میں تحقیق پر مجھے ایک مشترکہ حدیث ان تمام کتابوں میں پڑھنے کو ملی جس کے مطابق جب آسمان پر کوئی فیصلہ صادر کیا جاتا ہے تو آسمانوں کے فرشتے عاجزی سے اپنے پر پھڑپھڑاتے ہیں جس کی آواز صاف چکنے پتھروں پر زنجیریں مارنے جیسی نکلتی ہے ۔ اور نیچے والے فرشتے اوپر والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں
کہ تمہارے رب نے کیا حکم فرمایا ؟ اور شیاطین جنات اس ہی گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے ہیں جس پر ان کے پیچھے شعلہ بھیجا جاتا ہے جو انہیں جلا ڈالتا ہے ۔ لیکن جو اس شعلے سے بچ جائے وہ اپنے سے نیچے والے شیطان جن تک خبر پہنچاتا ہے حتیٰ کہ وہ بات زمین تک پہنچ جائے ۔
آپ کی دلچسپی کے لیے
آپ کی دلچسپی کے لیے
بتا دوں کہ شیاطین جنات اس ایک بات میں سو جھوٹ ملا کر ان ساحروں اور کاہنوں کے کانوں میں ڈالتے ہیں جو مستقبل کا حال جاننے کی کوششوں میں ہوتے ہیں اور وہ جنات یہ آواز مرغی کی کٹ کٹ کی طرح ان کاہنوں کے کانوں میں سرگوشی کر کے ڈالتے ہیں ۔ (صحیح مسلم و مسند احمد)
شہابیوں کے متعلق سب سے
شہابیوں کے متعلق سب سے
بڑا ثبوت قرآن میں دو جگہ اس واقعے کا ذکر ہے سورۃ صافات کی آیت نمبر 10 پڑھیئے ۔
’’اور جو چوری سے کوئی بات اچک لے تو ایک دہکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے لپکتا ہے‘‘
ایسے ہی سورۃ حجر میں بھی واضح دہکتے ، لپکتے شعلے کا ذکر ہے ۔ تو پھر وہ کونسے شعلے ہیں جو واضح بھی ہیں ، نظر بھی آتے ہیں
’’اور جو چوری سے کوئی بات اچک لے تو ایک دہکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے لپکتا ہے‘‘
ایسے ہی سورۃ حجر میں بھی واضح دہکتے ، لپکتے شعلے کا ذکر ہے ۔ تو پھر وہ کونسے شعلے ہیں جو واضح بھی ہیں ، نظر بھی آتے ہیں
اور تیزی سے لپکتے بھی ہیں اور پھر یہ کونسے شہابیئے ہیں جن کے بارے میں سائینس ہمیں ڈھیروں معلومات فراہم کر چکی ہے ؟
اب میں آپ کو بتاتا ہوں ۔
شہابیئے زمین پر دو صورتوں میں آتے ہیں ، ایک وہ جو predictable ہیں یعنی ان کے بارے میں پہلے سے پیشن گوئی کی جا سکتی ہے ۔
اب میں آپ کو بتاتا ہوں ۔
شہابیئے زمین پر دو صورتوں میں آتے ہیں ، ایک وہ جو predictable ہیں یعنی ان کے بارے میں پہلے سے پیشن گوئی کی جا سکتی ہے ۔
اور دوسرے وہ جو unpredictable ہیں ۔
جن کے بارے میں پیشن گوئی کی جا سکے وہ تیکنیکی اعتبار سے شہابیئے ہوتے ہی نہیں ہیں ، بلکہ وہ خلاء میں خاص جگہوں پر پایا جانے والا گردوغبار ہوتا ہے اور یہ اس قدر predictable ہے کہ ہر سال اگست میں زمین perseid نامی ایک خلائی غبار کے سسٹم سے گزرتی
جن کے بارے میں پیشن گوئی کی جا سکے وہ تیکنیکی اعتبار سے شہابیئے ہوتے ہی نہیں ہیں ، بلکہ وہ خلاء میں خاص جگہوں پر پایا جانے والا گردوغبار ہوتا ہے اور یہ اس قدر predictable ہے کہ ہر سال اگست میں زمین perseid نامی ایک خلائی غبار کے سسٹم سے گزرتی
ہے جس کی وجہ سے یہ چھوٹے چھوٹے پتھریلے ٹکڑے ہماری فضاء میں داخل ہوتے ہیں اور یہ منظر meteor shower کہلاتا ہے ۔ ایسے ہی ہر 33 سال بعد ہماری زمین leonid نامی چھوٹے چھوٹے پتھروں کے سسٹم میں سے گزرتی ہے جس کے دوران ہر منٹ ایک شہابیہ زمین پر گرتا محسوس ہوتا ہے ۔ اسی لیے یہ شہابیئے
البتہ unpredictable شہابیئوں کی تین بڑی اقسام ہوتی ہیں
پہلی قسم stony meteorites یا پتھریلے شہابیئے ۔ یہ تعداد میں خلاء میں سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں ، ان کی کمپوزیشن چٹان یا پتھریلے ایلیمنٹس کی ہوتی ہے اور عموماً یہ ہمارے ہی نظام شمسی کے ٹوٹے پھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں جیسا کہ چاند
پہلی قسم stony meteorites یا پتھریلے شہابیئے ۔ یہ تعداد میں خلاء میں سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں ، ان کی کمپوزیشن چٹان یا پتھریلے ایلیمنٹس کی ہوتی ہے اور عموماً یہ ہمارے ہی نظام شمسی کے ٹوٹے پھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں جیسا کہ چاند
مریخ یا جیوپیٹر سے ٹوٹے چھوٹے ٹکڑے جنہیں ہماری زمین کھینچ لیتی ہے اور پتھر کے بنے ہونے کی وجہ سے یہ ہماری فضاء میں داخل ہوتے ہی عموماً جل کر ٹوٹ جاتے ہیں ۔
دوسری قسم stony-iron meteorites جن میں منرلز ، پتھر اور آئیرن نِکل نامی دھات کی برابر مقدار ہوتی ہے ، اور یہ ٹوٹنے کے
دوسری قسم stony-iron meteorites جن میں منرلز ، پتھر اور آئیرن نِکل نامی دھات کی برابر مقدار ہوتی ہے ، اور یہ ٹوٹنے کے
تیسری قسم iron meteorites یہ تمام شہابیوں میں سب سے نایاب شہابیئے ہیں جو نظر آنے والے تمام شہابیوں کا صرف % 5.7 ہوتے ہیں اور سراسر لوہے کے بنے ہوتے ہیں ، لیکن اپنی تحقیق کے دوران ان کے متعلق جس چیز نے میری توجہ سب سے زیادہ کھینچی وہ یہ تھی کہ یہ شہابیئے ہمارے نظام شمس سے نہیں
بلکہ دور دراز بیرونی خلاء سے آتے ہیں ، ان میں پایا جانے والا لوہا کائینات کا سب سے پرانا لوہا ہوتا ہے جو 1538 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھلتا ہے ، اور زمین کی طرف آتے وقت اس شہابیئے کا درجہ حرارت 1648 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ کر لوہے کو پگھلا دیتا ہے اور اس وقت ، ٹھیک اس وقت ، چند لمحات
چند لمحات کے لیے یہ شہابیہ صرف شہابیہ نہیں رہتا بلکہ شہاب ثاقب ۔۔۔ یعنی صرف اور صرف دہکتا ، ابلتا ، لپکتا ہوا انگارہ بن جاتا ہے ، ایگزیکٹلی وہی الفاظ ۔۔۔ جو قرآن میں شیطان کے پیچھے آتے لپکتے دہکتے انگارے کے لیے استعمال ہوئے ہیں ۔ اور اس تھوڑے سے بریف ٹائم کے لیے یہ شہابیہ
شہاب ثاقب کی حقیقی ڈیفینیشن پر بالکل پورا اترتا ہے ۔
اس وقت تو یہ تیسری قسم نہ ہی وہ پتھر ہوتی ہے جو خلاء سے آئی ، نہ ہی وہ لوہا جو ہم تک پہنچتے ٹھنڈا ہو چکا ہوتا ہے بلکہ ابلتی ہوئی خالص آگ ہوتا ہے اور اس ہی دہکتے شعلے میں بدلنے اور دہکتے شعلے سے ٹھوس لوہے میں بدلنے پر اس چیز
اس وقت تو یہ تیسری قسم نہ ہی وہ پتھر ہوتی ہے جو خلاء سے آئی ، نہ ہی وہ لوہا جو ہم تک پہنچتے ٹھنڈا ہو چکا ہوتا ہے بلکہ ابلتی ہوئی خالص آگ ہوتا ہے اور اس ہی دہکتے شعلے میں بدلنے اور دہکتے شعلے سے ٹھوس لوہے میں بدلنے پر اس چیز
میں ہمیشہ اپنے تھریڈز میں لکھتا ہوں ، ناممکن ہے یہ کتاب کسی انسان کی لکھی ہوئی ہو ، یہ ہو ہی نہیں سکتا ۔ لیکن آج میں ایک سوال لکھنا چاہتا ہوں ، آخر شہاب ثاقب کی حقیقی ٹیکنیکیل ڈیفینیشن سمجھنے کے لیے ہمیں گوروں کی طرف ہی کیوں دیکھنا پڑا ؟ ہم نے کیوں تحقیق چھوڑ دی ؟
میں ، فرقان قریشی سائینس سٹوڈنٹ ہونے کے ناطے یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ قرآن کے سائینٹیفیک پہلو پر پورے ریسرچ پیپرز لکھے جا سکتے ہیں ، لیکن ہماری یونیورسٹیز یا مدارس میں کوئی اس طرف توجہ نہیں دے رہا ۔
فرقان قریشی
(اس آرٹیکل کو بلا اجازت کاپی یا کسی پیج پر پوسٹ کرنے سے اجتناب کریں)
فرقان قریشی
(اس آرٹیکل کو بلا اجازت کاپی یا کسی پیج پر پوسٹ کرنے سے اجتناب کریں)
@threader_app compile
جاري تحميل الاقتراحات...