Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

83 تغريدة 71 قراءة Feb 24, 2023
اصحاب کہف کا واقعہ
سورۃ کہف کی آیت 9 سے ایک واقعہ شروع ہوتا ہے جو اصحاب کہف کے قصے سے مشہور ہے ۔ اس تھریڈ کا مقصد اس واقعہ میں اللہ رب العزت کی جو نشانیاں بتائی گئی ہیں انہیں آپ لوگوں کے لیے آسان زبان میں لکھنا ہے ۔ لیکن اس سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ ایک دفعہ اس واقعے کو سرسری طور
پر بیان کر دوں ۔ اس میں چند نوجوانوں کا ذکر ہے جو اپنے دور کے کافر بادشاہ سے اپنا ایمان بچانے کے لیے ایک غار میں جا چھپے تھے ، جہاں اللہ نے ان پر نیند طاری کر دی اور وہ تین سو سال تک سوئے رہے ۔ اس دوران اس پر سورج کی شعاعیں بھی پڑتی رہیں ، وہ کروٹ بھی بدلتے رہے اور ان کا کتا غار
کے دھانے پر پاؤں پھیلائے بیٹھا رہا قرآن کے الفاظ کے مطابق یہ ایک ہیبت ناک منظر تھا ۔ البتہ تین سو سال بعد جب وہ بیدار ہوئے تو انہوں نے سوچا کہ شاید وہ دن کا کچھ ہی حصہ سوئے ہیں لہٰذا ان میں سے ایک آدمی اپنے چاندی کے سکے لے کر کھانا لانے کے لیے بازار گیا البتہ بازار پہنچنے پر اس
کے پاس اتنے سال پرانے سکے دیکھنے سے وہاں کے لوگ ان کے راز اور حالات سے واقف ہوئے ۔
اب یہاں سے میرے تھریڈ کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے ، قرآن میں اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد اصل میں حضور ﷺ سے کیے گئے تین سوالات تھے ، جب مدینہ کے یہودیوں نے قریش کو کہا کہ اگر تو وہ نبی سچے ہیں تو
ان سے پوچھو کہ روح کیا ہے ، ذوالقرنین کا واقعہ کیا ہے اور اصحاب کہف کون تھے ۔ اور یہ تھریڈ صرف تیسرے سوال یعنی اصحاب کہف کے متعلق ہے ۔
اصحاب کہف کا واقعہ 9 زبانوں اور 200 سے زائد مذہبی کتابوں میں ملتا ہے اور مدینہ کے یہودیوں کے پاس اس واقعہ کا ثبوت jacob of serugh نامی راہب کی
کتابیں تھیں جو نبی کریم ﷺ سے 120 سال پہلے گزرا ۔ لیکن ایک بات میں آپ کو پہلے بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان نہ صرف اصحاب کہف کی تعداد پر اختلاف تھا بلکہ وہ کتنا سال سوئے رہے اس پر بھی اور وہ غار کس ملک میں ہے اس پر بھی اختلاف تھا ۔ البتہ قرآن میں بتائے گئے
واقعات ہمیں کہاں گائیڈ کرتے ہیں ، یہ آپ تھریڈ میں آگے چل کر پڑھیں گے ۔
نجران کے عیسائی کہتے تھے کہ وہ غار red sea کے پاس وادی ایلہ میں ہے (جہاں کوہ طور بھی ہے) کوئی کہتا کہ وہ غار نینویٰ میں ہے ، جو عراق کے شہر موصل کا پرانا نام ہے ، کوئی بلقان ریاستوں کا کہتا اور کوئی روم کا ۔
ان کی لوکیشن کے متعلق اپنی تحقیق شیئر کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ یہ تھریڈ پڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ سورۃ کہف بھی کھولے رکھیں تاکہ آپ کو وہ الفاظ سمجھنے میں آسانی ہو جن کا میں آگے چل کر ذکر کرنے والا ہوں ۔
سورۃ کہف کی آیت 9 سے پڑھنا شروع کیجیئے جہاں سے اصحاب کا تعارف شروع ہوتا ہے
دو بڑے خاص الفاظ کے ساتھ ، کہف والے اور رقیم والے ۔ کہف تو غار کو کہتے ہیں سب جانتے ہیں ، لیکن رقیم کے بارے میں حضرت ابن عباسؓ کا کہنا ہے کہ میں تمام قرآن جانتا ہوں سوائے تین الفاظ کے ، اور وہ ہیں حنان ، اواہ اور رقیم ، مجھے نہیں علم کہ رقیم کسی چیز کا نام ہے ۔
میرے (فرقان قریشی کے) پاس موجود قرآن میں رقیم کا ترجمہ ’’کتبہ‘‘ لکھا ہے ، کافی حد تک یہ ٹھیک ہے ، کتبہ کہہ لیں یا تختی کہہ لیں ۔ لیکن اس لفظ کی ٹیکنیکل ٹرانسلیشن ہے ایک ایسا ٹیکسٹ جو نمبرنگ کے ساتھ لکھا گیا ہو (بیسکلی یہیں سے لفظ رقم اور مرقوم بھی نکلے ہیں) جیسے ہم لکھتے ہیں
نمبر 1 ، اس کے آگے کوئی بات وغیرہ اور پھر اس کے نیچے نمبر 2 اور اس کے آگے کوئی بات ۔
تفاسیر میں آتا ہے کہ اصحاب کہف کے نام ایک کتبے پر لکھ کر غار کے باہر لٹکائے گئے تھے ۔ یہ بالکل ممکن ہے ، لیکن میں آپ کو اس جدید دور کی ایک بات مزید بھی بتاتا ہوں ۔
بیلجیم میں سنہ 1607 میں اس دور کے مؤرخین اور بڑے بڑے فلالوجسٹس نے ایک ادارہ بنایا تھا جس کا نام برسلز سوسائیٹی آف سکالرز یا bruxelles societe des bollandistes ہے ۔ یہ ادارہ پچھلے 414 سال سے عیسائیت کی تاریخ کے بڑے بڑے ناموں کا ریکارڈ اکٹھا کر رہا ہے ۔ گائیز ان کی سنجیدگی کا یہ
عالم ہے کہ 1970 میں سولہ سال کی محنت سے انہوں نے عربی ، لاطینی ، آرامی ، ایتھوپین اور کاپٹک یعنی قدیم مصری زبانوں سے نسخے اکٹھے کیے اور ایک کیٹالاگ بنایا جسے bibliotheca hagiographica orientalis کہتے ہیں اور اس میں اصحاب کہف کے نام ، ان کے حالات باقاعدہ نمبرنگ کے ساتھ مرقوم ہیں ۔
اب آپ رقیم کے لفظ کو اس زمانے کا کوئی کتبہ سمجھ لیں یا آج کے یورپ کی سب سے معزز لائیبریری کا ایک کیٹلاگ سمجھ لیں ، دونوں صورتوں اور دونوں زبانوں میں قرآن کے الفاظ پرفیکٹ بیٹھتے ہیں ۔
میں بحیثیت فرقان قریشی اس بات سے متاثر ہوں کہ قرآن کریم نے نہ صرف حضور اکرم ﷺ سے پوچھے جانے
والے سوال کا جواب دیا بلکہ ’’رقیم‘‘ کا لفظ استعمال کر کے اہل کتاب کے دو ہزار سالہ ریکارڈ کو بھی ایڈریس کیا ہے it’s amazing
اب میں اس غار کی لوکیشن کے متعلق لکھوں گا ۔ میں نے پہلے آپ کو بتایا تھا کہ کچھ کہتے ہیں وہ موجودہ عراق کے شہر موصل کے پاس ہے ، کچھ کہتے ہیں وادی ایلہ میں
کوہ طور کے پاس ہے ، کچھ کہتے ہیں اردن میں عمان کے قریب ہے ، بلکہ یہ تھریڈ لکھنے سے پہلے کسی نے باتوں باتوں میں مجھے یہ بھی کہا تھا کہ وہ غار یقیناً آذر بائیجان میں ہے ۔ ترکی کا ایک شہر سلجوق بھی اصحاب کہف کی غار کے حوالے سے مشہور ہے اور ایک قابل ذکر سائیٹ ترکی میں afsin نامی شہر
کے قریب ہے جہاں بادشاہ justinian نے خود بھی وزٹ کیا تھا اور تحفے کے طور پر سنگ مرمر کی محرابیں لایا تھا جو آج بھی وہاں eshab-i-kahf kulliye نامی مسجد میں موجود ہیں ۔
پھر ایک مشہور ماننا یہ ہے کہ وہ ترکی میں ازمیر شہر کے قریب ephesus کے مقام پر ہے ۔ ایسا ماننے کی وجہ در اصل
چھٹی صدی کا ایک manuscript یعنی مسودہ ہے جو تھیوڈوسس نامی راہب نے لکھا تھا ۔ اس مسودے کا نام codex vaticanus 6018 ہے جس کی ایک کتاب de situ terrae sanctae یعنی ارض مقدس کا سفر ہے ۔ اس کتاب میں بہت سے راستوں ، جگہوں اور بائیبل میں بتائے گئے مقامات کا ذکر ہے جن میں اصحاب کہف
کی غار کا بھی تذکرہ ہے ۔ لیکن ایسا ہونا مشکل ہے کیوں کہ صلیبی جنگوں کے دوران ephesus سے چند ہڈیوں کو اصحاب کہف کی ہڈیاں بتا کر پتھر کے تابوتوں میں فرانس کے شہر mersille بھیجا گیا جو آج بھی اٹلی کی abbey of st. victor میں موجود ہیں ۔ لیکن بعد میں کھدائی کے دورانephesus سے کئی سو
قبریں اور بھی برآمد ہوئیں تھیں جو کسی بڑی نسل کشی کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔
آپ کو یاد ہے میں نے شروع میں کہا تھا کہ قرآن نے یہ واقعہ بتاتے ہوئے خصوصی دعویٰ کیا تھا کہ ’’ہم آپ کو یہ واقعہ سچ بتائیں گے‘‘ ۔ اب ذرا سنیئے ! قرآن کے مطابق وہ چند نوجوان تھے جو اپنے بادشاہ کے کفر پر مجبور
کیے جانے کی وجہ سے اپنا شہر چھوڑ کر غار میں چلے گئے ۔
حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کے 250 سال بعد ایک شخص گزرا ، decius ، اس شخص نے وقت کے بادشاہ فلپ سے verona نامی مقام پر لڑائی کی جو موجودہ ملک serbia میں ہے ، اس نے بادشاہ کا قتل کیا اور خود رومن حکمران بن بیٹھا ۔
یہاں ایک بات سمجھ لیں کہ اس دور کا روم وہ روم نہیں تھا جو آج اٹلی کا چھوٹا سا دارالخلافہ ہے بلکہ سلطنت روما یا رومن ایمپائیر والا روم ہوا کرتا تھا ۔ سربیا میں بیٹھا بادشاہ decius پوری رومن ایمپائیر کا حکمران تھا جو تقریباً تمام یورپ اور ترکی کے کچھ حصے پر پھیلی سلطنت تھی ۔
بادشاہ decius نے رومن ایمپائیر میں عیسائیت کے بجائے roman polytheism یعنی کفر کا نفاذ کیا جس میں دیوتاؤں کی عبادت ہوتی تھی اور سب سے بڑے دیوتا کا نام apollo تھا ۔ اس نے بڑے پیمانے پر عیسائیوں کی نسل کشی شروع کر دی ۔ آپ اس کی طاقت کا یہاں سے اندازہ لگائیں کہ
اس نے اپنے وقت کے سب سے بڑے عیسائی راہب pope fabian کا بھی قتل کروا دیا جس کی وجہ میں آپ کو آگے چل کر بتاؤں گا ۔ یہ اس قدر ظالم اور خونخوار بادشاہ تھا کہ عیسائی manuscripts میں اسے “that fierce tyrant” کے نام سے پکارا گیا ہے ۔
بادشاہ decius کا خونی دور 2 سال تک رہا اور پھر آخر
اس کا قتل آج کے پولینڈ اور ناروے سے آئے جنگجو لڑاکوں کے ہاتھوں ہوا جنہیں goths کہتے تھے ۔ اس کے قتل کی خوشی ہر طرف منائی گئی اور ہر زبان پر ایک جملہ ہوتا تھا کہ decius کا دور ختم ہوا ۔ یہاں تک کہ ایران میں بھی بادشاہ decius کے قتل کی خوشی منائی گئی اور آج دو ہزار سال گزرنے کے بعد
ہم پاکستانی بھی یہ جملہ استعمال کرتے ہیں ’’دقیانوسی دور کی باتیں مت کرو‘‘ یعنی بہت پرانے دور کی باتیں ۔
پچھلی صدی میں مصر کے شہر al-bahansa میں کھدائی کے دوران چار حکم نامے ملے جنہیں 250 صدی عیسویٰ میں جاری کیا گیا تھا اور ان پر اس ہی بادشاہ decius کے دستخط تھے اور میں آپ کو اس
حکم نامے کے الفاظ اردو میں ٹرانسلیٹ کر کے سنا رہا ہوں اور یہ آپ نے غور سے پڑھنے ہیں کیوں کہ اصحاب کہف کس ملک کے تھے ، یہ جاننے کے لیے اس حکم نامے میں بہت سی اہم باتیں ہیں ۔
’’سلطنت کے رہائیشی ! اپنے علاقوں اور اپنے مخصوص کیے گئے دنوں میں ، قاضی کے سامنے قربانی کیا کریں گے ،
انہیں اس قربانی پر ایک سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا جو روما کے خداؤں ، روما کے بادشاہ اور قربانی کے دوران موجود قاضی کے ساتھ وفاداری کی علامت ہو گا ۔ سلطنت کے رہائیشی اس قربانی میں سے خود بھی کھائیں گے اور قاضی کو بھی دیں گے‘‘
آپ نے یہ حکم نامہ غور سے پڑھا ؟ بادشاہ decius نہ صرف
سلطنت کے رہائیشیوں کو apollo کی عبادت پر مجبور کر رہا تھا بلکہ دیوتاؤں کے لیے ، اپنے لیے اور قاضی کے نام پر کی گئی قربانی کو کھانے کا حکم بھی دے رہا تھا اور اب میں چاہتا ہوں کہ آپ سورۃ کہف کی آیت 19 پڑھیں جہاں اصحاب کہف کے بیدار ہونے اور پھر کھانا منگوانے کی خواہش کا ذکر ہے لیکن
صرف کھانا نہیں بلکہ ’’پاک کھانے‘‘ کو منگوانے کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ ایسا کھانا جو کفر سے پاک ہو ، حلال ہو ، قرآن کے الفاظ کے مطابق ذکی ہو ۔ مجھے نہیں علم کہ میں اپنی بات سمجھا پا رہا ہوں یا نہیں لیکن it makes perfect sense ۔
اصحاب کہف سربیا میں بادشاہ decius کے کفریہ عقائد
اور حرام کھلانے سے مجبور ہو کر بھاگے ، غار میں پناہ لی اور جب کھانے کی خواہش ہوئی تو پاک کھانا ڈھونڈنا چاہا جس کا ثبوت قرآن پاک میں موجود ہے ۔ سربیا میں چار بڑے پہاڑی سلسلے ملتے ہیں ۔ جن میں carpathian mountains اور european alps اپنے اندر بہت بڑے بڑے غار رکھتے ہیں ۔
ذرا آیت نمبر 17 پڑھیئے ’’وہ اس غار کے اندر وسیع جگہ میں ہیں‘‘ میں صرف مثال کے طور پر آپ کو ایک غار کے اندر کی ایک جگہ دکھاتا ہوں ، اس تصویر سے آپ خود اندازہ کر لیں گے کہ غاریں کس قدر وسیع ہو سکتی ہیں ۔
بادشاہ decius کے کفریہ عقائد اور رعایا پر کفر تھوپنے کا ثبوت ہمیں al-bahansa میں دریافت ہوئے حکم ناموں کی صورت میں ملا اور اس کا pope fabian کے قتل کا حکم دینا بھی اس ہی وجہ سے تھا کیوں کہ pope fabian نے بادشاہ کے نام پر قربان ہوا حرام و ناپاک کھانا کھانے سے انکار کر دیا تھا ۔
یہاں میں ایک بات مزید ایڈ کرنا چاہتا ہوں کہ آیت نمبر 19 میں ہے کہ ’’تم اپنے میں سے کسی ایک کو کھانا لانے کے لیے بھیجو اور اسے اپنے چاندی کے سکوں میں سے دے دو‘‘ ۔ یہ ایک انتہائی اہم پوائینٹ ہے کیوں کہ جب اصحاب کہف اس غار میں گئے ، تو یقیناً ان کے پاس 250 عیسویٰ کی ہی
بادشاہ decius کی کرنسی یا چاندی کے سکے تھے میں آپ کو ان کی فوٹو بھی دکھا دیتا ہوں لیکن جب وہ تین سو سال بعد بیدار ہوئے تو انہیں گمان ہوا کہ شاید وہ تھوڑی دیر سوئے ہیں لہٰذا انہوں نے اپنے وہی چاندی کے سکے استعمال کرنے کا سوچا لیکن پرانے سکوں کو دیکھنے سے بازار والوں پر راز کھل گیا
ان تصویروں کو دیکھنے سے آپ کو ان دونوں زمانوں میں فرق واضح نظر آنے لگ جائے گا ، لیفٹ پر موجود تصویر ، بادشاہ decius کے زمانے کے چاندی کے سکے کی ہے ، اور رائیٹ پر موجود تصویر اس دور کے سونے کے سکے کی ہے جب وہ بیدار ہوئے تھے ۔ اس دور کے بارے میں تفصیل سے میں آگے چل کر لکھوں گا ۔
آپ امیجن کر سکتے ہیں کہ اس وقت بازار والوں کو کیسا لگا ہو گا یہ ایسا ہی ہے کہ آج پاکستان کی کسی سوپر مارکیٹ میں کوئی شخص اکبر بادشاہ کے زمانے کے رام سیتا والے سکے لے کر خریداری کرنے کے لیے آ جائے ۔ یقیناً اس کے گرد اچانک جمگھٹا لگ جائے گا کہ بھئی یہ کون شخص ہے اور کہاں سے آیا ہے
آپ کی دلچسپی کے لیے بتا دوں کہ اکبر بادشاہ نے واقعی 1604 میں ایسے سکے جاری کیے تھے جن پر ہندو دیوی دیوتا رام اور سیتا کی تصاویر کھدی ہوئی تھیں ۔ اِن فیکٹ آج بھی ان میں سے تین سکے موجود ہیں ۔ بادشاہ decius کی کرنسی اور قرآن میں ان کے چاندی کے سکوں کے بارے میں مزید کچھ اہم اور
دلچسپ باتیں بھی ہیں لیکن اب میرا تھریڈ دو ہزار الفاظ سے اوپر جانا شروع ہو گیا ہے لہٰذا انہیں میں فی الوقت کے لیے اتنے پر ہی چھوڑ دیتا ہوں ۔
اور آتا ہوں اصحاب کہف کی نیند کی طرف ۔ اور چاہتا ہوں کہ آپ سورۃ کہف کی آیت 11 کی طرف آئیں جس کا آغاز ہوتا ہے ’’فضربنا علی اذانہم‘‘ سے ۔
یعنی ہم نے ان کے کانوں پر ضرب لگائی ۔ ان الفاظ کے مختلف ترجمے ہیں ، کہیں لکھا ہے کہ ہم نے ان کے کانوں پر نیند کا پردہ ڈال دیا ، کہیں لکھا ہے کہ ہم نے ان کے کانوں پر مارا ، کہیں صرف یہ لکھا ہے کہ ان پر نیند کا غلبہ ہو گیا ۔
لیکن صرف ایک منٹ کے لیے سوچیئے ! کانوں کا ذکر کیوں آیا ہے ؟ سر پر مارنے کا ذکر کیوں نہیں آیا ؟ حالانکہ سر پر مارنے سے تو انسان زیادہ جلدی بیہوش ہو جاتا ہے اگر میں آپ سے پوچھوں کہ کانوں کا بنیادی کام کیا ہے ؟ تو آپ کیا کہیں گے ؟ یقیناً یہی کہیں کہ فرقان بھائی ہم کانوں سے سنتے ہیں
آپ کا جواب صحیح ہے ، ہم کانوں سے سنتے ہیں ، اور ہمارے کانوں کا اندرونی حصہ ہمارے جسم کو بیلنس میں بھی رکھتا ہے ۔ تو کیا سننے کا ، یا آواز کا نیند سے کوئی تعلق ہے ؟ اب میں آپ کوآوازوں کے بارے میں چند انتہائی عجیب و غریب باتیں بتانے والا ہوں ۔
آوازوں کی سٹڈی acoustics کہلاتی ہے اور صرف ان تین الفاظ ’’فضربنا علی اذانہم‘‘ نے میرے لیے ایک نہیں ، دو نہیں ، تین نہیں بلکہ بارہ قسم کی آوازوں کی عجیب و غریب صفات پر تحقیق کے دروازے کھول دیئے جن میں سے تھریڈ کی طوالت کے باعث میں صرف پانچ کا ذکر کروں گا ۔
سب سے پہلے میں آپ کو cymatics (کائیمیٹکس) کے بارے میں بتاتا ہوں ۔ cymatics کا لفظ یونانی لفظ kyma سے نکلا ہے جس کا مطلب لہر ہوتا ہے ، اس کی دریافت 1945 میں سوئیس نیچرل سائینٹیسٹ hans jenny نے کی ۔ میں اس آواز کے فزیکل دنیا پر اثر کے ثبوت کی واضح تصاویر بھی آپ کو دکھاؤں گا ۔
آوازیں لہروں کی صورت میں سفر کرتی ہیں کسی بھی آواز کی ایک سیکنڈ میں کتنی لہریں پیدا ہوتی ہیں ، وہ آواز کی فریکوئینسی کہلاتی ہے ۔ جب یہ لہریں کسی سطح سے ٹکراتی ہیں تو اس سطح میں وائیبریشن یا ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور یہ وائیبریشن اس سطح پر
حیرت انگیز patterns بنانے کی اہلیت رکھتا ہے ، یہ patterns بڑے عجیب طریقے سے انتہائی خوبصورت اور بالکل symmetrical ہوتے ہیں ۔ ذرا آواز کی لہروں سے پانی ، ریت اور مختلف سطحوں پر بنے ان patterns کو دیکھیئے جو کسی خوبصورت اور انٹیلیجنٹ ڈیزائین سے کم نہیں ۔
تو کیا آوازیں کسی سطح پر patterns بنانے کے علاوہ نیند بھی طاری کر سکتی ہیں ؟ آپ لوگوں نے white noise کا نام سنا ہے ؟ جیسے white light یا سفید روشنی تمام رنگوں کی روشنیوں کا مجموعہ ہوتی ہے ویسے ہی white noise ان تمام فریکوئینسیز کا مجموعہ ہوتا ہے جو انسانی دماغ کو سکون پہنچاتی ہیں
اس میں آواز کم یا زیادہ نہیں ہوتی بلکہ ایک ہی لیول پر مختلف فریکوئینسیز میں آتی ہے ، ہم سب نے روزمرہ میں وائیٹ نائیز کا تجربہ کیا ہے گاؤں میں وقفہ قفہ سے آتی چکی کی آواز ، ہلکی سی گھنٹی کی آواز ، دھیمی رفتار میں چلتے پنکھے کی آواز ، بہت سی ایسی مثالیں ہیں جو غنودگی طاری کرتی ہیں
میری جینریشن کے جتنے بھی لوگ میرا تھریڈ پڑھ رہے ہیں تقریباً آپ سب نے ساؤنڈ تھیراپی کے بارے میں سن رکھا ہو گا اور جو میوزک انڈسٹری سے منسلک ہیں وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ binaural beats ، وہ ٹیکنیک ہے جس میں دو مختلف فریکوئینسیز کو ملا کر delta سٹیٹ بنائی جاتی ہے
جو ایک نارمل انسان کو گہری نیند سلا دینے کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔
آپ سب نے کبھی نہ کبھی کسی فلم میں ایک منظر دیکھا ہو گا جس میں آواز کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے شیشے کا گلاس توڑا جاتا ہے ۔ اوکے ! ایک بات سمجھ لیں کہ دنیا کی ہر شئے ، ہر ایک شئے ، ایک نیچرل فریکوئینسی پر
غیر محسوس انداز میں وائیبریٹ کر رہی ہے ۔ یہ بذات خود ایک بہت پراسرار معمہ ہے اور اس پر میں ایک علیحدہ سے تھریڈ لکھ سکتا ہوں لیکن فی الوقت صرف اتنا سمجھ لیں کہ شیشے کا گلاس بھی اپنی ایک منفرد نیچرل فریکوئینسی پر بالکل غیر محسوس انداز میں وائیبریٹ کر رہا ہے ۔ جب بھی اس گلاس سے کوئی
ایسی آواز ٹکرائے گی ، جو اس کی نیچرل فریکوئینسی سے میچ کر جائے ، ٹھیک اسی وقت گلاس کی وائیبریشن میں اچانک اتنا اضافہ ہو جائے گا کہ وہ ٹوٹ جائے گا ۔ یہ چیز resonance کہلاتی ہے اور acoustics کے عجیب معموں میں سے ایک ہے ۔
لیکن acoustics میں شاید سب سے پراسرار فریکوئینسی 528 hz ہے
اسے جادوئی فریکوئینسی بھی کہا جاتا ہے ۔ ہمالیہ کے پہاڑوں میں رہنے والے سادھو ایک عرصے سے پیتل کے برتن پر پیتل کا چمچ خاص انداز میں مار کر ایسی مسحور کن 528 ہرٹز فریکوئینسی پیدا کر رہے ہیں جو insomnia یعنی نیند نہ آنے کی بیماری کے جدید ترین علاج کے طور پر استعمال ہو رہی ہے ۔
ایران کے دو ڈاکٹرز توحید بابائی اور غلام حسین ریاضی جو کہ تہران یونیورسٹی کے بائیو کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسرز ہیں ، نے 2017 میں ایک ریسرچ پیپر شائع کیا جس کے مطابق 528 ہرٹز فریکوئینسی انسانی سیل میں موجود h2o مالیکیولز کو کلسٹر کر کے DNA ریپیئر کرنے کی صلاحیت دکھا رہی ہے ۔
یہ اس ضمن میں ایک بہت بڑی پیش رفت ہے کہ آواز کیسے انسانی جسم کو بدل دینے کے اہلیت رکھتی ہے ۔ یہ 528 ہرٹز فریکوئینسی نہ صرف خود بہت عجیب ہے بلکہ اگر اسے دوسری فریکوئینسیز کے ساتھ ملایا جائے تو مزید عجیب نتائج سامنے آتے ہیں ۔ مثلاً 528 hz کو 741 hz کے ساتھ ملانے پر ایسی تکلیف دہ
فریکوئینسی پیدا ہوتی ہے جو انسانی دماغ کے 95 فیصد حصے کو مکمل طور پر شٹ ڈاؤن کر دینے کے اہلیت رکھتی ہے ۔
میں آپ کو آوازوں کی صرف پانچ خصوصیات کے بارے میں بتا رہا ہوں ورنہ تھریڈ انتہائی طول پکڑ جائے گا ۔ اس لیے اب یہاں سے آگے میں آپ کو اصحاب کہف کی نیند کی کیفیت کا بتاتا ہوں ۔
آپ نے کبھی hibernation کے متعلق سنا ہے ؟ یہ ایک ایسا عمل ہے جو اللہ کی بنائی کئی مخلوقات میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ہائیبرنیشن کا عمل عموماً سردیوں میں ہوتا ہے جب کوئی جاندار سخت سردی اور خوراک کی کمی سے بچنے کے باعث خود کو ایک گہری نیند میں لے جاتا ہے ۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ
کونسا جاندار سب سے لمبے عرصے تک نیند میں رہتا ہے لیکن اب تک سب سے طویل نیند glis glis نامی جانور کی ریکارڈ کی گئی ہے جو 11 مہینے کی تھی ۔
ہائیبرنیشن کے دوران جاندار کے جسم کا ٹمپریچر 32 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ گر سکتا ہے جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ اس کے جسم کا ٹمپریچر
برف کے ٹمپریچر کے قریب آ جاتا ہے ۔ جاندار کے دل کی دھڑکن 95 فیصد ہلکی ہو جاتی ہے ، سانس کی رفتار انتہائی سست اور میٹابولزم یعنی جسم میں موجود کیمیکل ری ایکشن بہت ہی کم رہ جاتا ہے ۔ جسم کا ٹمپریچر تقریباً برف جتنا ہو جانے پر ، جاندار کا جسم thermogenesis نامی ایک عمل کے ذریعے
تھوڑی تھوڑی حرارت پیدا کرتا رہتا ہے تاکہ دل اور دماغ بالکل جم نہ جائیں ۔ آپ یہاں سے اندازہ لگا لیں کہ ہائیبرنیشن کے دوران آرکٹک میں پائی جانے والی گلہری کے جسم کا ٹمپریچر برف سے بھی 3 ڈگری نیچے گر جاتا ہے البتہ thermogenesis کی وجہ سے اس کے سر کا ٹمپریچر برف کے ٹمپریچر سے بس
تھوڑا سا ہی اوپر رہتا ہے ۔
آپ نے دیکھا کہ ہائیبرنیشن کے دوران کسی بھی جاندار کے لیے سب سے بڑا چیلنج جسم کا ٹمپریچر ہوتا ہے ؟ اوکے ، سورۃ کہف کی آیت نمبر 17 پر آئیں جہاں غار میں سوئے اصحاب کہف پر سورج کے گزرنے کا بھی ذکر ہے ۔ نہ صرف سورج کے ذریعے اللہ پاک اصحاب کہف کو ہائیبرنیشن
کے دوران ان کے جسموں کے ٹمپریچر کو ریگولیٹ کر رہے تھے بلکہ آپ شاید یہ بات نہیں جانتے کہ اگر ہمیں سورج کی روشنی نہ ملے تو ہمارا دماغ ایک خاص قسم کا ہارمون بنانا بند کر دیتا ہے جس کا نام serotin ہے اور جس کا نتیجہ شدید دماغی خلل کی بیماری ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ
ہارورڈ سکول آف پبلک ہیلتھ کے مطابق سورج کی کمی سے ہڈیوں کی بیماری osteoporosis ، کینسر ، کئی قسم کے انفیکشنز اور دل کی بیماریاں ہو جاتی ہیں ۔
آگے آیت نمبر 18 پر آیئے ، جہاں بتایا گیا ہے کہ اگر انہیں دیکھو ، تو یوں لگے جیسے وہ جاگ رہے ہیں ، حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم انہیں
دائیں اور بائیں کروٹ بھی بدلتے ہیں ۔
اس آیت میں یہ کہنا کہ اگر تم انہیں دیکھو ، تو یوں لگے کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سو رہے ہیں ، تو کیا اصحاب کی آنکھیں کھلی تھیں ؟ کیا وہ آنکھیں چھپک بھی رہے تھے ؟ کہ ان کے جاگ رہے ہونے کا گمان ہو ۔ گائیز ! لاتعداد جاندار ایسے ہیں جو
آنکھیں کھول کر سوتے ہیں جن میں ایمیزون مینٹیس ، ساؤتھ امیرکن سی لائین ، پینگوئینز اور گھڑیال شامل ہیں ۔ اور میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ آنکھوں کا چھپکنا انسانی آنکھ کے لیے انتہائی ضروری ہے ایک نارمل انسان ہر گھنٹے 900 سے 1200 دفعہ اور پورے دن میں 15000 سے 20000 دفعہ پلک جھپکتا ہے
اگر آنکھ کا یہ جھپکنا بند ہو جائے تو آپ کی آنکھ کا cornea سوج جائے گا ، آنکھیں خشک ہو جائیں گی اور آنکھوں میں جانے والی گرد و غبار سے شدید قسم کا انفیکشن پیدا ہو جائے گا ۔ اور سوتے ہوئے لوگوں کی شاید ان ہی کھلی اور جھپکتی آنکھوں کی وجہ سے آیت کے اگلے حصے میں آیا ہے کہ
اگر تم انہیں دیکھو ، تو دہشت سے بھاگ کھڑے ہو ۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ٹمپریچر کا مسئلہ تو سورج سے حل ہوتا سمجھ آ گیا ، آنکھوں کا مسئلہ بھی سمجھ آ گیا لیکن انسانی جسم کے ساتھ اور بھی کئی معاملات ہیں ، جن میں ناخنوں کا بڑھنا ، بالوں کا بڑھنا ، پیشاب وغیرہ کا آنا ہے ۔
سنہ 2011 اور 2016 میں ناروے کی inland university of applied sciences کی dr. alina evans نے پہلی مرتبہ بڑے جانداروں کی ہائیبرنیشن پر تحقیق کی ۔ اس مقصد کے لیے اس نے ریچھ کی ہائیبرنیشن پر ڈیٹا اکٹھا کیا اور اس ڈیٹا سے کچھ بہت ہی ناقابل یقین قسم کی باتیں سامنے آئیں ۔ پہلی بات یہ کہ
ہائیبرنیشن کے دوران ریچھ کا جسم اپنے پروٹینز اور پیشاب کو ری سائیکل کر لیتا ہے جس سے وہ پٹھوں کی بیماری muscle atrophy کا شکار نہیں ہوتے ۔ ان کا bone mass بھی کم نہیں ہوتا ورنہ وہ osteoporosis کا شکار ہو جائیں ۔ پھر ہائیبرنیشن کے دوران ریچھ اپنے جسم میں چند ضروری امینو ایسڈز اور
ایسے جینز کو ریگولیٹ کر لیتے ہیں جو پٹھوں کو سکڑنے اور ضائع ہو جانے سے محفوظ کر لیں ۔ آسان الفاظ میں dormancy کے اس دور میں جانوروں کی growth development تقریباً رک جاتی ہے جس میں نہ ان کے ناخن بڑھتے ہیں ، نہ ان کے بال اور نہ ہی انہیں پیشاب آتا ہے ۔ وہ وقت میں سسپینڈڈ ہوتے ہیں ۔
تھریڈ اس وقت چار ہزار الفاظ کو کراس کر چکا ہے لہٰذا اب میں اس کے اختتام کی طرف جاتا ہوں جو اصحاب کہف کے جاگنے کے متعلق ہے ۔ آیت 25 کی طرف آیئے ، اصحاب کہف اپنے غار میں تین سو سال تک رہے اور نو سال مزید ۔ ان 309 سالوں کو چاند کے سال شمار کیا جاتا ہے جو قرآن کا عمومی طرز کلام ہے ۔
اگر ہم اپنے نارمل gregorian کیلنڈر کی بات کریں تو یہ پورے 300 سال بنتے ہیں ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ 300 سال ہی کیوں ؟ 100 کیوں نہیں ؟ 500 کیوں نہیں ؟
اپنی تحقیق کے دوران میں نے چند جگہوں پر پڑھا کہ جب اصحاب کہف جاگے تو بادشاہ تھیوڈوسس کا دور تھا ۔ ایسا اس لیے مانا جاتا ہے کہ
تھیوڈوسس ایک عادل بادشاہ تھا ، بلاشبہ تھیوڈوسس ایک عادل بادشاہ تھا لیکن میرے تھریڈز کا سورس ہمیشہ کی طرح صرف قرآن اور حدیث ہوتا ہے ۔ اور اگر قرآن میں لکھا ہے 300 تو وہ مدت یقیناً 300 ہی ہے اور تھیوڈوسس سے مجھے مسئلہ یہ ہے کہ وہ صرف 130 سال بعد آیا تھا ۔
میں اپنا سوال دہراتا ہوں 300 سال ہی کیوں ؟ اس کا جواب غور سے پڑھیئے گا ! اصحاب کہف کی نیند کے 287 سال بعد سلطنت روما کا زوال شروع ہو جاتا ہے ۔ justinian 1 نامی ایک انصاف پسند عیسائی بادشاہ اقتدار میں آتا ہے ، اور بیزنطین ایمپائیر کی حکمرانی کا آغاز کرتا ہے ۔ البتہ حالات ابھی
سازگار نہیں ہیں ، اسے شروع ہی میں nika riots نامی مزاحمت جھیلنا پڑتی ہے ۔ پھر ایران کا بادشاہ خسرو اس سے لڑائی مول لے لیتا ہے لیکن امن پسند اور عادل ہونے کی وجہ سے justinian ساڑھے پانچ ہزار کلو سونا تحفے میں دے کر ہمیشہ کے لیے ایران کے ساتھ ایک امن معاہدہ کر لیتا ہے ۔
اگلے تیرہ سالوں کے دوران وہ تمام پرانے کفریہ قوانین کا خاتمہ کرتا ہے اور نئے قوانین بنواتا ہے جو آج بھی corpus juiris civilis کہلاتے ہیں ، پرانی تمام کرنسی اور احکامات کینسل کرتا ہے اور بیزنطین ایمپائیر میں عیسائیت کا نفاذ کرتا ہے اور آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ ترکی میں
موجود hagia sophia بھی اس ہی عادل عیسائی بادشاہ justinian کی بنوائی ہوئی ہے جس میں کسی زمانے میں orthodox عیسائی اپنی حمد و ثناء پڑھا کرتے تھے ۔
اور decius بادشاہ کے ٹھیک 300 سال بعد یہی وہ بہترین ، سازگار اور خدا پرست دور تھا ، جب اللہ رب العزت نے اصحاب کہف کو بیدار کیا ۔
اصحاب کہف کے ساتھ بالآخر کیا ہوا ، فی الوقت پانچ ہزار الفاظ ہونے کی وجہ سے میں اس تھریڈ کو کمپلیٹ کرنا بہتر سمجھتا ہوں لیکن آخر میں بہت دل سے میں ایک بات لکھنا چاہتا ہوں ۔
اس تھریڈ کو لکھنے سے پہلے مجھے ہائیبرنیشن اور ڈورمینسی کے سبجیکٹ پر بہت زیادہ تحقیق اور محنت کرنی پڑی تھی
ہائیبرنیشن پر سٹڈی کے دوران کے میری نظر سے ایک جملہ گزرا ، آپ بھی پڑھیئے ۔
’’ہائیبرنیشن میں موجود جانداروں کا جسم ہر کچھ وقفے بعد اپنے نارمل ٹمپریچر پر واپس آتا ہے ، جسے بائیولوجی کی زبان میں arousal کہتے ہیں ، کئی دہائیوں سے اس کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ہم
کوئی بھی بظاہر وجہ بتانے سے قاصر ہیں‘‘
اصحاب کہف کا واقعہ پڑھ چکنے کے بعد آیت 26 میں جو لکھا تھا ، اسے پڑھ کر مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میرا دل مٹھی میں پکڑ لیا ہو ۔
’’وہی دیکھنے والا ہے ، وہی سننے والا ہے ، زمین اور آسمان کی تمام مخلوقات کی خبرگیری ، سوائے اللہ پاک کے ، اور کوئی بھی نہیں کرتا‘‘
شاید آپ میری کیفیت نہ سمجھ سکیں ، لیکن یہ آیت پڑھنے کے بعد مجھے یوں لگا کہ جیسے قرآن مجھ ہی سے تو بات کر رہا تھا ، اسے پتہ تھا ، کہ کبھی نہ کبھی
کوئی نہ کوئی فرقان قریشی ، اصحاب کہف کی وجہ سے ہائیبرنیشن کے بارے میں پڑھ رہا ہو گا ، وہ یہ بھی پڑھے گا کہ ہمیں نہیں پتہ جانداروں کے جسم کا ٹمپریچر ایک بہت گہری نیند کے دوران خود ہی کیسے نارمل ہو جاتا ہے ۔
اور پھر وہ یہ بھی پڑھے گا ، کہ اللہ کی مخلوقات کی ... سوائے میرے پیارے اللہ پاک کے ... اور کوئی بھی خبر گیری نہیں کرتا ۔
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...