان تو نہیں ہوا لیکن کبھی کبھار ان کی گرج اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ گھروں میں پڑے شیشے کے برتنوں کا ٹوٹنا ضرور رپورٹ ہوا ہے ۔ اب تک یہ عجیب پراسرار آواز انڈیا میں گنگا کے کنارے
امیرکہ میں finger-lake ، جاپان میں نارتھ سی ، انڈونیشیا میں سماٹرا ، جاوا ، یورپ میں ہالینڈ ، پھر برازیل اور میکسیکو یعنی پوری دنیا میں سنائی دی ہے ۔ 2020 میں یہ آواز چار دفعہ آئی تھی اور آخری دفعہ فروری 2021 میں انڈونیشیا میں سنائی دی تھی ۔ اس کی وجہ کے متعلق کچھ تھیوریز ہیں
تھیوری یہ ہے کہ آگ کی یہ لپٹیں اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ یہ خلاء میں شاک ویوز پیدا کر دیتی ہیں ، وہ شاک ویوز ہماری زمین کی فضاء میں داخل ہو کر سانک بوم پیدا کرتی ہے اور آسمان سے آتی یہ اونچی گرج ، شاید اسی سانک بوم کا نتیجہ ہے (آگ کی لپٹ اور زمین کا سائیز آپ تصویر میں دیکھ لیں)
دوسری تھیوری یہ ہے کہ جب ہماری فضاء میں بڑے شہاب ثاقب داخل ہوتے ہیں تو فضاء کی رگڑ اور ان کے سائیز کی وجہ سے یہ سانک بوم پیدا ہوتی ہے ۔ تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جب زمین کے اندر یا پانی کے اندر غاریں کولیپس ہوں یعنی گر جائیں تو وہ اس عجیب پراسرار آواز کا ماخذ ہو سکتی ہیں ۔
لیکن یہ سب صرف ہمارے اندازے ہیں گائیز ، ان تمام تھیوریز میں کچھ کہ کچھ پرابلمز ہیں اور آج بھی ہمارے لیے skyquakes واقعی ایک پہیلی ہی ہیں ۔
بہرحال ، اہل ثمود کا پھر کیا ہوا ؟ حضرت عیسیٰؑ کی پیدائیش سے 600 سال پہلے وہاں al-ula نام کا ایک اور شہر آباد ہوا تھا لیکن وہ بھی اجڑ گیا ۔
بہرحال ، اہل ثمود کا پھر کیا ہوا ؟ حضرت عیسیٰؑ کی پیدائیش سے 600 سال پہلے وہاں al-ula نام کا ایک اور شہر آباد ہوا تھا لیکن وہ بھی اجڑ گیا ۔
غزوہ تبوک جاتے ہوئے نبی کریم ﷺ بھی اہل حجر کے اس علاقے سے گزرے تھے ، اور اپنے اصحاب کو وہاں کا پانی پینے سے بھی منع فرما دیا اور وہاں کی کوئی شئے استعمال کرنے سے بھی ۔ یہاں تک کہ جب اصحاب نے بتایا کہ انہوں نے تو آٹا بھی گوندھ لیا ہے اور پانی کے برتن بھی بھر لیے ہیں تو نبی ﷺ نے
حکم دیا کہ پانی انڈیل دو اور آٹا اونٹوں کو کھلا دیا جائے اور پانی کے لیے وہ کنواں ڈھونڈو جہاں سے اللہ کی وہ اونٹنی پانی پیا کرتی تھی ۔ اپنی ریسرچ کے دوران ایک حدیث میں ، میں نے یہ بھی پڑھا کہ نبی ﷺ نے اپنے چہرے کو بھی ڈھانپ لیا اور سواری کو تیز کر لیا یہاں تک کہ وہاں سے نکل گئے
گائیز ! میری اس تمام تر تحقیق کا آغاز سورۃ حجر کے صرف ایک لفظ ’’یکسبون‘‘ سے ہوا تھا یعنی ان کی “achievements” کے لفظ پر غور کرنے سے ، اہل حجر کے تراش کر بنائے گھروں کی ، ان کے incense route پر قائم 131 محلوں کی ، عاشوری بادشاہوں سے تجارت کی ، اور چٹانوں میں تراشی
حاملہ اونٹنیوں تک کھوجتا چلا گیا ، صرف ایک لفظ ’’یکسبون‘‘ سے گائیڈنس لیتے ہوئے ۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ واقعی قرآن کی اتنی فصیح زبان کسی بھی دوسری زبان کے لیے ایک چیلنج ہے گائیز ! دل سے کہہ رہا ہوں ۔ قرآن کی لینگوئیج کے وزن نے واقعی انسانی لینگوئیج میں ایک فریکچر ڈال دیا ہے ۔
حجر والوں نے ایک بہت بڑی غلطی کی تھی ، کہ وہ رب العالمین کو للکار بیٹھے تھے ، اور ان کے لیے صرف ایک چیخ آئی ، اور آپ سورۃ مریم کی آخری آیت پڑھ لیجیئے ۔
’’ہم نے ان سے پہلے کتنوں کو ہلاک کر دیا ، کیا تم انہیں دیکھتے ہو ؟ کیا تمہیں ان کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے ؟‘‘
فرقان قریشی
’’ہم نے ان سے پہلے کتنوں کو ہلاک کر دیا ، کیا تم انہیں دیکھتے ہو ؟ کیا تمہیں ان کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے ؟‘‘
فرقان قریشی
جاري تحميل الاقتراحات...